2364 of 11,111 Ghazals...
آدمی جلتا دیا ھے اور بس
آنکھ میں بے کراں ملال کی شام
آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ھے
آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے
اب تو ہر اِک آن بدلتی رُت سے جی ڈرتا ہے
اب تو یوں لگتا ھے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا
اب رفتگاں کی یاد کا کچھ تو پتا بھی دے
اب وہ طوفان ھے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اجاڑ بستی کے باسیو،ایک دوسرے سے پرے نہ رہنا
اس طرح مِرے ذہن میں اُترا ہُوا تُو ہے
اس کو اپنے گھر کی سناٹے سے کتنا پیار تھا
اس کو پا کے ہم یہ سمجھے تھے کہ کچھ کھویا نہیں
اسے تو کھو ہی چکے پھر کیا خیال اس کا
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے
اُس کی تسکین کو غارت کرتا
اپنے گھر کو جَلتا چھوڑ آیا ہوُں میَں
اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا
بچھڑ کے تجھ سے یہ سوچوں کہ دِل کہاں جائے؟
بکھرتا جسم میری جاں کتاب کیا ھو گا؟
بہار کیا اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
تراشتا ہے سَفر، آبلے نکھارتا ہے
تم حقیقت نہیں ھو حسرت ھو
تمام شہر میں وہ نقش پا تلاش کروں
تمام عمر وہی قصّئہ سفر کہنا
تو نے اس موڑ پہ توڑا ھے تعلق کہ جہاں
جانے اب کس دیس ملیں گے اونچی ذاتوں والے لوگ
جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ھر رستہ سنسان ھوا
جب سے قلم کو حنامئہ مانی بنا لیا
جس کی قسمت ہی در بدر ٹھہرے
جن پر ستم تمام قفس کی فضا کے تھے
جو شہر مِٹ چکے ہیں وہ آباد کب ہوُئے؟
جگنو،گہر،چراغ،اجالے تو دے گیا
جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ھے
خواب در خواب لکھ رہا ہوں میں
خواہشوں کے زہر میں اخلاص کا رس گھول کر
در قفس سے پرے جب صبا گزرتی ھے
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے پتے اگر بولیں
دشت ہجراں میں کوئی سایہ نہ صدا تیرے بعد
دل میں ہے رَنجِ رہگزر کِتنا
دُھوپ چھاؤں میں کدُورت کیوں ہے؟
دِل تیرا درد سَدا مانگتا ہے
دیا خود سے بجھا دینا
ذرا سی دیر میں ہم کیسے کھولتے اُس کو
رخصت ہوا تو بات میری مان کر گیا
رکے ہوئے ہیں کہ حالت سفر میں ہیں
رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
سجا کے سر پہ ستاروں کا تاج رکھتا ھے
سخنوری کا جو محسن کبھی ارادہ کرو
سفر تنہا نہیں کرتے
سفر کا ذوق ہی کچھ تو مسافروں میں نہ تھا
سمجھ سکا نہ میرے چاند کوئی درد تیرا
سَرِ حُسنِ کلام تھا، تیرا نام بھی میرا نام بھی
سَناٹے میں بند دریچہ کھول دیا کرنا
سُخن سو بار خُود سے تولتا ہوں
سکوں کے دن سے فراغت کی رات سے بھی گئے
شفق کی جھیل میں جب سنگِ آفتاب گِرے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
فلک پر اِک ستارا رہ گیا ہے
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
فنکار ھے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
لٹتے کہاں کہ صاحب جاگیر ہم نہ تھے
لہو کی موج ہوں اور جسم کے حصار میں ہُوں
محبت پھول ھے،پتھر نھیں ھے
ملا ھی تھا تو پھر اپنوں کی طرح ملنا تھا
موسم گل بھی نہیں،تو بھی میرے پاس نہیں
موسمِ گل بھی نہیں تُو بھی میرے پاس نہیں
مَیں بھی اُڑوں گا ابر کے شانوں پہ آج سے
مہرباں کوئی نظر آئے تو سمجھوں تو ہے
میری محبت تو اک گہر ھے،تیری وفا بے کراں سمندر
میں جاں بہ لب تھا پھر بھی اصولوں پہ اڑ گیا
ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
نبی نہ تھے مگر انساں پہ جاں چھڑکتےتھے
نفَس کو جب دُھواں کہنا پڑے گا
نہ دل میں لَو نہ گریباں ہے سُرخرو میرا
وحشت میں سکون ڈھونڈتی ہے
وحشتیں بکھری پڑی ہیں جس طرف بھی جاؤں مَیں
وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا
وہ دن کتنے اچھے تھے
وہ ماہتاب جو ڈوبا ھوا ملال میں تھا
پتوں کی طرح خود سے بکھرتے ھوئے کچھ لوگ
پتیاں پھولوں کی بکھریں راستے کی ڈھال پر
پھر وہی مَیں ہُوں وہی درد کا صحرا یارو
پھر کوئی یاد آ گئی جیسے
چارہ گر سارے پریشاں ہیں کہ سب کیا تھا
چبھتے اشکوں سے بجھی آنکھیں نہ چمکایا کرو
کبھی جو فرصت ملے تو دل کے تمام بے ربط خواب لکھوں
کبھی جوغم نے گھڑی بھر کو تھک کے سانس لیا
کوئی نئی چوٹ پھر سے کھاؤ اداس لوگو
کیا خزانے میری جاں ہجر کی شب یاد آئے
کیا ھے عہد تو اس کو نباہتے رھنا
گفتگو اُس سے جو کَل ہو جاتی
گِلا نہیں کوئی تجھ سے جو تُو دکھائی نہ دے
ہجر کی شام دھیان میں رکھنا
ہجر کی شب کا نشاں مانگتے ھیں
ہجر کے شہر میں دھوپ اتری،میں جاگ اٹھا تو خواب ھوا
ہجوم میں تھا وہ کھل کر نہ رو سکا ھو گا
یوں ھر اک کاغذ اٹھا کر چاک کرنا کیا ھوا
یوں ہرِدے کے شہر میں اکثر تیری یاد کی لہر چلے
ajeeb kashmkash
آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں
آ گئی ہیں رحمتیں پھر جوش میں
آ گیا راس شکستوں کا شمار آخرِ کار
آؤ جینے کا اہتمام کریں
آؤ جینے کا اہتمام کریں
آؤ ساجن سے ملواؤں
آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے
آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
آئینہ دیکھ کے، ایک اور تماشا دیکھو
آئینۂ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیں
آئینۂ حیرت ہوں تری جلوہ گری کا
آئینے سے شمع گل کرنا پڑے
آئینے میں بھی وہ حیرت نہ رہی
آئینے پر کبھی کتاب میں ھیں
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
آئے، کوئی انقلاب آئے
آتا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اُتار بھی؟
آتے جاتے ھوئے لوگوں پہ نظر کیا رکھنا
آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں
آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
آج تو بے سبب اداس ہے جی
آج تک حُسن کا معیار ہے عشِق آزاری
آج سوچا تو آنسو بھر آئے
آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی
آج کی شب تم نہ آ پائے، مگر اچھا ہوا
آج کیوں ہم سے لپٹتی ہے صبا
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
آخر کار ہم انجامِ سفر تک پہنچے
آداب عاشقی سے بیگانہ کہہ رہی ہے
آدمی وقت پر گیا ہوگا
آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
آرزو چیز ہے کیا اور تمنا کیا ہے؟
آزاد کردے اپنا گرفتار میں ہی ہوں
آسمان کی سمت دیکھو جا رہا ہے پھر کوئی
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
آسماں بحر کی پُتلی سے عیاں ہوتا ہے
آفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہے
آفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہے
آلام حیات‘ لوٹ آئیں
آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
آنسو ؤں سے دُھلی خوشی کی طرح
آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
آنچل کو گھونگٹ کر جانا اب کی بار جو آؤ تم
آنکھ بن جاتی ھے ساون کی گھٹا شام کے بعد
آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
آنکھ کے شیشوں میں پہلے روشنی نہ تھی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا
آنکھوں میں انتظار کے بادل ٹھہر گئے
آنکھوں میں جل رہا ہے کیوں بجھتا نہیں دھواں
آنکھوں میں رہا‘ دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
آنکھوں میں کوئی خواب اترنے نہیں دیتا
آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا
آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے
آنکھیں تیری، کیوں لُٹی ہوُئی ہیں
آنگن میں اُترا ہے بام و در کا سناٹا
آنے والی تھی خزاں ، میدان خالی کر دیا
آو کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہم
آواز میں عجب کھنک ہے
آپ آئیں شب غم اتنا بھی احساں کیوں ہو؟
آپ آئے یاد کی وہ فتنہ سامانی گئی
آپ جیسے یہاں فنکار بہت ملتے ہیں
آگ لہرا کے چلی ہے اِسے آنچل کر دو
آگ کے درمیان سے نکلا
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آہ دشوارئی و سوہان سفر کیا کیجے
آہ پہلی سی کوئی بات کہاں؟
آہ پہلی سی کوئی بات کہاں؟
آہن میں ڈھلتی جائے گی اکیسویں صدی
آہوں کی بارات سجی ہے، اشکوں کی برسات ہوئی ہے
آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر
اب آنے والی ہے فصلِ بہار ، سوچتے تھے
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
اب اُن سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا
اب اے میرے احساس جنوں کیا مجھے دینا
اب ترے رُخ پر محبّت کی شفق پھُولی، تو کیا
اب تمہارے لوٹ آنے کا کوئی امکاں نہیں
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
اب تو ہیں اُس شوقِ گستاخانہ سے بیگانہ ہم
اب تک تو نور و نگہت و رنگ و صدا کہوں
اب تک موجود غزلیات کے پہلے مصرعوں کی فہرست
اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!
اب تک ہے وہی عشق فسوں ساز کا عالم
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
اب جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیا
اب دعا، بد دعا میں فرق کہاں
اب دُھوپ بھول جاؤ کہ سورج یہاں نہیں
اب ساری خدائی ہے تماشائی ہماری
اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے
اب شہرِ جاں بچانے کی خواہش نہیں رہی
اب مانگ میں سجی ہوئی رستے کی دُھول ہے
اب مجھے مے نہیں ، میکدہ چاہیئے
اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
اب نہ بولو گے تو پھر بول نہ پاؤ گے کبھی
اب وہ خود محو علاج درد پنہاں ہو گئے
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
اب کہاں وہ لوگ جن کے نام سے
اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
اب کیسی پردہ داری ، خبرعام ہو چکی
اب کے بارشوں میں یہ کار زیاں ھونا ھی تھا
اب کے بچھڑا ہے تو کچھ ناشادماں وہ بھی تو ہے
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اب کے یوں موسمِ بہار آیا
اب یاد نہیں آتا مجھے کون ہوں کیا ہوں
اب یہ بات مانی ہے
اب یہ ویران دن کیسے ہوگا بسر
ابر اُترا ہے چار سو دیکھو
ابھی جذبہ شوق کامل نہیں ہے
ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
ابھی نہیں اگر اندازہء سپاس ہمیں
ابھی کیا تھا، ابھی یہ ہوگیا کیا
ابھی کیا تھا، ابھی یہ ہوگیا کیا
اتر گیا تن نازک سے پتیوں کا لباس
اتریں عجیب روشنیاں رات خواب میں
اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں
اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
اتنی بلندیوں سے، تہوں میں اُتر نہ جا
اتنی بڑھی جو بات کوئی مسئلہ تو تھا
اتنی فرصت نہیں اب اور سخن کیا لکھنا
اجنبی آنکھ نے جب مجھ میں اتر کر دیکھا
اجڑ اجڑ کے سنورتی ھے تیرے ہجر کی شام
احباب سب بضد کہ گوہر تراشنا
احساس میں پھول کھِل رہے ہیں
اداس راتوں میں، تیز کافی کی تلخیوں میں
اداس شام دلِ سوگوار تنہائی
اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
اداسِیوں کا ہُنر اِختیار کرتے ہیں
ادراک پر محیط ہے ارض و سما کا دُکھ
ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو
ادھر بھی دیکھ کبھی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے
اذانِ صُبح سے شب کا علاج کیا ہو گا
اس بت کدے میں تو جو حسیں ترلگا مجھے
اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے
اس در کا دربان بنادے یااللہ
اس دل کے چند اثاثوں میں ایک موسم ہے برساتوں کا
اس دنیا میں اپنا کیا ہے
اس سے ملنا ہی نہیں دل میں تہیہ کر لیں
اس سے پہلے کہ بے وفا ھو جائیں
اس سے پہلے کہ حشر آنے لگے
اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے
اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
اس نے پوچھا تھا وفا کی بابت
اس نے پوچھا وچن نبھایا ہے ؟
اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے
اس پہ ظاہر مرا احوال نہیں ہو سکتا
اس کشمکشِ ذہن کا حاصل نہیں کچھ اور
اس کو تکتے بھی نہیں تھے پہلے
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ھوگا
اس کی چاہت کا بھرم کیا رکھنا؟
اس گلی کا نشاں ملے نہ ملے
اسی ایک شخص کے واسطے میرے دل میں درد ہے کس لیے
اسی طرح سے ہر اک زخم خوشنما دیکھے
اسی لیےتو اندھیرے بھی کم نہیں ہوتے
اسے تشبیہہ کا دوں آسرا کیا
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چُھپا لیں گے
اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا
اشکِ الفت کا یہ انجام؟ خُدا خیر کرے!
اشکِ الفت کا یہ انجام؟ خُدا خیر کرے!
اظہارِ الم، شکوہء دوراں نہیں کرتے
اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا
افسردہ نہ ہوا اے نگر ناز محبت
افلاک کا سایا ہے جو کُچھ بھی زمیں پر ہے
اقرار کر گیا کبھی انکار کر گیا
اقرار گئے انکار گئے ہم ہار گئے
اقرارِوفا، اُمید کرم، کچھ کہہ نہ سکے، کچھ بھول گئے
الہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانی
ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
ان کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
ان کی نگہِ قہر سے مایوس نہ ہو دل
ان کے بغیر ہم جو گلستاں میں آ گئے
انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟
انجمن میں تری کچھ اور بھلا کیا ہوگا؟
انجمنیں اُجڑ گئیں، اُٹھ گئے اہلِ انجمن
اندازِ خزاں رنگِ بہاراں نہیں دیکھا
اندھیروں سے بھرا وہ دِن بھی کیا تھا؟
اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑجا ئے گا
انساں ابھی شہ پارہء ارژنگ نہیں ہے
انقلاب اپنا کام کر کے رہا
انقلابِ جہاں کی باری ہے
انگڑائی کی اوٹ میں جانے، پوشیدہ ہیں کِتنے بہانے
انہی میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
اور نہیں تو اس کو بھی بدنام کروں
اور کا ذکر تو کیا میرؔ کا بھی سایہ نہ ہو
اوس پڑی تھی رات بہت اور ہلکی تھی گرمائش, پر
اونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑا
اونے پونے غزلیں بیچیں،نظموں کا بیو پار کیا
اَن گِنت بے حساب آن بسے
اُداس یہ آسماں ہے،دل مرا کتنا اکیلا ہے
اُداسی میں گِھرا تھا دِل چراغِ شام سے پہلے
اُس دشت کو جانا ہے تو گھر بھول ہی جانا
اُس نے احسان وہ کیے یارو
اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو
اُس کا خیال ذہن پہ چھایا، چلا گیا
اُس کو اپنے گھر کے سناٹے سے کتنا پیار تھا
اُسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھا
اُفق کے اُس طرف رَستہ بھی ہو گا
اُمنگ مجھ کو نہیں چرخِ نو بنانے کی
اُمید و بیمِ دست و بازوِ قاتل میں رہتے ہیں
اُمید کرم، حسرتِ دیدار ہے، میں ہوں!
اِتنا دشوار نہیں موت کو ٹالے رکھنا
اِس عشق میں پورا کبھی ساماں نہیں دیکھا
اِس قدر مل گئی غم کو جِلا
اِن زمینوں میں شجر کارئ نو ہے درکار
اِک دمکتا ذہن بھی ہوُں، اِک سُلگتا دل بھی ہوُں
اِک نام کی اُڑتی خُوشبو میں اِک خواب سفر میں رہتا ہے
اِک پشیمان سی حسرت مُجھے سوچتا ہے
اپنا مزاجِ کار بدلنے نہیں دیا
اپنی آنکھوں میں بسا لی تیری حیرت مَیں نے
اپنی اپنی خواہشوں کے عکس میں دیکھا گیا
اپنی دھن میں رہتا ہوں
اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
اپنی صورت دیکھنا اور آئینوں کو چومنا
اپنی منزل کا راستہ بھیجو
اپنی پلکوں پہ جمی گَرد کا حاصل مانگے
اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو
اپنے تیرو کمان دیکھوں گا
اپنے خوابوں کے کئی ارض و سما لے جائے گا
اپنے لہوُ سے آپ چراغاں کرتا ہوُں
اپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیا
اپنے چہروں کو گُل فشاں دیکھو
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں
اپنے ہی دست و پا مرے اپنے رقیب ہو گئے
اچھا تُمھارے شہر کا دستور ہوگیا
اڑتے اڑتے آخر چاند
اک آن میں تمام مرا کام کر گئی
اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے
اک شخص کو سوچتی رہی میں
اک عمر رھے ساتھ یہ معلوم نہیں تھا
اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
اک معما سمجھ کے بھول گئے
اک کماں اور کوئی تیر بنادے آکر
اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
اک گھڑی بکھر رھا ہوں
اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
اکثر ایسا ہو جاتا ہے
اگر ازل تھا تو کیا ابد ہے، مکاں ہے، یا لامکاں نہیں ہے
اگر تو ہر نفس فطرت کا ہم آواز ہو جائے
اگر حضور ابھی مائلِ ظہور نہ تھے
اگر فرشتہ میرے غم سے آشنا ہو جائے
اگر مجھ کو نہ کچھ ادراک حسنِ یار کا ہوتا
اگر مجھ کو نہ کچھ ادراک حسنِ یار کا ہوتا
اگر پوچھا کہ مجھ سے کام کیا ہے ، کیا کہوں گا میں
اگرچہ آج وہ اگلا سا التفات نہیں
اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا
اہانت دل صبر آزما نہیں کرتے
اہل دل آنکھ جدھر کھولیں گے
اہلِ ثروت پہ خدا نے مجھے سبقت دے دی
اہلِ جفا سے ربطِ وفا توڑ دیجیے
ایسا بھی جوئی سپنا جاگے
ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
ایسا لگتا ہے ، زندگی تم ہو
ایسا نہیں کہ اِس کو نہیں جانتے ہو تم!!
ایسا نہیں کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے
ایسے تیری لکھی ہوئی تحریر کھو گئی
ایسے نہ تھے ہم اہلِ دل ، اتنے کہاں خراب تھے
ایسے ہی چپ چپ بھی کیا جیا جائے
ایک بار پھر ہم کو حکمِ انتظار آئے
ایک جگنو ہی سہی، ایک ستارا ہی سہی
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
ایک نگر میں ایسا دیکھا دن بھی جہاں اندھیر
ایک پرواز دکھائی دی ہے
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
اے دل رائیگاں اداس اداس
اے دوست دعا اور مسافت کو بہم رکھ
اے شہر جن و بشر تجھ پہ درود اور سلام
اے صبح! میں اب کہاں رہا ہوں
اے قافلہِ شوق میرے دِل سے گزر جا
اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
بات انوکھی ہے یہ کیسی کوئی تو مجھ کو سمجھائے
بات بس سے نکل چلی ہے
بات کیا ہے تری گزر نہ ہوئی
باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے
بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
بارش کو بُلا رہا ہوُں کب سے
بارش ہُوئی تو پُھولوں کے تن چاک ہو گئے
باعث ننگ محبت کی پذیرائی ہے
باعثِ ننگِ محّبت کی پذیرائی ہے
باغی میں آدمی سے نہ منکر خدا کا تھا
باقی ہے یہی ایک نشاں موسمِ گل کا
بالآخر یہ حسیں منظر مٹا دینا ہی پڑتا ہے
باندھ رکھا ہے مَیں نے ازل سے رختِ سفر
باندھ لیں ھاتھ پہ سینے پہ سجالیں تم کو
باہر بھی اپنے جیسی خدائی لگی مجھے
ببول کوہ پہ تھی، دشت میں صنوبر تھے
بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا
بتا یہ جذبۂ بے اختیار کیا ہو گا؟
بتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟
بتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا؟
بجا کہ آنکھوں میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
بجا کہ تیرے تغافل کے شکوے کرتا ہوُں
بجا، کہ یوں تو سکوں تیری بارگاہ میں ہے
بجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
بدلی نہ اس کی روح کسی انقلاب میں
بدمست ہو کے اے نگہہ ناز دیکھنا
بدن کی سر زمین پر تو حکمران اور ہے
برباد کر گیا میرا دستِ دُعا مجھے
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
برگِ دل کی طرح ہے زرد ہَوا
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
بزمِ انساں میں بھی اِک رات بسر کر دیکھو
بس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہے
بس اِک چراغ یہ روشن دِل تباہ میں ہے
بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں
بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
بعد میں آگ بجھائی بھی تو کیا حاصل
بلا جواز رکھیں خود کو بےقرار بھی کیوں
بن ہو، ابر ہو، تیز ہوا ہو
بند تھا دروازہ بھی اور گھر میں بھی تنہا تھا میں
بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
بندہ نواز! صورتِ حالات اور ہے
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جانکلے
بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نشاں کُھلے
بول سکھی ، دل نے کس پل اُکسایا ہو گا ؟
بول سکھی، کب تک چاہت کو ٹھکرائے گی؟
بولو ہیں رنگ کتنے زمانے کے اور بھی
بولو، بھیگی رت میں کوئل کیوں روئے ہے؟
بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے
بچھائے جال کہیں جمع آب و دانہ کیا
بچھڑ کے بھی مَیں تیرے پرتوِ و صال میں ہوُں
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
بچھڑنے کا سماں ہے اور میں ہوں
بچھڑنے کے زمانے آ گئے ہیں
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
بڑی آگ ہے‘ بڑی آنچ ہے‘ ترے میکدے کے گلاب میں
بکھر رہے ہیں خد و خال چار سُو میرے
بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے
بکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتا
بگاڑ ہو کہ بناؤ، عجیب تیرے سبھاؤ
بگڑ کے مُجھ سے، وہ میرے لیے اُداس بھی ہے
بھاتی نہیں دنیائے سخن ساز کی باتیں
بھرم غزال کا جس طرح رم کے ساتھ رہا
بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
بھول جانا بھی اسے یاد بھی کرتے رھنا
بھول جانے کا تو بس ایک بہانہ ہوگا
بھڑک سکتی ہے ظالم آگ ، پانی میں نہیں رہنا
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنا
بہار جب بھی چمن میں دِیے جلاتی ہے
بہانہ جو کوئی تجھ سا نہیں ہے
بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی
بہت مشکل ہے ترکِ عاشقی کا درد سہنا بھی
بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
بہت ہُوا کہ غمِ دو جہاں کی زد میں نہیں
بیانِ شوق کو مرہونِ خامشی تو کروں
بیانِ قصۂ بے چارگی کیا جائے
بیخودی! تو ہی آخر بتا، کیا کریں؟
بیخودی! تو ہی آخر بتا، کیا کریں؟
بیٹھا ہوُں تشنگی کو چھُپائے نگاہ میں
بیکار ہے گرہ تیرے بندِ نقاب کی
بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
بے خودی میں کیا بتائیں آج ہم نے کیا کِیا
بے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟
بے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟
بے رنگ ہے ہر غنچہ لب کیا اسے کہنا
بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
بے سبب ہیں تیری باتیں اے دل
بے سود ہمیں روزنِ دیوار سے مت دیکھ
بے سَبب سائے سے جدُا رہنا
بے شمار انسان ہیں، سب کا سراپا ایک ہے
بے قراری سی بے قراری ہے
بے لباسی جو ہر لباس کی ہے
بے پردہ جلوہ ہائے جہاں آفریں ہوئے
بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا
بے چین ہوا مست بول پیا کے لہجے میں
بے کار گئی آڑ تیرے پردہ در کی
بے کیف جوانی ہے بے در د زمانہ ہے
بےشک نہ میرے ساتھ سفر اختیار کر
تارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میں
تاروں کی چلمنوں سے کوئی جھا نکتا بھی ہو
تاریخ شرمسار ہے، ابواب منتشر
تارے ہیں نہ ماہتاب یارو
تتلیاں،جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون
تتلیوں کی بے چینی آبسی ہے پاؤں میں
تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جاسکتی
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
تجھ سے ملتے ہی، بچھڑنا تیرا یاد آتا ہے
تجھ سے ہوتی بھی تو کیا ہوتی شکایت مجھ کو
تجھ پر بھی فسوں دہر کا چل جائیگا آخر
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے اِدھر آتے ہوئے
تجھی سے ابتدا ہے، تُو ہی اک دن انتہا ہوگا
تجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھا
تجھے رُسوائی کا ڈر ہے نہ آیا کر
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں، جہاں تک دیکھوں
تجھےکہا نا،کہ تو ہمیشہ سے رائیگاں مجھ کو سوچتا ہے،وہ تو نہیں ہے
ترا جمال بھی ہے آج ایک جہان ِفراق
ترک محبت کر بیٹھے ھم،ضبط محبت اور بھی ھے
ترکِ اُلفت کا بہانہ چاہے
تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
تری بے نیازی، مری بے قراری
تری خوشبو نہیں ملتی،تری لہجہ نہیں ملتا
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تسلی دے کے مرا صبر آزمانا مت
تلاشِ لالہ و گل فکرِ رنگ و بو نہ رہی
تلاشِ لالہ و گل فکرِ رنگ و بو نہ رہی
تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریں
تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
تم اتنا جو مسکرا رھے ھو
تم اپنے گرد حصاروں کا سلسلہ رکھنا
تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا
تم سے بچھڑکے کام یہ کرنا پڑا ہمیں
تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
تم میری آنکھ کے تیور نھ بھلا پاؤ گے
تم نے تقدیریں جگائیں مرے ارمانوں کی
تم نے تو کہہ دیا کہ محبت نہیں ملی
تم نے سچ بولنے کی جرات کی
تم نے ہمارے چاروں طرف ہی گھاتیں کیں
تم نے یہ کیسا رابطہ رکھا
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ، ایسے تو حالات نہیں
تم چین سے کب ہو، ہمیں آرام کہاں ہے؟
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
تم یہ کیا معجزے دکھانے لگے
تمام رات میرے گھر کا ایک درکُھلا رہا
تمام شب یونہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
تمام شہر میں اب تو ہے راج کانٹوں کا
تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
تمام لوگ اکیلے ، راہبر ہی نہ تھا
تمنا پھر مچل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ
تمناہے کہ مرتے وقت بھی ہم مسکراتے ہوں
تمھارے خواب میرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
تمھیں جو حُسن فقط فِتنہ گر نظر آئے
تمہارا پیار مرے چارسو ابھی تک ہے
تمہارا پیار چھپ چھپ کر کئی چہرے بدلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
تمہیں بھی علم ہو اہل وفا پہ کیا گزری
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں،مرے دل سے بوجھ اتار دو
تمہیں جو روبرو دیکھا کریں گے
تنکا تنکا کانٹے توڑے ، ساری رات کٹائی کی
تنگ آ چکے ہیں کشمکشِ زندگی سے ہم
تنگ آچکے ہیں یورشِ بے چارگی سے ہم
تنہا ھے دل تو ذہن کئی محفلوں میں ھے
تو اسیر برم ہے ہم سخن تجھے ذوقِ نالہء نےَ نہیں
تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
تو بعنوانِ حیا یاد آیا
تو بگڑتا بھی ہے، خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ
تو تھا کہ کوئی تجھ سا تھا
تو دل میں کیا تھا تمھارے ،ساجن اگر نہیں تھا؟
تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تو مجھ سے تیز چلے گا تو راستہ دوں گا
تو معمہ ہے تو حل اس کو بھی کرنا ہے مجھے
تو نے جو خواب توڑ ڈالے تھے
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
تو نے کس جا پہ اتارا ہے ابھی
تو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دے
تو ہے دلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن
تو ہے یا ترا سایا ہے
توُ جو بدلا تو زمانہ ہی بدل جائے گا
تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے
تِری آنکھوں میں فصلِ ہجر کیسے بو گیا کوئی؟
تِیر ہے اور نہ تلوار انسان ہے
تھا میرجن کو شعر کا آزار مرگئے
تھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئی
تیرا غم پا کر بلائے عشرتِ فانی گئی
تیرا گزر ادھر جو برنگ صبا ہوا
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
تیری جانب اگر چلے ہوتے
تیری جبیں پہ لکھا تھا کہ تو بھلادے گا
تیری جنت سے ہجرت کر رہے ہیں
تیری جوانی کے پاسباں حشر تک یونہی نوجواں رہیں گے
تیری سانسوں کی مہک پھیلے، زمانے ہو گئے
تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
تیری مجبوریاں درست مگر
تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا
تیری نگاہ کے جادو بکھرتے جاتے ہیں
تیری وضاحت ٹھیک ہے،اسےجھٹلائے کون
تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
تیری یادوں سے دل فروزاں کریں گے
تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی تیرے جاں نثار چلے گئے
تیرے لبوں کی سُرخی، میرے لہو جیسی تھی
تیرے گمنام اگر نام کمانے لگ جائیں
تیز آندھیوں میں اڑتے پر وبال کی طرح
جا کے میں تیرے ساتھ لے آؤں
جاتی ہے دھوپ اُجلے پروں کو سمیٹ کے
جاتے جاتے اس طرح سب کچھ سوالی کرگیا
جاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیا
جاتے کہاں تھے، اور چلے تھے کہاں سے ہم
جاتے ہو تو لے جاؤ یادیں بھی میرے دل سے
جان تم پر نثار کرتے ہیں
جانے پھر اگلی صدا کِس کی تھی
جانے کس سمت سے آیا ہوُں، کدھر جاتا ہوُں
جانے کیسے سنبھال کررکھّے
جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے
جانے، کون رہزن ہیں! جانے، کون رہبر ہیں
جب اسے چاہا تو چاہا ہر طرح کے حال میں
جب اُس کی نوازش ہوتی ہے، یہ معجزہ تب ہو جاتا ہے
جب اپنی اپنی محرومی سے ڈر جاتے تھے ہم دونوں
جب بھی تیرے ستم کی بات چلی
جب بھی دہرائے فسانے دل کے
جب بھی یہ دِل اُداس ہوتا ہے
جب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گے
جب تلک اک تشنگی باقی رہے گی
جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
جب تک لہو دیدہء انجم میں ٹپک لے
جب تیرا انتظار رہتا ہے
جب تیرا حکم ملا ، ترک محبت کردی
جب تیرا ظہوُر دیکھتا ہوُں
جب جب رات کا آنچل بھیگے
جب جب وہ سرِ طورِ تمنا نظر آیا
جب جب وہ سرِ طورِ تمنا نظر آیا
جب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرے
جب دل کی راہ گذر پر نقشِ پا نہ تھا
جب ذات بٹ گئی تو لگا کچھ نہیں بچا
جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے
جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے
جب سے اس حسنِ بلاخیز کا شیدائی ہوا
جب سے اس حسنِ بلاخیز کا شیدائی ہوا
جب سے قریب ہوکے چلے زندگی سے ہم
جب سے ہم تقسیم ہوُئے ہیں نسلوں اور زبانوں میں
جب وہ صورت عجب بنائی گئی
جب چرخ پہ تارے مجھے کرتے ہیں اشارے
جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی
جب کبھی خوبئ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
جب ہم کہیں نہ ہوں گے تب شہر بھر میں ہوں گے
جب ہوا تک یہ کہے ، نیند کو رخصت جانو
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلُو آئی
جب یہ طے ہوا، مَیں کبھی تُجھ کو نہیں پا سکتا
جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے
جبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گا
جدا رہ کر بھی جی لینا بہت بے کا ر لگتا تھا
جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا
جدائی کربلا جیسی
جذبات کی رو میں بہہ گیا ہوں
جذبہ و شوق کی روانی میں
جرمِ انکار کی سزا ہی دے
جز نغمہ رباب وفا اور کچھ نہیں
جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گيا
جس دن سے چلا ہوں ، کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا
جس قدر خود کو وہ چھپاتے ہیں
جس نے تمہیں غم خوار کِیا ہے
جس کو اکثر سوچا تھا تنہائی میں
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
جسم تپتے پتھروں پر روح صحراؤں میں تھی
جسم دَمکتا، زُلف گھَنیری، رنگیں لَب، آنکھیں جادُو
جفاؤں پر ملال تو آتا ہو گا
جل کے اپنی آگ میں خود صورت پروانہ ہم
جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا
جلوؤں کے تسلط سے مجھے ہوش نہیں ہے
جلوہ حسن کرم کا آسرا کرتا ہوں میں
جلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سے
جلوہ گر پھر وہ ماہتاب ہوا
جلوہ گر پھر وہ ماہتاب ہوا
جلوہء معتبر کو کیا کہیئے
جمال فن کا، تیرے اور میرے گھر میں رہا
جنت ماہی گیروں کی
جنون سے گزرنے کو جی چاہتا ہے
جنگل میں گھومتا ہے پہروں فکرِ شکار میں درندہ
جو آنسو دل میں گرتے ہیں وہ آنکھوں میں نہیں رہتے
جو اتنے قریب ہیں اس دل سے، وہ دور ہوئے تو کیا ہوگا ؟
جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
جو اُس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
جو اپنی جڑوں کو کاٹتا ہے
جو بھی اُس چشم خُوش نگاہ میں ہے
جو بھی ہے طالبِ یک ذرّہ، اُسے صحرا دے
جو خواب حویلی کا ہوا، پھر نہیں آیا
جو دل لگانے کا سوچتے ہو
جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
جو دن گزر گئے ہیں ترے التفات میں
جو دُکھ سُکھ بانٹ سکے ،ہم اس کو عورت کہتے ہیں
جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا
جو راز دل کی زمیں پہ لکھے، مٹا دیئے ہیں
جو روا تھے پہلے اب وہ نا روا کیوں ہو گئے؟
جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیں
جو سوا نیزے پہ سورج کے نکلتا ہوگا
جو شخص بھی اپنا قد و قامت نھیں رکھتا
جو شوق ہے، کہ اضافہ ہو نکتہ چینوں میں
جو عطا کرتے ہیں وہ نام خدا دیتے ہیں
جو غم بھی دل وجان سے پیارا نہیں ہوتا
جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
جو کم نصیبی کا اپنی خیال آتا ہے
جو گفتنی نہیں وہ بات بھی سنادوں گا
جو ہے رائیگاں تیری جستجو ‘ یہ تیری نظر کی خطا نہیں
جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
جھلستے دشت میں لگتا ہے مثلِ سائباں ہے تُو
جھومتی ٹہنی پر اس کا ہمنوا ہوجاؤں میں
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
جہانِ مرگ صدا میں اک اور سلسلہ ختم ہو گیا ہے
جہاں بجھ گئے تھے چراغ سب، وہاں داغ دل کے جلے تھے پھر
جہاں بھی رہنا ہمیں یہی اک خیال رکھنا
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
جہاں والوں یہ جور آسمانی دیکھتے جاؤ
جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے
جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
جی چاہتا ہے کوئی سخن آشنا بھی ہو
جی چاہتا ہے، فلک پہ جاؤں
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
جیسے جیسے لوگ حق کے رازداں بنتے گئے
حال خوش تذکرہ نگاروں کا
حال دوری میں خدا جانے میرا کیا ہوتا
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
حبس دنیا سے گزر جاتے ھیں
حدِ امکاں سے پرے خواب نگر ہوتا ہے
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
حسن مرہونِ جوشِ بادہء ناز
حسن مرہونِ جوشِ بادہء ناز
حسن و جمال کے بھی زمانے نہیں رہے
حسن کہتا ہے اک نظر دیکھو
حسنِ بیان قصر کا ایسا بھی اہتمام کیا
حسنِ فردا غمِ امروز سے ضَو پاۓ گا
حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے
حصارِ لفظ و بیاں میں گُم ہوں
حقیقت غمِ الفت چھپا رہا ہوں میں
حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے
حلقہ رنگ سے باہر نکلوں
حمد ۔۔۔۔۔ یہ زمیں آسماں تیرے صدقے
حواس کا جہان ساتھ لے گیا
حوصلہ ڈوبتے موسم کا بڑھا دیتا ہے
حُسنِ اضداد سے بَہلتا ہوُں
حُسنِ کافر بنا عنواں مرے افسانے کا
حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
حیوانیت کی آگ میں انسان مر گیا
خارو خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
خاک میں خون ملایا اس نے
خاک میں گزرا ہوا کل نہیں ڈھونڈا کرتے
ختم ھونے کو ھے سفر شاید
خدا تو خیر خدا ہے بشر نہیں مِلتا
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
خدا ھم کو ایسی خدائی نہ دے
خزاں نصیب ہیں، رشتہ مگر بہار سے بھی
خزاں کے پُھول کی صُورت بِکھر گیا کوئی
خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
خشک ہونٹوں پر ترانے آ گئے
خطا اپنی چھپانے کو نئی تدبیر کرتے ہیں
خلا میں پر توِ آدم دکھائی دیتا ہے
خلق تکمیل کی ہے دیوانی
خلوتوں کا امیں گھر کہاں رہ گیا
خمار غم ہے، مہکتی فضا میں جیتے ہیں
خموشی بول اٹھے، ہر نظر پیغام ہوجائے
خمیدہ سر نہیں ہوتا میں خودداری کے موسم میں
خوئے اظہار نہیں بدلیں گے
خواب آنکھوں کو جگاتے تو کوئی بات بھی تھی
خواب اب کے نہیں، تعبیر ملے
خواب ساتھ رہنے کے نت نئے دکھاتا ہے
خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہُوں
خواب پلکوں کو چھو گیا ہوگا
خواب کا شہر ہی مٹا دیتے
خواب کتنے عجیب ہوتے ہیں
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
خواب کے گاؤں میں پَلے ہیں ہم
خوابوں کا اِک جہاں مجھے دے گیا کوئی
خوابوں کو تصویر بنانا بھول گئے
خوابوں کی بستیاں نہ بسائیں، تو کیا کریں
خوابِ کِمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے
خود اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے
خود وقت میرے ساتھ چلا وہ بھی تھک گیا
خود وقت میرے ساتھ چلا،وہ بھی تھک گیا
خود کو وقف ِعذاب کیا کرنا
خود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتا
خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے
خوش آمدید ۔ اس سائٹ کا مشن
خوشا وہ دور کہ جب فکر روز گار نہ تھی
خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
خوشبو کو تتلیوں کے پروں میں چھپاؤں گا
خوشبو کی ترتیب ، ہَوا کے رقص میں ہے
خوشبو کی طرح آیا ، وہ تیز ہواؤں میں
خوشبو کے ہاتھ پھول کا پیغام رہ گیا
خوشبو ہے وہ تو چُھو کے بدن کو گزر نہ جائے
خوشی کی رت کو پکارو تو کب نہیں آتی
خوف کی شب میں ہونٹ سینے سے
خون رسنے لگتا ہے، ان کے دامنوں سے بھی
خون کو ترسا ہوا راستہ رہ جاتا ہے
خُدا نہیں، نہ سہی، ناخدا نہیں، نہ سہی
خُوب ہے شوق کا یہ پہلُو بھی
خُود فریبی کے نِکل آئے ہیں کتنے پہلو
خُوش ہوُا ہوُں تو مجھے اشک فشاں ہونے دو
خُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئی
داستانِ شوق لے کر نامہ بر آیا تو کیا؟
داستانِ نا مُرادی، مختصر، دیکھے گا کون
داستانِ نا مُرادی، مختصر، دیکھے گا کون
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
دامن کو نہ تار تار کر لے
دامِ خُوشبُو میں گرفتار صبا ہے کب سے
دانستہ سامنے سے جو وہ بے خبر گئے
در گزر کرنے کی عادت سیکھو
دراڑیں سی ابھر آئی ہیں دل کا آئینہ دیکھو
درد اب ہوبھی گیا کم تو بھلا کیا ہوگا
درد دل میں ہزار اُٹھتا ہے
درد دل میں ہزار اُٹھتا ہے
درد دل کا جہاں رواج نہیں
درد پھر جاگا ، پرانا زخم پھر تازہ ہُوا
درد کانٹا ہے اس کی چھبن پھول ہے
درد کم ہونے لگا آو کہ کچھ رات کٹے
درد کو جب دلِ شاعر میں زوال آتا ہے
درد کی سلطنت کا راج ملا
درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر
دردِ دل بھی غمِ دوراں کے برابر سے اٹھا
درو دیوار میں ، مکان نہیں
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
درِ کسریٰ پہ صدا کیا کرتا
دریا سے، کوہسار سے پہلے کی بات ہے
دریچے سے دیا جا کر ہٹا دو
دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے
دستِ تقدیر نے یوُں نقش اُبھارا میرا
دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گی
دستِ گُل چیں میں کھِل رہی ہے کلی
دستکیں دیتی ہیں شب کو درِ دل پر یادیں
دستگیری کر، اے زبانِ جمال
دشت جو دل کو بتاتا ہوگا
دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
دشت و صحرا اگر بساۓ ہیں
دشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
دشمنِ جان و جگر غارت گرِ ایمان ہے
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
دعوٰی ہمیں تو جرات اظہار کا بھی ہے
دعویٰ تو کیا حُسنِ جہاں سوز کا سَب نے
دفعتہ دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی
دل اَب بھی اِضطراب سے آگے نہیں گیا
دل اپنے آپ بھر آیا تو میں نے پھر سوچا
دل بکھرنے کے لیے ہوتے ہیں
دل بھی عجیب عالم ہے نظر بھر کے تو دیکھو
دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
دل تھا درہم اور برہم رائیگاں
دل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کر ہُوا
دل جو ہے آگ لگادوں اس کو
دل خون ھوا کہیں تو کبھی زخم سہہ گئے
دل دُکھا کر آپ نے پوچھا، ’کہو کیسا لگا؟‘
دل دکھانے کی انتہا کر دی
دل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا
دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں
دل غم زدہ پر جفائیں کہاں تک
دل لذت نگاہ کرم پا کے رہ گیا
دل لگانے کی ابتدا کردی
دل لگی ہی دل لگی میں دل کسی کا ہوگیا
دل مجبور کی آہ و فغاں سے کچھ نہیں ہوتا
دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا
دل میرا اک کتاب کی صورت
دل میں آو عجیب گھر ہے یہ
دل میں اب درد مچلتا ہی نہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
دل میں احساس وفا کا بھی جگا کر دیکھو
دل میں اور تو کیا رکھا ہے
دل میں اک لہر سے اٹھی ہے ابھی
دل میں جب تیری لگن رقص کیا کرتی تھی
دل میں درد ، محبت کیسے بوتی رہتی ہے؟
دل میں درد ڈبو لیتے ہیں
دل میں طوفان بپا ہونے تک
دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تک
دل میں محبّت درد کے پیڑ اُگاتی رہی
دل میں کسی خلش کا گزر چاہتا ہوں میں
دل میں کِسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں
دل میں ہم ایک ہی جذبے کو سموئیں کیسے
دل میں یوں سما رہے ہیں!
دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزُو کے پھول
دل نے دہرائے کتنے افسانے
دل نے صدمے بہت اُٹھائے ہیں
دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
دل نے پھر غم کا راگ چھیڑا ہے
دل نے کسی کی ایک نہ مانی
دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے
دل وہی دل ناشاد کئے جاتا ہوں
دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا
دل پہ جو نیل پڑے ہیں وہ مٹا ڈالوں گی
دل چھلک اُٹھا ، آنکھ بھر آئی
دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد
دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
دل کو کچھ اور سنبھلنے دینا
دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
دل کی دنیا بسا گیا کوئی
دل کی منزل اُس طرف ہے گھر کا رستہ اِس طرف
دل کی ہی دل میں رہ گئی حسرت گناہ کی
دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے
دل کے لیے دردبھی روز نیا چاہیئے
دل کے پاتال سے ابھرا ہے کوئی
دل کے پھول بھی کھلتے ہیں ، بکھر جاتے ہیں
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
دل ہی سوز دروں سے جل جاتا
دل یہ کہتا ہے، طوافِ کوئے جانانہ سہی!
دلوں پہ جبر کی تمام حکمتیں الٹ گئیں
دلوں کی گرد کو ہم لوگ صاف کرتے نہیں
دمِ رخصت اسے جینے کی دعا دی ہم نے
دمک رہا ہے رُخِ شام پر ستارہء شام
دن بھی نہ بیتا رات نہ بیتی
دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب
دن مصیبت کے ٹل گئے ہوتے
دن ٹھہر جائے، مگر رات کٹے
دن کچھ ایسے گذارتا ھے کوئی
دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلا انمول دیا
دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
دو گھڑی دِل کا حال سُنتا جا
دور دل میں اترنا پڑتا ہے
دوست بن کر بھی نھیں ساتھ نبھانے والا
دوست بن کر بھی ہمارے نکتہ چینوں میں رہے
دوستوں کے درمیاں
دولت نغمہ و آہنگ و فغاں میری ہو
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے
دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے
دُنیا نے دل کو پیار کا تحفہ دیا نہیں
دُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا ! آہستہ
دِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نِکال بھی
دکھ سب کو خود اپنی ذات کا ہے
دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ
دھندلی دھندلی فضا یہ صبح نہ شام
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
دھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پر
دھوپ نکلی دن سہانےہو گئے
دھوپ کے دشت میں شیشے کی ردائیں دی ہیں
دھوپ کے روپ میں برسات بھی ہوسکتی تھی
دھڑکن کو تیری یاد سے تحریک مل رہی ہے
دھڑکنیں تیز ہو گئیں، چہرہ بھی لال ہو گیا
دہرمیں حرفِ محبت عام ہونا چاہئے
دہرمیں حرفِ محبت عام ہونا چاہئے
دہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھا
دی ہے وحشت تو یہ وحشت ہی مسلسل ہو جائے
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
دیارِ عشق کا یہ حادثہ عجیب سا تھا
دیارِ یار میں دیدارِ یار ہی نہ ہوا
دیدہ شوق سے نہاں محفل رنگ و بو نہیں
دیدہ نم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
دیس سبز جھلیوں کا
دیوار پہ لرزہ ہے تو ڈر کانپ رہا ہے
دیوار گر رہی ہے سہارا مگر کہاں
دیکھئے حیلے ہیں کیا کیا یاد آنے کے لئے
دیکھا تو تھا یونہی کسی غفلت شعار نے
دیکھا تو سب خیال کےمنظر بدل گئے
دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
دیکھنا ہے کہ وہاں سامنے کیا آتا ہے
دیکھو کبھی تو میری طرف خوشدلی کے ساتھ
دیکھو کبھی تو میری طرف خوشدلی کے ساتھ
دے رھا ھے دلاسے تو عمر بھر کے مجھے
ذات اپنی گواہ کی جائے
ذرا سی دیر کو منظر سُہانے لگتے ہیں
ذرّے ذرّے میں تیرا عکس نظر آتا ہے
ذرّے ذرّے میں جو تابانئیِ جوھر دیکھیں
ذرے سرکش ہُوئے ، کہنے میں ہوائیں بھی نہیں
ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرا
ذکر جفا کئے بغیر اب نہ قرار آئے گا
ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر ہوتا ہے جہاں بھی میرے افسانے کا
ذہن میں صورت گماں ٹھہری
ذہنوں میں خیال جل رہے ہیں
رابطے رشتے نہ دیوار نہ در سے اس کے
رات آئی ہے،گزر جائے گی
رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئے
رات باقی رہے کہ ڈھل جائے؟
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
رات میں اس کشمکش میں ایک پَل سویا نہیں
رات ڈھل رہی ہے
رات کو خواب ہو گئی ، دن کو خیال ہو گئی
رات کچھ یارِ طرحدار بہت یاد آئے
رات کی زلفیں مرھم مرھم
رات کی سیج خالی خالی ہے
رات کے زہر سے رسیلے ہیں
رات کے ساتھ ہی رخصت ہوُا مہتاب اپنا
رات ہے ، چاندنی ہے، خوشبو ہے
راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
راحت نظر بھی ہے ،وہ عذاب جاں بھی ہے
راز الفت عیاں ہے کیا کہیئے
راز وفائے ناز پھر دل کو بتا گیا کوئی
رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
راستوں میں کوئی رستہ معتبر ایسا تو ہو
راکھ کا ڈھیر کریدا بھی مگر کچھ نہ بنا
راکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دُھواں ڈھونڈتے ہیں
راکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دُھواں ڈھونڈتے ہیں
راہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیں
راہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دعا رکھنا
رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
رسوا رسوا سارے زمانے
رعنائی بہار و گل و گلستاں گئی
رعنائیِ نگاہ کو قالب میں ڈھالیے
رفتہ رفتہ دل ہمارا تیرا دیوانہ ہوا
رفتہ رفتہ دل ہمارا تیرا دیوانہ ہوا
رقص میں رات ہے بدن کی طرح
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
رقم کریں گے ترا نام انتسابوں میں
رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے
رنگ بدل کے رہ گیا گلشن روزگار بھی
رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ھم بھی ھیں
رنگ صنم کدہ جو ذرا یاد آ گیا
رنگ و خوشبو، شباب و رعنائی
رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
رنگینیء حیات کے مارو جواب دو
روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں
روز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میں
روز یہ وقت آ جاتا ہے
روز، اِک نیا سوُرج ہے تیری عطاؤں میں
روش روش ہیے وہی انتظار کا موسم
روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
روشن کیے جو دل نے کبھی دن ڈھلے چراغ
روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغ
روشنی تیرے سفیروں کا نشاں باقی ہے
روشنی جب میرے مکان میں ھو
روشنی دل کے دریچوں میں بھی لہرانے دے
روشنی کا، افقِ شب پہ اشارہ کیوں ہے؟
روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیا
روکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے
رَس میں جو بات ہے وہ مَس میں نہیں
رَگوں میں زہر بھر لینا
رُک گئی عقل و فکر کی پرواز
رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر
رہا جائے گا چُپ کیسے خدا کے رُوبرو ہم سے
رہبر کی نہ فکر ہے نہ فکر منزل کی
رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
رہین خوف نہ وقف ہراس رھتا ھے
رہے اسیرِ قفس در قفس بہار میں ہم
ریت بھری ہے ان آنکھوں میں تم اشکوں سے دھو لینا
زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا
زخم تحریر پر سلا لینے دو
زخم دل کی کہانی کیا کروں
زخم نگاہ کے لیے مرہم اندمال تھے
زخمِ امید بھر گیا کب کا
زخمِ دل رشکِ مہ و غیرتِ خورشید نہیں
زمانه آیا هے بے حجابی كا ، عام دیدار یار هو گا
زمانہ میں کوئی تم سا نہیں ہے
زمانہ کچھ نہیں بدلا،محبت اب بھی باقی ہے
زمانے کی پہلے سی فطرت نہیں ہے
زمین جلتی ہے اور آسمان ٹوٹتا ہے
زمیں پہ مستی برس رہی ہے فلک پہ انوار چھا رہے ہیں
زمیں چل رہی ہے کہ صبحِ زوالِ زماں ہے
زندگی ان کی چاہ میں گزری
زندگی انساں كی اک دم كے سوا كچھ بھی نہیں
زندگی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی
زندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی
زندگی جب بھٹک گئی ھو گی
زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں
زندگی جیسی تمنا تھی، نہیں ،کچھ کم ہے
زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
زندگی غیر کی سوغات نہ ہو
زندگی مدہوش ہو کر رہ گئی
زندگی پاؤں نہ دھر جانب انجام ابھی
زندگی کی دھوپ میں اس سر پر ایک چادر تو ہے
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
زُلفِ سیاہ خم بہ خم، نوُرِ جمال یَم بہ یَم
زہر کے بعد جو شرمندہء تریاق ہوُئے
زیست آزار ہوُئی جاتی ہے
سائے پگھل رھے تھے
سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے
ساتھ چلنے کے لئے وہ ذرا تیار تو ہو
ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟
ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
ساحل سے دور جب بھی کوئی خواب دیکھتے
ساری دُنیا میں مرے جی کو لگا ایک ہی شخص
ساری رات جگاتی ہے
ساغر ِچشم سے سرشار نظر آتے ہیں
ساقی نظر سے پنہاں شیشے تہی تہی سے
سامنے ہے صنم کدہ سوئے حرم نظر بھی ہے
