کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں

Lubna's picture

کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
دوستی تو اداس کرتی نہیں

ہم ہمیشہ کے سیر چشم سہی
تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں

شبِ ہجراں بھی روزِ بد کی طرح
کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں

شعر بھی آیتوں سے کیا کم ہیں
ہم پہ مانا وحی اترتی نہیں

اس کی رحمت کا کیا حساب کریں
بس ہم ہی سے حساب کرتی نہیں

یہ محبت ہے سن! زمانے سن!
اتنی آسانیوں سے مرتی نہیں

جس طرح گزارتے ہو فراز
زندگی اس طرح گزرتی نہیں

Your rating: None Average: 4.3 (3 votes)