سکون و صبر کا امیدوار ہے اب تک

Verses

سکون و صبر کا امیدوار ہے اب تک
نہ جانے کس لیے دل بیقرار ہے اب تک

کسی کے جلوہ رنگیں کی جاذ بیت سے
میرا وجود برنگ بہار ہے اب تک

وہ اپنی وعدہ خلافی پہ ہو گئے نادم
اسی لئے تو مجھے اعتبار ہے اب تک

اٹھا تھا ایک ہی پردہ ہزار پردوں میں
جہاں میں تذکرئہ حسن یار ہے اب تک

جلے ہوئے میرے دل کو ہوا زمانہ شکیل
کسی کی برق نظر شعلہ بار ہے اب تک

کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے

Verses

کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے
پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے

برف کے ہاتھ ہی ، ہاتھ آئیں گے ، اے موجِ ہوا
حِدتیں مجھ میں ، نہ خوشبو کے بدن میں ، اب کے

دُھوپ کے ہاتھ میں جس طرح کُھلے خنجر ہوں
کُھردرے لہجے کی نوکیں ہیں کرن میں اب کے

دل اُسے چاہے جسے عقل نہیں چاہتی ہے
خانہ جنگی ہے عجب ذہن و بدن میں اب کے

جی یہ چاہے، کوئی پھر توڑ کے رکھ دے مجھ کو
لذتیں ایسی کہاں ہوں گی تھکن میں اب کے

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

Verses

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے

یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی* نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سواۓ بادۂ گلفامِ مشک بو کیا ہے

پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں

Verses

غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
جو کناروں میں سمٹ جاۓ وہ دریا ہی نہیں

اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے
سب کا اس دور میں یہ حال ہے، میرا ہی نہیں

برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے
مَیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کے بیٹھا ہی نہیں

اک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا
کون سا عرش ہے جس کا کوئی زینا ہی نہیں

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آۓ شاید
آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اُٹھاۓ گزرا
کوئی اس شہر میں سستانے کو ٹھہرا ہی نہیں

سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم
تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں

موتی کیا کیا نہ پڑے ہیں تہِ دریا لیکن
برف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں

اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے
خانۂ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں

حائلِ راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پربت
تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں

یاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیب
اس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں

Bandhan Yeh Bandhan

hey hey...
ho ho...
(yeh bandhan dilon ke bandhan
yeh naate dilon ke naate) - 2
tay hote hai ambar pe
dharti pe jode jaate
bandhan yeh bandhan - 2
(yeh bandhan dilon ke bandhan
yeh naate dilon ke naate) - 2
tay hote hai ambar pe
dharti pe jode jaate
bandhan yeh bandhan - 2

کس کی مسجد کیسے بت خانےکہاں کے شیخ و شاب

Verses

کس کی مسجد کیسے بت خانےکہاں کے شیخ و شاب
ایک گردش میں تری چشمِ سیہ کی سب خراب

تو کہاں، اس کی کمر کیدھر، نہ کریو اضطراب
اے رگِ گل دیکھیو کھاتی ہے جو تو پیچ و تاب

موند رکھنا چشم کا ہستی میں عینِ دید ہے
کچھ نہیں آتا نظر جب آنکھ کھولے ہے حباب

تُو ہو اور دنیا ہو ساقی میں ہوں مستی ہو مدام
پربطِ صہبا نکالے اُڑ چلے رنگِ شراب

ہے ملاحت تیرے باعث شور پر تجھ سے نمک
ٹک تو رہ پیری چلی آتی ہے اے عہدِ شباب؟

وائے اس جینے پر اے مستی کہ دورِ چرخ میں
جامِ مے پر گردش آوے اور مے خانہ خراب

مت ڈھلک مژگاں سے اب تو اے سرشکِ آب دار
مفت میں جاتی رہے گی تیری موتی کی سی آب

کچھ نہیں بحرِ جہاں کی موج پر مت بھول میر
دُور سے دریا نظر آتا ہے لیکن ہے سراب

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer