کیفی اعظمی

ساون میں برسات ضروری ہوتی ہے

Verses

ساون میں برسات ضروری ہوتی ہے
دل سے دل کی بات ضروری ہوتی ہے

جگمگ کرتے چاند کے روشن پہلو میں
تاروں کی بارات ضروری ہوتی ہے

اس جیون میں ہر پل جیتنے والوں کو
کبھی کبھی تو مات ضروری ہوتی ہے

دن کی شان و شوکت قائم رکھنے کو
اندھی کالی رات ضروری ہوتی ہے

پیار نوید ضروری ہے یوں جینے کو
جیسے اپنی ذات ضروری ہوتی ہے

کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ

Verses

کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ

گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ھے تو سنو
ڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ

منزل سے وہ دور تھا اور ہم بھی دور تھے
ہم نے بھی دھول اڑائی بہت رہنما کے ساتھ

رقصِ صبا کے جشن میں ہم تم بھی ناچتے
اے کاش تم بھی آ گئے ھوتے صبا کے ساتھ

اکیسویں صدی کی طرف ہم چلے تو ہیں
فتنے بھی جاگ اٹھے ہیں آوازِ پا کے ساتھ

ایسا لگا غریبی کی ریکھا سے ہوں بلند
پوچھا کسی نے حال کچھ ایسی ادا کے ساتھ

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

Verses

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں

دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار
کچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں

اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے
غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں

پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی یہ ہو رہے
اک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا

Verses

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا
ستارے زیرِ قدم رات آئے ہیں کیا کیا

نشیبِ ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکے
فرازِ دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا

جب اس نے ہار کے خنجر زمیں پہ پھینک دیا
تمام ذخمِ جگر مسکرائے ہیں کیا کیا

چھٹا جہاں سے اس آواز کا گھنا بادل
وہیں سے دھوپ نے تلوے جلائے ہیں کیا کیا

اٹھا کے سر مجھے اتنا تو دیکھ لینے دے
کہ قتل گاہ میں دیوانے آئے ہیں کیا کیا

میں کچھ سمجھ گیا اور کچھ سمجھ نہیں سکا
جُھکی نظر نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

جو ہو لیا تھا مرے ساتھ چاند چوری سے
اندھیرے راستے کے جگمگائے ہیں کیا کیا

کہیں اندھیرے سے مانوس ہو نہ جائے ادب
چراغ تیز ہوا نے بجھائے ہیں کیا کیا

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

Verses

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
نئی زمیں نیا آسماں نہیں ملتا

نئی زمیں، نیا آسماں بھی مل جائے
نئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا

وہ تیغ مل بھی گئی جس سے ہوا ہے قتل مرا
کسی کے ہاتھ کا اس پر نشاں نہیں ملتا

وہ میرا گاؤں ہے وہ میرے گاؤں کے چولہے
کہ جن میں شعلے تو شعلے دھواں نہیں ملتا

جو اک خدا نہیں ملتا تو اتنا ماتم کیوں
مجھے خود اپنے قدم کا نشاں نہیں ملتا

کھڑا ہوں کب سے میں چہروں کے ایک جنگل میں
تمہارے چہرے کا کچھ بھی یہاں نہیں ملتا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer