Verses

وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد
دادِ سخن ملی مجھے ترکِ سخن کے بعد

دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئے
ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد

ہونٹوں کو سی کے دیکھئے پچھتائے گا آپ
ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد

غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ
قدرِ وطن ہوئی ہمیں ترکِ وطن کے بعد

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد

اعلانِ حق میں خطرہء دارو رسن تو ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer