Verses

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا

پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو ہو گا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

بانیء جشنِ بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں
کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا

بجلی کے تار بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی
سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا

اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے پیاسے
ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer