Verses

پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
ہم چاند سے آج لوٹ آئے

دیواریں تو ہر طرف کھڑی ہیں
کیا ہو گئے مہربان سائے

جنگل کی ہوائیں آ رہی ہیں
کاغذ کا یہ شہر اڑ نہ جائے

لیلیٰ نے نیا جنم لیا ہے
ہے قیس کوئی جو دل لگائے

ہے آج زمیں کا غسلِ صحت
جس میں ہو جتنا خون لائے

صحرا صحرا لہو کے خیمے
پھر پیاسے لبِ فرات آئے

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer