4512 of 11,111 Ghazals...
دین اور تعلیم فلک کو کس نے اک پرکار پر رکھا ہوا ہے پھر بچھڑے پتے شاخوں سے Achy Lagty Hain آدمی جلتا دیا ھے اور بس آنکھ میں بے کراں ملال کی شام آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ھے آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے اب تو ہر اِک آن بدلتی رُت سے جی ڈرتا ہے اب تو یوں لگتا ھے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا اب رفتگاں کی یاد کا کچھ تو پتا بھی دے اب وہ طوفان ھے نہ وہ شور ہواؤں جیسا اجاڑ بستی کے باسیو،ایک دوسرے سے پرے نہ رہنا اس طرح مِرے ذہن میں اُترا ہُوا تُو ہے اس کو اپنے گھر کی سناٹے سے کتنا پیار تھا اس کو پا کے ہم یہ سمجھے تھے کہ کچھ کھویا نہیں اسے تو کھو ہی چکے پھر کیا خیال اس کا انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے اُس کی تسکین کو غارت کرتا اپنے گھر کو جَلتا چھوڑ آیا ہوُں میَں اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا ایک دن طبع آزمائی کی بچھڑ کے تجھ سے یہ سوچوں کہ دِل کہاں جائے؟ بکھرتا جسم میری جاں کتاب کیا ھو گا؟ بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا بہار کیا اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے تراشتا ہے سَفر، آبلے نکھارتا ہے تم حقیقت نہیں ھو حسرت ھو تمام شہر میں وہ نقش پا تلاش کروں تمام عمر وہی قصّئہ سفر کہنا تو نے اس موڑ پہ توڑا ھے تعلق کہ جہاں جامۂ مستیِ عشق اپنا مگر کم گھیر تھا جانے اب کس دیس ملیں گے اونچی ذاتوں والے لوگ جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے جب جنوں سے ہمیں توسل تھا جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ھر رستہ سنسان ھوا جب سے قلم کو حنامئہ مانی بنا لیا جس کی قسمت ہی در بدر ٹھہرے جن پر ستم تمام قفس کی فضا کے تھے جو شہر مِٹ چکے ہیں وہ آباد کب ہوُئے؟ جگنو،گہر،چراغ،اجالے تو دے گیا جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ھے خواب در خواب لکھ رہا ہوں میں خواہشوں کے زہر میں اخلاص کا رس گھول کر در قفس سے پرے جب صبا گزرتی ھے درختوں سے جدا ہوتے ہوئے پتے اگر بولیں دشت ہجراں میں کوئی سایہ نہ صدا تیرے بعد دل میں ہے رَنجِ رہگزر کِتنا دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا دُھوپ چھاؤں میں کدُورت کیوں ہے؟ دِل تیرا درد سَدا مانگتا ہے دیا خود سے بجھا دینا ذرا سی دیر میں ہم کیسے کھولتے اُس کو رخصت ہوا تو بات میری مان کر گیا رفیق سندیلوی :میں اِک پہاڑی تلے دبا ہوں کسے خبر ہے رکے ہوئے ہیں کہ حالت سفر میں ہیں رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے سجا کے سر پہ ستاروں کا تاج رکھتا ھے سخنوری کا جو محسن کبھی ارادہ کرو سفر تنہا نہیں کرتے سفر کا ذوق ہی کچھ تو مسافروں میں نہ تھا سمجھ سکا نہ میرے چاند کوئی درد تیرا سَرِ حُسنِ کلام تھا، تیرا نام بھی میرا نام بھی سَناٹے میں بند دریچہ کھول دیا کرنا سُخن سو بار خُود سے تولتا ہوں سکوں سے آشنا اب تک دل انساں نہیں ہے کہوں کیوں کر کہ احساس غم دوراں نہیں ہے سکوں کے دن سے فراغت کی رات سے بھی گئے شفق کی جھیل میں جب سنگِ آفتاب گِرے عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے فلک پر اِک ستارا رہ گیا ہے فلک کا منہ نہیں اس فتنے کے اٹھانے کا فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر فنکار ھے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا لٹتے کہاں کہ صاحب جاگیر ہم نہ تھے لہو کی موج ہوں اور جسم کے حصار میں ہُوں محبت پھول ھے،پتھر نھیں ھے ملا ھی تھا تو پھر اپنوں کی طرح ملنا تھا موسم گل بھی نہیں،تو بھی میرے پاس نہیں موسمِ گل بھی نہیں تُو بھی میرے پاس نہیں مَیں بھی اُڑوں گا ابر کے شانوں پہ آج سے مہرباں کوئی نظر آئے تو سمجھوں تو ہے میری محبت تو اک گہر ھے،تیری وفا بے کراں سمندر میکدہ تھا، چاندنی تھی، میں نہ تھا میں جاں بہ لب تھا پھر بھی اصولوں پہ اڑ گیا ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا نبی نہ تھے مگر انساں پہ جاں چھڑکتےتھے نفَس کو جب دُھواں کہنا پڑے گا نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا نہ دل میں لَو نہ گریباں ہے سُرخرو میرا وحشت میں سکون ڈھونڈتی ہے وحشتیں بکھری پڑی ہیں جس طرف بھی جاؤں مَیں وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا وہ دن کتنے اچھے تھے وہ ماہتاب جو ڈوبا ھوا ملال میں تھا پتوں کی طرح خود سے بکھرتے ھوئے کچھ لوگ پتیاں پھولوں کی بکھریں راستے کی ڈھال پر پھر وہی مَیں ہُوں وہی درد کا صحرا یارو پھر کوئی یاد آ گئی جیسے چارہ گر سارے پریشاں ہیں کہ سب کیا تھا چبھتے اشکوں سے بجھی آنکھیں نہ چمکایا کرو کام پل میں مرا تمام کیا کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا کبھی جو فرصت ملے تو دل کے تمام بے ربط خواب لکھوں کبھی جوغم نے گھڑی بھر کو تھک کے سانس لیا کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!! کوئی بھی چیز جہاں میں سدا کسی کی نہیں کوئی نئی چوٹ پھر سے کھاؤ اداس لوگو کیا خزانے میری جاں ہجر کی شب یاد آئے کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دلِ آرمیدہ تھا کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا کیا ھے عہد تو اس کو نباہتے رھنا گفتگو اُس سے جو کَل ہو جاتی گِلا نہیں کوئی تجھ سے جو تُو دکھائی نہ دے ہجر کی شام دھیان میں رکھنا ہجر کی شب کا نشاں مانگتے ھیں ہجر کے شہر میں دھوپ اتری،میں جاگ اٹھا تو خواب ھوا ہجوم میں تھا وہ کھل کر نہ رو سکا ھو گا یوں ھر اک کاغذ اٹھا کر چاک کرنا کیا ھوا یوں ہرِدے کے شہر میں اکثر تیری یاد کی لہر چلے"Ab KHUDA K Liay Chord Do Nafrten""MGR JANAT TU HAI"4>>>Kaghaz Kay Phool...!!Aankhon Aankhon Main,,,,P,I,AAapka Dukh Hum Sah Nahi Sakte m,,,,P,I,Aab bhi baqi hai ADNAN & FAROOQAik khoobsurat shairajeeb kashmkashalone_person_in_many_frndsanjame ashqiApni nagah-e-naaz k khanjar se mar doAy Dost ,,P,I,AAY DUST,,P,I,ABewafa Bhi Na Keh Saka,,,,,,,,,,,,P.I.ABewafa Ka Talabgaar Tha,,,,,P,I,ABewafai se pareshan bhi ho jatey hainby naeem abbas ranjhaby naeem abbas ranjha http://www.freeurdupoetry.comchahat 4 zahid.P.I.Achahat 4 zahid P.I.Achamak teri ayan bijli mein aatish mein shrarey meinchamak teri ayan bijli mein aatish mein shrarey meinDekho Aawaz Dekar, Paas Hamme Paoge ,,, P,I,Adil bi bujha ho sham ki......dil-e-nadan tujhey huwa kya haidont nowEK Lamha-e-Wisaal Tha Wapas Na Aa Sakaek pal ke liye For My Dear FriendGanwa di hum na jo islaf say GEETGham-e Dauran bhi to hai k galat hota nahighazalGhazalGORME ULFAT KI SAZA DATAIN HAIN TARE Y SHARE K LOGEgulo me rang bhare base no bahar chalehadsay peeshe nazar thay phir bhi main chalta rahahadsay peeshe nazar thay phir bhi main chalta rahaham se kia ho skaHar Shaks Ki Ajab Kahani Hai Ay Dost ,,,,,P,I,AHer Ek Shakhs Kaha'n Hum Kheyal Hota Hayhttp://www.youtube.com/watch?v=ffH5aS5d53UHum na tum ko bhula saky 313.2417039 Inqilaabinshaa jiiqbalJab bhi jazbon ke liye alfaz nashtar ho gayejokejoke Kaash Yeh Zalim Judaai Na Hoti ,,,,P,I,AKabhi Yeh Hont Tarsay Hoonkabhi yeh hont tarsey honkabi nazre malane me zamane bheet jate haenKai badnamia'n hoti , kai ilzam sar jateyKalam by Raees warsiKalam By Sarfaraz SultaniKalam By Sarfaraz SultaniKalam By Sarfaraz Sultanikash main tere hasin hath ka gangan hotakia khadim aur kia makhdoom,,,, sab alfaz ka chakker hai yehKisi ghar men koi pathar gira thaKisi Ka Khawab Dekha Hokisi se pyar jo kaRO GEKisma ,,,,,,,,P,I,AKoi aansoo tere daaman par gira karKUCH TO ARZOO BANI SAHIRMain Zindagi Kese Bitaonmatai loho qalqm chin gaya to kiya gham haimery dil ki sbhi baharon peMil Kr B Us se Hasrat-E-Mulaqat Reh Gaemirza zain ul abedin ''yadien udas karti hein''Mohsin raza Amuhbbat ho to aise P.I.AnaseebQaisar Muneer 0345/7679576ROH E INQALABSamandar kya karen ge qatra-e-shabnam chura lae'nsarabSHAHEED E INQALAB by M Atif (Khi) 0321-2408785shamshikewa or jawabe shikwashikwaSYED AMMAR HASSAN GILLANITanhai Tarz-e-Fikro Nazar Nahia'n Aayatera mera rishya kesathoda sa ghame-tarke-muhabbat hai mujhe bhi.tum bintum pocho or main na bataonUssay Bhoula Kay Bhi Yadoun Kay Silselay Na Gayeuthay gi us ki naza rafta rafta WABASTGIwaqte mushkil mein bhee honto per hansi achchi lageewo aarzoo he kiawo raatYu To Koi Tanha Nahi Hota,,,,,,P.I.Azamane bheet jate he{Amjad Ali Shah} آپ سے دوستی نہیں ہوتیآ مری جاں! کہاں بھٹکتا ہےآ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میںآ گئی ہیں رحمتیں پھر جوش میںآ گئی یاد شام ڈھلتے ہیآ گیا راس شکستوں کا شمار آخرِ کارآ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہےآؤ جینے کا اہتمام کریںآؤ جینے کا اہتمام کریںآؤ ساجن سے ملواؤںآؤ ساجن سے ملواؤںآؤ کہ ہم غریب لیں، قسمت کو ہات میں - اِبنِ اُمیدآئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائےآئینوں میں عکس بن کر ٹوٹتے رہ جائیں گےآئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہےآئینہ بن کر کبھی ان کو حیراں دیکھیےآئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا؟آئینہ حسّ و خبر سے عاری آئینہ دیکھ کے، ایک اور تماشا دیکھوآئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےآئینۂ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیںآئینۂ حیرت ہوں تری جلوہ گری کاآئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیاآئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیا آئینے سے رہا کرئے کوئیآئینے سے شمع گل کرنا پڑےآئینے میں بھی وہ حیرت نہ رہیآئینے پر کبھی کتاب میں ھیںآئے تھے اُن کے ساتھ، نظارے چلے گئےآئے کوئی، تو بیٹھ بھی جائے، ذرا سی دیرآئے کچھ ابر، کچھ شراب آئےآئے ہیں میر منھ کو بنائے خفا سے آجآئے، کوئی انقلاب آئےآبدیدہ تھا جو میں بے سر و سامانی پرآبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیںآبلہ پا گھومتا ہوں وادئ بیداد میںآتا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اُتار بھی؟آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب ساآتاہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا آتے جاتے ھوئے لوگوں پہ نظر کیا رکھناآج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میںآج اشکوں کا تار ٹوٹ گیاآج تجھے کیوں چپ سی لگی ہےآج تو بے سبب اداس ہے جیآج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہمآج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم آج تک حُسن کا معیار ہے عشِق آزاریآج تک میں نہیں سمجھا تیری دنیا کیا ہےآج جو تُجھ سے ملا ہے، کل جدا ہو جائے گا آج سوچا تو آنسو بھر آئےآج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبوآج پھر ستائے گی رات پورے چاند کیآج کی شب تم نہ آ پائے، مگر اچھا ہواآج کیوں ہم سے لپٹتی ہے صبا آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبرآخر تمام کاغذِ تنہائی جل گیاآخر کار ہم انجامِ سفر تک پہنچےآداب عاشقی سے بیگانہ کہہ رہی ہےآدمی وقت پر گیا ہوگاآرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہوآرزو چیز ہے کیا اور تمنا کیا ہے؟آرزوئے جناب کون کرے؟آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئےآروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئےآزاد کردے اپنا گرفتار میں ہی ہوںآسمان کی سمت دیکھو جا رہا ہے پھر کوئیآسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھآسماں بحر کی پُتلی سے عیاں ہوتا ہےآسماں کی چادر پرجس قدر ستارے ہیںآشیاں میں بھی آنکھ بھر آئیآفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میںآفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہےآفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہےآلام حیات‘ لوٹ آئیںآمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوستآن رہ جائے گی تمہاری بھیآندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملاآنسو ؤں سے دُھلی خوشی کی طرح آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھولآنچل کو گھونگٹ کر جانا اب کی بار جو آؤ تمآنکھ بن جاتی ھے ساون کی گھٹا شام کے بعدآنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپآنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گاآنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گاآنکھ رو جاے یہ ممکن ہی نہیں داغ دھو جاے یہ ممکن ہی نہیں آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا تو پھر سورج ابھرا ہوتا آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گاآنکھ سے روح کا غم ظاہر ہےآنکھ میں رنگ بھریں ، روح کو تازہ کرلیںآنکھ نے بات کی لب سے پہلے آنکھ کے شیشوں میں پہلے روشنی نہ تھیآنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتیآنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیاآنکھوں میں انتظار کے بادل ٹھہر گئےآنکھوں میں ترا دیار بھی ہےآنکھوں میں ترا دیار بھی ہے آنکھوں میں جل رہا ہے کیوں بجھتا نہیں دھواںآنکھوں میں جی مرا ہے اِدھر پار دیکھناآنکھوں میں رہا‘ دل میں اُتر کر نہیں دیکھا آنکھوں میں کوئی خواب اترنے نہیں دیتاآنکھوں میں کہیں عکس تمہارا نہیں کوئی آنکھوں پہ تھے پارۂ جگر راتآنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیاآنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھےآنکھوں کے خواب زار کو تاراج کر گئیآنکھیں تیری، کیوں لُٹی ہوُئی ہیںآنگن میں اُترا ہے بام و در کا سناٹاآنے والی تھی خزاں ، میدان خالی کر دیاآو کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہمآواز میں عجب کھنک ہےآپ آئیں شب غم اتنا بھی احساں کیوں ہو؟آپ آئے یاد کی وہ فتنہ سامانی گئیآپ آتے ہیں تو ملنے سے خوشی ہوتی ہےآپ اپنی آرزو سے بیگانے ہو گئے ہیںآپ جیسے یہاں فنکار بہت ملتے ہیںآپ نے مَسَّنی الضُّر کہا ہے تو سہیآپ کا اعتبار کون کرےآپ کے چہرے آپ کے، اے مہرباں! آنے تلک آگ اشکِ گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیاآگ لہرا کے چلی ہے اِسے آنچل کر دوآگ کے درمیان سے نکلاآگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہےآگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دیناآگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دیناآگ ہیں عمل میرے یا ثواب رہنے دےآگہی میں اک خلا موجود ہےآگے جمالِ یار کے معذور ہوگیاآہ دشوارئی و سوہان سفر کیا کیجےآہ سحر نے سوزشِ دل کو مٹا دیاآہ پہلی سی کوئی بات کہاں؟آہ پہلی سی کوئی بات کہاں؟آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے* تکآہ کے تئیں دلِ حیران و خفا کو سونپاآہن میں ڈھلتی جائے گی اکیسویں صدیآہوں کی بارات سجی ہے، اشکوں کی برسات ہوئی ہےآیا تھا خانقہ میں وہ نور دیدگاں کاآیا جو واقعے میں درپیش عالمِ مرگآیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کراب آنے والی ہے فصلِ بہار ، سوچتے تھےاب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتےاب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرااب اس کو وہ بھولی باتیں یاد دلانا ٹھیک نہیںاب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہےاب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہماب اُن سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتااب اے میرے احساس جنوں کیا مجھے دینااب ترے رُخ پر محبّت کی شفق پھُولی، تو کیااب تصور میں حرم ہے نہ صنم خانہ ہےM Nazim Rao Sufi Poetryاب تمہارے لوٹ آنے کا کوئی امکاں نہیںاب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیںاب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھےاب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کیاب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کیاب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائےاب تو ہیں اُس شوقِ گستاخانہ سے بیگانہ ہماب تک تو نور و نگہت و رنگ و صدا کہوںاب تک موجود غزلیات کے پہلے مصرعوں کی فہرستاب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!اب تک ہے وہی عشق فسوں ساز کا عالماب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہواب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میںاب جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیااب خیالوں میں بھی مشکل ہے رفاقت اُس کیاب دعا، بد دعا میں فرق کہاںاب دل ہے مقام بےکسی کااب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھےاب دُھوپ بھول جاؤ کہ سورج یہاں نہیںاب ساری خدائی ہے تماشائی ہماریاب ساز ِ وفا میں دم نہیں ہےاب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہےاب شہر میں کوئی بھی ستم گر نہیں رہااب شہرِ جاں بچانے کی خواہش نہیں رہیاب مانگ میں سجی ہوئی رستے کی دُھول ہےاب مجھے مے نہیں ، میکدہ چاہیئےاب محبت کی وکالت نہیں کی جا سکتیاب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیںاب نہ بولو گے تو پھر بول نہ پاؤ گے کبھیاب وفا اور جفا کچھ بھی نہیںاب وہ خود محو علاج درد پنہاں ہو گئےاب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پُر آب روز و شباب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہےاب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہےاب کرو گے بھی کیا وفا کر کےاب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوااب کون سے موسم سے کوئی آس لگائےاب کہاں وہ لوگ جن کے نام سےاب کیا ہے جو تیرے پاس آؤںاب کیسی پردہ داری ، خبرعام ہو چکیاب کے بارشوں میں یہ کار زیاں ھونا ھی تھااب کے بچھڑا ہے تو کچھ ناشادماں وہ بھی تو ہےاب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناںاب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھےاب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںاب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںاب کے یوں موسمِ بہار آیااب ہوش و حواس کھو رہے ہیںاب یاد نہیں آتا مجھے کون ہوں کیا ہوںاب یہ بات مانی ہےاب یہ خواہش ہے کہ اپنا ہمسفر کوئی نہ ہو اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں اب یہ ویران دن کیسے ہوگا بسرابتدائے شوق کااعلانِ مستانہ ہوں میںابر اُترا ہے چار سو دیکھوابروئے چشم دشمناں جیساابروئے چشم دشمناں جیساابنِ مریم ہوا کرے کوئیابو لہب کی شادی ابھی آگ پوری جلی نہیں، ابھی شعلے اونچے اٹھے نہیں ابھی آگ پوری جلی نہیں‘ ابھی شعلے اونچے اٹھے نہیںابھی تو طے نہ ہوا تھا مرا سفر آدھاابھی تو میری تمنّا جوان ہے دیکھوابھی جذبہ شوق کامل نہیں ہےابھی سے خواب جزیروں سے اتنا ڈرتے ہوابھی فرمان آیا ہے وہاں سےابھی مجھے اک صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےابھی ميں محبت کو بھولا نہيں ہوں ابھی نہیں اگر اندازہء سپاس ہمیںابھی پروں میں اڑانوں کا زور زندہ ہےابھی کیا تھا، ابھی یہ ہوگیا کیاابھی کیا تھا، ابھی یہ ہوگیا کیااتر گیا تن نازک سے پتیوں کا لباساتریں عجیب روشنیاں رات خواب میںاتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میںاتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑےاتنی بلندیوں سے، تہوں میں اُتر نہ جااتنی بڑھی جو بات کوئی مسئلہ تو تھااتنی فرصت نہیں اب اور سخن کیا لکھنااتنی لمبی ہے کہانی کہیں دم ٹوٹ نہ جاۓاثر اس کو ذرا نہیں ہوتااثر دعاؤں میں کیونکر ہو چشمِ تر کے بغیراج آکھاں وراث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بولاجل سے وہ ڈریں جینے کو جو اچھا سمجھتے ہیںاجنبی آنکھ نے جب مجھ میں اتر کر دیکھااجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھااجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا اجنبی خوف فضاؤں میں بسا ہو جیسےاجنبی شخص نے چپکے سے جو کھولیں آنکھیںاجنبیت بھی ایک رشتہ ہےاجڑ اجڑ کے سنورتی ھے تیرے ہجر کی شاماحباب سب بضد کہ گوہر تراشنااحباب کے حِصّے میں ہزاروں ہُنر آئےاحساس میں پھول کھِل رہے ہیںاختلاف اس سے اگر ہے تو اسی بات پہ ہےاداس راتوں میں، تیز کافی کی تلخیوں میںاداس شام دلِ سوگوار تنہائیاداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنااداسِیوں کا ہُنر اِختیار کرتے ہیںادراک پر محیط ہے ارض و سما کا دُکھادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزوادھر آکر شکار افگن ہماراادھر بھی دیکھ کبھی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئےاذانِ صُبح سے شب کا علاج کیا ہو گاارادہ کب تھا اُس کا خُود کو دریا میں ڈبونے کااس ادا سے وہ وفا کرتے ہیںاس ایک ذات سے اپنا عجیب ناتا ہےاس بت کدے میں تو جو حسیں ترلگا مجھےاس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےاس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سےاس داستانِ زیست کا الجھا خیال تُواس در کا دربان بنادے یااللہاس دل نے تیرے بعد محبت بھی نہیں کیاس دل کے چند اثاثوں میں ایک موسم ہے برساتوں کااس دنیا میں اپنا کیا ہےاس دورِ بے جنوں کی کہانی کوئی لکھواس دھرتی پر ایسے آدم بھینٹ چڑھےاس سے ملنا ہی نہیں دل میں تہیہ کر لیںاس سے پہلے کہ بے وفا ھو جائیںاس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںاس سے پہلے کہ حشر آنے لگےاس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہیےاس طرح کے حادثے مجھ کو ستانے لگ گئےاس طرح ہوں ترے خیال میں گماس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کےاس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتااس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوااس قدر مجھ سے بڑھی ہے آبروئے انتظار اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیںاس نے جب ہنس کے نمسکار کیااس نے جب ہنس کے نمسکار کیااس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیااس نے محبت کو بھی اک تجارت سمجھااس نے پوچھا تھا وفا کی بابتاس نے پوچھا وچن نبھایا ہے ؟اس نے کہا جو رات، وہیں رات ھو گئیاس نے کہا کہ دل میرا آزاد ھو گیااس نے کہا کہ ھم بھی خریدار ھو گئے اس نے کہا ھم آج سے دلدار ھو گئےاس نے کہا ھم آج سے غمخوار ھو گئےاس نے کہاکہ مجھ سے تمہیں کتنا پیار ہے؟اس وقت وہ حدّت ہے امانت میرے فن کیاس پر بھی دشمنوں کا کہیں سایہ پڑ گیااس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہےاس پہ ظاہر مرا احوال نہیں ہو سکتااس کا خیال خواب کے در سے نکل گیااس کشمکشِ ذہن کا حاصل نہیں کچھ اوراس کو تکتے بھی نہیں تھے پہلےاس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ھوگااس کی پائل اگر چھنک جائے اس کی چاہت کا بھرم کیا رکھنا؟اس گلی کا نشاں ملے نہ ملےاسرافیل کی موت اسی آگ میںاسی آگ میں:رفیق سندیلویاسی ایک شخص کے واسطے میرے دل میں درد ہے کس لیےاسی طرح سے ہر اک زخم خوشنما دیکھےاسی طلسم شب ماہ میں گزر جائےاسی لیے تو اجل نے دیا ہے جینے مجھے اسی لیےتو اندھیرے بھی کم نہیں ہوتےاسے اپنے کل ہی کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا اسے تشبیہہ کا دوں آسرا کیااسے جلوہ دکھانا ھے وہ آئے تو کدھر آئےاشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہےاشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چُھپا لیں گےاشک تھا، چشمِ تر کے کام آیااشک تھا، چشمِ تر کے کام آیااشک جب اپنی آنکھ میں آیا، ساری کہانی ختم ہوئیاشکوں میں جو پایا ہے وہ گیتوں میں دیا ہےاشکوں میں جو پایا ہے وہ گیتوں میں دیا ہےاشکِ الفت کا یہ انجام؟ خُدا خیر کرے!اشکِ الفت کا یہ انجام؟ خُدا خیر کرے!اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواظہار اور رسائی اظہارِ الم، شکوہء دوراں نہیں کرتےاعتبارِ نگاہ کر بیٹھے اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کاافسردہ نہ ہوا اے نگر ناز محبتافق کو افق سے ملا دینے والےافلاک کا سایا ہے جو کُچھ بھی زمیں پر ہےافلک کے روزنوں سے جھانک کر سورج نے دیکھ :رفیق سندیلویاقرار کر گیا کبھی انکار کر گیااقرار گئے انکار گئے ہم ہار گئےاقرارِوفا، اُمید کرم، کچھ کہہ نہ سکے، کچھ بھول گئےاللہ اللہ رے پریشانی مریالٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیاالہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانیامانتامید و بیم کے محور سے ہَٹ کے دیکھتے ہیںان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہےان شوخ حسينوں پہ مائل نہيں ہوتاان کو ہم یاد کیا کرتے ہیںان کی نگہِ قہر سے مایوس نہ ہو دلان کے اک جانثار ہم بھی ہیںان کے بغیر ہم جو گلستاں میں آ گئےانا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟انا کو خود پر سوار میں نے نہیں کیا تھاانتظار دوست کا غم کھایں کیا ہم فریب آرزو میں آ یں کیا انتقام انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام۔۔۔۔عمران شناورانجمن میں تری کچھ اور بھلا کیا ہوگا؟انجمنیں اُجڑ گئیں، اُٹھ گئے اہلِ انجمنانداز ہو بہو تیری آوازِ پا کا تھااندازِ خزاں رنگِ بہاراں نہیں دیکھااندھا کباڑی اندھیروں سے بھرا وہ دِن بھی کیا تھا؟اندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں - اِبنِ اُمیداندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں - اِبنِ اُمیداندھیری رات کو یہ معجزہ دکھائیں گے ہم اندھیری رات ہے، رستہ سجھائی دے تو چلیںاندھیرے کے تعاقب میں کئی کرنییں لگا دے گااندھیرے کے پس پردہ اجالا کھوجتا کیوں ہے جو اندھا ہو گیا وہ دن میں سورج ڈھونڈتا کیوں ہےاندیشوں کے شہر میں رہنا پڑجا ئے گاانساں ابھی شہ پارہء ارژنگ نہیں ہےانقلاب اپنا کام کر کے رہاانقلابِ جہاں کی باری ہےانکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنےانگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤںانگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں انگڑائی کی اوٹ میں جانے، پوشیدہ ہیں کِتنے بہانےانھیں کھو کر دکھے دل کی دُعا سے اور کیا مانگوںانہی رسموں سے رواجوں سے بغاوت کی تھیانہی میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےاو وی خوب دیہاڑے سناودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گزراور اب یہ دل بھی مانتا ہےاور بھی مجبُور ہوتا جا رہا ہوں میںاور تو کوئی بس نا چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کااور نہیں تو اس کو بھی بدنام کروںاور وہ شحص ٹوٹ گیااور کا ذکر تو کیا میرؔ کا بھی سایہ نہ ہواور ہم زندگی کو کيا سمجھے اور ہیں کتنی منزلیں باقیاور ہے اپنی کہانی اور ہےاوس پڑی تھی رات بہت اور ہلکی تھی گرمائش, پراول و آخر سبھی کچھ تو ہوئے ہم M Nazim Rao Ghazalاول و آخر سبھی کچھ تو ہوئے ہم بات ہے سچ مگر کہتے ہیں ذرا کماونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑااونے پونے غزلیں بیچیں،نظموں کا بیو پار کیاايک دل ھم دم مرے پہلو سے کيا جاتا رہااَن گِنت بے حساب آن بسےاُداس شام ہے اجڑا ہوا ہے گھر میرااُداس یہ آسماں ہے،دل مرا کتنا اکیلا ہےاُداسی میں گِھرا تھا دِل چراغِ شام سے پہلےاُس دشت کو جانا ہے تو گھر بھول ہی جانااُس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیااُس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ!اُس نے احسان وہ کیے یارواُس نے جھیلے اَلم محبت میںاُس نے خوابوں میں دیکھنا رکھااُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجواُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گااُس کا خیال ذہن پہ چھایا، چلا گیااُس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھااُس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھااُس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھااُس کو اپنے گھر کے سناٹے سے کتنا پیار تھااُس کو دیکھے سال ہوئے ہیںاُس کو ملنے کے تھے کتنے امکاں وقت سے پہلےاُس کو منزل ملی نہ گھر ہی رہااُس کی خواہش کروں تو یہ دھڑکا ملےاُس کی قربت میں بیتے سب لمحےاُس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دےاُس گل زمیں سے اب تک اُگتے ہیں سرو جس جااُسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھااُسے بلاو کہ جس کے چہرے پہ چاند تارے سجے ہوئے ہیںاُسے شوقِ غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا:رفیق سندیلوی اُطاقِ نفس میں اِک مشعلِ تمنا ہو:رفیق سندیلوی اُطاقِ نفس میں اِک مشعلِ تمنا ہو:رفیق سندیلویاُفق کے اُس طرف رَستہ بھی ہو گااُلجھ کے رہ گئے ہستی کے تانے بانے میںاُمنگ مجھ کو نہیں چرخِ نو بنانے کیاُمید و بیمِ دست و بازوِ قاتل میں رہتے ہیںاُمید کرم، حسرتِ دیدار ہے، میں ہوں!اُن جفاوں پر۔ ان وفاوں پراُن دنوں اُس خاک پر بارش تھی جیسے نُور کیاُن دنوں اُس خاک پر بارش تھی جیسے نُور کی اُن سے نین ملا کر دیکھواُٹھتا نہیں مُجھ سے ، تری فُرقت کا جنازہاُٹھو گلے سے لگا لو، مٹے گلہ دل کااُگا سبزہ دَر و دیوار پر آہستہ آہستہاِتنا دشوار نہیں موت کو ٹالے رکھنااِس تیرے سر کی قسم فرق سرِ مُو بھی نہیںاِس جہاں میں عجب نہیں کُچھ بھیاِس طرف سے، تیرا اِک پَل کو گزُر ہونے تکاِس عشق میں پورا کبھی ساماں نہیں دیکھااِس قدر مل گئی غم کو جِلااِسی امید پہ اب زندگی گزاروں گااِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیںاِن زمینوں میں شجر کارئ نو ہے درکاراِن کی خاطر ہی ملا دیدۂ نمناک مجھےاِک خوابِ دل آویز کی نسبت سے مِلا کیااِک دمکتا ذہن بھی ہوُں، اِک سُلگتا دل بھی ہوُںاِک عمر سے اس شب میں گرفتار ہوں مَیں بھی - اِبنِ اُمیداِک محبت ہے بدگماں ہونااِک نام کی اُڑتی خُوشبو میں اِک خواب سفر میں رہتا ہےاِک پشیمان سی حسرت مُجھے سوچتا ہےاِک پشیماں سی حسرت سے مجھے سوچتا ہےاٹھائے پھرتا کہاں تک ترے نشیلے ہاتھاپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوںاپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہےاپنا درد بڑھا لیتا ہوںاپنا دل تھام کسی یاد کی دہلیز پہ آاپنا مزاجِ کار بدلنے نہیں دیا اپنا ہی شکوہ اپنا گلہ ہےاپنی آنکھوں میں بسا لی تیری حیرت مَیں نےاپنی اپنی خواہشوں کے عکس میں دیکھا گیااپنی اپنی دھن میں نکلے چندا، رات اور مَیںاپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے اپنی دھن میں رہتا ہوںاپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوںاپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیااپنی صورت دیکھنا اور آئینوں کو چومنااپنی قامت اپنے قد سے باہر آاپنی محبت کا صلہ نہیں مانگتا اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بناؤ گےاپنی منزل کا راستہ بھیجواپنی پلکوں پہ جمی گَرد کا حاصل مانگےاپنی ہتھیلیوں پہ نہ رنگِ حنا سجااپنی ہی تیغِ ادا سے آپ گھائل ہوگیا اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تکاپنی ہی صدا سُنوں کہاں تکاپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیںاپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردواپنے اندر اُلجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں مَیںاپنے اندر اُلجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں مَیں اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کراپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کراپنے تیرو کمان دیکھوں گااپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لواپنے خوابوں کے کئی ارض و سما لے جائے گااپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کواپنے لہوُ سے آپ چراغاں کرتا ہوُںاپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیااپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیااپنے چہروں کو گُل فشاں دیکھواپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کواپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں اپنے ہی دست و پا مرے اپنے رقیب ہو گئےاچھا تُمھارے شہر کا دستور ہوگیااچھا لگتا ہے مجھے گُل تو بجا لگتا ہےاچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کااچھے عیسٰی ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہےاڑ کر کبوتر ایک سرِ بام آ گیااڑتے اڑتے آخر چانداڑتے ہوئے جگنو کو ستارا نہیں لکھااک آن میں تمام مرا کام کر گئیاک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھااک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتااک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتےاک تعلق مجھے نبھانا تھااک تمہارے پیار نے جادو یہ کیسا کر دیااک تو شوقِ سفر بھی رکھتے ہو - اِبنِ اُمیداک جھلک اُس کفِ حنائی کیاک ساتھ ہم اور کوئی پل ہیںاک شخص کو سوچتی رہی میںاک عمر رھے ساتھ یہ معلوم نہیں تھااک قیامت مری حیات بنی گرمئی بزم کائنات بنی اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گااک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گااک مسافت پاؤں شل کرتی ہوئی سی خواب میںاک معما سمجھ کے بھول گئےاک نظر سوئے بام کر چلئےاک ٹہنی پر پھُولے پھلے ہیں، پاکستان اور میںاک کماں اور کوئی تیر بنادے آکر اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گااک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھااک گھڑی بکھر رھا ہوںاک ہم ہيں کہ ہيں بے نياز ِ زخم ہائے شوق اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میںاکثر ایسا ہو جاتا ہےاگر ازل تھا تو کیا ابد ہے، مکاں ہے، یا لامکاں نہیں ہےاگر تو ہر نفس فطرت کا ہم آواز ہو جائےاگر حضور ابھی مائلِ ظہور نہ تھےاگر شامل نہ درپردہ کسی کی آرزُو ہوتیاگر فرشتہ میرے غم سے آشنا ہو جائےاگر مجھ کو نہ کچھ ادراک حسنِ یار کا ہوتااگر مجھ کو نہ کچھ ادراک حسنِ یار کا ہوتا اگر پوچھا کہ مجھ سے کام کیا ہے ، کیا کہوں گا میںاگر ہواؤں کی سازش کا احتمال نہیںاگرچہ آج وہ اگلا سا التفات نہیںاگرچہ تیری نظر کا ہی ترجماں ہوں میںاگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیااگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا اہانت دل صبر آزما نہیں کرتےاہل دل آنکھ جدھر کھولیں گےاہلِ ثروت پہ خدا نے مجھے سبقت دے دیاہلِ جفا سے ربطِ وفا توڑ دیجیےاہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیںاہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیںایسا بھی جوئی سپنا جاگےایسا ترا رہ گزر نہ ہوگاایسا تو اِتلاف، نہ دیکھا جانوں کاایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا ایسا لگتا ہے ، زندگی تم ہوایسا نہیں کہ اِس کو نہیں جانتے ہو تم!!ایسا نہیں کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملےایسا نہیں کہ پیاس کا صحرا نہیں ہوں میںایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتاایسے تیری لکھی ہوئی تحریر کھو گئیایسے نہ تھے ہم اہلِ دل ، اتنے کہاں خراب تھےایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسےایسے ہی چپ چپ بھی کیا جیا جائےایک احساسِ جادُوانہ ہُوا ۔ ۔ ۔ ایک اداسی دل پہ چھائی رہتی ہےایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حسابایک بار پھر ہم کو حکمِ انتظار آئےایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفتایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو بھی مٹ گیاایک جگنو ہی سہی، ایک ستارا ہی سہی ایک ذرا سی رُت بدلی تو سب کی سب اُس پار چلیںایک سایہ مرا مسیحا تھاایک شعر ایک منزل کے ہمسفر چپ ہیںایک نگر میں ایسا دیکھا دن بھی جہاں اندھیرایک نگر کے نقش بُھلا دوں، ایک نگر ایجاد کروںایک پرواز دکھائی دی ہے ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہےایک ہمیں نے شور مچایا گِرگٹ جیسی چالوں پرایک یوسف کے خریدار ہوئے ہیں ہم لوگاے تو کہ یاں سے عاقبتِ کار جائے گااے دل رائیگاں اداس اداساے دوست دعا اور مسافت کو بہم رکھاے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگااے شہر جن و بشر تجھ پہ درود اور سلاماے صبح! میں اب کہاں رہا ہوںاے قافلہِ شوق میرے دِل سے گزر جااے میری سوچ کی محور، تم اپنے سارے دکھ رو لواے وعدہ فراموش رہی تجھ کو جفا یاداے گلِ نو دمیدہ کے ماننداے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہیاے ہوا بتا مجھ کو کیوں یہ دل دھڑکتا ہےاےمیرےفن کے پرستار تجھےکیامعلومبات اظہار تک چلی آئیبات انوکھی ہے یہ کیسی کوئی تو مجھ کو سمجھائےبات بس سے نکل چلی ہےبات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی !بات میری کبھی سنی ہی نہیںبات کر بات کہنی تھی ایک بر موقعبات کیا ہے تری گزر نہ ہوئیباتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکےباد بہار غم میں وہ آرام بھی نہ تھاباد بہار غم میں وہ آرام بھی نہ تھابادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میںبادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنابادشاہوں کا بادشاہ تھا وہبارش کو بُلا رہا ہوُں کب سےبارش ہُوئی تو پُھولوں کے تن چاک ہو گئےبارہا گور دل جھکا لایابازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےباعث ننگ محبت کی پذیرائی ہےباعثِ ننگِ محّبت کی پذیرائی ہےباغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھےباغی میں آدمی سے نہ منکر خدا کا تھاباقی رہی نہ خاک بھی میری زمانے میںباقی ہے یہی ایک نشاں موسمِ گل کابالآخر یہ حسیں منظر مٹا دینا ہی پڑتا ہےبانجھ ہے برکھا پون،آنکھوں کا موسم اور ہےباندھ رکھا ہے مَیں نے ازل سے رختِ سفرباندھ لیں ھاتھ پہ سینے پہ سجالیں تم کوباہر بھی اپنے جیسی خدائی لگی مجھےببول کوہ پہ تھی، دشت میں صنوبر تھےبتا جو ابر آئے تھے وہ ابر کیسے چھٹ گئےبتا ساتوں سمندر آئینے ہیں کن زمانوں کےبتا عدیم اپنی خوبیوں کا حساب آیابتا نجومی میری ہتھیلی میں پیار کوئیبتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھابتا یہ جذبۂ بے اختیار کیا ہو گا؟بتاؤ اب کیوں اسے منانے کی آرزو ھےبتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟بتاؤ ذرے گنے جو سارے غبار میں ہیںبتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا؟بتاؤ کیسا حسین خط کا جواب آیابجا کہ آنکھوں میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیںبجا کہ اُس میں جو تھیں کج ادائیاں، نہ گئیںبجا کہ تیرے تغافل کے شکوے کرتا ہوُںبجا، کہ یوں تو سکوں تیری بارگاہ میں ہےبجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرےبجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھیبخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےبدل گئی ہے زندگی اب، سبھی نظارے بدل گئے ہیںبدلی نہ اس کی روح کسی انقلاب میںبدمست ہو کے اے نگہہ ناز دیکھنابدن صحرا ہے اور پاگل ہوا ہےبدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہےبدن کی سر زمین پر تو حکمران اور ہےبرباد کر گیا میرا دستِ دُعا مجھےبرسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سابرسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سابرف کی لڑکیبرقع اُٹھا تھا رُخ سے مرے بد گمان کابرگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے مَیںبرگِ دل کی طرح ہے زرد ہَوابرہنہ کر کے سحر، شب کو بے ردا کر کے: رفیق سندیلوی بریدہ پیڑ کی شاخوں پہ پھل نہیں ہوتےبزم آرا ہیں لوگ ہم تنہابزم آرا ہیں لوگ ہم تنہا بزم سے جب نگار اٹھتا ہےبزمِ انساں میں بھی اِک رات بسر کر دیکھوبزمِ مے، جام و سبو، بادہ کشی بھول گئےبس آنکھ لایا ھُوں اور وُہ بھی تَر نہیں لایابس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہےبس اتنا سا زیاں ہونے لگا ہےبس اِک چراغ یہ روشن دِل تباہ میں ہےبس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوںبس ایک دھن تھی اُسی دھن میں شعر کہتے رہےبس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئیبس کہ فعّالِ ما یرید ہے آجبس کہ پابندیِ آئینِ وفا ہم سے ہوئیبساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیبستیاں سنہری تھیں، لوگ بھی سنہرے تھےبسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونابعد مُدت اُسے دیکھا، لوگوبعد میں آگ بجھائی بھی تو کیا حاصلبلا جواز رکھیں خود کو بےقرار بھی کیوںبلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیواربلا کی دھوپ تھی ساری فضا دہکتی رہیبن پڑے گر تو یہ ہار بھی مان لیںبن ہو، ابر ہو، تیز ہوا ہوبنایا دشت میں خوشبو نے راستا بھی تو کیابند تھا دروازہ بھی اور گھر میں بھی تنہا تھا میںبند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگبند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیںبندہ نواز! صورتِ حالات اور ہےبندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھابنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیابنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیابنے بنائے ہوئے راستوں پہ جانکلےبنے بناۓ سے رستوں کا سلسلہ نکلابوئے موجود سے موہوم اشارے تک ہےبول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نشاں کُھلےبول سکھی ، دل نے کس پل اُکسایا ہو گا ؟بول سکھی، کب تک چاہت کو ٹھکرائے گی؟بولو ہیں رنگ کتنے زمانے کے اور بھیبولو، بھیگی رت میں کوئل کیوں روئے ہے؟بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئےبُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتےبچوں کی سی حیرانی ہے ہر جانببچپن کے دُکھ ۔ ۔ ۔ ۔بچھائے جال کہیں جمع آب و دانہ کیابچھڑ کے بھی مَیں تیرے پرتوِ و صال میں ہوُںبچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنابچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے بچھڑنے والےبچھڑنے کا سماں ہے اور میں ہوںبچھڑنے کے زمانے آ گئے ہیںبڑا احسان ہم فرما رہے ہیںبڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤبڑی آگ ہے‘ بڑی آنچ ہے‘ ترے میکدے کے گلاب میںبڑے خطرے میں ہے گلستاں، ہم نہ کہتے تھےبک گئی دیوار تو پھر در کا سودا کر دیابکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہو گابکھر رہے ہیں خد و خال چار سُو میرےبکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتےبکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتابگاڑ ہو کہ بناؤ، عجیب تیرے سبھاؤبگڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہےبگڑ کے مُجھ سے، وہ میرے لیے اُداس بھی ہےبھاتی نہیں دنیائے سخن ساز کی باتیںبھرم غزال کا جس طرح رم کے ساتھ رہا بھری برسات میں، جس وقت آدھی رات کے بادلبھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلےبھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہوںبھلا نہیں تو برا ملے گابھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میںبھلا ہے یا برا دیکھا نہ جائےبھنور لپیٹ کے پاؤں، سفر میں رکھا ھے - اِبنِ اُمیدبھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے، تَن کے بیٹھے ہیںبھول جانا بھی اسے یاد بھی کرتے رھنابھول جانے کا تو بس ایک بہانہ ہوگابھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں۔۔۔۔عمران شناوربھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہوبھُولے رستوں پہ جانا ضروری نہیںبھڑک سکتی ہے ظالم آگ ، پانی میں نہیں رہنابھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیںبھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتےبھیڑ ہے برسربازار کہیں اور چلیںبہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنابہار جب بھی چمن میں دِیے جلاتی ہےبہانہ جو کوئی تجھ سا نہیں ہےبہت تاریک صحرا ہو گیا ہےبہت دنوں بعدبہت دنوں سے ہوں خالد اسیر حلقۂ خواببہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھیبہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟بہت فسردہ ہیں ان کو کھو کر جگر فگاروں سے کچھ نہ کہنابہت مشکل ہے ترکِ عاشقی کا درد سہنا بھیبہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیںبہت گہرا ہے اپنا تاجرانہ پیار آپس میںبہت ہُوا کہ غمِ دو جہاں کی زد میں نہیںبہت ہے میرے لیے زباں اور قطبی تارابہکی بہکی ہیں ، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا کھوئی کھوئی سی ہیں ، راہوں کو نہ جانے کیا ہوا بیانِ شوق کو مرہونِ خامشی تو کروںبیانِ قصۂ بے چارگی کیا جائےبیخودی! تو ہی آخر بتا، کیا کریں؟بیخودی! تو ہی آخر بتا، کیا کریں؟بیمار پڑوں تو پوچھیو متبیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنےبیٹھا ہوُں تشنگی کو چھُپائے نگاہ میںبیکار ہے گرہ تیرے بندِ نقاب کیبیکراں رات کے سنّاٹے میں بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےبے انت خیالات مجھے مار ہی دیں گے بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہےبے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھابے تعلق میں خود اپنے ہی گھرانے سے ہوابے خبر ہوں کہ ستارے بھی سفیروں میں نہیںبے خودی لے اڑی حواس کہیںبے خودی میں کیا بتائیں آج ہم نے کیا کِیابے درد ہیں جو درد کسی کا نہیں رکھتےبے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟بے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟بے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟بے رنگ ہے ہر غنچہ لب کیا اسے کہنابے زبانوں کو بے زباں کہئے بے زبانی کی داستاں کہئے بے سبب مسکرا رہا ہے چاندبے سبب کیوں کہ لبِ زخم پہ اُفغاں ہوگابے سبب ہیں تیری باتیں اے دلبے سود ہمیں روزنِ دیوار سے مت دیکھبے سَبب سائے سے جدُا رہنابے شمار انسان ہیں، سب کا سراپا ایک ہےبے قراری سی بے قراری ہے بے لباسی جو ہر لباس کی ہےبے نام ہوں، بے کار ہوں، بدنام نہیں ہوںبے وفا وقت نہ تیرا ہے، نہ میرا ہو گابے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیںبے پردہ جلوہ ہائے جہاں آفریں ہوئےبے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنابے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھابے چین ہوا مست بول پیا کے لہجے میںبے کار گئی آڑ تیرے پردہ در کیبے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہابے کیف جوانی ہے بے در د زمانہ ہےبے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہےبےشک نہ میرے ساتھ سفر اختیار کربےصدا ٹھہرے ہونٹ کھول کے ہمتا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیاتاب نہ تب بال و پَر میں اور پرندہتابہ مقدور انتظار کیاتارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میںتاروں کی چلمنوں سے کوئی جھا نکتا بھی ہوتارِ شبنم کی طرح صورتِ خس ٹوٹتی ہےتاریخ شرمسار ہے، ابواب منتشرتارے ہیں نہ ماہتاب یاروتتلیاں،جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کونتتلیوں کی بے چینی آبسی ہے پاؤں میںتتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہےتجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جاسکتیتجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئےتجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہےتجھ سے ملتے ہی، بچھڑنا تیرا یاد آتا ہےتجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیاتجھ سے ہوتی بھی تو کیا ہوتی شکایت مجھ کوتجھ پر بھی فسوں دہر کا چل جائیگا آخرتجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے اِدھر آتے ہوئےتجھُ سے کہنے کی بس اَب یہی بات ہےتجھُ سے کہنے کی بس اَب یہی بات ہے تجھی سے ابتدا ہے، تُو ہی اک دن انتہا ہوگاتجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھاتجھے باہوں میں بھرنا چاہتا ہوںتجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دےتجھے رُسوائی کا ڈر ہے نہ آیا کرتجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں، جہاں تک دیکھوںتجھےکہا نا،کہ تو ہمیشہ سے رائیگاں مجھ کو سوچتا ہے،وہ تو نہیں ہےتر بہ تر اے چشم تجھ کو کر چلےترا جمال بھی ہے آج ایک جہان ِفراقترا ہجر ہی پیار ہےترک محبت کر بیٹھے ھم،ضبط محبت اور بھی ھےترکِ اُلفت کا بہانہ چاہےترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو؟ اتنی کیا بیزاری ہےتری آنکھیں سمندر تھیں ، میں ان میں ڈوب جاتا تھاتری امید، ترا انتظار جب سے ہےتری امید، ترا انتظار جب سے ہےتری انجمن میں وہ سب لوگ آئےتری بے نیازی، مری بے قراریتری خوشبو نہیں ملتی،تری لہجہ نہیں ملتاتری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھےتری طرح کوئی بھی غمگسار ہو نہیں سکاتری طلب نے ہمیں کس قدر خراب کیاتری قیمت گھٹائی جا رہی ہےتری نظر سے زمانے بدلتے رہتے ہیںتری یادوں کا وہ عالم نہیں ہےترے آنے کا دھوکا سا رہا ہےترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے ترے جیسا مرا بھی حال تھا،نہ سکوں تھا نہ قرار تھاترے عشق میں آگے سودا ہوا تھاترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیںترےکنول، مرے گلاب سب دھوئیں میں کھو گئےتسلی دے کے مرا صبر آزمانا متتسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملےتشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہےتشنگی مورد الزام نہیں ہوتی تھیتعبیر میں ڈھل رہے ہیں دونوںتعبیر ہو جس کی اچھی سی ، کوئی ایسا خواب نہیں دیکھاتلاش بول رہی ہے، نہیں ملا اب تکتلاشِ لالہ و گل فکرِ رنگ و بو نہ رہیتلاشِ لالہ و گل فکرِ رنگ و بو نہ رہیتم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریںتم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤتم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہےتم اتنا جو مسکرا رھے ھوتم اپنے گرد حصاروں کا سلسلہ رکھناتم ایسے زہرہ نگاروں کی بات کون کرے؟تم بھُول گئے کہ یاد آئےتم بھُول گئے کہ یاد آئے تم بھی رہنے لگے خفا صاحب!تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہوتم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتاتم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو تم سے بچھڑکے کام یہ کرنا پڑا ہمیںتم سے جانم عاشقی کی جائے گیتم سے ملی نظر تو طبیعت بہل گئیتم سے پہلے بھی کسی اور نے چاہا تھا مجھے تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوںتم میری آنکھ کے تیور نھ بھلا پاؤ گےتم نے تقدیریں جگائیں مرے ارمانوں کیتم نے تو کہہ دیا کہ محبت نہیں ملیتم نے سچ بولنے کی جرات کیتم نے ہمارے چاروں طرف ہی گھاتیں کیںتم نے یہ کیسا رابطہ رکھاتم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ، ایسے تو حالات نہیںتم چین سے کب ہو، ہمیں آرام کہاں ہے؟تم کو دیکھا تو یہ خیال آیاتم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کوتم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھاتم کیسی محبت کرتے ہوتم گئے تو جہان بھی نہ رہاتم یہ کیا معجزے دکھانے لگےتماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیںتماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں سواے فریب نظر کچھ نہیں تمام رات میرے گھر کا ایک درکُھلا رہا تمام شب یونہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیںتمام شہر میں اب تو ہے راج کانٹوں کاتمام عمر تڑپتے رہیں کسی کے لئےتمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کرتمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟تمام لوگ اکیلے ، راہبر ہی نہ تھاتمام یادیں مہک رہی ہیں، ہر ایک غنچہ کھلا ہوا ہےتمنا پھر مچل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤتمناؤں کے سب دَر کھولتا ہےتمناہے کہ مرتے وقت بھی ہم مسکراتے ہوںتمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھاتمھارے خواب میرے ساتھ ساتھ چلتے ہیںتمھیں جو حُسن فقط فِتنہ گر نظر آئےتمھیں جو میرے غم. دل سے آگہی ہوجائے تمہارا پیار مرے چارسو ابھی تک ہےتمہارا پیار چھپ چھپ کر کئی چہرے بدلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھوتمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہوتمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتےتمہاری راہ کی دیوار تو ہونا نہیں ہم کوتمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیںتمہارے بعد اس دل کا کھنڈر اچھا نہیں لگتاتمہارے بعد اس دل کا کھنڈر اچھا نہیں لگتاتمہارے خُلق میں فتنے ہیں کیا کیا، ہم نہیں کہتےتمہارے شہر کے لوگوں کے ہیں ستائے ہوئےتمہارے وہاں سے یہاں آتے آتےتمہارے ٹھاٹھ بھی، اپنی جگہ سارے، بجا جاناںتمہارے پاس سے میں اُٹھ کے آگیا ہوں مگرتمہیں بھی علم ہو اہل وفا پہ کیا گزریتمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں،مرے دل سے بوجھ اتار دوتمہیں جو روبرو دیکھا کریں گےتمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیںتند مے اور ایسے کمسِن کے لیےتنکا تنکا کانٹے توڑے ، ساری رات کٹائی کیتنگ آ چکے ہیں کشمکشِ زندگی سے ہمتنگ آچکے ہیں یورشِ بے چارگی سے ہمتنہا ھے دل تو ذہن کئی محفلوں میں ھےتو اسیر برم ہے ہم سخن تجھے ذوقِ نالہء نےَ نہیںتو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائعتو بعنوانِ حیا یاد آیاتو بگڑتا بھی ہے، خاص اپنے ہی انداز کے ساتھتو بھی میرے ساتھ رویا کس لئے تو نے بھی دامن بھگویا کس لئے تو بھید بتادے مِٹی کاتو تھا کہ کوئی تجھ سا تھاتو جو اللہ کا محبُوب ہوا، خُوب ہواتو جو نہ ہو تو جیسے سب کو چپ لگ جاتی ہےتو دل میں کیا تھا تمھارے ،ساجن اگر نہیں تھا؟تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھاتو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگتو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگتو مجھ سے تیز چلے گا تو راستہ دوں گاتو معمہ ہے تو حل اس کو بھی کرنا ہے مجھےتو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملےتو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملے تو نے تو اے رفیق جاں ، اور ہی گل کھلا دئیےتو نے جو خواب توڑ ڈالے تھےتو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعدتو نے کس جا پہ اتارا ہے ابھیتو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دےتو پھُول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھاتو پھُول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھا تو کعبئہ دل میں تھا تو پتّھر کا صنم تھاتو ہے دلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپنتو ہے مشہور دل آزار، یہ کیاتو ہے یا ترا سایا ہےتوبہ ہے کہ ہم عشق، بتوں کا نہ کریں گےتوُ جو بدلا تو زمانہ ہی بدل جائے گاتُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہےتُو اپنی محبت کا اثر دیکھ لیا کر۔۔۔۔عمران شناورتُو نے ہی نام و نمود ِ ذات کی تدبیر کیتُو ہے اک گوہر نایابتُونے پھینکا عدیم جال کہاںتِری آنکھوں میں فصلِ ہجر کیسے بو گیا کوئی؟تِیر ہے اور نہ تلوار انسان ہےتپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہےتھا مستعار حسن سے اُس کے جو نور تھاتھا میرجن کو شعر کا آزار مرگئےتھا میّسر ہی نہ پیرایۂ اظہار ہمیںتھا میّسر ہی نہ پیرایۂ اظہار ہمیں تھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامناتھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامنا تھکن سے چُور ارادے، جگر پہ اُترے ہیںتھکی تھکی گلوں کی بُوتھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہاتھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئیتہمت اتار پھینکی، لبادہ بدل لیاتہی بھی ہوں تو پیمانے حسیں معلوم ہوتے ہیںتیر جو اس کمان سے نکلاتیرا رخِ مخطّط قرآن ہے ہماراتیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہتیرا غم پا کر بلائے عشرتِ فانی گئیتیرا گزر ادھر جو برنگ صبا ہواتیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھتیرگی پُرہول، صحرا بے اماں، بادل سیاہتیری آنکھوں میں رنگِ مستی ہےتیری باتیں ہی سنانے آئےتیری جانب اگر چلے ہوتےتیری جبیں پہ لکھا تھا کہ تو بھلادے گاتیری جنت سے ہجرت کر رہے ہیںتیری جوانی کے پاسباں حشر تک یونہی نوجواں رہیں گےتیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹتیری سانسوں کی مہک پھیلے، زمانے ہو گئےتیری صورت جو دلنشیں کی ہےتیری صورت جو دلنشیں کی ہےتیری مجبوریاں درست مگرتیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کاتیری میری باتیں ہوںتیری نگاہ کے جادو بکھرتے جاتے ہیںتیری وضاحت ٹھیک ہے،اسےجھٹلائے کونتیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھےتیری یادوں سے دل فروزاں کریں گےتیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںتیرے غم کو جاں کی تلاش تھی تیرے جاں نثار چلے گئے تیرے لبوں کی سُرخی، میرے لہو جیسی تھیتیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہےتیرے گمنام اگر نام کمانے لگ جائیںتیز آندھیوں میں اڑتے پر وبال کی طرحتیز رنگوں سے بنائیں تری ڈولی، آنکھیںجا کے میں تیرے ساتھ لے آؤںجاتی ہے دھوپ اُجلے پروں کو سمیٹ کےجاتے جاتے اس طرح سب کچھ سوالی کرگیاجاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیاجاتے کہاں تھے، اور چلے تھے کہاں سے ہمجاتے ہو تو لے جاؤ یادیں بھی میرے دل سےجاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیںجام دیکھو نہ پھر سبُو دیکھوجان تم پر نثار کرتے ہیںجان تن سے جو تڑپ کر شبِ فرقت نکلیجان میری! رات کے خیموں میں صبحیں ڈھونڈنے والوں کو پچھتانا پڑے گاجاناں! کبھی تو مژدۂ لطفِ وصال دےجانے پھر اگلی صدا کِس کی تھیجانے کس سمت سے آیا ہوُں، کدھر جاتا ہوُںجانے کس وحشت کا سایہ سا مجھ پہ لہراتا ہےجانے کس چاہ کے‘ کس پیار کے گن گاتے ہوجانے کیا سوچ کے اربابِ نظر لوٹ آئےجانے کیسے سنبھال کررکھّےجانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نےجانے، کون رہزن ہیں! جانے، کون رہبر ہیںجانےکیا ہو پلک جھپکنے میں جاہ و جلال دوام و درم اور کتنی دیرجب آنکھ میں نیند اُتر آئےجب اسے چاہا تو چاہا ہر طرح کے حال میںجب اُس کی نوازش ہوتی ہے، یہ معجزہ تب ہو جاتا ہےجب اپنی اپنی محرومی سے ڈر جاتے تھے ہم دونوںجب بھی تیرے ستم کی بات چلیجب بھی دہرائے فسانے دل کےجب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیںجب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہےجب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہے جب بھی یہ دِل اُداس ہوتا ہےجب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھاجب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گےجب ترا دامنِ تر یاد آیاجب تری جان ہو گئی ہو گیجب تصور میں نہ پائیں گے تمہہںجب تلک اک تشنگی باقی رہے گیجب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیراجب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئیجب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیںجب تک لہو دیدہء انجم میں ٹپک لےجب تیرا انتظار رہتا ہےجب تیرا حکم ملا ، ترک محبت کردیجب تیرا درد میرے ساتھ وفا کرتا ہےجب تیرا ظہوُر دیکھتا ہوُںجب جب رات کا آنچل بھیگےجب جب وہ سرِ طورِ تمنا نظر آیاجب جب وہ سرِ طورِ تمنا نظر آیاجب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرےجب دل کی راہ گذر پر نقشِ پا نہ تھاجب ذات بٹ گئی تو لگا کچھ نہیں بچاجب ذرا تیز ہوا ہوتی ہےجب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہےجب زمانے کو ہی قرار نہیںجب سے اس حسنِ بلاخیز کا شیدائی ہواجب سے اس حسنِ بلاخیز کا شیدائی ہواجب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیےجب سے قریب ہوکے چلے زندگی سے ہمجب سے میرے یار دشمن ہو گئے ۔۔۔۔عمران شناورجب سے واقف میں ہوئی ہوں کسی ہرجائی سےجب سے وُہ بدن، اپنے قریں ہونے لگا ہےجب سے ہم تقسیم ہوُئے ہیں نسلوں اور زبانوں میںجب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا جب وہ بُت ہمکلام ہوتا ہےجب وہ صورت عجب بنائی گئیجب پوَ پھٹی:رفیق سندیلویجب پوَ پھٹی:رفیق سندیلویجب چرخ پہ تارے مجھے کرتے ہیں اشارےجب کبھی آنکھ ملاتے ہیں وہ دیوانے سے جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئیجب کبھی خوبئ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیںجب کبھی چھیڑا جنوں نے دیدہء خوں بار کوجب کسی صورت سرِ محفل نہ شنوائی ہوئیجب کوئی غم مجھے ستاتا ہے جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیںجب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیںجب ہم کہیں نہ ہوں گے تب شہر بھر میں ہوں گےجب ہوا تک یہ کہے ، نیند کو رخصت جانوجب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلُو آئیجب یہ طے ہوا، مَیں کبھی تُجھ کو نہیں پا سکتاجبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہےجبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گاجتنی بھی رسوائی تھیجتنے دن اس بت کو اپنا غم سنانے میں لگےجدا جو پہلو سے وہ دلبرِ یگانہ ہواجدا رہ کر بھی جی لینا بہت بے کا ر لگتا تھا جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھاجدائی کربلا جیسیجدھر کا رخ بھی میں کرتا ، جہاں بھی جاتا تھاجذبات کی رو میں بہہ گیا ہوںجذبہ و شوق کی روانی میںجرم بھی تھا محسن بھی میرا لگتا تھاجرمِ انکار کی سزا ہی دےجز نغمہ رباب وفا اور کچھ نہیںجس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہےجس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گياجس دن سے چلا ہوں ، کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیجس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کاجس سے لرزاں تھی وُہ ڈر، یاد آیاجس شجر پر بھی آشیانہ رہاجس قدر خود کو وہ چھپاتے ہیںجس نے تمہیں غم خوار کِیا ہےجس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہمجس کو اکثر سوچا تھا تنہائی میںجس کو چاہتا ہوں میں وہ مرا نہیں ہوتاجستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےجستجو میں تری جو گئے کون جانے کہاں کھو گئے جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہےجسم تپتے پتھروں پر روح صحراؤں میں تھیجسم دَمکتا، زُلف گھَنیری، رنگیں لَب، آنکھیں جادُوجسے بھی دُھوپ بار آور لگی تھیجفاؤں پر ملال تو آتا ہو گاجل کے اپنی آگ میں خود صورت پروانہ ہمجلتا رہا ہوں رات کی تپتی چٹان پرجلتا ہوں ہجر شاہد و ياد شراب ميںجلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتاجلتے فانوس کی روشنی چھن گئیجلوؤں کے تسلط سے مجھے ہوش نہیں ہےجلوہ تھا کسی کا وہ جلوہ ہم ہر غمِ دنیا بھول گئےجلوہ حسن کرم کا آسرا کرتا ہوں میںجلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سےجلوہ گر پھر وہ ماہتاب ہواجلوہ گر پھر وہ ماہتاب ہواجلوہء معتبر کو کیا کہیئےجمال فن کا، تیرے اور میرے گھر میں رہاجمالِ یار کا دفتر رقم نہیں ہوتاجمالِ یار کو تصویر کرنے والے تھےجمالِ یار کی مشعل اٹھا کے دیکھتے ہیںجمع کرتے بدن کی یہ نم، تھک گئےجن کے لائے ہوئے سندیس، بھُلائے نہ گئےجنت ماہی گیروں کیجنون سے گزرنے کو جی چاہتا ہےجنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانیجنُوں کے راستے خاصے کڑے ہیںجنگل جنگل شوق سے گھومو، دشت کی سیر مدام کروجنگل میں گھومتا ہے پہروں فکرِ شکار میں درندہجنہیں دشمن سمجھتے تھے وہی اپنے نکل آئےجو آنسو دل میں گرتے ہیں وہ آنکھوں میں نہیں رہتےجو اتنے قریب ہیں اس دل سے، وہ دور ہوئے تو کیا ہوگا ؟جو اس شور سے میر روتا رہے گاجو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائےجو اُس کے سامنے میرا یہ حال آ جائےجو اپنی جڑوں کو کاٹتا ہےجو بھی اُس چشم خُوش نگاہ میں ہےجو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیاجو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچاجو بھی ہے طالبِ یک ذرّہ، اُسے صحرا دےجو تری قربتوں کو پاتا ہے۔۔۔۔عمران شناورجو خواب حویلی کا ہوا، پھر نہیں آیاجو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہوجو دل لگانے کا سوچتے ہوجو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرناجو دن گزر گئے ہیں ترے التفات میںجو دُکھ سُکھ بانٹ سکے ،ہم اس کو عورت کہتے ہیںجو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیاجو راز دل کی زمیں پہ لکھے، مٹا دیئے ہیںجو روا تھے پہلے اب وہ نا روا کیوں ہو گئے؟جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیںجو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہےجو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہےجو سوا نیزے پہ سورج کے نکلتا ہوگاجو سچی بات کرتا تھا، کہاں ہے وہجو شخص بھی اپنا قد و قامت نھیں رکھتاجو شوق ہے، کہ اضافہ ہو نکتہ چینوں میںجو صبح و شام پئے انتظار گزرے ہیںجو عطا کرتے ہیں وہ نام خدا دیتے ہیںجو غم بھی دل وجان سے پیارا نہیں ہوتاجو لکھا ہے، عام ہوا ہےجو مجتمع ہو رہا ہوں پل پل مجھے بتامیں بکھر نہ جاؤںجو مجتمع ہو رہا ہوں پل پل مجھے بتامیں بکھر نہ جاؤں جو مجھے بُھلا دیں گے میں انھیں بُھلا دُوں گاجو محفل سے اُن کی نکالے ہوئے ہیںجو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہےجو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہے جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہےجو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جاناجو چُنے جاتے ہیں دیواروں کے بیچجو کم نصیبی کا اپنی خیال آتا ہےجو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے جو کہہ چکے تھے تو پھر ہمارا یہ حال ہونا تو چاہیئے تھاجو گفتنی نہیں وہ بات بھی سنادوں گاجو گم ہوئے وہ زمانے تلاش کرتا ہوںجو ہمسفر تھے، ہوئے گرد راہ سب میرےجو ہڈیوں سے مری بام و در بناتا ہےجو ہے رائیگاں تیری جستجو ‘ یہ تیری نظر کی خطا نہیںجو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگاجور سے باز آئے پر باز آئیں کیاجَل کے ٹھنڈے ہوئے ترے غم میںجگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھیجگمگائیں گے نگر آخر شبجگمگائیں گے نگر آخر شب جھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کاجھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کا جھلستے دشت میں لگتا ہے مثلِ سائباں ہے تُوجھومتی ٹہنی پر اس کا ہمنوا ہوجاؤں میںجھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کرجھُلسے بدن کو گاہ نمو آشنا کرےجھُلسے بدن کو گاہ نمو آشنا کرے جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںجھیل آنکھوں میں خلا ہو جیسےجہانِ مرگ صدا میں اک اور سلسلہ ختم ہو گیا ہےجہاں بجھ گئے تھے چراغ سب، وہاں داغ دل کے جلے تھے پھرجہاں بھی رہنا ہمیں یہی اک خیال رکھنا جہاں بھی سرِ انجمن شاہ بولےجہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہےجہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںجہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلاجہاں میں ہوں وہاں بدلے گا کیا کچھ؟جہاں والوں یہ جور آسمانی دیکھتے جاؤجہاں کے شور سے گھبرا گئے کیاجہلِ خرد نے دن يہ دکھائےجی دیکھا ہے مر دیکھا ہےجی دیکھا ہے مر دیکھا ہےجی میں ہے یادِ رخ و زلفِ سیہ فام بہتجی چاہتا ہے کوئی سخن آشنا بھی ہوجی چاہتا ہے، فلک پہ جاؤںجی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگیجیتا ہی نہیں ہو جسے آزارِ محبتجیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیاجیسا بھی چاہے حصہ لے لیتا ہےجیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میںجیسے جیسے لوگ حق کے رازداں بنتے گئےحادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھیحادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھیحاصل بجز کدورت اس خاک داں سے کیا ہےحال خوش تذکرہ نگاروں کاحال دوری میں خدا جانے میرا کیا ہوتاحالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتاحالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئیحالِ دل تجھ سے، دل آزار، کہوں یا نہ کہوںحالِ دل میر کا رو رو کے سب اے ماہ سناحبس دنیا سے گزر جاتے ھیںحجرہءِ کشف و کرامت میں رکھا ہے میں نے :رفیق سندیلوی حد سے گزرا تری فرقت میں شبِ تار کا لطفحدودِ جاں سے پرے جا رہا ہے اور طرفحدِ امکاں سے پرے خواب نگر ہوتا ہےحرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہےحرفِ ناگفتہ حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صباحروف آگہی تھے بےکس و لاچار کیا کرتےحریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیازحسرت آتی ہے دلِ ناکام پرحسرتِ دید کو ترسا کے چلا جاؤں گاحسن جب بے نقاب ہوتا ہےحسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدحسن مرہونِ جوشِ بادہء نازحسن مرہونِ جوشِ بادہء نازحسن و جمال کے بھی زمانے نہیں رہےحسن کہتا ہے اک نظر دیکھوحسنِ بیان قصر کا ایسا بھی اہتمام کیاحسنِ فردا غمِ امروز سے ضَو پاۓ گاحسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےحشر دل میں بپا ہوئے کیا کیاحشر ظلمات سے دل ڈرتا ہےحشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اِس تدبیر کاحشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اِس تدبیر کا حصارِ لفظ و بیاں میں گُم ہوںحصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریںحصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریں حضرت دل آپ ہیں جس دھیان میںحضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےحقیقت غمِ الفت چھپا رہا ہوں میںحقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجےحلقہ رنگ سے باہر نکلوںحمد ۔۔۔۔۔ یہ زمیں آسماں تیرے صدقےحواس کا جہان ساتھ لے گیاحوصلہ ڈوبتے موسم کا بڑھا دیتا ہےحَسَن کوزہ گر (٢) حَسَن کوزہ گر (٣) حَسَن کوزہ گر- 1 -- حُسن اور مقتضی جفاؤں کاحُسن اور مقتضی جفاؤں کا حُسنِ اضداد سے بَہلتا ہوُںحُسنِ کافر بنا عنواں مرے افسانے کاحیراں ہوں زندگی کی انوکھی اڑان پرحیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیںحیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہےحیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہےحیرتِ دید لئے حلقہء خُوشبو سے اُٹھاحیوانیت کی آگ میں انسان مر گیاخارو خس تو اٹھیں راستہ تو چلےخاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوںخامشی نے کیا سفر کیسےخاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتےخاموشیوں میں ڈوب گیا ہے، گگن تمامخاک میں خون ملایا اس نےخاک میں گزرا ہوا کل نہیں ڈھونڈا کرتےخاک ِ میداں کی حِدتوں میں سفرخاک پر خلدِ بریں کی باتیںخاک ہے جس کا مقّدر وُہ نگینہ دیکھاخبط کرتا نہیں کنارہ ہنوزختم ھونے کو ھے سفر شایدخدا بھی اور سمندر میں ناخدا بھی ہےخدا تو خیر خدا ہے بشر نہیں مِلتاخدا کا ذکر نہ کر اِن اداس لوگوں سےخدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے خدا ھم کو ایسی خدائی نہ دےخراب و خستہ سا دن، خستہ و خراب سی شامخزانہء زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھخزاں نصیب ہیں، رشتہ مگر بہار سے بھیخزاں کی رت میں بھی نقشِ بہار باقی ہےخزاں کے پُھول کی صُورت بِکھر گیا کوئیخزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میںخشک ہونٹوں پر ترانے آ گئےخطا اپنی چھپانے کو نئی تدبیر کرتے ہیںخطا ہونے لگے تھے رعد سے اوسان میرےخلا میں پر توِ آدم دکھائی دیتا ہےخلش ہجرِ دائمی نہ گئیخلق تکمیل کی ہے دیوانیخلق کو آتش نفس، آنکھوں کو نم دیکھا نہ تھاخلقت کا احتجاج تو کم کر دیا گیاخلوتوں کا امیں گھر کہاں رہ گیاخمار غم ہے، مہکتی فضا میں جیتے ہیںخمار ِ شب میں اُسے سلام کر بیٹھاخموشی بول اٹھے، ہر نظر پیغام ہوجائےخمیدہ سر نہیں ہوتا میں خودداری کے موسم میںخنجر سے کرو بات نہ تلوار سے پوچھوخوئے اظہار نہیں بدلیں گےخواب آنکھوں کو جگاتے تو کوئی بات بھی تھیخواب اب کے نہیں، تعبیر ملےخواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیںخواب ساتھ رہنے کے نت نئے دکھاتا ہےخواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہُوںخواب پلکوں میں جگانے کی بھی مہلت نہیں دیخواب پلکوں کو چھو گیا ہوگاخواب کا شہر ہی مٹا دیتےخواب کتنے عجیب ہوتے ہیںخواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھاخواب کے گاؤں میں پَلے ہیں ہمخوابوں کا اِک جہاں مجھے دے گیا کوئیخوابوں کو تصویر بنانا بھول گئےخوابوں کی بستیاں نہ بسائیں، تو کیا کریںخوابوں کی تعبیر کو مٹی کر دو گےخوابِ کِمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیاخوبصورت فریب شادی ہے فطرت غم ہی مسکرا دی ہے خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہوگیاخود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میںخود اپنی جفاوں پہ رونے لگے ہوخود اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے خود اپنے تن پہ زخم کسی نے لگا لئے خود اپنے صحن میں گردن جھکا کے ٹھہرے تھےخود اپنے گرد ہی پھرتے ہیں ہم آہستہ آہستہخود سے ہم اک نفس ہلے بھی کہاںخود وقت میرے ساتھ چلا وہ بھی تھک گیاخود وقت میرے ساتھ چلا،وہ بھی تھک گیاخود کو تجھ پہ میں وار دیتا ہوںخود کو وقف ِعذاب کیا کرناخود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتاخودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکےخودسری کا بھرم نہ کھل جائےخوش آمدید ۔ اس سائٹ کا مشنخوشا وہ دور کہ جب فکر روز گار نہ تھیخوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میںخوشبو کو تتلیوں کے پروں میں چھپاؤں گاخوشبو کی ترتیب ، ہَوا کے رقص میں ہےخوشبو کی طرح آیا ، وہ تیز ہواؤں میںخوشبو کے ہاتھ پھول کا پیغام رہ گیاخوشبو ہے وہ تو چُھو کے بدن کو گزر نہ جائےخوشبوؤں کی بارش تھی، چاندنی کا پہرہ تھاخوشی کو بانٹنے والوخوشی کی رت کو پکارو تو کب نہیں آتیخوف سے آنکھوں میں خُوں کی دھاریاں ایسی نہ تھیںخوف کی شب میں ہونٹ سینے سےخوف کے سیلِ مسلسل سے نکالے مجھے کوئیخون رسنے لگتا ہے، ان کے دامنوں سے بھیخون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی خون کو ترسا ہوا راستہ رہ جاتا ہےخون کے رشتے الجھ کر رہ گیٔے مقدار میںخُدا نہیں، نہ سہی، ناخدا نہیں، نہ سہیخُوب ہمارا ساتھ نبھایا، بیچ بھنور کے چھوڑا ہاتخُوب ہے شوق کا یہ پہلُو بھیخُود فریبی کے نِکل آئے ہیں کتنے پہلوخُوش ہوُا ہوُں تو مجھے اشک فشاں ہونے دوخُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئیخیال یکتا میں خواب اتنےخیالِ ترکِ تمنا نہ کر سکے تو بھیخیمہ خواب کی طنابیں کھولدائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میںداستانِ شوق لے کر نامہ بر آیا تو کیا؟داستانِ شوق لے کر نامہ بر آیا تو کیا؟داستانِ نا مُرادی، مختصر، دیکھے گا کونداستانِ نا مُرادی، مختصر، دیکھے گا کونداغ لہو کے خاروں پرداغِ دل ہم کو یاد آنے لگےدامانِ کوہ میں جو میں دھاڑ مار رویادامن چاک ہی اے ہم نفساں ایسا تھادامن کو نہ تار تار کر لےدامنوں کا پتہ ھے نہ گريبانوں کادامنِ ضبط بھگو دینے کو جی چاہتا ہےدامِ خُوشبُو میں گرفتار صبا ہے کب سےدانستہ سامنے سے جو وہ بے خبر گئےدر و دیوار میں سمٹا ہوا ہوںدر پردہ جفاؤں کو اگر مان گئے ہمدر گزر کرنے کی عادت سیکھودراڑیں سی ابھر آئی ہیں دل کا آئینہ دیکھودرخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوادرد اب ہوبھی گیا کم تو بھلا کیا ہوگادرد دل میں ہزار اُٹھتا ہےدرد دل میں ہزار اُٹھتا ہےدرد دل کا جہاں رواج نہیںدرد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےدرد سے گیت نکھارے ہیں ، تمہیں کیا معلومدرد مِنّت کشِ دوا نہ ہوادرد پھر جاگا ، پرانا زخم پھر تازہ ہُوادرد کانٹا ہے اس کی چھبن پھول ہےدرد کم ہونے لگا آو کہ کچھ رات کٹےدرد کو جب دلِ شاعر میں زوال آتا ہےدرد کی ایک بے کراں رُت ہےدرد کی سلطنت کا راج ملادرد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پردرد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پردردِ دل بھی غمِ دوراں کے برابر سے اٹھادرو دیوار میں ، مکان نہیںدروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہدرِ کسریٰ پہ صدا کیا کرتادریا سے، کوہسار سے پہلے کی بات ہےدریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے دریچے سے دیا جا کر ہٹا دودریچے میں چراغ انجمن روشن ہوا اس کادسترس سے اپنی،باہر ہو گئےدستِ تقدیر نے یوُں نقش اُبھارا میرا دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گیدستِ گُل چیں میں کھِل رہی ہے کلیدستکیں دیتی ہیں شب کو درِ دل پر یادیںدستگیری کر، اے زبانِ جمالدشت جو دل کو بتاتا ہوگادشت میں ساتھ چلے تو ہزاروں، جو بھی چلا بیگانہ چلادشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیںدشت و صحرا اگر بساۓ ہیںدشتِ جنون و کوہِ ارادہ اٹھا لیادشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرحدشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہادشمنوں سے دوستی، غیروں سے یاری چاہیےدشمنِ جان و جگر غارت گرِ ایمان ہےدعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہےدعوٰی ہمیں تو جرات اظہار کا بھی ہےدعویٰ تو کیا حُسنِ جہاں سوز کا سَب نےدفعتہ دل میں کسی یاد نے لی انگڑائیدفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گےدل آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہےدل اَب بھی اِضطراب سے آگے نہیں گیادل اپنے آپ بھر آیا تو میں نے پھر سوچادل بکھرنے کے لیے ہوتے ہیںدل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوںدل بھی عجیب عالم ہے نظر بھر کے تو دیکھودل بہ دل ہیں شہر میں، یُوں نفرتیں اُتری ہوئیدل بہل جائے گا، اس کا مجھے اندازہ ہےدل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھیدل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھیدل بہلنے کی شبِ غم یہی صورت ہوگیدل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلادل بیکل ہےدل تھا درہم اور برہم رائیگاںدل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کر ہُوادل جو اپنا ہوا تھا زخمی چُوردل جو زیرِ غبار اکثر تھادل جو ہے آگ لگادوں اس کودل جگر سب آبلوں سے بھر چلےدل خون ھوا کہیں تو کبھی زخم سہہ گئےدل درد سے ہو چلا تھا خالیدل دریا کے پار اک ایسی وادی تھیدل دُکھا کر آپ نے پوچھا، ’کہو کیسا لگا؟‘دل دکھانے کی انتہا کر دیدل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچدل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدل سے شوقِ رخِ نکو نہ گیادل سے ملتا ہے سلسلہ دل کادل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرفدل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیںدل عشق کا ہمیشہ حریفِ نبرد تھادل غم زدہ پر جفائیں کہاں تکدل لذت نگاہ کرم پا کے رہ گیادل لگانے کی ابتدا کردی دل لگی ہی دل لگی میں دل کسی کا ہوگیادل مجبور کی آہ و فغاں سے کچھ نہیں ہوتادل مجھ سے ترا ہائے ستمگر نہیں ملتادل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گادل میرا اک کتاب کی صورتدل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانادل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانادل میں آو عجیب گھر ہے یہدل میں اب درد مچلتا ہی نہیںدل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںدل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںدل میں احساس وفا کا بھی جگا کر دیکھودل میں اور تو کیا رکھا ہےدل میں اک لہر سے اٹھی ہے ابھیدل میں بھرا زبسکہ خیالِ شراب تھادل میں جب تیری لگن رقص کیا کرتی تھیدل میں درد ، محبت کیسے بوتی رہتی ہے؟دل میں درد ڈبو لیتے ہیںدل میں طوفان بپا ہونے تکدل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تکدل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تکدل میں محبّت درد کے پیڑ اُگاتی رہیدل میں وفا کی ہے طلب، لب پہ سوال بھی نہیںدل میں وفا کی ہے طلب، لب پہ سوال بھی نہیںدل میں وُہ رشکِ گلستاں اُترادل میں کسی خلش کا گزر چاہتا ہوں میںدل میں کِسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں دل میں ہم ایک ہی جذبے کو سموئیں کیسےدل میں یوں سما رہے ہیں!دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزُو کے پھول دل نے دہرائے کتنے افسانےدل نے صدمے بہت اُٹھائے ہیںدل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیادل نے پھر غم کا راگ چھیڑا ہے دل نے کسی کی ایک نہ مانیدل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کادل و نگاہ میں قندیل سی جلا دی ہےدل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترےدل وہی دل ناشاد کئے جاتا ہوںدل ِ حبیب دکھانے کا حوصلہ نہ ہوادل پہ اِک طرفہ قیامت کرنادل پہ جو نیل پڑے ہیں وہ مٹا ڈالوں گیدل پہ چھایا ہے وہ احساسِ گراںدل پہ چھایا ہے وہ احساسِ گراں دل چُرا کر نظر چُرائی ہےدل چھلک اُٹھا ، آنکھ بھر آئیدل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہادل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیںدل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعددل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہےدل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھادل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھادل کو اک بات کہہ سنانی ہےدل کو بہلاؤں کہاں تک کہ بہلتا ہی نہیںدل کو تسکیں جو صنم دیتے ہیںدل کو تسکیں جو صنم دیتے ہیںدل کو دنیا کا ہے سفر درپیشدل کو دیوار کریں ، صبر کو وحشت کریں ہمدل کو کچھ اور سنبھلنے دینادل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںدل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںدل کی تکلیف کم نہیں کرتےدل کی دنیا بسا گیا کوئیدل کی رہ جاۓ نہ دل میں، یہ کہانی کہہ لودل کی منزل اُس طرف ہے گھر کا رستہ اِس طرفدل کی ہی دل میں رہ گئی حسرت گناہ کیدل کے اِک اِک شوق پر قربان تھا، وہ بھی گیادل کے تئیں آتشِ ہجراں سے بچایا نہ گیادل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہےدل کے لیے دردبھی روز نیا چاہیئےدل کے پاتال سے ابھرا ہے کوئیدل کے پھول بھی کھلتے ہیں ، بکھر جاتے ہیںدل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے دل گیا ،تم نے لیا ہم کیا کریںدل ہو کہ جاں، میرا نام و نشاں، تیرے پیار کے سنگ رہےدل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟دل ہی سوز دروں سے جل جاتادل یہ کہتا ہے، طوافِ کوئے جانانہ سہی!دل، دماغ و جگر یہ سب اک باردلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھےدلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھےدلوں سے آرزوئے عُمرِ جاواں نہ گئیدلوں میں رکھتی ہیں خدشہ قدیم دیواریںدلوں پہ جبر کی تمام حکمتیں الٹ گئیںدلوں پہ کی ہیں سخن نے، گرانیاں کیا کیادلوں کو برف کرتی رائیگانی سے نکل آئےدلوں کو جوڑتی ہے، سلسلہ بناتی ہےدلوں کی گرد کو ہم لوگ صاف کرتے نہیںدلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟دلِ پُر اضطراب نے مارادم بخود ہیں فسون ِ یار میں ہمدم توڑتی چیخوں کے مبہوت صداؤں کےدم عشق میں کیا دلِ مجبور رہ گیادمِ رخصت اسے جینے کی دعا دی ہم نےدمک رہا ہے رُخِ شام پر ستارہء شامدن بھی نہ بیتا رات نہ بیتیدن تو یوں بھی لگے عذاب عذابدن مصیبت کے ٹل گئے ہوتےدن ٹھہر جائے، مگر رات کٹےدن کچھ ایسے گذارتا ھے کوئیدنیا مری نظر سے تجھے دیکھتی رہی دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلا انمول دیادنیا کو تو حالات سے امید بڑی تھیدنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوںدنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاددو گھڑی دِل کا حال سُنتا جادور دل میں اترنا پڑتا ہےدور ہی دور سے اقرار ہوا کرتے ہیںدورسا کون ہے ? جہاں تو ہےدوست بن کر بھی نھیں ساتھ نبھانے والادوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والادوست بن کر بھی ہمارے نکتہ چینوں میں رہےدوست جیسی، کبھی دشمن کی طرح لگتی ہےدوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیادوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دیدوستوں کے درمیاںدوسروں کی پرکھ تجربہ اور ہےدولت نغمہ و آہنگ و فغاں میری ہودونوں جہان تیری محبت میں ہار کےدونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کےدُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئےدُنیا نے دل کو پیار کا تحفہ دیا نہیںدُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا ! آہستہدُھوپ میں جھلسا ہوں مَیں کچھ دیر سستانے تو دودُھوپ میں جھلسا ہوں مَیں کچھ دیر سستانے تو دودِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نِکال بھیدکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیںجاتادکھ سب کو خود اپنی ذات کا ہےدکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیںدکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگدکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيںدھندلی دھندلی فضا یہ صبح نہ شامدھندلی سمتوں میں اگر کُونج کا پَر مل جائےدھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گادھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پردھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںدھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا، وُہی فیصلہ لکھ دیادھوپ نکلی دن سہانےہو گئےدھوپ کے دشت میں شیشے کی ردائیں دی ہیںدھوپ کے روپ میں برسات بھی ہوسکتی تھی دھڑکن کو تیری یاد سے تحریک مل رہی ہےدھڑکنیں تیز ہو گئیں، چہرہ بھی لال ہو گیادہرمیں حرفِ محبت عام ہونا چاہئےدہرمیں حرفِ محبت عام ہونا چاہئےدہن میں نیولے کے دیکھئے گا اژدر ہےدہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھادی ہے وحشت تو یہ وحشت ہی مسلسل ہو جائےدیا اس نے محبت کا جواب، آہستہ آہستہدیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیےدیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیادیارِ عشق کا یہ حادثہ عجیب سا تھادیارِ یار میں دیدارِ یار ہی نہ ہوادیتی نہیں اماں جو زمین آسماں تو ہےدیدہ شوق سے نہاں محفل رنگ و بو نہیںدیدہ نم میں سکوں ڈھونڈتے ہیںدیدہء حیراں نے تماشا کیادیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیںدیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارادیس سبز جھلیوں کادیوار پہ لرزہ ہے تو ڈر کانپ رہا ہےدیوار گر رہی ہے سہارا مگر کہاں دیوار ہے کسی کی، دریچہ کسی کا ہےدیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںدیپ بن کر جلا بجھا ہوں میںدیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کردیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےدیکھ تو یہ کیا ہوادیکھ خورشید تجھ کو اے محبوب!دیکھ لئے ہیں، اپنے کیا بیگانے کیادیکھ مت دل کی طرف اتنی فراوانی سےدیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھےدیکھ کر سانولی صورت تری یوسف بھی کہےدیکھئے حیلے ہیں کیا کیا یاد آنے کے لئےدیکھا تو تھا یونہی کسی غفلت شعار نےدیکھا تو سب خیال کےمنظر بدل گئےدیکھتی رہ گئی محرابِ حرمدیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےدیکھنا ہے کہ وہاں سامنے کیا آتا ہےدیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایکدیکھو راہِ حیات میں کہیں ہمسفر تنہا نہ ہودیکھو کبھی تو میری طرف خوشدلی کے ساتھدیکھو کبھی تو میری طرف خوشدلی کے ساتھدیکھوں جو تجھے شعلوں میں ڈھل جاتے ہیں آنسودیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قراردیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قراردیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوںدیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوں دیکھے گا جو تجھ رُو کو سو حیران رہے گادے رھا ھے دلاسے تو عمر بھر کے مجھےذات اپنی گواہ کی جائےذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کاذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کاذرا سی دیر کو منظر سُہانے لگتے ہیںذراٹھہرؤ‘ دُعا کے ساتھ ہی انعام لے جاناذرّے ذرّے میں تیرا عکس نظر آتا ہےذرّے ذرّے میں جو تابانئیِ جوھر دیکھیںذرے سرکش ہُوئے ، کہنے میں ہوائیں بھی نہیںذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپناذکر بھی اس سے کیا بھلا میراذکر جفا کئے بغیر اب نہ قرار آئے گاذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھیذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیںذکر ہوتا ہے جہاں بھی میرے افسانے کاذہن میں صورت گماں ٹھہریذہنوں میں خیال جل رہے ہیںرابطہ لاکھ سہی قافلہءسالار کے ساتھرابطے اور بھی بڑھتے ہی گئےرابطے رشتے نہ دیوار نہ در سے اس کےرات آئی ہے،گزر جائے گیرات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئےرات باقی رہے کہ ڈھل جائے؟رات بھی نیند بھی کہانی بھیرات بیٹھا تھا مرے پاس خیالوں میں کوئیرات میں اس کشمکش میں ایک پَل سویا نہیںرات ڈھل رہی ہےرات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے رات کو خواب ہو گئی ، دن کو خیال ہو گئیرات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میںرات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میںرات کچھ یارِ طرحدار بہت یاد آئےرات کی زلفیں مرھم مرھمرات کی سیج خالی خالی ہےرات کے زہر سے رسیلے ہیںرات کے ساتھ ہی رخصت ہوُا مہتاب اپنارات ہو دن سوگوار ہے تُورات ہے ، چاندنی ہے، خوشبو ہےراحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہےراحت نظر بھی ہے ،وہ عذاب جاں بھی ہےراحتیں کہاں ہوں گی کونسے نگر جائیںراز الفت عیاں ہے کیا کہیئےراز وفائے ناز پھر دل کو بتا گیا کوئیراز کی بات کوئی کیا جانے۔۔۔۔عمران شناوررازِ الفت چھپا کے دیکھ لیاراستوں میں رہے نہ گھر میں رہےراستوں میں رہے نہ گھر میں رہےراستوں میں رہے نہ گھر میں رہےراستوں میں کوئی رستہ معتبر ایسا تو ہوراکھ کا ڈھیر کریدا بھی مگر کچھ نہ بناراکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دُھواں ڈھونڈتے ہیںراکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دُھواں ڈھونڈتے ہیںراہ آسان ہو گئی ہو گیراہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیںراہ پر اُن کو لگا لائے تو ہیں باتوں میںراہبر بن کر راہِ الفت میں رہزن بن گیاراہوں میں کب جال بچھا تھا یاد نہیں ہےراہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دعا رکھناراہِ جنوں پہ چل پڑ ے ، جینا محال کر لیاراہِ جنوں پہ چل پڑ ے ، جینا محال کر لیاراہِ دور عشق ہے روتا ہے کیارخ پہ گردِ ملال تھی، کیا تھیرخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کےرخِ حیات کو رنگ نشاط مل جائےرزم گاہِ عشق میں یوں کوئی گھائل جائے گا رستے میں جو شام پڑ گئی ہےرستے میں جو شام پڑ گئی ہےرستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیارسوا رسوا سارے زمانےرسیدن گلِ باغ واماندگی ہےرشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!رعنائی بہار و گل و گلستاں گئیرعنائی دستورِ مشیت کی ادا ہوںرعنائیِ نگاہ کو قالب میں ڈھالیےرفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہےرفتہ رفتہ آدمی جب قافلوں میں بٹ گیا پردہ منزل پر پڑا تھا جو وہ آخر ہٹ گیا رفتہ رفتہ دل ہمارا تیرا دیوانہ ہوارفتہ رفتہ دل ہمارا تیرا دیوانہ ہوارقص رقص میں رات ہے بدن کی طرحرقص میں رات ہے بدن کی طرحرقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میںرقم کریں گے ترا نام انتسابوں میںرنج کی جب گفتگو ہونے لگیرنجش کوئی رکھتا ہے تو پھر بات بھی سن لےرنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آرنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائےرنگ اور نور کی دنیا میں ذرا لے جائےرنگ بدل کے رہ گیا گلشن روزگار بھیرنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ھم بھی ھیںرنگ صنم کدہ جو ذرا یاد آ گیارنگ و خوشبو، شباب و رعنائیرنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نامرنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نامرنگینیء حیات کے مارو جواب دوروز جیتے ہیں روز مرتے ہیںروز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میںروز یہ وقت آ جاتا ہےروز، اِک نیا سوُرج ہے تیری عطاؤں میںروزانہ ملوں یار سے یا شب ہو ملاقاتروش روش ہیے وہی انتظار کا موسمروش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہےروشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیںروشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیںروشن کیے جو دل نے کبھی دن ڈھلے چراغروشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغروشنی تیرے سفیروں کا نشاں باقی ہےروشنی جب میرے مکان میں ھوروشنی خوگرِزنجیر نہیں ہو سکتیروشنی دل کے دریچوں میں بھی لہرانے دےروشنی کا، افقِ شب پہ اشارہ کیوں ہے؟رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گۓرونے سے ملال گھٹ گیا ہےروٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیاروکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرحرویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرحرویے اور فقرے ان کے پہلو دار ہوتے ہیںرَس میں جو بات ہے وہ مَس میں نہیںرَگوں میں زہر بھر لینارُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمعرُوح گھائل ہو گئی اور جسم بھی شل ہو گیارُک گئی عقل و فکر کی پروازرچی ہوئی ہے یہ کیسی مہک ہواؤں میںرکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شبرہ بہ رہ پھر وہی اندیشۂ غمرہ بہ رہ پھر وہی اندیشۂ غمرہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کررہا جائے گا چُپ کیسے خدا کے رُوبرو ہم سےرہا گر کوئی تا قیامت سلامترہبر کی نہ فکر ہے نہ فکر منزل کیرہنے کا پاس نہیں ایک بھی تار آخرکاررہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہےرہین خوف نہ وقف ہراس رھتا ھےرہے اسیرِ قفس در قفس بہار میں ہمرہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کارہے گا ہم پہ یہ احسانِ دو جہاں کب تک؟ریاضِ دہر میں پوچھو نہ میری بربادیریت بھری ہے ان آنکھوں میں تم اشکوں سے دھو لیناریزہ ریزہ بکھر گئے ہم بھیزباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گازباں سے ایک ہیں دل سے بٹے ہیں ذاتوں میںزبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہےزخم تحریر پر سلا لینے دوزخم دل کی کہانی کیا کروںزخم نگاہ کے لیے مرہم اندمال تھےزخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنےزخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمکزخم کو پھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیںزخمِ امید بھر گیا کب کازخمِ دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہوزخمِ دل رشکِ مہ و غیرتِ خورشید نہیںزرِ گل تھے بھی گر تو زر نہ جانازلفیں آئی ہیں لٹک کر روئے جاناں کی طرفزمانه آیا هے بے حجابی كا ، عام دیدار یار هو گازمانہ خدا ہے زمانہ خوش کہاں ہے سب سے بے نیاز کر کے بھی زمانہ میں کوئی تم سا نہیں ہےزمانہ کچھ نہیں بدلا،محبت اب بھی باقی ہےزمانہ ہے خفا مجھ سے کہ تم سےزمانے سے جدا لگنے لگا ہےزمانے کی پہلے سی فطرت نہیں ہےزمین جلتی ہے اور آسمان ٹوٹتا ہےزمین خشک، فلک بادلوں سے خالی ہےزمینِ چشمِ نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھازمیں بارہ ستونوں پر کھڑی تھی اور میں بھی :رفیق سندیلوی زمیں پہ سبزہ لہک رہا ہے، فلک پہ بادل دھواں دھواں ہےزمیں پہ مستی برس رہی ہے فلک پہ انوار چھا رہے ہیںزمیں چل رہی ہے کہ صبحِ زوالِ زماں ہےزمیں کہیں ہے مری اور آسمان کہیںزمیں کے نیچے کوئی شے تھی آسماں کی طرحزندگی ان کی چاہ میں گزریزندگی انساں كی اک دم كے سوا كچھ بھی نہیںزندگی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھیزندگی اک پیرہ زن! زندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئیزندگی جب بھٹک گئی ھو گیزندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیںزندگی جیسی تمنا تھی، نہیں ،کچھ کم ہےزندگی سے نظر ملاؤ کبھیزندگی سے ڈرتے ہو؟ زندگی سے یہی گلہ ہے مجھےزندگی سے یہی گلہ ہے مجھےزندگی صرف اسی دھن میں گزارے جائیںزندگی غیر کی سوغات نہ ہوزندگی مدہوش ہو کر رہ گئیزندگی پاؤں نہ دھر جانب انجام ابھیزندگی ڈر کے نہیں ہوتی بسر، جانے دو زندگی کا مآل۔ تنہائیزندگی کس ڈگر پہ چلتی ہےزندگی کی دھوپ میں اس سر پر ایک چادر تو ہےزندگی کے میلے میںزندگی یوں تھی کہ جینے کا بہانہ تو تھا زندگی یوں ہوئی بسر تنہازندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیازور پیدا جسم وجاںکی ناتوانی سے ہوازُلفِ سیاہ خم بہ خم، نوُرِ جمال یَم بہ یَمزہر پی کر بھی یہاں کس کو ملی غم سے نجاتزہر کے بعد جو شرمندہء تریاق ہوُئےزیست آزار ہوُئی جاتی ہےسائے پگھل رھے تھےسائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سےساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہےساتھ چلنے کے لئے وہ ذرا تیار تو ہوساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیںساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیاساحل سے دور جب بھی کوئی خواب دیکھتےساحلوں پہ مثلِ گوہر پھینک دےسادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہےساری دُنیا میں مرے جی کو لگا ایک ہی شخصساری رات جگاتی ہےسارے رئیس اعضاء ہیں معرضِ تلف میںساز، یہ کینہ ساز کیا جانیںساغر ِچشم سے سرشار نظر آتے ہیںساقی نظر سے پنہاں شیشے تہی تہی سےسامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کیسامنے ہے صنم کدہ سوئے حرم نظر بھی ہےسامنے ہے مرے لیکن نظر آتا بھی نہیںسانحہ کتنا بڑا ہے، سانحے کو کیا پتہسانحہ ہم پہ یہ پہلا ہے مری جاں کوئی؟سانس لینا بھی سزا لگتا ہےسانس لینا ہوا محال مجھےسانس کے شور کو جھنکار نہ سمجھا جائےسانپ ہی سانپ نظر آتے ہیں خوابوں میں مجھےساون بھادوں ساٹھ ہی دن ہیں پھر وُہ رت کی بات کہاںساون میں برسات ضروری ہوتی ہےسب اپنی ذات کے اظہار کا تماشا ہےسب بھول چکا ہوں سب راستے دشمن ہوئے، اشجار مخالفسب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھیسب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیںسب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرےسب نے انسان کو معبوُد بنا رکھا ہےسب چلے جاؤ، مجھ میں تاب نہیںسب کو دل کا محرم پایاسب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںسب ہوئے نادم پئے تدبیر ہو جاناں سمیتسب ہیں اسیر راہ گزر، کیا کروں گا میںسبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ چھپانے کاسبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ چھپانے کاسبز موسم کی خبرلے کے ہَوا آئی ہوسبز گنبد کی جھلک دیدہء تر سے آگےسبزانِ تازہ رو کی جہاں جلوہ گاہ تھیسبق ایسا پڑھا دیا تُو نےسبھی اپنے نشاں کھوئے ہوئے ہیںسبھی جذبے بدلتے جا رہے ہیںستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گاستارہ وار چلے پھر بجھا دیئے گئے ہمستارہ وار چلے پھر بجھا دیے گئے ہمستارے سب مرے‘ مہتاب میرے ۔۔۔۔عمران شناورستم نہیں یہ ستم کی ہے انتہا لوگوستم کا عدو مستحق ہوگیاستم کی رات کو جب دن بنانا پڑتا ہےستم ہی کرنا، جفا ہی کرنا، نگاہ الفت کبھی نہ کرنا ستمِ کامیاب نے ماراسجتی ہے چاندنی کو روایت حجاب کیسحر بن کے آنکھیں کھُلیں تو حقیقت کا پورا سبق داستاں ہو گیاسحر جو آئینہ یہ رشکِ ماہ دیکھتے ہیںسحر کے خواب کا مجھ پر اثر کچھ دیر رہنے دوسحَر کہ عید میں دورِ سبو تھاسخن آرائی باقی رہ گئی ہےسخنِ حق کو فضیلت نہیں ملنے والیسر بارِ دوشِ وحشت و موجِ نفس عذابسر بھی ہے پائے یار بھی شوق سوا کیا ہواسر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گاسر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیںسر ِ صحرا حباب بیچے ہیںسر پراک سچ مچ کی تلوار آئے توسر گزشت دل کو رو داد جہاں سمجھا تھا میںسر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےسر گوشیاں ہیں بزم میں کچھ میری آہ سےسرابِ زیست میں ہم ڈوبتے اُبھرتے رہےسراپا آرزو بن کر تصور آشنا ہو کرسراہوں گا تیرے مَن مَن کے روُٹھ جانے کوسرحدِ مرگ سے اب واپسی ناممکن ہےسرحدِ مرگ سے اب واپسی ناممکن ہےسرحدِ مرگ سے اب واپسی ناممکن ہے:rafiq sandeelviسرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گاسرنگوں ہی کر دیا ذوق جبیں سائی نےسرور جگر کے داغ نمایاں نہ کیجئےسرور کسی صورت تجھے آرام نہ آیا!سرور کو جہاں دیکھو وہاں خوار بہت ہےسرِ بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئیسرِ خیال تھے وجہِ نشاط ، خواب اس کےسرِ دورِ فلک بھی دیکھوں اپنے روبرو ٹوٹاسرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہےسرِ مقتل بھی صدا دی ہم نےسرِ مقتل بھی صدا دی ہم نےسرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہسرگوشی بہار سے خوشبو کے در کھلےسزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریںسزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریںسطح پر آج تو پتّھر بھی اُبھرنا چاہیںسفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہونگےسفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہوسلسلہ دار و رسن کا نہ کبھی ٹوٹے گاسلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےسلسلے جو وفا کے رکھتے ہیںسلسلے جو وفا کے رکھتے ہیںسلگ رہی ہے فضا سائباں کے ہوتے ہوئےسم کھا موے تو دردِ دلِ زار کم ہواسما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوںسمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیںسمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہےسمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہواسمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیںسمندر میں ہوں اور کوئی کنارا نہیں مِل رہا : رفیق سندیلوی سمندر کا سفر اچھا نہیں ہےسمندر کیا کریںگےقطرہ ﺀ شبنم چرالائیںسمے سمے کی خلش میں تیرا ملال رہےسن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟سن سکے تو سن لے یہ آخری کہانی ہےسنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانےسنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کاسنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سناتا ہے کوئی بھولی کہانیسناّٹا فضا میں بہہ رہا ہےسنو ادھر اس طرف کہ جو ہیں ریا گزیدہسنو اچھا نہیں لگتاسنو بلاؤ انہیں جو دل کے دیار میں ہیںسنو ھم دو تھے دونوں نے بھرے بازار کو دیکھاسنو، اہل وفا نے ہی ہمیشہ کیوں جفا پائی؟سنو، وہ جب ستاتا ہےسنگ مجھ بہ جاں قبول اس کے عوض ہزار بارسنگ مرمر کی طرح سرد نہیں لگتے ہیںسنگدل کتنے تیرے شہر کے منظر نکلےسنہرے خواب بُنے، خاک سے نباہ کیاسو بھی جاؤں تو ہر اِک خواب بُرا ہی دیکھوںسو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میںسو رج بھی بندھا ہوگا دیکھ مرے بازو میںسو گئی شہر کی ہر ایک گلیسودا خودی کا تھا نہ ہمیں بے خودی کا تھاسورج تھے، چراغِ کفِ جادہ میں نظر آئےسورج روز ہی جیتے مرتے رہتے ہیںسورج سے جنگ کرنے کی بادل نے ٹھان لیسوز اِتنا تو نوا میں آئےسوزِ دل کو آشنائے ساز ہونا چاہیےسوزِ پنہاں کے سوا، حالِ پریشاں کے سواسوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگیسوچتا ہوں کہوں تجھ سے ’’مگر‘‘ جانے دےسوچتے رہنے کی عادت ہوگئیسوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہےسُن اے حکیمِ ملت و پیغمبرِ نجاتسُن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیںسُن لی خُدا نے وہ دُعا تم تو نہیں ہوسُنو، وہ جب ستاتا ہےسُوکھی ٹہنی ، تنہا چڑیا ، پھیکا چاندسِحرِ عہدِ شباب سے آگےسپنے میرےسچ کو بھی سچ مانے کونسچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھےسکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیںسکوتِ دہر رگوں تک اتر گیا ہوتاسکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤسکوتِ مرگ کے سائے بچھا کے لہجے میںسکون درد کو ، غم کو دوا بناتی ہےسکون و صبر کا امیدوار ہے اب تکسکوں بھی خواب ہوا،نیند بھی ہےکم کم پھرسکوں محال ہے امجد وفا کے رستے میںسکھ کا موسم خیال و خواب ہواسہل کب ہوتے ہیں ،دشوار ہوا کرتے ہیںسیاہ ہجر گیا زرد انتظار گئےسیر کے قابل ہے دل صد پارہ اُس نخچیر کاسیل گریہ ہے کوئی جو رگ جاں کھینچتا ہےسیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہےسینہ دشنوں سے چاک تا نہ ہواسینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئیسینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہےسینے میں خنجر کی نوک چُھبوتی ہیںشاخ پر خونِ گل رواں ہے وہیشاخوں بھری بہار میں رقص برہنگیشاعرِِ درماندہ شام سے آنکھ میں نمی سی ہےشام کا بُھولا ہوا وقتِ سحر آ جائے گاشام کنارے چاند اُبھرتا بھُول گئےشام کنارے چاند اُبھرتا بھُول گئےشامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میںشامل میرا دشمن صف یاراں میں رھے گاشامِ سفر کی حد پہ تھے دن رات کی طرحشامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کروشامِ فراق ایک عجب تجربہ ہُواشامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئیشانِ عطا کو، تیری عطا کی خبر نہ ہوشاید اسے ملے گی لب بام چاندنیشاید حریفِ آرزوئے دل ہے ان کی یادشاید مجھے کسی سے محبت نہیں ھوئیشاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پرشاید کہ آغاز ہو پھر کسی افسانے کاشب تُم جو بزمِ غیر میں آنکھیں چُرا گئےشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھاشب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھاشب سوزِ دل کہا تھا میں مجلس میں شمع سےشب غم آرزوؤں کی فراوانی نہیں جاتیشب غم ہے مری تاریک بہت ہو نہ ہو صبح ہے نزدیک بہت شب و روز رونے سے کیا فایدہ ہے شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہیشب کو اس کا خیال تھا دل میںشب کو جب کبھی میں نے اپنی جستجو کی ھےشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھاشب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھاشب کی بیداریاں نہیں اچھیشب کی تلخی شبِ غم سے پوچھوشب کے تیرہ سمندر نے کھولا ہے در دن نکلتا نہیںشب گزرنے سے تو انکار نہیںشبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہےشبِ شعر میں ہُنر آشکارا مرا بھی ہوشبِ فراق کو جب مژدہء سحر آیاشبِ مہتاب و شامِ زندگانی یاد آتی ہےشبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہشبِ ہجراں تھی جو بسر نہ ہوئیشبِ ہجر میں کم تظلم کیاشجر بن کے زندگی کو گزارا جائے شجر شجر نے زباں پیاس سے نکالی تھیشدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا شرح بے دردی حالات نہ ہونے پائیشرح جفائے چرخ کہن مختصر نہیںشریکِ گردشِ ہفت آسماں نہ تھا پانیشعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھیشعر ہوتا ہے اب مہینوں میںشعر ہوتا ہے اب مہینوں میںشعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دوشعلہ سا پیچ وتاب میں دیکھاشعلہ سامان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے شعوُر میں، کبھی احساس میں بساؤں اُسےشفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگیشفق غبار بنی اور کوچ کرنے لگیشفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارہء شامشفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیںشمارِ گردش لیل و نہار کرتے ہُوئےشناور۔۔۔۔عمران شناورشوخ نظروں میں جو شامل برہمی ہو جائے گیشور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاشوق کیا کیا دکھائے جاتا ہےشوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کُھلتیںشکر تھا جن کے کھوج میں وہ گام اور تھےشکست شیشہ عقل و شعور دیکھیں گےشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںشکستہ خواب و شکستہ پا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھناشکستہ پائی کے مرحلے، دشتِ ہجر میں اس لیے نہ آئےشکل دیکھی نہ شادمانی کیشکوہ اضطراب کون کرےشکوہ اول تو بے حساب کیاشکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھےشکوہ کروں میں کب تک اُس اپنے مہرباں کاشکوۂ تاخیرشکوے تیرے حضور کئے جا رہا ہوں میںشکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےشہاب تھا کہ ستارہ، گریز پا ہی لگاشہر دل، ڈھونڈ رہی ہیں گلیاں شہر سنسان ہے کدھر جائیںشہر میںچاک گریباں ہوئے ناپید اب کےشہر ِویران کے دروازے سے لگ کر روئےشہر کے دکاں دارو! کاروبارِ الفت میں سود کیا، زیاں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گےشہروں کا شور کر گیا بے خبر مجھےشہرِ بے مہر سے پیمانِ وفا کیا باندھیںشہرِ جاں سے گزر گئے ہمشیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کیشیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیرشیخی کا اب کمال ہے کچھ اورصاف جب تک نہ ترے ذہن کے جالے ہوں گےصبح بھی چین نہیں شام بھی آرام نہیںصبح دربار میں ایک شان سے بیٹھا دیکھوںصبح سے ہو گئی ہے یارب شامصبح میں دیکھتا ہوُں شام کے آثار ابھیصبح نہیں ہو گی کبھی،دل میں بٹھا لےتو بھیصبح کو ہم یوں شام کرتے ہیںصبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھیصبحِ عشرت دیکھ کر، شامِ غریباں دیکھ کرصبحیں نہیں رہی ہیں وہ راتیں نہیں رہیں صبر کے ساتھ مرا دل بھی لیے جائیں آپصحبت یاد رفتگاں کب تک؟صحرا میں جا کے گھر کا نشاں ڈھونڈتے رہےصحرا میں سیلِ اشک مرا جا بہ جا پھراصحرا کو گلزار بناتی رہتی ہیںصحرا ہوُں، مجھے چمن بنا دےصد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیےصداقتوں نے معیار پہلے ہی کھو دیا ہےصدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہےصدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہےصرف اشک و تبسم میں الجھے رہےصرف اُسی کو سلام کرتے ہیںصرف اک عزِم سفر، زادِ سفر اپنا تھاصنم تراش پر آدابِ پر آدابِ کافرانہ سمجھصورتِ رنگِ گل و بوئے سمن جاتے ہیںصُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھےصُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھےضائع کرتے تھے ملاقاتوں کوضبط کا عالم جب اِس حد تک تہہ و بالا نہ تھاطالب دید ہوں، چہرہ تو دکھا، دکھوں میں درمیاں پردہ ہے کیا، پردہ اٹھا دکھوں میںطرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزریطرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزریطفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیںطلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھیطلسم جب سے نہاں ہو گئے ہیں لہروں میںطلسمِ خواب سے میرا بدن پتھر نہیں ہوتاطلوعِ ہجر کی بستی میں چاند سا نکلےطلوُعِ صُبح کا الزام میرے سَر آیاطواف حرم نہ دیر کی گہرائیوں میں ہےطور سے کوئی علاقہ ہے نہ ربط ایمن سے طوفان سامنے ہے کنارے کدھر گئےطوفان ہے ہمرکاب میراطوفاں ہے اگر گھر کے درپے، یوں بیٹھ نہ جاؤ، کچھ تو کروطیور سے نظر آتے ہیں جو درختوں پرظالم حیات، چال مِرے ساتھ چل گئیظاہر میں ہم فریفتہ حُسنِ بُتاں کے ہیںظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہےظلمتوں کے پروردہ روشنی سے ڈرتے ہیںظلمِ رنگ عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایاعالم نہ پوچھئے جو ہمارا ہے آج کلعالم ِ محبت میںعالمِ ہجر میں سویا ہوُں، نہ سونا چاہوںعام ہو جائے نہ اس پیکرِ مے فام کا نامعبادتوں کی طرح میں یہ کام کرتا ہوںعبرت آموز محبت یوں ہوا جاتا ہے دلعجب اِک سایئِہ لاہوت میں تحلیل ہوگی:رفیق سندیلوی عجب اپنا حال ہوتا، جو وصالِ یار ہوتاعجب جہانِ طلسمات میرے اندر تھاعجب حالت ہماری ہوگئی ہےعجب سا ذائقہ ہُوں میںعجب موسم ہے میرےہر قدم پہ پھول رکھتا ہےعجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگےعجب پاگل سی لڑکی ہے عجزِ اہل ستم کی بات کروعجیب رنگ تیرے حُسن کا، لگاؤ میں تھاعجیب وقت پڑا، اب کے با ضمیروں پرعذاب آنکھ میں اترے تو راستہ نہ ملاعذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کرلوںعذاب در بدری سے نکالنا چاہتے ہیںعذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیاعذابِ ہجر بڑھالوں، اگر اجازت ہوعذرآنے میں بھی ہےاور بلاتے بھی نہیںعرش سے سچ کی ہدایت بارہا مِلتی رہیعرش سے پار پہنچتی میری پروازِ خیالعرش پر جا کے بھی جو خاک نشیں ہوتا ہےعرصۂ زیست جاودانی ہےعرضِ نازِ شوخئِ دنداں براۓ خندہ ہےعرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاعشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جاناعشق تاثیر سے نومید نہیںعشق سے سچ کو آنچ کیا آتیعشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیعشق منت کشِ قرار نہیںعشق منت کشِ قرار نہیںعشق میں نام کر گئے ہوں گےعشق میں نام کر گئے ہوں گےعشق نہ پُو چھے ذاتعشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لوعشق پیشہ نہ رہے داد کے حق دار یہاںعشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھےعشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلےعشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلےعشق کرو تو یہ بھی سوچو عرضِ سوال سے پہلےعشق کو معجزہ سمجھتے ہو ؟عشق کوہ گراں ہے لگتا ہےعشق کیا کیا فریب کھاتا ہےعشق کے باب میں کچھ یوں ہے تمہارا ، میراعشق ہی کارِ مسلسل ہو گیا ہےعشّاق نہ پتھر نہ گدا کوئی نہیں ہےعقائد وہم ہیں، مذہب خیال خام ہے ساقیعمر بھر رویا کیے ناکامیاں دیکھا کیےعمر گزرے گی امتحان میں کیاعنایتوں کا کبھی وحشتوں کا قائل ہوںعُمر بھر اُس نے اِسی طرح لُبھایا ہے مُجھےعُمر بھر کے لیے اب تو سوئی کی سوئی ہی معصوم شہزادیاں رہ گئیںعُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہےعِشق بے دم ہے تو فردوسِ وفا مت ڈھونڈوعِشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گاعکس جمال ہوا جا رہا ہوں میںعکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئیعکسِ تنویر پسِ گردِ سفر کیسا ہےعکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیرےعہدے سے مدِحناز کے باہر نہ آ سکاعیش بھی اندوہ فزا ہو گیاعیش ِ امید ہی سے خطرہ ہےغازی بنے رہے سبھی عالی بیان لوگغافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاںغبارِ دشت طلب زیادہ ہے تو جنوں میں زیادہ ہو جاغبارِ رنگ جو آئینۂ بہار میں ہےغرور و کذب و ریا کل من علیھا فانغزل بعد ازیگاؔنہ سرخرو ہم سے رہے گیغزل سن کر پریشاں ہو گئے کیاغزل لکھوں تو کِسے اپنا مُدّعا مانوںغزل لکھوں تو کِسے اپنا مُدّعا مانوںغزل کو ماں کی طرح باوقار کرتا ہوںغزل کو پھر سجا کے صورت محبوب لایا ھوںغزل کو پھر سجا کے صورت محبوب لایا ھوںغزل کے دل میں بسے ، نظم کی نظر میں رہےغزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتےغصے سے اُٹھ چلے ہو جو دامن کو جھاڑ کرغضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیاغلط کہا کہ دہن کا رفو ضروری ہےغلط ہے عشق میں اے ابوالہوس اندیشہ راحت کاغم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہواغم بھی وہیں رہ گیا، ہم بھی وہیں پہ رہ گئےغم دنیا جو نہ ہو گا غم جاناں ہو گاغم رہا جب تک کہ دم میں دم رہاغم سے لپٹ ہی جائیں گے ایسے بھی ہم نہیںغم سے چھوٹوں ، تو ادھر دیکھوں میںغم عاشقی کے نظام اور بھی ہیںغم فرقت کی لو ہر لمحہ مدھم ہوتی جاتی ہےغم میں تمام رات کا جاگا ہوا تھا میںغم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفسغم کا احساس جواں ہو جاتا اشک آنکھوں سے رواں ہو جاتا غم کا خوگر بنا دیا ہےغم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیاغم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےغم کی اِس سِل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گیغم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںغم کی جاگیر کو کچھ اور بڑھا سکتے ہوغم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیاغم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہےغم ہے یا خوشی ہے توغمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتاغمزے نے اُس کے چوری میں دل کی ہنر کیاغموں سے اس قدر ہے دوستی ابغموں سے دو عالم کے گھبرا گئے ہم غموں کی خوشی مار ڈالے گی اِک دنغمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہواغمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہواغمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیںغمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیںغمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیغمِ عاشقی نے رُلا دیا ، مرے دل کا چین گنوا دیاغنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںغیر جب سے وُہ اپنا یار لگاغیر لیں محفل میں بوسے جام کےغیر کے ہات میں ہات ہمارا؟غیروں سے مل چلے تم مستِ شراب ہو کرغیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپا کرفائدہ مصر میں یوسف رہے زنداں کے بیچفاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھافاصلے ایسے بھی ہوں گےیہ کبھی سوچا نہ تھافاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہوفراق صدیوں پہ چھا گیا نا، وہی ہوا نافراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہےفرصت میں اوپر والے کو دھیان جب آیا تیرافرصت کہاں خطوط پڑھوں آج پیار سےفروغِ ماہ میں توُ اور شبِ سیاہ میں توُفرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتافریاد کروں مگر کہاں تکفریاد کی کوئی لَے نہیں ہےفریب محبت سے غافل نہیں ہوںفریب کھا کے بھی اک منزلِ قرار میں ہیںفریبِ رنگ عیاں ہے، جدھر نگاہ کروںفصل گل ہے تو بے اثر کیوں ہےفصلوں پر اب آ بیٹھا ہے سلطاں، وقت سے پہلےفصلیں اُجڑیں اور قُرقی کھلیان ہوئےفصیح الملک داغ (شاعر) کے حضور میںفصیلِ ذہن پہ سوچوں کا بھوت ہو جیسےفضا میں رنگ نہ ہو آنکھ میں نمی بھی نہ ہوفضا میں وحشتِ سنگ و سناں کے ہوتے ہوئےفضا پیتی ہوُئی آنسو، ہوَا بھرتی ہوُئی آہیںفغاں بے فیض کیوں ہے، نالۂ دل بے اثر کیوں ہے؟فغاں کا ذکر کریں، آرزو کی بات کریںفقط اپنی ضرورت کے لئے غم خوار تھے میرےفقط گھر کی محبت کیا کرے گی فقیرانہ آئے صدا کر چلےفلک سے چاند ، ستاروں سے جام لینا ہےفلک سے چاند اترنے کا انتظار نہ کرفلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیںفلک کو کس نے اک پرکار پر رکھا ہوا ہےفلک کے روزنوں سے جھانک کر سورج نے دیکھا :رفیق سندیلویفلک کے روزنوں سے جھانک کر سورج نے دیکھا :رفیق سندیلویفن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پرفن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پرفنا کی سمت ہے رُخ زندگی کے دھارے کافکر دلداریء گلزار کروں یا نہ کروںفکرِ انجام کر انجام سے پہلے پہلےفکرِ دنیا کہاں اور سرورِ بدنام کہاں!فکرِ زمیں نہیں ہے غمِ آسماں نہیںقاصد جو تھا بہار کا نا معتبر ہُواقبولیت کا گِلہ نہیں ہے قرار چھين ليا بے قرار چھوڑ گئےقرارِ جاں بھی تمھی، اضطرابِ جاں بھی تمھیقربان کسی پہ دولت ہستی ہے آج کلقربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںقرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہمقرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہمقریہء جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئےقصہ ویراں ہوا جاتا ہےقصۂ غم سنا کے دیکھ لیا قصۂ غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئےقصۂ غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئے قصے ہیں خموشی میں نہاں اور طرح کےقطعاتقفس تو یاں سے گئے پرمدام ہے صیادقفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کوقلم جب دَرہم و دِینار میں تولے گئے تھےقلم دل میں ڈبویا جا رہا ہےقلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینوقّصۂ دہر کا عنواں ہوناقّصۂ دہر کا عنواں ہوناقہوہ خانے میں دھواں بن کےسمائے ہوئے لوگقیامت تھا سماں اس خشمگیں پرقیامت ہو مصیبت ہو بلا ہوقیامت ہو مصیبت ہو بلا ہوقیامت ہیں بانکی ادائیں تمہاریقید قفس میں مژدہ فصل بہار کیاقیمت خلعت زر برسرِ بازار گریقیمت ہے ہر کِسی کی دُکان پر لگی ہوئیكوئی بھی لمحہ كبھی لوٹ كر نہیں آیالا دوا درد جو دیا اس نےلارہا ہے مے کوئی شیشے میں بھر کے سامنےلازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورلازم نہیں کہ اُس کو بھی میرا خیال ہولاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھےلالہ و گُل کے جو سامان بہم ہو جاتےلالہ وگل کو دیکھتے کیا یہ بہار دیکھ کرلاکھ اب یاد کی، احساس کی پہنائی ملےلاکھ غموں کا پینا ہےلاکھ چاہیں ہم مقٌدر کو بدل سکتے نہیںلاکھوں ستم اُٹھائے، ہزاروں ہی غم ہوئےلب پہ آ جائے تو حق بات کی تردید کہاںلب پہ آئے، بکھر گئے نغمےلب پہ نہ لائے دل کی کوئی بات اسے سمجھا دینالبوں میں نرم تبسّم رچا کے گھُل جائیںلبوں پر ہے ہر لحظہ آہِ شرر بارلبوں پہ حرف رَجَز ہے زِرَہ اُتار کے بھیلبِ خاموش سے افشَا ہو گالخت لخت چہروں کو، آئینوں میں کیا دیکھیںلرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پرلطف آرام کا نہیں ملتالطف فرما سکو تو آجاؤلطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہےلطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓلطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلےلفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھالفظوں سے چھاؤں کی سطروں کو سائباں کیالمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئےلمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرلمحہ لمحہ دم بہ دملمحہ لمحہ وقت کی جھیل میں ڈُوب گیالو ، خدا حافظ تمہیں کہنے کی ساعت آگئیلو مَیں بھی ہر بات تمہی سی کہتا ہوںلو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب۔۔۔۔عمران شناورلو یُوں بھی بن باس رچائیں شہروں میںلوک گیتوں کا نگر یاد آیالوک گیتوں کا نگر یاد آیالوگ جائیں یا ترا پیچھا کریںلوگ وابستہ ہیں اُس یارِ طرح دار کے ساتھلوگ ہلالِ شام سے بڑھ کر پَل میں ماہِ تمام ہوۓ لوگوں کے لیے صاحب کردار بھی میں تھالُطف سو گواری میںلپکیں گے پلٹ کے پھر وہاں سےلچک سی جیسے لپکتی ہوُئی صَدا میں پڑےلچکتی ہے بہت بارِ نظر سےلکھ اپنی ڈائیری میں کبھی میرا نام بھیلکھو تم ہمیں چِٹھیاں دوستولگ رہا ہے شہر کے آثار سےلگی دل کی ہم سے کہی جائے نالگے خدنگ جب اس نالہء سحر کا سالگے نہ کیوں خود سے مجھ کو پیارا،کبھی سمندر،کبھی ستارہلہو اچھال گیا ہے غبار آنکھوں میںلہو بونے کو بھی جی چاہتا ہےلہو رونے سے ڈرتا ہوں، جدا ہونے سے ڈرتا ہوںلہو لہو سے گلابوں کی داستاں دیکھولہو میں زہر ملانے کی کیا ضرورت تھیلہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہےلیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میںلے اڑا ایسے ترا دھیان مجھےلے چلا جان میری روٹھ کے جانا تیرالے کر مہِ شب تاب سے کرنوں کا بہاؤلے گئی کل ہوسِ مے جو سرخُم مجھ کولے ہاتھ سے ہاتھ اَب مِلا بھیمآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہےمال و زر کے کسی انبار سے کیا لینا ہے مالک! یہ آب و خرما یہ نان و نمک نہ دےمان لے اب بھی مری جانِ ادا ،درد نہ چُنمانا وادی ء عشق میں پاؤں اندھا رکھنا پڑتا ہےمانا کہ علاجِ دلِ بیمار بہت ہےمانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںمانندِ شمعِ مجلس شب اشک بار پایامانندِ صبا جدھر گئے ہممانندِ گل ہیں میرے جگر میں چراغِ داغمانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتےماںماں کی ممتا، چھاؤں گھنیری ، ٹھاٹھیں مارتی رحمتمت پوچھو کس حال میں ہیںمت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کامتاعِ قلب وجگر ہیں ، ہمیں کہیں سے ملیںمتفرق اشعارمثال اس کی کہاں ہے زمانے میںمثال شمع جلاتی ہے زندگی ہم کومثال پرتو مے ، طوف جام كرتے هیںمثالِ اَبر زمیں کا لباس ہو جاؤںمثالِ مَوجِ ہوا دَربدر وہ ایسا تھامجُھ کو رُسوا سرِمحفل تو نہ کروایا کرےمجُھ کو یہ کربِ مسافت بھی ہے، انعام لگامجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پرمجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پرمجھ سے تھا، جو چاند گریزاں دیکھ لیا ہےمجھ سے خفا خفابھی ہیں اور غم برہمی بھی ہےمجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گامجھ پر ستم ظریف زمانے کے ساتھ ساتھمجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دنمجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سےمجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوزمجھ کو یقین ہے سچ کہتی تھیں ،جو بھی امٌی کہتی تھیںمجھے اندھیرے میں بیشک بٹھا دیا ہوتامجھے اے اہلِ کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہےمجھے اے زندگی ! تجھ سے مکرنا پڑ رہا ہےمجھے خبر تھی میرے بعد وہ بکھر جاتامجھے خلا میں بھٹکنے کی آرزو ھی سہیمجھے خود سے مُکرنا پڑ گیا ہےمجھے زنہار خوش آتا نہیں کعبے کا ہمسایامجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میںمجھے عزیز ہے کوئی بھی نور پارہ ہومجھے فجر آئی ہے شہر میں مجھے ملنے جب آیا‘ساتھ پہرے دار لے آیامجھے وداع کر مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا مجھے پہنچنا ہے منزلوں پر، لگن ہے اتنیمجھے کیا خبر تھی سچ مچ یہ سمے گذر رہا ہے محاذوں پر اترنے کا ارادہ بھول سکتا ہےمحبت آشنا ہوکر وفا نا آشنا ہونامحبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نےمحبت ميں کرے کيا کچھ کسی سے ہو نہيں سکتامحبت میں آہِ رسا چاہتا ہوںمحبت میں اُف کیا سے کیا ہو گئے ہممحبت میں جگر گزرے ہیں ایسے بھی مقام اکثرمحبت میں غلط فہمی اگر الزام تک پہنچےمحبت میں کوئی بھی المیہ اچھا نہیں لگتامحبت پاکے دل کھونا پڑے گا، کب یہ سوچا تھامحبت پھر اُسکا بیاں، اللہ اللہ!محبت پھر اُسکا بیاں، اللہ اللہ!محبت کا انوکھا قافلہ ہےمحبت کا جب زورِ بازار ہوگامحبت کو بھلانا چاہیے تھامحبت کھیل نہیںمحبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنامحبت کی حسیں رت میں تمہیں ہم سے بچھڑ نا تھامحبت کی رنگینیاں چھوڑ آئےمحبت کی رنگینیاں چھوڑ آئےمحبت کی طبیعت میں اگرچہ غم نہیں ہوتامحبت کیا ہے، کیا ہے آرزو، بیگانگی کیا ہے؟محبت کیا ہے، کیا ہے آرزو، بیگانگی کیا ہے؟محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنامحبتوں کا بھرم کھولتے ہیں سناٹےمحبتیں تھیں کچھ ایسی، وصال ہوکے رہامحبتیں جب بھی شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنامحراب کا چراغ ہوں یا پھول ہوں ابھی :رفیق سندیلوی محسن نقوی تو نے اس موڑ پہ توڑا ھے تعلق کہ جہاںمحشر میں پاس کیوں دمِ فریاد آ گیامحل سے شاہ نے دیکھا ہی تھا جلال سمیتمحور ہے یہی خواجگیِ کون و مکاں کامداعاے مدعی مطلب کی بات آپ نے بھی خوب کی مطلب کی بات مداوا حبس کا، ہونے لگا آہستہ آہستہمدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئےمدتوں بعد میرا سوگ منانے آئےمدینہ دل سے مدینے سے دل جدا نہ ہوامر جاتا ہوں، جب یہ سوچتا ہوںمر رہتے جو گُل بِن تو سارا یہ خلل جاتامر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلےمر کر بھی نہ ہوں گے رائیگاں ہممر گیا میں ملا نہ یار افسوسمر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوزمرا حال دل آشکارا تو ہوتامرا پاؤں زیرِ زمین ہے، پسِ آسماں مرا ہاتھ ہےمرا کیا کہیں بھی چلا جاؤں گامرا ہر لفظ بے توقیر رہنے کے لئے ہےمرا ہے کون دشمن ، میری چاہت کون رکھتا ہےمرتے ہیں تیری نرگسِ بیمار دیکھ کرمرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھمرجھانے لگی ہیں پھر خراشیںمرحلے شوق کے دشوار ھوا کرتے ھیںمروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤںمروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤںمرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ مری داستان ِ حسرت وہ سُنا سُنا کے روئےمری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانامری فکرِ رسا جب مائلِ پرواز ہوتی ہےمری فکرِ رسا جب مائلِ پرواز ہوتی ہےمری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خُوشمری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئےمری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہےمرے خدا مرے لفظ و بیاں میں ظاہر ہومرے خلاف ہوا ہے تو اس کا ڈر بھی نہیںمرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہتمرے چہرے کے پیچھے عکس اس کا جاگتا ہےمرے ہم سفر ! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیںمرے ہم نفس، مرے ہم نوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دےمزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںمزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیںمسافر کے راستے بدلتے رہےمسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیںمست نظارہ بھی کس درجہ تجاہل کوش ہےمستقبل پڑھنے والے تصویر ہوئےمسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے مسجد و منبر کہاں میخوار و میخانے کہاںمسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےمسلسل بے کلی دل کو رہی ہےمشکل یہ آپڑی تھی ہمارے نباہ میںمشہور کوئی غم کا فسا نہ نہیں کرتےمصلحت حرف ِ صداقت پہ نہ ڈالے رکھنامعبود ِ جاں، خیال کا پیکر نہ ہو کہیں معبوُد کے راز جانتا ہوںمعجزے اب یہاں نہیں ہوتےمعصومیت بھی ہو، ہنسی بے ساختہ بھی ہومعلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہمعیارِ شرف حلقۂ اربابِ ہُنر میںمغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گامغرب کے افق پہ جو شفق ہےمغرور تھے اپنی ذات پر ہممفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیامقامِ ہجر میں لطف و کرم کی باتیں ہیںمقدر پھر سے آڑے آ گیا نامقدّر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنامل سکے تم نہ ، مقدر اپنےمل گئی آپ کو فرصت کیسےمل گیا تھا تو اسے خود سے خفا رکھنا تھامل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہےملا نہیں اذان رقص جن کو ،کبھی تو وہ بھی شراردیکھوملا وُہ خطّۂ جاں دشتِ انتظار کے بعدملال اس سے بچھڑنے کا آہ! کیا کرتاملتان کے عشق میںملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میںملک سخن کا تاجور حال اٹھ گیاملی نجات قفس سے تو بے نگر ہو کرملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرناملے تو کیسے ملے منزل خزینہء خوابملے کیا کوئی اُس پردہ نشیں سےملے کیسے صدیوں کی پیاس اور پانی، ذرا پھر سے کہناملے گی دادِ فغاں کیا ہمیں نہیں معلومممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لےممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوںمن تھکنے لگا ہے تن سمیٹےمن کی اداس دنیا کے سب تار کس گئےمنتظر رہنا مری جان بہار آنے تکمنحرف ہیں مرے ساتھی تو خدا ہی آئےمنزل کی دھن میں ہوش و خرد سے گزر گئےمنزلوں کا پتہ لگانا کیوں؟منظر تھا اک اجاڑ نگاہوں کے سامنےمنظر کوئی فردوس نظر ڈھونڈ رہا ہوںمنظر کے اردگرد بھی اور آرپار دُھندمنظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوںمنظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کیمنفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہےمنہ زور ہو دریا کہ اتر جائے ہمیں کیامنہ سے نکلے گی تو پھر دل میں اتر جائے گیمنہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑموا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہاموت اپنی، نہ عمل اپنا، جینا اپناموت و حیات کا مقصد کیا ہے، آخر کچھ معلوُم تو ہوموت کا اعتبار کر لیتےموت کی انجمن آرائی ہےموتی کی طرح جو ہو خدا دادموج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سےموج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سےموجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہئےموسم خو شگوار کی راتیںموسم کا عذاب چل رہا ہےموسم کی طرح بدل رہے ہیںموسم ہوگا جس کا گہناموسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیںموسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیںموسمِ گلزارِ ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھموے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوامير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف ميں نے تم کو دل ديا، تم نے مجھے رسوا کيامَیں آپ اپنا جواب اور آپ اپنی نظیرمَیں اس فریب ہی میں رہا مبتلا سدامَیں اُس سے چاہتوں کا ثمر، لے کے آ گیامَیں ایک ذرّہ سہی، کائنات بھر میں رہوںمَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوںمَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوںمَیں تجھ کو دیکھنے کی تمنا میں چوُر تھامَیں تیرے ساتھ رواں تھا، مگر اکیلا تھامَیں جو اُس کے قدموں میں ریت سا بکھر جاتامَیں حقائق میں گرفتار ہوُں، وہموں میں نہیںمَیں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےمَیں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھامَیں روشنی کے تسلسل کو ٹوٹنے ہی نہ دوںمَیں زندئہ جاوید بانداز، دگر ہوںمَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیےمَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیےمَیں وہ شاعر ہوں، جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوامَیں کب سے گوش برآواز ہوُں، پکارو بھیمَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتامَیں ہوُں تیرا کہ توُ شَیدا میرامَیں ہوُں، یا توُ ہے، خُود اپنے سے گریزاں جیسےمُجھ سے کافر کو تیرے عِشق نے یوُں شرمایامُجھے دُکھ یہ ہے کہ بہار میں بھی طیور بے پر و بال ہیںمُجھے موت دے کہ حیات دےمُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہےمُکر جاتے ہو دل لے کر یہ دلداروں کی باتیں ہیںمِرا ذوقِ محبت دیکھیے کیا گل کھلاتا ہےمٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کرمٹّی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کرمٹی میں کوئی رنگ ملایا نہیں کرتےمچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تکمکالماتی غزلمکاں بھر ہم کو ویرانی بہت ہےمکمل مقصد تخلیق انساں ہو نہیں سکتامگن کس دھن میں اپنے آپ کو دن رات رکھتا ہےمہتاب رتیں آئیں تو کیا کیا نہیں کرتیںمہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلامہرباں ہوکے جب ملیں گے آپمہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھیمہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھیمہکے ہمارا باغ بھی شاید، بہار میںمیرا اِک اِک لفظ حجابمیرا جانا نہ ہوا ، آپ کا آنا نہ ہوامیرا جو حال ہو سو ہو، برقِ نظر گرائے جامیرا جُدا مزاج ہے اُن کا جُدا مزاجمیرا ذوقِ دید، تیرا رُوئے زیبا جل گیامیرا غرور، تجھے کھو کے، ہار مان گیامیرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہےمیرا نام تیرے لبوں پہ ہو، میرا ذکر دل سے کیا بھی کرمیری آنکھوں سے روشنی چھینیمیری آنکھوں میں آنُسو پگھلتا رہا،چاند جلتا رہامیری آنکھوں کو سُوجھتا ہی نہیںمیری آنکھیں ہیں کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میںمیری بساطِ شاعری رقص گہِ خیال تھیمیری تربت پر اگر آئیے گامیری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرےمیری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیںمیری حدِ نظر وہاں تک ہےمیری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہیمیری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہیں دُور دےمیری ساری زندگی کو بےثمر اُس نے کیامیری سانسوں کی خوشبو سے تجھے زنجیر ھونا ھےمیری طرح، کسی کو تو اپنا بنا کے دیکھمیری محدود بصارت کا نتیجہ نِکلامیری نظر کا ہے، نہ تمھاری نظر کا ہےمیری نظر کو حوصلہء امتحاں نہ تھامیری نگاہ سے یہ پردہ کس نے سرکایامیری وحشت کے لیے چشم تماشا کم ہے میری پہچان نمازیں ہیں نہ تکبیریں ہیںمیری چاہت کا سرِعام تو چرچا نہ کرومیرے آنسو میرے اندر گرتے ہیںمیرے اندر خاموشی بولتی ہےمیرے اندر سانس لینا چھوڑ دےمیرے بارے میں ہواؤں سے وہ کب پوچھے گامیرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتامیرے بھی ہیں کچھ خواب میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیرے دل کو دیکھ کر، میری وفا کو دیکھ کرمیرے دل کے شام سویرے ہومیرے ساتھ تم بھی کرو دعا یوں کسی کے حق میں برا نہ ھومیرے سبو میں میری زیست کا لہو تو نہیںمیرے سنگِ مزار پر فرہادمیرے سوال کا، یارب! کوئی جواب ملےمیرے صحرا بھی تیرے، میرا چمن بھی تیرامیرے لفظوں کے سب جادُو تمہارےمیرے لیے میرے غم بھی خدا کی رحمت ہیںمیرے وجود میں سچائی میری ماں کی ہےمیرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کومیرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئیمیرے ہونٹوں پہ نہیں تیرے گِلےمیرے ہی غم کی ترجماں فطرت بے زباں نہ ہومیٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دورمیں آسماں کی شاخ پہ زندہ ہوں دوستومیں ابھی موت سے بچ کر نکلامیں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوںمیں اس کی آہٹیں چن لوں ‘ میں اس سے بول کر دیکھوںمیں اسے واقف الفت نہ کروں - میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیںمیں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیںمیں اَزل کی شاخ سے ٹوٹا ہُوامیں ایک عمر اسے بحر و بر میں ڈھونڈتا تھامیں بزمِ تصوّر میں اُسے لائے ہوئے تھامیں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جامیں تنہا درپیش سفر تقدیر کا ہےمیں تنہائی کا حاصل ہو گیا ہوںمیں تو ایک کاغذی پھول تھا ، سرِ شام خو شبو سے بھر گیامیں تو ہوں اک سیپ کا موتی، بیچ سمندر رہنا تھامیں جانتا تھا ایسا بھی اک دور آئے گامیں جس کے ساتھ ظفر عمر بھر اٹھا بیٹھامیں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہُوئیمیں جی رہا ہوں صرف ترے اعتبار تکمیں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہےمیں خود کو لا مکاں سے ڈھونڈ لوں گا :رفیق سندیلوی میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوںمیں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوںمیں سبک نوش ہوں مری گلرُومیں سعد کیا کہوں کہ وہ کیونکر نہیں رہامیں سہوں کربِ زندگی کب تکمیں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میںمیں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں‘ کہ کچھ لکھوں گامیں فرشِ کُہر پہ اپنے قدم نہیں رکھتا :رفیق سندیلوی میں قفس میں ہوں کہ سرِچمن مرے ماہ و سال نہ دیکھنامیں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مریمیں نہ دیکھ پایا خوشی کوئی، ملا غم سدا مجھے بھول جامیں نے آنکھوں میں سمندر کا نشاں رکھا ہےمیں نے تجھ کو تیرے دامن کو بہت یاد کیامیں نے دیکھا دیوانوں کو شام کے بعدمیں نے دیکھا ہے یہ ہر روز سحر سے پہلےمیں نے راتوں کو بہت سوچا ہے تم بھی سوچنامیں نے سب کچھ ہی کہا ہو جیسےمیں نے چاہا جو تمہیں، اس کا گناہ گار تو ہوںمیں نے کہا جو حسن سے کوئی وفا شناس ھےمیں نے کہا جہان میں بازار کیوں بنےمیں نے کہا کہ کیوں تیرے حالات اور ہیںمیں نے کہا کہیں کوئی صدق و صفا شناس ھے میں نے کہا گزر کسی انجان کی طرحمیں نے یہ بندگی کا طریقہ بنا لیا M Nazim Rao Ghazalمیں نے یہ چہرہ کبھی دیکھا نہ تھا آئنے میں عکس وہ میرا نہ تھا میں چپ رھا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھامیں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتامیں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گامیں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتامیں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کیمیں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھیمیں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں میں کہ ہوں استادہ اس تاریک محور پر جہاں : رفیق سندیلوی میں کہیں بھی کسی نگر میں رہامیں کیا ہوں معلوم نہیں میں کیوں نہ ترک تعلق کی ابتدا کرتامیں گریز کیا کرتا، اُس کے ساتھ چلنے سےمیں ہر کام کو ٹال رہا ہوںمیں ہمکلام ہوا تو سوال تک پہنچامیں ہوا کو منجمد کر دوں تو کیسے سانس لُوں: رفیق سندیلوی میں ہوں رات کا ایک بجا ہےمیں ہوں مجنوں مرا انداز زمانے والا۔۔۔۔عمران شناورمیں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیمیں یہ دُنیا مٹانا چاہتا ہوں میں یہ ہزار جگہ حشر میں پُکار آیامیں یہاں اور تو وہاں جاناںمیں کب کہتا ہوں کہ وہ اچھا بہت ہےنئی خواہش رچائی جا رہی ہےنئی طرزوں سے مے خانے میں رنگِ مے جھلکتا تھانئے انساں کی جو رعنائی ہےنئے انساں کے عجب تیور ہیںنئے سفر کے لیے فیصلے کا موقعہ دےنئے کپڑے بدل کر جاوں کہاں اور بال بناوں کس کے لیےنا آشنا کرے نہ کوئی آشنا کرےنادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیےنارسائی کی قسم، اتنا سمجھ میں آیاناروا کہیے نا سزا کہیےناروا ہے سخن شکایت کاناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہےنالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںنالہ نارسا نہیں کچھ بھی نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھانام آیا بھی تو کن ناموں میںنام اسی کا سویرے شام لکھانام بے حد تھے مگر اُن کا نشاں کوئی نہ تھانام بے نام بھی ہو جاتے ہیںنام لے لے کر نہ میرا شہر کی نظروں میں آنام ور ہیں نہ کوئی شہرتِ فن رکھتے ہیںناکام عرض شوق کی جرات ہے کیا کروںناگنوا اپنا سکون تم مری چاہ میںنبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے نجانے کن غم کے جگنوؤں کو چھپائے پھرتی ہے مٹھیوں میںنرم بوندوں میں مسلسل بارشوں کے سامنےنری خوش فہمیاں ہوتی ہیں‘ یکسر کب بدلتا ہے نشاطِ زندگی میں ڈوب کر آنسو نکلتے ہیںنشانی کوئی تو اب کے سفر کی گھر لانانشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہےنشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہےنصیب آزمانے کے دن آرہے ہیںنظارہ جمال سے جنت ہے زندگینظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیںنظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیںنظر جب سے وہ مہرباں ہوگئی ہےنظر جب سے وہ مہرباں ہوگئی ہےنظر سے یہ قید تعین اٹھائی جاتی ہےنظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگانظر محو رخ پیر مغاں معلوم ہوتی ہےنظر میں زخم تبسم چھپا چھپا کے ملانظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتانظر کی تیزی میں ہلکی ہنسی کی آمیزشنظر کی شاخ پہ اِس طرح اَب سجاؤں تجھےنظر کی شاخ پہ اِس طرح اَب سجاؤں تجھےنظر کے پار دیا سا جلا کے دیکھ لیانظروں پہ ستم، دل پہ جفا ہو کر رہے گینظریں ملیں تو پیار کا اظہار کر گیانعت۔۔۔۔موت ہی نہ آجائے کاش ایسے جینے سےنفس کے لوچ میں رم ہی نہیں کچھ اور بھی ہےنفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچنقاب دیدہ پر نور ہو گئے ہو تمنقاش دیکھ تو میں کیا نقشِ یار کھینچانقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کانقش مٹِتی ہوُئی کرنوں کا اُبھارا کِس نےنقش ہُوا ہے پل پل کا شر آنکھوں میںنقشہ میں کائنات کے خانے ہیں اور بھی نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا،رات کے ساتھنمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہےننگے سچ کے لفظ زباں پر کیا کیا تھےنوکِ مژگاں سے اشک ڈھلے، اور بہہ گئےنویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئےنَفس کو فِکرِ جوہر ہے جہاں میں ہوںنَے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوشنِکوہِش ہے سزا فریادئِ بیدادِ دِلبر کینکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےنکل کر قصر سے تیرے ٹھکانہ ڈھونڈ ہی لیتانگا ہیں ملا نا، نگا ہیں چرانانگاہ ناز کا ایک وار کر کے چھوڑ دیانگاہوں کا اشارہ ہو رہا ہےنہ آنے دے یہ موسم بے دلی کانہ آیا نامہ بر اب تک، گیا تھا کہہ کے اب آیانہ اب مسکرانے کو جی چاہتا ہےنہ اب وہ گھر کے مکیں ہیں نہ بام ودرویسےنہ اس طرح کوئی آیا نہ کوئی آتا ہےنہ بن سکا میں تمھارا نہ ہی زمانہ کانہ تجھ سے ہے نہ گلہ آسمان سے ہو گانہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہےنہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائےنہ تیری دسترس میں کچھ نہ میرے اختیار میںنہ جانے ترجماں ہیں کس قیامت کے اشاروں کینہ جانے خال و خد کیوں چھِن گئے ہیں خوش جمالوں کےنہ خط لکھوں نہ زبانی کلام تجھ سے رہےنہ دل میں درد، نہ آنکھوں میں نوُرِ ربطِ قدیمنہ دوائیں پر اثر ہیں نہ دعائیں کیا بتائیںنہ سہی اور کہیں گھر میرانہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تُھوکا جائےنہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تُھوکا جائےنہ سیو ھونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ھم کونہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہےنہ شعور میں جوانی، نہ خیال میں روانینہ شکا یتیں نہ گلہ کرے نہ شکستہ حرف ہیں اجنبی، نہ فگار لفظ پرائے ہیںنہ ظلمتِ شب میں کچھ کمی ہے، نہ کوئی آثار ہیں سحر کےنہ غم ہے اور نہ ہی کوئی خوشی ہےنہ قرضِ ناخنِ گُل ، نام کو ، لُوںنہ محبّت نہ صباحت فانینہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیںنہ وہ فرشتہ ہو نہ فرشتوں جیسا ہونہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چُھپانہ پوچھ خوابِ زلیخا نے کیا خیال لیانہ پوچھ ہم سے کہ اس گھر میں کیا ہمارا ہےنہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد!نہ چین آتا ہے دن کو نہ شام آتا ہےنہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میںنہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میںنہ کسی نے دل ہی دیکھا ، نہ کسی نے غم ہی جانانہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہنہ کوئی خواب نہ سہیلی تھینہ کوئی رنگ، نہ ہاتھوں میں حنا، میرے بعدنہ کور باطن ہو، اے برہمن، ذرا تو چشمِ تمیز وا کرنہ کٹتی ہم سے شب جدائی کینہ کیوں کر مطلعِ دیواں ہو مطلع مہرِ وحدت کانہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ سازنہ گمان موت کا ہے ‘نہ خیال زندگی کانہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہینہ یقین وجود پہ رکھ کر،نہ ردائے یاس میں آؤں گانہاں ہے محشرِ آہنگ زیرِ پردہء سازنہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیانہیں کُچھ ایسا تغافل میں وُہ بھی کم نکلانہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں، خیال نہ تھانہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںنہیں ہوتا نسب محبت میںنہیں ہوتا نسب محبت میںنہیں ہے رخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میںنیا اک ربط پیدا کیوں کریں ہمنیا فلک ہو رہا ہے پیدا، نئے ستارے نِکل رہے ہیںنیاز و ناز کی یہ شان زیبائی نہیں جاتینیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںنیازِ عشقِ بتاں ہے کیسا، غرورِ حسن و شباب کیا ہےنیتِ شوق بھر نہ جائے کہیںنیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کر گیانیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسےنین جھیلوں میں اترنا سیکھونیند تو خواب ہو گئی شایدنیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاںنیند میں جا چکی ہے رانی بھینیند کے آبِ رواں کو مات دینے آؤں گا:رفیق سندیلوینیکوں کی فہرست میں نام لکھاتا رہوارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہووارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھئے!وارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھئے!وارفتگی میں جنس محبت خرید لیواعظ بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہوواللہ! محبت کا ہے کون بھلا ثانی؟واپس نہ آئے پھول سے جسموں کو چیرکےواں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوواہمے سارے تیرے اپنے ہیںوجود کیا ہے عدم کیا ہے کچھ نہ تھا معلوموجہ قدر و قیمت دل حسن کی تنویر ہےوحشت دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئےوحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتاوحشت کے ان معماروں سے بنیادِ ایواں ٹوٹ گئیوحشی اُسے کہو جسے وحشت ہے غزل سےوسعتِ چشم کو اندوہِ بصارت لکھاوصال چپ چاپ مر گیا ہے، اسے نہ ڈھونڈووصال کا بھی کوئی اہتمام کر ڈالووصل میں جھوٹی تسلی کے سوا کیا ہوگاوصل کا خواب دکھائے گا ٹھہر جائے گاوصل کي شب شام سے ميں سو گياوصل ھو جائے يہيں، حشر ميں کيا رکھا ہے وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میںوطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میںوفا انجام ہوتی جا رہی ہےوفا میری متاعِ نا خریدہوفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ھےوفا کا درس کبھی خود کو بےوفا دیتاوفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیےوفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھیوفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیاوفا کے جنگلوں میں کھو گیا تو؟وفا کے خواب، محبت کا آسرا لے جاوفا کے راہرو کو کیوں سدا برباد دیکھا ہے؟وفائے وعدہ نہیں وعدہء دگر بھی نہیںوقت درماں پذیر تھا ہی نہیںوقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئےوقت سے کہیو ذرا کم کم چلےوقت وہ آ گیا ہے اب، میں بھی لبوں کو وا کروںوقت کے کتنے ہی دھاروں سے گزرنا ہے ابھیوقت کے ہاتھوں حکایاتِ انا بھول گئےوقت ہر چیز کا امکان بدل سکتا ہےوقتِ سفر قریب ہے بِستر سمیٹ لُوںوقتِ نمازِ عشق قضا کچھ نہیں کیاوُہ دن بھی تھے لپکنے اور لطفِ خاص پانے کووُہ یاد آئے تو کس طرح مَیں بھلاؤں اُسےوُہ یاد آئے تو کس طرح مَیں بھلاؤں اُسےوہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دےوہ آئنہ رخسار دمِ باز پس آیاوہ آئیں اگر اس دم، معلوم ہے کیا ہوگاوہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہےوہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلےوہ اجنبی اجنبی سے چہرے،وہ خواب خیمے رواں دواں سےوہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہوگیاوہ ایک تیر خراش آ گیں جو دل سے نکلے گا آہ بن کروہ ایک یارِ طرحدار بھی ضروری تھاوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےوہ بظاھر جو زمانے سے خفا لگتا ھےوہ بھولتا ہے نہ دل میں اتارتا ہے مجھےوہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعدوہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ہموہ بھی ہمیں سر گراں مِلے ہیںوہ بے ارادہ سہی،تتلیوں میں رہتا ہےوہ ترے غم کا دور تھا جس میںوہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دلوہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دلوہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھرجائے گاوہ تو کیا سب کے لئے فیصلہ دشوار نہیںوہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لےوہ تھکا ہوا میری بانہوں میں ذرا سو گیا تھا تو کیا ہواوہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُواوہ جب پوچھا کہ دل میں آپ کیا ارمان رکھتے ہیںوہ جس سے رہا آج تک آواز کا رشتہوہ جس کا ڈر تھا آخر ہوگیا ناںوہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں ستارے لے کروہ جو انجام سے ڈر جاتے ہیںوہ جو اپنا یار تھا، دیر کا کسی اور شہر میں جا بساوہ جو اپنے مکان چھوڑ گئےوہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھےوہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں وہ جو خار چبھوتے ہیںوہ جو دعویدار ہے شہر میں کہ سب ہی کا نبض شناس ہوںوہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیےوہ جو صُبحوں سی جبیں رکھتا ہےوہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعدوہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھےوہ جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہووہ جو ہم میں تم میں قرار تھا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گےوہ حسنِ بلا خیز، یہ اندازِ محبت!وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا وہ خواب ٹوٹے ہوئے کتنے ماہ و سال ہوئےوہ خود بھی پیاس کے سوکھے نگر میں بستا ہےوہ دریچے میں کب نہیں آتاوہ دعا بھی زر تاثیر سے خالی دے گاوہ دل میں رہتے ہیں دل کا نشاں نہیں معلوموہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گاوہ دل کہ جو شائستۂ آلام نہیں ہےوہ دل ہی کیا تیرے ملنے کی جو دعا نہ کرےوہ دن بھی کیا تھے،غم سے کوئی واسطہ نہ تھاوہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلاوہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلاوہ دھندلکا جسے سب حدِّ نظر کہتے ہیںوہ رسوائی سے ڈر جائے تو اچھاوہ رنگِ رخ، وہ آتشِ خوں کون لے گیاوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیوہ زمانہ نظر نہیں آتاوہ زود رنج منانے بھی تو نہیں دیتاوہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئےوہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہواوہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوںوہ شخص مجھ کو جیت کے ہارا ہے اور بسوہ صرف ہم سفر ہے مرا ہم نفس نہیں وہ طریق ِمہر و وفا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیاوہ عکسِ موجہ گل تھا، چمن چمن میں رہاوہ عہدِ غم کی کاہشہائے بے حاصل کو کیا سمجھےوہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ لوگ جن کو ستاروں کی جستجو ہے بہتوہ مری خوش لباس کیسی ہے ؟وہ مل گیا تھا رہِ خواب سے گزرتے ہوۓوہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھاوہ نہانے لگا تو سایۂ زلفوہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیاوہ پہلی پہل لگن کا معاملہ ہے عجیبوہ ڈَھل رہا ہے تو یہ بھی رَنگت بدل رہی ہےوہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سوجا و وہ کتنی سادہ وہ کتنی پگلی وہ ایک لڑکیوہ کسی آنکھ کو پرنم نہیں ہونے دیتاوہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھاوہ کف جاں پہ رگ جاں کی طرح رہتا ہےوہ کون لوگ تھے ان کا پتہ تو کرنا تھاوہ کون ہے جو میرے گرجتے سکوت کا مدّعا نہ سمجھاوہ کون ہے جو پسِ چشمِ تر نہیں آتاوہ کچھ اس طرح بھی تقدیر بنا دیتا ہےوہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھیوہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیںوہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہمنوائی نہ تھیوہ ہوئے مہربان دشمن پروہ ہوائے تند تھی، اُس کو خفا ہونا ہی تھا وہ یکسر مختلف ہے منفرد پہچان رکھتا ہے وہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوشے میں کرتے ہیںوہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کیوہاں نہ پھول کھلتے ہیں نہ ہی موسم بدلتے ہیںوہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہتوہی آہٹیں در و بام پر ، وہی رتجگوں کے عذاب ہیں / وہی ادھ بجھی میری نیند ہے وہی ادھ چلے میرے خواب ہیںوہی بہشت کی تنہائیوں سے بیزاریوہی تھا رنگ اداسی کا رہگزر جیساوہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچا تھاوہی حالات ابتداء سے رہےوہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنیوہی نقش رو برو ہے، وہی عکس چار سو ہےوہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھاوہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیںویرانۂ وجود میں چلنا پڑا ہمیںویسے تو کج ادائی کا دُکھ کب نہیں سہا يہ تو ميں کيونکر کہوں تيرے خريداروں ميں ہوںيہ قول کسی کا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا ٹوُٹتے جاتے ہیں سب آئینہ خانے میرےٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسےٹوٹ کر جو کف مژگاں پہ بکھر جاتا ہےٹوٹتی راتوں کی خاموشی میں رونا چھوڑ دےٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!ٹوٹے ہوئے ستارے کے سب تار کس گئےٹوٹے ہوئے لفظوں میں روانی نہیں ملتیٹھہر کے دیکھے تو رُک جائے نبض ساعت کیٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھاٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیںٹہنی سے جھڑ کے رقص میں آیا، ادا کے ساتھپابہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ پاس جو کچھ تھا وار آیا ہوںپاس رہ کر بھی بہت دور ہیں دوستپاس رہ کر جُدا سی لگتی ہےپاس ہے تم کو اگر پچھلی شناسائی کاپان تو لیتا جا فقیروں کےپانی آنکھ میں بھر کر لایا جاسکتا ہےپانی پر بھی زادِ سفر میں پیاس تو لیتے ہیںپانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُتراپتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہےپتّوں کی طرح شاخ پہ مرنا پڑا مجھےپتھر بدست ہم کو یہاں ہر بشر ملاپتھر بنا دیا مجھے رونے نہیں دیاپتھر کے تلے اگتے اور زیرِ عتاب آئےپتھر کے خدا وہاں بھی پائےپتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہےپتھروں سے واسطہ ہونا ہی تھا۔۔۔۔عمران شناورپربت پربت اڑے پھرے ہے من پنچھی بے چینپردہء شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئےپرسش کو مری کون مرے گھر نہيں آتاپرندے پوچھتے ہیں تم نے کیا قصور کیاپرواز کو محدود نہ کر شام و سحر تکپرکھنا مت ، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتاپری جمال بھی انساں ضرُور ہوتا ہےپریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤپس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتےپسِ شفق مُجھے خُونِ جگر نظر آئےپشتِ پا ماری بسکہ دنیا پرپلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہےپلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہےپلٹ کے آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتاپلٹنا چاہو، تو جاؤ، ابھی اُجالا ہےپلک پلک پہ جلائے ہیں اشک تر کے چراغپلکوں پہ اُس کے ایک ستا را تھا اور بس پنہاں دل بے تاب میں ارمان بہت ہیںپورا چاند اور راتپوچھا ، بتاؤ زیست کا عنوان ہے کوئی؟پوچھا ، تمام خواب کے منظر بھلا دئیے؟پوچھا بتاؤ اوج پہ کیوں درد آج ہے؟پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیاپوچھا گہر تو اشک بہا کر دکھا دیا پوچھا ھے کیسے درد کو روپوش کر دیاپوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر پُورا دکھ اور آدھا چاند! پُوچھ لو پُھول سے کیا کرتی ہے پُھول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرےپُھول کو رنگ ستارے کو ضیا کِس نے دیپچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق پڑ گئے ذہن پہ نسیان کے تالے کیا کیاپھر اس انداز سے بہار آئیپھر اس مٹی سے اک دیوی اُٹھے گیپھر اسی غم سے آشنائی ہےپھر اسی کا خیال آیا ہےپھر اٹھی دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہپھر بھٹکتا پھر رہا ہوں ہجر موسم کے لیےپھر بھیانک تیرگی میں آ گئےپھر تیرا ذکر دل سنبھال گیاپھر تیرے پاس ہوں اور کشمکش جاں بھی وہیپھر جدائی، پھر جئے، پھر مر چلےپھر حریفِ بہار ہو بیٹھےپھر حسینوں پہ اعتبار کریںپھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئےپھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کوپھر سے پیار کا دھوکہ کھایا جاسکتا تھاپھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھاپھر شبِ غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکرپھر صبح کی ہوا میں جی ملال آئےپھر لوٹا ہے خورشیدِ جہانتاب سفر سےپھر لہو بول رہا ہے دل میںپھر مجھے دیدۂ تر یاد آیاپھر مری راہ میں کھڑی ہوگی وہی اک شے جو اجنبی ہوگیپھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح پھر موسم خیال کی ٹھنڈی ہوا چلیپھر نئی فصل کے عنواں چمکےپھر نہ کہنا ہم کو نالوں سے پریشانی ہوئیپھر نیا خواب آنکھ میں رکھوپھر وقت ہمیں اشک بہم کرنے لگا ہےپھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہےپھر چہرہ ہواؤں پہ بناتے ہوئے سوچاپھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گےپھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گےپھر کچھ اک دل کو بیقراری ہےپھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شرابپھر یاد وہ مہ جمال آیاپھرا ہوا جو کسی کی نظر کو دیکھتے ہیںپھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتےپھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھاپھول بھی ابر بھی مہتاب تھے میرے کب تھےپھول بھی کاغذ کے ہیں، مانگے کی ہے مہکار بھیپھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھےپھول خوشبو سے جدا ہے اب کےپھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیںپھول کہو یا دل کے فسانےپھول کہو یا دل کے فسانے پھولوں سا کھلتا ہوں دیپ سا جلتا ہوںپھولوں کی اور چاند ستاروں کی کیا کمیپھوُل ہیں گلشن میں کچھ خوابیدہ کچھ بیدار سےپھوُلوں سے تو لد رہی ہے ڈالیپھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قراباپھُولوں سے لہو کیسے ٹپکتا ہوُا دیکھوںپھِرآیا جب سے موسم ٹہنیوں کی بے ردائی کاپھیلتا جاتا ہے اک لمحہ جو ڈھلتا ہی نہیںپہلو میں اک گرہ سی تہِ خاک ساتھ ہےپہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئےپہلی سی بات نہیں باتوں میںپہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیےپہلے دشمن کو للکارا کرتے ہیں ----عمران شناور پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے پی نہ ملن کو آئے سانولپیار میں پاگل ہوجاتے ہیںپیار کا گھاؤ سنو، یوں نہیں کھایا کرتےپیار کرنے کے لیے گیت سنانے کے لیےپیار کے دائرے کو تنگ کروںپیار کے کھیل میں جیون اپنا ہار گئی تو پھر کیا ہوگاپیارے دیس کی پیاری مٹیپیاس کے عالم میں کیا بولوں مجھ کو کیسا لگتا ہےپیت کرنا تو ہم سے نبھانا سجن، ہم نے پہلے ہی دن تھا کہا نا سجنپیت کے روگی سب کچھ بُوجھے سب کچھ جانے ہوتے ہیںپیغامِ غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچاپیماں جو بندھ رہے ہیں، کوئی سُن رہا نہ ہوپیوست دل میں جب ترا تیرِ نظر ہوا پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غمپیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے، خبردار سے ہیںپیہم تلاش دوست میں کرتا چلا گیاپۓ نذرِ کرم تحفہ ہے 'شرمِ نا رسائی' کاچار دن اُس حسنِ مطلق کی رفاقت میں کٹےچارپائی پر دراز اک گنگ پیکر سوچناچارہ گر، ہارگیا ہو جیسےچارہ گرو، کیوں اُلجھاتے ہو غنچہ و گل کے فسانوں میںچاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں ! چاند بے نُور ہوا بادل میں چاند تارے جب آنگن سے گزرتے ہوں گےچاند جب بام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!چاند سوُرج نگراں رہتے ہیں باطل کی طرفچاند مٹھی میں چھپانے کا کبھی سوچا نہ تھاچاند میری طرح پگھلتا رہا چاند نکلا تو ہم نے وحشت میںچاند چمکا جنگلوں پر، آسماں کا در کُھلاچاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلےچاند کے پیالے سے ہے چھلکی ہوئی یہ چاندنیچاند گھٹتا ہی گیا جتنا تجھے یاد کیا چاند ہاتھ میں بھر کر جگنوؤں کے سر کاٹو اور آگ پر رکھ دوچاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتاچاندنی پر گماں سیاہی کاچاندی جیسا رنگ ھے تیرا سونے جیسے بالچاک دامانیاں نھیں جاتیںچاک پر چاک ہوا، جوں جوں سلایا ہم نےچاک کی خواہش ، اگر وحشت بہ عُریانی کرےچاہت بھری کتاب سے آگے نکل گیاچاہت کا ایک میٹھا میٹھا درد جگانے شام ڈھلے !چاہت کی راہ گزر میں تجارت نہیں کروچاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیےچرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیاچراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراقچراغ لے کے ترے شہر سے گزرنا ہےچراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھیچراغِ جاں کو سپرد ہوا بھی اس نے کیاچراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیاچراغِ ماہ لیے تجھ کو ڈھونڈتی گھر گھرچرواہا بستی والوں سے کہتا ہےچشم میگوں ذرا ادھر کر دےچشمِ میگوں ذرا ادھر کر دےچشمِ میگوں ذرا ادھر کر دےچل دئیے شکل دکھا کر وہ کوئی کیا دیکھےچل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا مُنہچلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہوچلو کہ کوچۂ دلدار چل کے دیکھتے ہیںچلی ہے شہر میں اب کے ہوا ترکِ تعلق کیچلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہچلے بہشت سے ہم نکہتِ بہار کے ساتھچمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ھیںچمن میں رنگ ِ بہار اترا تو میں نے دیکھاچمن میں گل نے جو کل دعویِ جمال کیاچمن پہ جو بھی تھے نافذ اصول اس کے تھےچمکے گا شجر پر نہ مرے گھر میں رہے گاچند لمحوں کو سہی، ہوتا کبھی بشّاش مَیںچند گھرانوں نے مل جل کرچوری میں دل کی وہ ہنر کر گیاچوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا چُپ نہ رہتے بیان ہو جاتےچُپ کھڑے ہیں وہ، ہتھیلی پہ ہمارا دل ہےچُھونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئےچُھپ چُھپ کے اب نہ دیکھ وفا کے مقام سےچٹان چھوڑ کے شاہیں سر نہال آیاچپ چپ کیوں ہو ؟چپکے چپکے جل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والےچڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا کب کاچھم چھم کرتی اتری نیند خلاؤ ں سےچھن گئے تم، تو حسِینوں کے یہ میلے کیوں ہیںچھوٹے چھوٹے سے مفادات لئے پھرتے ہیںچھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھچھُپے جو راز، میری قدرتِ بیاں بن کرچھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیںچھپا کے سَر میں جو تہذیب کے کھنڈر نِکلےچھڑ گئی اُس سے اہلِ درد کی باتچہرہ افروز ہوئی پہلی جھڑی ہم نفسو شکر کروچہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کیچہرہ نہ دکھا ، صدا سُنا دےچہرے پڑھتا آنکھیں لکھتا رہتا ھوںچہرے پہ مرےزُلف کو پھیلا ؤ کسی دنچہرے کو دیکھیئے، مری آنکھوں میں جھانکیئےچہرے کو دیکھیئے، مری آنکھوں میں جھانکیئے چیت چیت اک جیسی، کلفتوں کا ساماں ہےچین اب مجھ کو تہ دام تو لینے دیتےڈسنے لگے ہیں خواب مگر کِس سے بولیےڈَر شب کا وہاں کیوں نہ بھلا تیز بہت ہوڈھل گیا چاند، گئی رات، چلو سو جائیںڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کےڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میریڈھونڈنے جس میں زندگی نکلیکئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سےکئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتےکئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دلِ زار تھاکئی رُت کی وحشت کا خراج مانگتی ہے کئی قیدیوں کی نجات ہوں، میں چراغ ہوں:رفیق سندیلوی کائناتوں کے تماشائی تھےکاجل تیری آنکھوں کا میری آنکھوں میں دَر آئےکارواںسست رہبر خاموشکاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچکاش کچھ دیر یونہی وقت گزرتا رھتاکاش گلشن میں یوں بہار آئےکاش! مَیں جس کے اُوپر ہوں اِک خوں ساکافرِ عشقم، مسلمانی مرا درکار نیستکام آ ہی جائے گی سعئی رائیگاں اک دنکام آخر جذبہ ء بے اختیار آ ہی گیاکام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہو جائے گاکام کی بات میں نے کی ہی نہیںکام ہی کیا ہے مُسافر کو، گزُرنے کا سواکانٹا ملا تو ضد میں، گُلِ تر بنا دیاکانٹوں کا اِک مکان مرے پاس رہ گیاکانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھکانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھکانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارےکانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھیکب اداسی پیام ہوتی ہے؟کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درستکب تلک اپنی تپش میں آپ جلنا ھے تجھےکب تلک مدعا کہے کوئیکب تلک یہ ستم اُٹھایئے گاکب تک آخر مَیں بھَرے شہر کو صحرا سمجھوںکب تک بیٹھے ہاتھ ملیںکب تک درد کے تحفے بانٹو خون جگر سوغات کروکب تک دل کی خیر منائیں، کب تک راہ دکھلاؤ گےکب تک شکیل دل کو دعا کیجئے گا آپکب سے گم سم ہیں در و بام اے راتکب صبا تیرا پتہ لائے گیکب صبا تیرا پتہ لائے گیکب ضرورت ہمیں تمہاری نہ تھیکب مصیبت زدہ دل مائلِ آزار نہ تھاکب ملے غیر کی پناہوں سےکب وہ سنتا ہے کہانی میریکب ياد ميں تيرا ساتھ نہيں، کب ہات میں تیرا ہات نہیںکب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گیکب کہا ہے کہ مجھے فخر ہے اس جینے پر کبھی جو حدِّ نظر تک پروں کو پھَیلا دوُںکبھی جو رونا بھی چاہیں تو رو نہیں پاتےکبھی جو عہد وفا میری جان تیرے میرے درمیاں ٹوٹےکبھی جو چھیڑ گئی یاد رفتگاں محسنکبھی دامن کبھی پلکیں بھگونا کس کو کہتے ہیںکبھی دیکھو میرے ہمدم میری تحریر کے آنسوکبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوںکبھی صحرا میں دریا چاہتے ہوکبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیںکبھی قیاس‘ کبھی وہ گمان بدلے گا!کبھی ملنے کبھی مجھ سے جدا ہونے کی جلدی ہےکبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوںکبھی نیندیں ، کبھی آنکھوں میں پانی بھیج دیتا ہےکبھی نیکی بھی اُس کے جی میں ، گر آجائے ہے ، مُجھ سےکبھی پڑھ لو سمندر پر لکھا جو نام ہوتا ہےکبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہوکبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ھیںکبھی کسی شجر کی اوٹ میں‘کبھی کھنڈر میں ہےکبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میںکبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میںکبھی ہیرے کبھی پکھراج میں ڈھلنے والےکتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی کتابِ عمر کا اک اور باب ختم ہواکتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہےکتنا حسین پھر سے نظارہ بنا دیاکتنا مشکل ہے زندگی کرناکتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہےکتنی مدت بعد تمہاری یاد آئی ہےکتنے برس لگے یہ جاننے میںکتنے بہت سے رُوپ ہیں، حضرتِ آدمی کے بھیکتنے سال رُل جاتے، میں اگر نہیں ہوتاکتنے نالے تھے جو شرمندئہ تاثیر ہوُئےکثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا کثرتِ داغ سے دل رشکِ گلستاں نہ ہواکر دے ہمارے نام، خجالت کُچھ اور بھیکر رحم ٹک کب تک ستم مجھ پر جفاکاراس قدرکر نہ تاخیر تُو اک شب کی ملاقات کے بیچکرتا ہُوں جمع میں تو بِکھرتی ہے ذات اورکرلیا خود کو جا تنہا میں نےکروٹیں وقت کی بیکار ہوُئی جاتی ہیںکرکے وفا، پلٹ کے وفا مانگنے لگاکرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغکس انوکھے دشت میں ہوائے غزالان ختنکس رنگ میں ہیں اہلِ وفا، اس سے نہ کہناکس سادگی سے ہم ترے صدقے اتر گئےکس شام سے اُٹھا تھا مرے دل میں درد ساکس طرح ترکِ دوستی کر لوںکس طرح ریت کے سمندر میںکس قدر بے شعور ہوتے ہیںکس قدر ظلم ڈھایا کرتے ہوکس کی مسجد کیسے بت خانےکہاں کے شیخ و شابکسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہےکسی اور کےخواب نہیں دیکھے،کسی اور کو کب اپنایا ہےکسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہےکسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے کسی خوشی کے سراغ جیساکسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیںکسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیںکسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کیکسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیوکسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کوکسی پر ہیں زیادہ اور کہیں احساں ہیں کم تیرےکسی کا درد ہو دل بے قرار اپنا ہےکسی کا راستہ تکتا تو ہوگاکسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھےکسی کو اپنے دردِ عشق میں ہمراز کیا کرتے؟کسی کو اپنے دردِ عشق میں ہمراز کیا کرتے؟کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتےکسی کو جب نگاہوں کے مقابل دیکھ لیتا ہوںکسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہوکسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہےکسی کی جستجو ہے اور میں ہوںکسی کی جستجو ہے اور میں ہوںکسی کی جستجو ہے اور میں ہوںکسی کی چاہ میں ایسا بھی کیا سرشار ہو جاناکسی کی یاد میں پلکیں ذرا بھگو لیتےکسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیاکسی کے جبر کا دل میں خیال کیا کرتاکسی کے جور و ستم یاد بھی نہیں کرتاکسی کے ساتھ چاہت ہوگئی تو کیا کرو گے تمکسی کے سامنے مت اپنا دل نکال کے رکھکسی کے ہجر میں گر ہم بھی مر لیتے تو کیا لیتے کسی کے ہجر کا دل پر نشان باقی ہےکسی گماں پہ توقی زیادہ رکھتے ہیںکسی گماں پہ توقی زیادہ رکھتے ہیںکسی ہجر کی رات کا کوئی منظر اٹھائے ہوئےکسے معلوم تھا اس شے کی تجھ میں بھی کمی ہوگیکشاکش غم ہستی ستائے کیا کہئےکشتی کوئی تھی رقص میں کوئی بھنور تھا رقص میںکشتیِ زیست سلامت ہے نہ پتوار یہاںکشمکش حیات کو جزو حیات پا کے ہمکشید خاک سے آتش تو کی جلانے کوکشید خاک سے آتش تو کی جلانے کوکعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیںکعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیاکعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہےکفِ مومن سے نہ دروازۂ ایماں سے ملاکل تمہیں کوئی مُصیبت بھی تو پڑ سکتی ہے کل تھا جو مِلا، کرب وُہی آج ملا ہےکل جنہیں زندگی تھی راس بہتکل رات بزم میں جو ملا گلبدن سا تھاکل رات عجیب خواب دیکھاکل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میںکل شبِ ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھاکل نالۂ قمری کی صدا تک نہیں آئیکل پرسش احوال جو کی یار نے میرےکل چمن میں گُل و سمن دیکھاکل کچھ طبیعت اپنی جو مشکوک ہوگئیکل کہیں تجھ سے بھی اچھا ترا بیمار نہ ہوکل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میںکل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پیکلام کرتا ہوا، راستہ بناتا ہواکم نہیں سامان میں ہنگامہء محشر سے آپکمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گیکن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتابکن لفظوں میں اتنی کڑوی ، اتنی کسیلی بات لکھوںکن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئیکنجِ زنداں فرازِ دار قبولکوئی امّید بر نہیں آتیکوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے کوئی اُجالا اندھیروں سے کام لیتا ہواکوئی بتائے یہ کیسا غمِ جُدائی ہےکوئی بتائے یہ کیسا غمِ جُدائی ہےکوئی بستی نہ دیوار و در سامنےکوئی بستی نہ دیوار و در سامنےکوئی بھی آدمی پورا نہیں ہےکوئی بھیڑ جیسی یہ بھیڑ ہے کسی دوسرے کا پتا نہیںکوئی تو ترکِ مراسم پہ واسطہ رہ جائےکوئی تو تھا پسِ ہوا، آخرِ شب کے دشت میںکوئی تو عکس ہو ایسا جو معتبر ٹھہرےکوئی تو محبت میں مجھے صبر ذرا دےکوئی تو مُجھ کو میرا بھر پُور سراپا لا دےکوئی تو ہو ناں - اِبنِ اُمید - By: ibn-e-Umeedکوئی حالت نہیں یہ حالت ہےکوئی دن گر زندگانی اور ہےکوئی دیکھے تو سہی یار طرح دا رکا شہرکوئی دیکھے تو یہ سایہ ہے سہارا اپناکوئی رُقعہ نہ لفافے میں کلی چھوڑ گیا کوئی سبب ہے جو تاریک شب ہوئی ہے میاںکوئی سخن برائے قوافی نہیں کہاکوئی سچے خواب دکھاتا ہے، پر جانے کون دکھاتا ہےکوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئیکوئی صورت قرار کی نہ رہیکوئی عکس تھا کہ سراب تھا، وہ کمال تھاکوئی قضا اسے سمجھے، کوئی بلا جانےکوئی مرکز بھی نہیں کوئی خلافت بھی نہیںکوئی مزدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہےکوئی موسم تو مہکتی ہوئی صبحیں لائےکوئی نہیں آتا سمجھانےکوئی ٹکڑا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہےکوئی پوچھے بھلا کہ ہم کیا ہیںکوئی پھرے نہ قول سے، بس فیصلہ ہواکوئی چلمن سے مُسکرایا ہےکوئی گماں بھی نہیں درمیاں ،گماں ہے یہیکوئی ہوتا ہے دل تپش سے بُرا کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں کوتاہیاں تو سارے جہاں کی پکڑ سکاکون بدلے گا تغزل کی فضا میرے بعدکون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گاکون جانے کہاں ہے شہرِ سکوںکون جگ میں تیرا ہمسر دیکھےکون سا قافلہ ھے یہ ، جس کے جرس کا ھے یہ شورکون سی منزل پہ لے آئی اکائی ذات کیکون کس کا ہے ہمسفر اے دوستکون کہتا ہے شرارت سے تمہیں دیکھتے ہیںکون کہتا ہے محبت مر گئیکون کہتا ہے محبت نام ہے رسوائی کا!کون کہتا ہے محبت کی زبان ہوتی ہے کون کہتا ہے کہ تجھ سی کوئی صُورت نہ ملیکون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گاکون کہتا ہے کہ وہ بُھولتا جاتا ہے مُجھےکونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟ - کوہ کاٹیں گے کبھی، دشت کبھی چھانیں گےکيا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ ديکھوںکُل اثاثہ تھا اِک دِیا لوگوکُنج کُنج نغمہ زن بسنت آگئیکُوبہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کیکُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہےکُچھ دِل سے نگاہ بدگماں ہےکُھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہےکِتنا مُشکل ہے منانا اُس کاکِتنے خورشید بیک وقت نِکل آئے ہیںکِتنے سَر تھے جو پروئے گئے تلواروں میںکِتنے طلسم عشق کی نادانیوں میں تھےکِس کو دلدار کہیں، کس کو دلآزار کہیںکِسی ترنگ ، کسی سر خوشی میں رہتا تھاکِسی لاعلاج رجائی نے یہ خبر چمن میں اُڑائی ہےکِسی کی چاپ نہ تھی، چند خُشک پتّے تھےکٹ ہی گئی جدائی بھی کب یوں ہوا کہ مر گئےکٹ ہی گئی جدائی بھی یہ کب ہوا کہ مر گئےکٹی پتنگ ہے ساری دُنیا کی نظروں میں سمائی ہوُئیکچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہےکچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیؤں ہوں مَیںکچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیؤں ہوں مَیںکچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میںکچھ تو اے یار علاجِ غمِ تنہائی ہو۔۔۔۔عمران شناورکچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیراخیال بھیکچھ جفا بھی ہے کچھ وفا بھی ہےکچھ جو نہیں انہیں مجھ سے حجاب آ گیاکچھ خوشی کے سائے میں اور کچھ غموں کے ساتھ ساتھکچھ دن اگر یہی رہا دیوار و در کا رنگکچھ دن سے انتظارِ سوال دگر میں ہےکچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا :رفیق سندیلوی کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہوناکچھ لوگ بھی وہموں میں گرفتار بہت ہیںکچھ لوگ جن کو فکرِ زیاں دے دیا گیاکچھ لوگ جو سوار ھیں کاغذ کی ناؤ پرکچھ محتسبوں کی خلوت میں، کچھ واعظ کے گھر جاتی ہےکچھ مضطرب سی عشق کی دنیا ہے آج تککچھ مفلسی میں چل دیئے، کردار بیچنے - اِبنِ اُمیدکچھ نہ تھا زیست کے صحرائے بلا سے آگےکچھ نہ دیکھا پھر بجز اک شعلۂ پُر پیج و تابکچھ نہ کسی سے بولیں گےکچھ نہیں ہے یہاں وہاں ہوناکچھ پاس نہیں، پھر بھی خزانہ تجھے دیتےکچھ گھبرایا گھبرایا سا لگتا ہوُںکچھ ہجر کے موسم نے ستایا نہیں اتناکچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیںکچی دیوار ہوں ٹھوکر نہ لگانا مجھ کوکچے زخموں سے بدن سجنے لگے راتوں کےکھا جائیں نہ چیلیں ہی بیابان میں آنکھیںکھا گیا ہے غمِ بتاں افسوس کھدائی کو کھنڈر کوئی نہیں ہے کھل گئے ہیں بہار کے رستےکھلا مہتاب بھی ٹوٹے ہوئے دَر کے حوالے سےکھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آو سچ بولیںکھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیںکھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرناکھو چکے ہیں جس کو‘وہ جاگیر لے کر کیا کریںکھو گیا تھا راہبر میرے بغیر کس کو تھی اتنی خبر میرے بغیر کھول کر اِن سیاہ بالوں کوکھول کر دیکھ باب آنکھوں کاکھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروںکھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروںکھویا، پانے والوں نےکھڑا تھا کب سے، زمیں پیٹھ پر اُٹھائے ہوئےکہ مَیں سکوں کی خاطر اُترا ہوں آسماں سےکہا آنکھیں جھپکتا کوئی جادو لے کے آتے ہیںکہا اس نے کہ تم تعبیر ہو اور خواب سا ہوں میںکہا اُس نے ، زمانہ درد ہے اور تُم دوا جیسے کہا ایسا کہیں سے کوئی جادو لے کے آتے ہیںکہا بپھرے ھوئے طوفان کی یلغار کو دیکھاکہا تو دل میں رہی ہیبتِ شہاں کیا کیاکہا جذبات کی تصویر دیکھیکہا دل چھیدنے والے تو ماھر تھے نشانوں کےکہا دل کو محبت کے لیے تیار کرتے ہیںکہا دھوکہ بھی نکلا ھے تعلق بھی پرانا ھےکہا ساماں بچانا ھے، تو کیا ساماں بچانا ھےکہا مزے تو بہت اگرچہ شکار میں ہیںکہا میں نے کہاں ہو تمکہا میں نے کہاں ہو تمکہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کرکہا چھپ کر محبت کا مجھے اظہار کرنا ھےکہا کہ ھجر کو بھول جا، کہا وصال یاد رکھکہا کینہ بھڑکتا ھے اسے کیسے بجھانا ھےکہا گر پیار کرنا ھے تو کتنا پیار کرنا ھےکہا یہ تو نہیں کہرام سے تکلیف ھوتی ھےکہا، ساتھی کوئی دکھ درد کا تیار کرنا ہےکہانیاں غمِ ہجراں کی، مَیں نے کِس سے کہیںکہاں آ کے رکے تھے راستے، کہاںموڑ تھا، اسے بھول جاکہاں آرام لمحہ بھر رہا ہےکہاں دل قید سے چھوٹا ہوا ہےکہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کےکہاں سے آگئے تم کو نہ جانےکہاں ڈھونڈیں اُسے کیسے بلائیں کہاں کوئی بدن کا بوجھ اتارےکہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیاکہاں گئے وہ سخنور جو میرِ محفل تھےکہاں یہ بس میں کہ ہم خود کو حوصلہ دیتےکہاں*تھا اتنا عذاب آشنا میرا چہرہ...Mohsin Naqviکہتا ہے دَر پنکہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کرکہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئےکہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیںکہنا چاہوُں مگر اے کاش کبھی کہہ پاؤںکہنے کو تو وہ میرا کہا مان کر گیاکہنے کو تو گزرے کئی طوفان بھی سر سےکہنے کو میرا اُس سے کوئی واسطہ نہیںکہو اس کے لبوں پر شعلہء گفتار کو دیکھاکہو بنایا نہیں ہے پھولوں کا ہار کوئیکہو تلوے چھلے دیکھے، رہ دشوار کو دیکھاکہو تم نے کبھی خوابوں کے رنگوں کو چرایا ہے؟کہو تو کس لیے عدیم اضطراب اور ھےکہو تو کیسا نظارہٴ انتظار دیکھاکہو جدائی میں کس طرح کا قرار دیکھاکہو ریا کی بات ھےکہو ریا کی بات ھےکہو عدیم کون سے سراب دیکھتے رھےکہو فلک ، میرے محبوب جیسا کوئی کہیں تھا؟کہو متاع وفا بچانے کی آرزو ھےکہو مسافر کسی ٹھکانے کی آرزو ھےکہو مسافر کہاں پہ میرا خیال آیاکہو وفا کا امتحاں، کہا مآل یاد رکھکہو کہ سب سے بڑی خوشی کون سی ملی ھےکہو کہ سینہ ہی جب ھو آہ و بکا گزیدہکہو کہ عکس کس کا زیر آب دیکھتے رہےکہو کیا پھر کہیں رسم و رہ دشوار کو دیکھاکہو کیسا ھے تاج اس کاکہو کیسے ضرورت میں بدلتے یار کو دیکھاکہو، تم کیوں جھجکتے ہو ؟کہو، وہ یار کیسا تھا؟کہو، وہ یار کیسا تھا؟کہو، کیا جل رہا ہے پھر جہاں میں آشیاں اس کا ؟کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "کہہ دیا تجھ کو مرے دل کا یہی ارمان ھےکہیں آرزوئے سفر نہیں، کہیں منزلوں کی خبر نہیںکہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و درکہیں ایسا کبھی دیکھا نہیں ہےکہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے کہیں تو گرد اُڑے یا کہیں غبار دِکھے کہیں توُ میری محبّت میں گھُل رہا ہی نہ ہوکہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیاکہیں پنگھٹوں کی ڈگر نہیں، کہیں آنچلوں کا نگر نہیںکہیں چراغ ہیں روشن، کہیں پہ مدھم ہیںکہیں چراغ، کہیں چشمِ تر حوالہ ہےکہیں کہیں پہ ستاروں کے ٹوٹنے کے سواکہیں گھر بار حائل ہے کہیں سنسار حائل ہے کی دل شکنی نہ تند خو کیکی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںکی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھکیا آگیا خیال دلِ بےقرار میںکیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرےکیا بتائیں فصلِ بے خوابی یہاں بوتا ہے کونکیا بھروسا ہو کسی ہمدم کاکیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےکیا تھا پیار جسے ھم نے زندگی کی طرحکیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںکیا جُرم ہے شوقِ خود نمائی؟کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گاکیا خبر تھی، یہ زمانے بھی ہیں آنے والےکیا خبر کیسی ہے وہ سودائے سر میں زندگیکیا دن مجھے عشق نے دکھائےکیا دوستوں کا رنج کہ بہتر نہیں ملےکیا ذکرِ برگ و بار ، یہاں پیڑ ہل چُکاکیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھےکیا سبب شاد ہے بشّاش ہے جی آپ ہی آپکیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ کیا ضروری ہے وہ ہم رنگ نوا بھی ہو جائےکیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشناکیا عجب پل میںاگر ترک ہو اُس سے جاں کاکیا قیامت تھی، کیا قیامت تھیکیا لگے آنکھ پھر دل میں سمایا کوئیکیا محسوس کیا تھا تم نے میرے یار درختو۔۔۔۔عمران شناورکیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیاکیا وہاں کام مری طاقتِ گفتار کا تھاکیا پوچھتے ہو مجھ سے مری شورشِ جذبات؟کیا چیز ہے یہ سعیء پیہم، کیا جذبہء کامل ہوتا ہےکیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیںکیا کر لے گی اِن اشکوں، اِن تاروں کی باراتکیا کشش حسن روش گار میں ہےکیا کہوں کس کی جان ہے تتلیکیا کہوں کیسا ستم غفلت میں مجھ سے ہوگیاکیا کہوں، اب تجھ کو اپنا کر بھی کیوں افسردہ ہوُںکیا کہیں اپنی اُس کی شب کی باتکیا کہیں کیسا وُہ اچّھا لاگےکیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتیکیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاکیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھاکیا کیا نہ خواب ہجر کے موسم میں کھو گئےکیا کیا کچھ زوروں پہ نہیں ہے، کام ہمیں بہلانے کاکیا ہر پل ہر ساعت ہے ؟کیا ہوتا نہ آنکھوں کو غمِ ہستی میں تر میں نےکیا ہے مدّھم اگر پڑی آواز کیا ہے مدّھم اگر پڑی آوازکیا ہے یہ زندگی، یہ سخن ذات ہی سے ہےکیاری کیاری صحن چمن میں گو تھے عام پریشاں پُھولکیسا خوف بلاؤں کاکیسا لمحہ آن پڑ ا ہےکیسی بھلا یہ برہمی یہ پیچ و تاب ھےکیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کےکیسی کیسی بے ثمر یادوں کے ہالوں میں رہےکیسے آئے گا تیرے خدوخال کا موسمکیسے چھوڑیں اسے تنہائی پرکیسے کیسے تھے جزیرے خواب میںکیوں ایک ہی بار آپ انھیں رخصت نہیں کرتےکیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرکیوں خوابوں کے محل بنائیں کیوں سپنے تعمیر کریںکیوں ساجن کی آس نہیں ہے؟کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں کیوں غریبِ آرزو کو اس طرح رسوا کیاکیوں غریبِ آرزو کو اس طرح رسوا کیاکیوں قسم کھاتے ہو ہم جور سے باز آتے ہیںکیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائےکیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیںکیوں چراتے ہو دیکھ کر آنکھیںکیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلبکیوں کے نکلا جائے بحرِ غم سے مجھ بیدل کے پاسکیوں ہر قدم پہ لاکھ تکلف جتائیےگئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوگئے دنوں میں محبت مزاج اس کا تھاگئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہگئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرحگا رہا تھا کوئی درختوں میںگاؤں مٹ جائیں گے، شہر جل جائے گاگاہے گاہے بس اب یہی ہو کیاگجرا اُس کی باہوں کاگذر آیا میں چل کے خود پر سےگذرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتےگر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہےگر طوفاں میں ہی بسنا تھا {Amjad Ali Shah}گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گاگر وہاں بھی یہ خموشی اثر افغاں ہوگاگر یہی تلخی یہی تکرار بڑھتی جائے گیگرانیء شبِ ہجراں دو چند کیا کرتےگرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئیگرفتِ خاک سے باہر مجھے نکلنے دےگرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیںگرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھےگرمیء شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھوگرچہ دل آباد نہیں ہےگرہو سلُوک کرنا، انسان کر کے بُھولےگریاں ہیں اکیلے درودیوار ہمارےگزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہمگزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہمگزر گیا یہ اگر وقت تو فسانہ ہواگزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کاگزرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتے گزرے دنوں کی یاد برستی گھٹا لگےگزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھیگزند اور نہ پہنچا بس ایک سر ہی کٹاگفتگو سے نہ ہی صورت سے عیاں ہوتا ہےگفتگو میں یک بیک تبدیلی آواز کیاگل شرم سے بہ جائےگا گلشن میں ہو کر آب ساگل و بلبل بہار میں دیکھاگل پریشاں ہیں تو جھونکے، نار ہیں اَب کے برسگل کو محبوب ہم قیاس کیاگل ہی نہیں صلیب پہ سارا چمن چڑھاگل ہیں خوشبُو ہیں کہکشاں ہیں ہمگلاب جسم کا یونہی نہیں کِھلا ہوگاگلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہوگلابوں سے یہ دل اکتا گیا ہےگلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آجگلوں ميں رنگ بھرے باد نو بہار چلےگلوں کو سننا ذرا تم، صدائیں بھیجی ہیں گلہ نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کاگلہ کرے نہ کبھی، اشک ِغم سے کام نہ لےگلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کاگلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھیگلی کوچوں میں برگِ خشک کی صورت بکھرنا تھاگلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گاگلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چلگلی گلی ہے فساد و فتنہ نگر نگر ہے فتور دیکھیںگلیوں میں اب تلک تو مذکور ہے ہماراگلے سے باز آیا جا رہا ہےگلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھاگم صم ھوا آواز کا دریا تھا جو اک شخصگم گشتہ محبّت کے خوابوں کی طرح ہے گم ہی نہ ہوگئی ہو مری رہ گزر کہیںگماں میں جینے کا اس نے ہنر سکھایا ہےگماں کی اک پریشاں منظری ہےگمشدہ بچے کے پیچھے اک خلا رہ جائے گاگنو نہ زخم نہ دل سے اذیتیں پوچھوگنگ جزبات کو بہتا ہوا دریا نہ کیاگنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کوگو خاک اُڑا رہا ہوں وحشت!گو زر و سیم کے انبار ہیں اغیار کے پاسگو میری بے کسی کا کوئی رازداں نہیںگو میرے دل کے زخم ذاتی ہیںگوری کرت سنگھارگونج رہی ہے دل میں یوں بھولی باتوں کی چاپگونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھےگُریز شب سے ،سحر سے کلام رکھتے تھےگُریز پا ہے جو مجھ سے ، اُسی کے پاس بہت ہوںگُزر گیا جو زمانہ اُسے بُھلا ہی دوگُزرے کل سا لگتا ہو جب آنے والا کلگُل بہ گُل حُسن، میرا طلب گار تھاگُل تیرا رنگ چُرا لائے ہیں گلزاروں میںگُل میں اُس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیاگھاؤ گہرا بھر جانا تھاگھبرا کے شبِ ہجر کی بے کیف سحر میںگھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرگھر جلا کر دیکھئے، دُنیا لٹا کر دیکھئےگھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گےگھر میں رہیں تو سوچ کے صحرا کو جایئے گھر چھوڑنے لگے تو کوئی یاد آگیا گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آجانا گھر گیا ہوں بےطرح میں خواہشوں کے درمیاںگھٹری دو گھڑی کا مزا چاہیےگھپ اندھیرا سہی زمانے میںگھیر لیا ہے وحشت نےگہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوںگیا جو مَیں کِسی محفل میں التجا بن کرگیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میںھاتھ دیا اس نے جب مرے ھاتھ میںھم سے مت پوچھ راستے گھر کےھمیں اس کو بھلانا تھا سو ھم یہ کام کر آئےھمیں اس کو بھلانا تھا سو ھم یہ کام کر آئےہائے اس مجبوریٔ ذوقِ نظر کو کیا کروںہائے کیا دن تھے کہ جب تیرے بغیرہاتھ آ کر لگا گیا کوئیہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیںہاتھ اٹھے ھیں مگر لب پہ دعا کوئی نھیںہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیاہاتھ میں تیشہ ہے یا نسخہ کوئی اکسیر کاہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہےہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے ہاتھ ہاتھوں میں جب تمہارا تھاہاں کچھ تو مزاج اپنا جنوں خیز بہت ہےہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہوہجر سہنے کی غم شناسی کی ہجر شب میں اک قرار غائبانہ چاہیےہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کردیتا ہےہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کردیتا ہےہجر کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے جائیےہجر کی بد دعا نہ ہو جاناہجر کی رات کا انجام تو پیارا نِکلاہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھےہجر کی صبح کے سورج کی اداسی نہ پوچھہجر کی پہلی شام کے سائے دور افق تک چھائے تھےہجومِ شہر میں کیا ڈھونڈیں گمشدہ چہرےہر آن محبت میں مری جاں پہ بنی ہےہر اِک قدم پہ یہ خدشہ میری نگاہ میں ہےہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہےہر اک سیل بلا، ایک اک شناور سامنے ہےہر اک چلن میں اسی مہربان سے ملتی ہےہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگےہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےہر ایک بات ہے منّت کشِ زباں لوگوہر ایک غم نچوڑ کے، ہر ایک رس جیئے ہر ایک لمحہ پَہن کے صدیوں کی شال گُزراہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کروہر جانب ویرانی بھی ہوسکتی ہےہر جزر و مد سے دست وبغل اُٹھتےہیں خروشہر جنم میں اسی کی چاہت تھےہر حقیقت مجاز ہو جائےہر حقیقت مجاز ہو جائےہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤںہر خوشی میں کوئی کمی سی ہےہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جاناہر دم اُسی کی دُھن ہے اُسی کا خیال ہےہر ذرّہ گلفشاں ہے، نظر چور چور ہےہر ذرہء امید سےخوشبو نکل آئےہر ذہن میں منزل کا تصوّر تھا ہوائیہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گئے ہر سمت جہاں میں آگ لگا رہا ہے کوئیہر سمتِ چمن ماتم ہوُا ہےہر سنگ پہ لکھا مرا افسانہ رہے گا ہر سُو خیالِ یار کی چادر سی تان کےہر شام اس سے ملنے کی عادت سی ہو گئیہر شخص رہنما ہے کِسے رہنما کریںہر شخص رہنما ہے کِسے رہنما کریںہر شخص کو جس بات پہ اصرار بہت ہے ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہےہر شے اپنی اپنی زباں میں اظہارِ حالات کرےہر طرف ہے فسوں محبت کاہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلطہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سےہر قدم مرحلہء دار و صلیب آج بھی ہےہر لمحہ اِک بند کلی اور بول مرے تھے بادِصباہر لمحہ اِک بند کلی اور بول مرے تھے بادِصباہر لمحہ اگر گریز پا ہےہر نظر پیار تو ہر لب پہ ہنسی مانگتے ہیںہر نظر گویا کتابِ عشق کی تفسیر ہےہر نفس ان کا خیال آتا رہاہر نفس درد کے سانچے میں ڈھلا ھو جیسےہر نفس رنج کا اِشارہ ہےہر نفس عزم خطا کوشی بروئے کار تھاہر چند مری قوتِ گفتار ہے محبوسہر چند چاہتا ہوں کہ انکا کھا کروں لیکن یہ آرزو کہ تماشا کیا کروں ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانےہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھےہر کوئی ناکام ہوا ہےہر گوشئہ نظر میں سمائے ہوئے ہو تمہر گھڑی رائیگاں گزرتی ھےہر گھڑی عمرِ فرومایہ کی قیمت مانگےہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہےہزار خوف ھو لیکن زبان ھو دل کی رفیقہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتیہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلوہم اس خطا پہ برے اعتبار اس کے ہوئےہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئےہم اندھیروں سے بچ کے چلتے ہیںہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھےہم اُن سے اگر مل بیٹھے ہیں، کیا دوش ہمارا ہوتا ہےہم اُنہیں جی سے پیار کرتے ہیںہم اپنے آپ سے اتنی مروّ ت کر ہی لیتے ہیںہم اپنے آپ میں گم تھے ہمیں خبر کیا تھیہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیںہم اپنے چراغ کیوں بجھائیںہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتےہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیںہم اہلِ غم بھی رکھتے ہیں جادو بیانیاںہم بصد ناز دل و جاں میں بسائے بھی گئےہم بھی شکستہ دل ہیں پریشان تم بھی ہوہم بھی پھرتے ہیں یک حشَم لے کرہم بھی کہتے ہیں یہی، ہاں کھیتیاں اُگنے لگیںہم بہرحال دل و جاں سے تمہارے ہوتےہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیںہم تو آئے ہیں ابھی شہر سے ہجرت کر کےہم تو اس عاشقی سے باز آئےہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھیہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھےہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھےہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتاہم جس پیڑ کی چھاوں میں بیٹھا کرتے تھےہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پرہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاںہم جو خستہ حال ہوئے ہیںہم خاک ہوئے تری خوشی کوہم خاک ہوئے تری خوشی کوہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج ترہم رہے پر نہیں رہے آبادہم سادہ دلوں نے دشمنی سےہم سفر کوئی نہیں تو شور و شر کس کے لیےہم سنائیں تو کہانی اور ہےہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہہم سے دلچسپ کبھی سچّے نہیں ہوتے ہیںہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دنہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھوہم سے کیا پُوچھتے ہو ہِجر میں کیا کرتے ہیںہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گاہم لوگ سوچتے ہیں ہمیں کچھ ملا نہیںہم مرگئے کہ پیاس میں پانی نہیں ملاہم مٹ گئے تو پُرسشِ نام و نشاں ہے ابہم نہ ہوئے تو کوئی افق مہتاب نہیں دیکھے گاہم نے اک بات کہی ہم کو محبت سی ہے بات لے اڑنے کی دنیا کو تو عادت سی ہےہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑالی یاروہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑالی یاروہم نے جو دیپ جلائے ہیں ، تری گلیوں میںہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیںہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیںہم نے منصف جسے بنایا تھاہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہےہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیںہم پر طبیبِ وقت کا احسان دیکھناہم پرورشِ لوح قلم کرتے رہیں گےہم کبھی عِشق کو وحشت نہیں بننے دیتےہم کس سے اپنا درد کہیں، کس سُکھ کی جوت جگائیں ہمہم کو اپنا پتا نہیں ملتاہم کو اپنا پتا نہیں ملتاہم کو اکثر گھاؤ دل کے خون سے دھونا پڑےہم کو بڑے خلوص سے مرجانا چاہیےہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہےہم کو تو گردش ِ حالات پہ رونا آیاہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھےہم کو مٹا سکے ، یہ زمانے میں دم نہیںہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سُہانے سُہانے لگےہم کو کیا اپنے خریدار میسر آتے ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو ہم کہاں اور تم کہاں ، جاناں ہم کہاں اور تم کہاں جاناںہم ہی آغازِ محبّت میں تھے، اَنجان بہتہم ہیں آج پھر ملول یاروہم ہیں اور ان کی خوشی ہے آج کلہمارا حال کچھ یوں ہے ترے دربان کے آگےہمارا یہ تم کو سلام آخری ہےہماراتن بدن ہی جھاڑ ہو، جھنکار ہو جیسےہماری انا کو قتل نہ کرہماری سوچوں پہ چھا گیا ہےہمارے آپ کے، ہونے لگے ہر شب، زیاں کیا کیاہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیاہمارے بس میں اگر اپنے فیصلے ہوتے ہمارے بعد چلی رسم دوستی کہ نہیں؟ہمارے خواب سے بہتر خیال بنتا ہےہمارے شوق کی یہ انتہا تھیہمارے عہد میں کب دیدۂ بیدار غالب ہےہمارے پاس تو آؤ، بڑا اندھیرا ہےہمتِ التجا نہیں باقیہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہےہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیاہمیں تو خاک پہ حکمِ سفر دیا اس نےہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیںہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہےہمیں زمانہ ہوا آپ سے وفا کرتےہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہیہمیں پچھاڑ کے کیا حیثیت تمہاری تھیہمیں کیا کیا ملا اس آستاں سےہمیں یاد آیئں اکثر تری دلبری کی باتیں ہنس ہنس کے زندگی کی دعا دے گیا مجھےہنستے گاتے روتے پھولہنسنا اچھا نہیں لگتا تو رلا دیتی ہےہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتاہنسی آتی ہے مجھ کو امتیازِ دشت و گُلشن پرہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیاہنوز درد محبت سکوں نواز نہیںہنگامہ ہے کیوں برپا ٹھوڑی سی جو پی لی ہےہو آدمی اے چرخ ترکِ گردشِ ایّام کرہو تو کمال ربط محبت کسی کے ساتھہو درد اور درد کا درمان بھی نہ ہو۔۔۔۔عمران شناورہو رہا ہے کیا یہاں کچھ عقدہء محشر کھلے۔۔۔۔عمران شناورہو مرا آشیانہ ضروری نہیںہو نہ محتاجِ پرسشِ احوالہو نہ محتاجِ پرسشِ احوالہو پوری خواہش پرواز کیسےہو چلی ہے اَن دیکھی بات، میرے آنگن میںہو چکیں بزمِ طرب، رقصِ شرر کی باتیںہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرفہوئی اک عُمر ترکِ التجا کوہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاہوئے ہیں اہلِ جہاں سارے مہرباں کیسےہوا سے جنگ میں ہوں ‘ بے اماں ہوںہوا سے مل کر چنری کاہے مجھ کو ستائے؟ہوا نہیں کہ جسے دیکھ ہی نہ پاؤں گاہوا چلی بھی تو خود سے ڈرا دیا ھے مجھےہوا کی دُھن پر بن کی ڈالی ڈالی گائےہوا کے ہاتھ ایک پیغامہواؤں سے سَدا لڑنے کی عادتہوائے دشت میں کیفیتِ بہار بھی ہےہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیںہوائے شوق کے رنگیں دیار جلنے لگےہوتا نہیں ہے باب اجابت کا وا ہنوزہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائےہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشاہوتی ہے جیسی خواب میں وہ ایسی عورت ہی نہیںہوس تو ہے کہ بلندی پہ تیرا گھر دیکھوںہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیںہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیاہوش آتے ہی محو ہوگئے ہمہونٹ کھولے ہوئے خاموش دریچے دیکھوہونٹوں پہ تبسّم لانے کو ہم کتنے خراب و خوار ہوُئےہونٹوں پہ نہ لائیں یہ سخن ’’یار ہے کیسا‘‘ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے ہونٹوں کے دو پھول رکھے تھے اس نے جب پیشانی پرہونے لگا گزار غمِ یار بے طرحہوگئی اُن سے ملاقات گھڑی بھر کے لیےہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوںہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوںہوں رہ گزر میں تیرے ہر نقشِ پا ہے شاہدہيں لبريز آہوں سےٹھنڈی ہوائيںہیں آباد لاکھوں جہاں میرے دل میںہیں دھوپ کے نیزے بھی جعلی اشجار بھی یونہی لگتے ہیںہیں رواں اُس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہوہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیںہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیںہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرےہیں یوں تو بہت آپ کی قربت سے بھی محرومہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھےہے اس گل رنگ کا دیدار ہوناہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورہے بکھرنے کو یہ محفل، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گےہے جنوں عطر، آگہی خوشبُوہے جنوں عطر، آگہی خوشبُوہے حال جائے گریہ جانِ پُر آرزو کاہے عجیب چیز مۓ جنوں، کبھی دل کی پیاس نہیں بجھیہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میںہے میرے گرد کثرتِ شہر جفا پرستہے چھوڑ کے جانا تو مجھے چھوڑ مکملہے کرب ہجر میں وہی جو ہے وصال میںہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُلیا مرے خواب، مرے ساتھ ہی مر جائیں گے؟یاد اسے انتہائی کرتے ہیںیاد بھی خواب ہوئی، یاد وہ آتے کیوں ہیں؟یاد سمندر پار جو کرنا پڑتا ہےیاد کیا آئی کہ روشن ہو گئے آنسو کے گھریاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے ،نہ گئےیاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یارب" ، مجھےیادش بخیر! جب وہ تصور میں آ گیایادوں کی الماری کھولے بیٹھا تھا یادِ ایام کہ یاں ترکِ شکیبائی تھایادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراںیادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراںیادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھیار عجب طرح نگہ کر گیایار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہےیارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے یارب ہمیں دے عشقِ صنم اور زیادہیارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرایارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دےیارب، تو اگر اب بھی گریزاں رہا ہم سےیارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہےیارو کہاں تلک محبت نبھاؤں میںیاس اور تیرگی میں پلتا ہوںیاں نام یار کس کا دردِ زباں نہ پایایاں دل میں خیال اور ہے، واں مدِ نظر اوریقین ٹوٹ گیا تو بحال پھر نہ ہوایونہی آتی نہیں ہوا مجھ میںیونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرویونہی تو نہیں خدا ملا ہےیونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریںیوُں تو مَیں دشت پہ بھی پر تو گلشن دیکھوںیوُں تو پہنے ہوُئے پیراہنِ خار آتا ہوُںیوُں تو پہنے ہوُئے پیراہنِ خار آتا ہوُںیوُں تو کہنے کو ہے بدن بھی یہییوُں تو ہر دَور میں ڈھالے گئے پیکر کِتنےیوں آفتاب ِ شوق شب ِغم میں ڈھل گیایوں ارتباط شادی غم دیکھتے رہےیوں اس پہ مری عرضِ تمنا کا اثر تھایوں بٹ کے، بکھر کے رہ گیا ہوُںیوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصدیوں تمھارا طرزِ محبوُبی تو معصُومانہ تھایوں تو اس جلوہ گہِ حُسن میں کیا کیا دیکھایوں تو سب پھول کھلے سائے میں تلواروں کےیوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیںیوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرےیوں تو کہنے کو سبھی اپنے تئیں زندہ ہیںیوں تو کیا چیز زندگی میں نہیںیوں تو ہے پرستار زمانہ تیرا کب سےیوں تیرے حسن کی تصویر غزل میں آئےیوں جستجوئے یار میں آنکھوں کے بل گئےیوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھایوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسےیوں لاکھ اک خرابۂ دیوار و در ملےیوں لاکھ اک خرابۂ دیوار و در ملےیوں مٹا جیسے کہ دہلی سے گمانِ دہلییوں نکلے ہے فلک ایدھر سے نازکناں جو جانے تویوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسےیُوں تو ہے وحشت جزوِ طبیعت، ربط انہیں کم لوگوں سےیک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کایہ آنکھ کیوں ہے، یہ ہاتھ کیا ہےیہ اتصال اشکِ جگر سوز کا کہاںیہ ان دنوں کا ذکر ہے اک بادشاہ تھایہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہمیہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہمیہ اُجڑے باغ ویرانے پرانےیہ اُجڑے باغ ویرانے پرانےیہ اچھا ہوا وہ خفا ہوگیایہ اگر انتظام ہے ساقییہ بستیاں ہیں کہ مقتل دُعا کئے جائیںیہ بھی شبِ تار، وہ بھی شبِ تاریہ بھی کرنا پڑا محبت میںیہ تماشا دیکھئے یا وہ تماشا دیکھئےیہ تماشا نہیں ہوا تھا کبھی ہے وہ اپنا، جو دوسرا تھا کبھییہ تمام غنچہ و گل، میں ہنسوں تو مسکرائیں !یہ تنہا رات، یہ گہری فضائیں یہ تو آساں ہے عرض غم پنہاں ہو جائےیہ تو ہم کہتے نہیں‘ سایہ ظلمت کم ہے یہ جاہ و حشم نہیں رہے گایہ جب تیری مشیت ہے تو کیا تقصیر میری ہےیہ جلوہ گاہِ ناز تماشائیوں سے ہےیہ جو آنسوؤں میں غرور ہےیہ جو اس سے مجھے محبت ہےیہ جو اِک عُمر کی تنہائی ہےیہ جو ریگِ دشتِ فراق ہےیہ جو قول و قرار ہے ، کیا ہےیہ جو ہم سفر میں بھی گھر سا اک بناتے ہیںیہ جو ہے حکم میرے پاس نہ آئے کوئییہ حال ہے اب اُفق سے گھر تکیہ حال ہے اب اُفق سے گھر تکیہ حال ہے بے قرار دل کایہ حسرت ہے مروں اُس میں لیے لبریز پیمانایہ حسیں لوگ ہیں‘ تو ان کی مروت پہ نہ جا یہ خلاء عرش بریں نہیں، کہاں پاؤں رکھوں زمیں نہیںیہ خوابِ سبز ہے یا رت وہی پلٹ آئییہ خوف دل میں نگاہ میں اضطراب کیوں ھے؟یہ دشت ، وہ رہ صحرا بھی مجھ کو دیکھنے دویہ دشتِ ہجر یہ وحشت یہ شام کے سائےیہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کییہ دل ملول بھی کم ہےاداس بھی کم ہےیہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت یہ دل کی بات کسی کو نہیں بتانے کییہ دنیا شہرِ نا پرساں، زمانہ یہ سیاست کایہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھےیہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھےیہ دوپہر، یہ خموشی کے لب پہ سائیں سائیںیہ راز ہے جواز میرے انتظار کایہ رزم گاہِ عناصر کسی کے کام آئےیہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کایہ زرد پتوں کی بارش میرا زوال نہیںیہ زُلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچّھایہ زُلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچّھایہ سال بھی اداس رہا،روٹھ کر گیایہ سرمئی فضاؤں کی کچھ کِنمناہٹیںیہ سودا مجھ کو مہنگا پڑگیا ہےیہ سوچ بھی کیسا دائرہ ہےیہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھییہ شعر کی دیوی ہے بہروپ تو دھارے گی یہ شہر روز ہی بستا ہے، روز اجڑتا ہےیہ صبح و شام کی الجھن، یہ روز و شب کی یادیہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائےیہ عجب ساعت رخصت ہےکہ ڈر لگتا ہےیہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کریہ عُمر بھر کا سفر اور یہ رائیگانی ترییہ عہد کرب مرے نقش کو ابھارے گایہ غزل کِس کی ہے اس مطلعے کو پڑھ کر دیکھویہ غم نہیں، کوئی پتّھر اِدھر بھی آئے گایہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیںیہ فراغت مجھے نہیں ہے راس یہ مزا تھا، خلد میں بھی نہ مجھے قرار ہوتایہ مصرع کاش نقشِ ہر در و دیوار ہو جائے یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھےیہ موسم کا غذی پھولوں سے ٹالا جا رہا ہے یہ موسم گل گرچہ طرب خیز بہت ہےیہ میری بے جہتی ہے کہ تیری بے خبرییہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو یہ میں جو حرف سے مصرعے نہیں حجرے بناتا ہوںیہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گایہ نقش ہم جو سرِ لوح جاں بناتے ہیںیہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاایہ نہیں کہ میری محبتوں کو کبھی خراج نہیں ملایہ وصال ہے کہ فراق ہے، دلِ مبتلا کو پتا رہےیہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گایہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گایہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیںیہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیایہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جییہ کیا ستم ظریفی فطرت ہے آج کلیہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں وہیں کے نہیںیہ کیا کہ دن کو بھی رات لکھویہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنییہ کیا، کہ لمحۂ موجود کا ادب نہ کریںیہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہاہےیہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہاہےیہ کیسا خوف تھارخت سفر بھی بھول گئےیہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوںیہ کیسی بے خودی ہے ؟یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دنیہ ہجر کا موسم بھی گذر کیوں نہیں جاتایہ ہجومِ نامرادی دلِ بے قرار کب تک؟یہ ہم جو تجھ سے تجھے بار بار مانگتے ہیںیہ ہم جو تجھ سے تری بات کرنا چاہتے ہیںیہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںیہ ہو رہی ہیں جو سرگوشیاں ہواؤں میںیہاں سے دُور نہ ہو گا دیارِ موسمِ گُلیہاں میرا کوئی بھی گھر نہیں ہےیہی بہت ہے کہ دل اس کو ڈھونڈ لایا ہےیہی دنیا ہے اُس کی راہگزریہی سمجھ میں آیا ہےیہی سوزِ دل ہے تو محشر میں جَل کریہی نہیں کوئی طوفان مِری تلاش میں ہےیہی چنار یہی جھیل کا کنارا تھا“Ussay Kaho Qasam Lay Lo””اپنے گھر کو واپس جاؤ“ رو رو کر سمجھاتا ہے”ذرا سنبھل کے سرِ بزم چھیڑنا ہم کو“ ”مجھے کوئی شام و سحر یاد آیا“”یہی ہوا ناں“