سامنے ہے مرے لیکن نظر آتا بھی نہیں
سانحہ کتنا بڑا ہے، سانحے کو کیا پتہ
سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
سانپ ہی سانپ نظر آتے ہیں خوابوں میں مجھے
ساون میں برسات ضروری ہوتی ہے
سب اپنی ذات کے اظہار کا تماشا ہے
سب راستے دشمن ہوئے، اشجار مخالف
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
سب چلے جاؤ، مجھ میں تاب نہیں
سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ چھپانے کا
سبز موسم کی خبرلے کے ہَوا آئی ہو
سبز گنبد کی جھلک دیدہء تر سے آگے
سبھی جذبے بدلتے جا رہے ہیں
ستارہ وار چلے پھر بجھا دیئے گئے ہم
ستم نہیں یہ ستم کی ہے انتہا لوگو
ستم کا عدو مستحق ہوگیا
ستم کی رات کو جب دن بنانا پڑتا ہے
ستمِ کامیاب نے مارا
سجتی ہے چاندنی کو روایت حجاب کی
سحر بن کے آنکھیں کھُلیں تو حقیقت کا پورا سبق داستاں ہو گیا
سخن آرائی باقی رہ گئی ہے
سر بارِ دوشِ وحشت و موجِ نفس عذاب
سر بھی ہے پائے یار بھی شوق سوا کیا ہوا
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیں
سر ِ صحرا حباب بیچے ہیں
سر پراک سچ مچ کی تلوار آئے تو
سر گزشت دل کو رو داد جہاں سمجھا تھا میں
سر گوشیاں ہیں بزم میں کچھ میری آہ سے
سرابِ زیست میں ہم ڈوبتے اُبھرتے رہے
سراپا آرزو بن کر تصور آشنا ہو کر
سراہوں گا تیرے مَن مَن کے روُٹھ جانے کو
سرنگوں ہی کر دیا ذوق جبیں سائی نے
سرور جگر کے داغ نمایاں نہ کیجئے
سرور کو جہاں دیکھو وہاں خوار بہت ہے
سرِ بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئی
سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
سرگوشی بہار سے خوشبو کے در کھلے
سطح پر آج تو پتّھر بھی اُبھرنا چاہیں
سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں
سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سمندر کا سفر اچھا نہیں ہے
سمے سمے کی خلش میں تیرا ملال رہے
سن سکے تو سن لے یہ آخری کہانی ہے
سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
سناّٹا فضا میں بہہ رہا ہے
سنو، اہل وفا نے ہی ہمیشہ کیوں جفا پائی؟
سنگدل کتنے تیرے شہر کے منظر نکلے
سو بھی جاؤں تو ہر اِک خواب بُرا ہی دیکھوں
سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
سو رج بھی بندھا ہوگا دیکھ مرے بازو میں
سو گئی شہر کی ہر ایک گلی
سودا خودی کا تھا نہ ہمیں بے خودی کا تھا
سورج سے جنگ کرنے کی بادل نے ٹھان لی
سوز اِتنا تو نوا میں آئے
سوزِ پنہاں کے سوا، حالِ پریشاں کے سوا
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
سوچتے رہنے کی عادت ہوگئی
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
سُن اے حکیمِ ملت و پیغمبرِ نجات
سُن لی خُدا نے وہ دُعا تم تو نہیں ہو
سُنو، وہ جب ستاتا ہے
سُوکھی ٹہنی ، تنہا چڑیا ، پھیکا چاند
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
سکون و صبر کا امیدوار ہے اب تک
سکوں بھی خواب ہوا،نیند بھی ہےکم کم پھر
سکوں محال ہے امجد وفا کے رستے میں
سکھ کا موسم خیال و خواب ہوا
سہل کب ہوتے ہیں ،دشوار ہوا کرتے ہیں
سیاہ ہجر گیا زرد انتظار گئے
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
سینے میں خنجر کی نوک چُھبوتی ہیں
شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
شامل میرا دشمن صف یاراں میں رھے گا
شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
شامِ فراق ایک عجب تجربہ ہُوا
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئی
شانِ عطا کو، تیری عطا کی خبر نہ ہو
شاید اسے ملے گی لب بام چاندنی
شاید حریفِ آرزوئے دل ہے ان کی یاد
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ھوئی
شاید کہ آغاز ہو پھر کسی افسانے کا
شب غم آرزوؤں کی فراوانی نہیں جاتی
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
شب کو جب کبھی میں نے اپنی جستجو کی ھے
شب کے تیرہ سمندر نے کھولا ہے در دن نکلتا نہیں
شب گزرنے سے تو انکار نہیں
شبِ فراق کو جب مژدہء سحر آیا
شبِ مہتاب و شامِ زندگانی یاد آتی ہے
شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
شرح بے دردی حالات نہ ہونے پائی
شرح جفائے چرخ کہن مختصر نہیں
شریکِ گردشِ ہفت آسماں نہ تھا پانی
شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
شعلہ سا پیچ وتاب میں دیکھا
شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی
شفق غبار بنی اور کوچ کرنے لگی
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارہء شام
شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں
شمارِ گردش لیل و نہار کرتے ہُوئے
شوخ نظروں میں جو شامل برہمی ہو جائے گی
شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے
شوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کُھلتیں
شکست شیشہ عقل و شعور دیکھیں گے
شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں
شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا
شکستہ پائی کے مرحلے، دشتِ ہجر میں اس لیے نہ آئے
شکوہ اضطراب کون کرے
شکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھے
شکوے تیرے حضور کئے جا رہا ہوں میں
شہاب تھا کہ ستارہ، گریز پا ہی لگا
شہر دل، ڈھونڈ رہی ہیں گلیاں
شہر سنسان ہے کدھر جائیں
شہر میںچاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
شہر ِویران کے دروازے سے لگ کر روئے
شہر کے دکاں دارو! کاروبارِ الفت میں سود کیا، زیاں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گے
شہروں کا شور کر گیا بے خبر مجھے
شہرِ بے مہر سے پیمانِ وفا کیا باندھیں
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
صاف جب تک نہ ترے ذہن کے جالے ہوں گے
صبح بھی چین نہیں شام بھی آرام نہیں
صبح دربار میں ایک شان سے بیٹھا دیکھوں
صبح سے ہو گئی ہے یارب شام
صبح میں دیکھتا ہوُں شام کے آثار ابھی
صبح نہیں ہو گی کبھی،دل میں بٹھا لےتو بھی
صبح کو ہم یوں شام کرتے ہیں
صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
صبحِ عشرت دیکھ کر، شامِ غریباں دیکھ کر
صبحیں نہیں رہی ہیں وہ راتیں نہیں رہیں
صبر کے ساتھ مرا دل بھی لیے جائیں آپ
صحبت یاد رفتگاں کب تک؟
صحرا میں جا کے گھر کا نشاں ڈھونڈتے رہے
صحرا ہوُں، مجھے چمن بنا دے
صداقتوں نے معیار پہلے ہی کھو دیا ہے
صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے
صرف اک عزِم سفر، زادِ سفر اپنا تھا
ضائع کرتے تھے ملاقاتوں کو
طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
طلسم جب سے نہاں ہو گئے ہیں لہروں میں
طلوُعِ صُبح کا الزام میرے سَر آیا
طواف حرم نہ دیر کی گہرائیوں میں ہے
طور سے کوئی علاقہ ہے نہ ربط ایمن سے
طوفان سامنے ہے کنارے کدھر گئے
طوفان ہے ہمرکاب میرا
طوفاں ہے اگر گھر کے درپے، یوں بیٹھ نہ جاؤ، کچھ تو کرو
طیور سے نظر آتے ہیں جو درختوں پر
عالم نہ پوچھئے جو ہمارا ہے آج کل
عالمِ ہجر میں سویا ہوُں، نہ سونا چاہوں
عبادتوں کی طرح میں یہ کام کرتا ہوں
عبرت آموز محبت یوں ہوا جاتا ہے دل
عجب جہانِ طلسمات میرے اندر تھا
عجب حالت ہماری ہوگئی ہے
عجب موسم ہے میرےہر قدم پہ پھول رکھتا ہے
عجزِ اہل ستم کی بات کرو
عجیب رنگ تیرے حُسن کا، لگاؤ میں تھا
عجیب وقت پڑا، اب کے با ضمیروں پر
عذاب آنکھ میں اترے تو راستہ نہ ملا
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کرلوں
عذاب در بدری سے نکالنا چاہتے ہیں
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
عذابِ ہجر بڑھالوں، اگر اجازت ہو
عرش سے سچ کی ہدایت بارہا مِلتی رہی
عرش سے پار پہنچتی میری پروازِ خیال
عرش پر جا کے بھی جو خاک نشیں ہوتا ہے
عشق منت کشِ قرار نہیں
عشق منت کشِ قرار نہیں
عشق میں نام کر گئے ہوں گے
عشق میں نام کر گئے ہوں گے
عشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو
عشق پیشہ نہ رہے داد کے حق دار یہاں
عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرضِ سوال سے پہلے
عشق کو معجزہ سمجھتے ہو ؟
عشق کیا کیا فریب کھاتا ہے
عشق کے باب میں کچھ یوں ہے تمہارا ، میرا
عشّاق نہ پتھر نہ گدا کوئی نہیں ہے
عقائد وہم ہیں، مذہب خیال خام ہے ساقی
عمر بھر رویا کیے ناکامیاں دیکھا کیے
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
عُمر بھر کے لیے اب تو سوئی کی سوئی ہی معصوم شہزادیاں رہ گئیں
عُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہے
عِشق بے دم ہے تو فردوسِ وفا مت ڈھونڈو
عِشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا
عکس جمال ہوا جا رہا ہوں میں
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیرے
عیش ِ امید ہی سے خطرہ ہے
غازی بنے رہے سبھی عالی بیان لوگ
غبارِ دشت طلب زیادہ ہے تو جنوں میں زیادہ ہو جا
غبارِ رنگ جو آئینۂ بہار میں ہے
غرور و کذب و ریا کل من علیھا فان
غزل بعد ازیگاؔنہ سرخرو ہم سے رہے گی
غزل سن کر پریشاں ہو گئے کیا
غزل کو ماں کی طرح باوقار کرتا ہوں
غزل کے دل میں بسے ، نظم کی نظر میں رہے
غزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتے
غلط کہا کہ دہن کا رفو ضروری ہے
غم دنیا جو نہ ہو گا غم جاناں ہو گا
غم سے چھوٹوں ، تو ادھر دیکھوں میں
غم عاشقی کے نظام اور بھی ہیں
غم فرقت کی لو ہر لمحہ مدھم ہوتی جاتی ہے
غم کی جاگیر کو کچھ اور بڑھا سکتے ہو
غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے
غم ہے یا خوشی ہے تو
غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
غیر کے ہات میں ہات ہمارا؟
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
فاصلے ایسے بھی ہوں گےیہ کبھی سوچا نہ تھا
فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو
فرصت میں اوپر والے کو دھیان جب آیا تیرا
فرصت کہاں خطوط پڑھوں آج پیار سے
فروغِ ماہ میں توُ اور شبِ سیاہ میں توُ
فریاد کروں مگر کہاں تک
فریب محبت سے غافل نہیں ہوں
فریب کھا کے بھی اک منزلِ قرار میں ہیں
فریبِ رنگ عیاں ہے، جدھر نگاہ کروں
فصیح الملک داغ (شاعر) کے حضور میں
فضا میں رنگ نہ ہو آنکھ میں نمی بھی نہ ہو
فضا پیتی ہوُئی آنسو، ہوَا بھرتی ہوُئی آہیں
فغاں کا ذکر کریں، آرزو کی بات کریں
فقط اپنی ضرورت کے لئے غم خوار تھے میرے
فلک سے چاند ، ستاروں سے جام لینا ہے
فلک سے چاند اترنے کا انتظار نہ کر
فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
فنا کی سمت ہے رُخ زندگی کے دھارے کا
فکر دلداریء گلزار کروں یا نہ کروں
فکرِ انجام کر انجام سے پہلے پہلے
فکرِ دنیا کہاں اور سرورِ بدنام کہاں!
فکرِ زمیں نہیں ہے غمِ آسماں نہیں
قاصد جو تھا بہار کا نا معتبر ہُوا
قبولیت کا گِلہ نہیں ہے
قرارِ جاں بھی تمھی، اضطرابِ جاں بھی تمھی
قربان کسی پہ دولت ہستی ہے آج کل
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
قریہء جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے
قصہ ویراں ہوا جاتا ہے
قصۂ غم سنا کے دیکھ لیا
قصۂ غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئے
قصۂ غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئے
قصے ہیں خموشی میں نہاں اور طرح کے
قلم جب دَرہم و دِینار میں تولے گئے تھے
قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
قہوہ خانے میں دھواں بن کےسمائے ہوئے لوگ
قیامت ہو مصیبت ہو بلا ہو
قیامت ہو مصیبت ہو بلا ہو
قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا
قیمت ہے ہر کِسی کی دُکان پر لگی ہوئی
كوئی بھی لمحہ كبھی لوٹ كر نہیں آیا
لا دوا درد جو دیا اس نے
لارہا ہے مے کوئی شیشے میں بھر کے سامنے
لالہ و گُل کے جو سامان بہم ہو جاتے
لالہ وگل کو دیکھتے کیا یہ بہار دیکھ کر
لاکھ اب یاد کی، احساس کی پہنائی ملے
لاکھ چاہیں ہم مقٌدر کو بدل سکتے نہیں
لب پہ نہ لائے دل کی کوئی بات اسے سمجھا دینا
لبوں میں نرم تبسّم رچا کے گھُل جائیں
لبوں پہ حرف رَجَز ہے زِرَہ اُتار کے بھی
لبِ خاموش سے افشَا ہو گا
لخت لخت چہروں کو، آئینوں میں کیا دیکھیں
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے
لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
لفظوں سے چھاؤں کی سطروں کو سائباں کیا
لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
لمحہ لمحہ وقت کی جھیل میں ڈُوب گیا
لو ، خدا حافظ تمہیں کہنے کی ساعت آگئی
لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
لوگ جائیں یا ترا پیچھا کریں
لوگوں کے لیے صاحب کردار بھی میں تھا
لُطف سو گواری میں
لپکیں گے پلٹ کے پھر وہاں سے
لچک سی جیسے لپکتی ہوُئی صَدا میں پڑے
لکھ اپنی ڈائیری میں کبھی میرا نام بھی
لگ رہا ہے شہر کے آثار سے
لگی دل کی ہم سے کہی جائے نا
لگے نہ کیوں خود سے مجھ کو پیارا،کبھی سمندر،کبھی ستارہ
لہو اچھال گیا ہے غبار آنکھوں میں
لہو بونے کو بھی جی چاہتا ہے
لہو لہو سے گلابوں کی داستاں دیکھو
لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے
لے اڑا ایسے ترا دھیان مجھے
مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے
مان لے اب بھی مری جانِ ادا ،درد نہ چُن
مانا وادی ء عشق میں پاؤں اندھا رکھنا پڑتا ہے
مانندِ صبا جدھر گئے ہم
مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتے
مت پوچھو کس حال میں ہیں
متاعِ قلب وجگر ہیں ، ہمیں کہیں سے ملیں
مثال اس کی کہاں ہے زمانے میں
مثال شمع جلاتی ہے زندگی ہم کو
مثال پرتو مے ، طوف جام كرتے هیں
مثالِ اَبر زمیں کا لباس ہو جاؤں
مثالِ مَوجِ ہوا دَربدر وہ ایسا تھا
مجُھ کو رُسوا سرِمحفل تو نہ کروایا کرے
مجھ سے خفا خفابھی ہیں اور غم برہمی بھی ہے
مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
مجھ پر ستم ظریف زمانے کے ساتھ ساتھ
مجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سے
مجھ کو یقین ہے سچ کہتی تھیں ،جو بھی امٌی کہتی تھیں
مجھے اندھیرے میں بیشک بٹھا دیا ہوتا
مجھے اے زندگی ! تجھ سے مکرنا پڑ رہا ہے
مجھے خبر تھی میرے بعد وہ بکھر جاتا
مجھے خلا میں بھٹکنے کی آرزو ھی سہی
محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
محبت میں آہِ رسا چاہتا ہوں
محبت میں غلط فہمی اگر الزام تک پہنچے
محبت میں کوئی بھی المیہ اچھا نہیں لگتا
محبت پاکے دل کھونا پڑے گا، کب یہ سوچا تھا
محبت پھر اُسکا بیاں، اللہ اللہ!
محبت پھر اُسکا بیاں، اللہ اللہ!
محبت کا انوکھا قافلہ ہے
محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے
محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے
محبت کیا ہے، کیا ہے آرزو، بیگانگی کیا ہے؟
محبت کیا ہے، کیا ہے آرزو، بیگانگی کیا ہے؟
محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنا
محبتیں تھیں کچھ ایسی، وصال ہوکے رہا
محبتیں جب بھی شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
محور ہے یہی خواجگیِ کون و مکاں کا
مداوا حبس کا، ہونے لگا آہستہ آہستہ
مدتوں بعد میرا سوگ منانے آئے
مدینہ دل سے مدینے سے دل جدا نہ ہوا
مر جاتا ہوں، جب یہ سوچتا ہوں
مر کر بھی نہ ہوں گے رائیگاں ہم
مرا کیا کہیں بھی چلا جاؤں گا
مرا ہے کون دشمن ، میری چاہت کون رکھتا ہے
مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ
مرجھانے لگی ہیں پھر خراشیں
مرحلے شوق کے دشوار ھوا کرتے ھیں
مروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
مری فکرِ رسا جب مائلِ پرواز ہوتی ہے
مری فکرِ رسا جب مائلِ پرواز ہوتی ہے
مرے خدا مرے لفظ و بیاں میں ظاہر ہو
مرے خلاف ہوا ہے تو اس کا ڈر بھی نہیں
مرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہت
مرے ہم سفر ! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں
مرے ہم نفس، مرے ہم نوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
مسافر کے راستے بدلتے رہے
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
مست نظارہ بھی کس درجہ تجاہل کوش ہے
مستقبل پڑھنے والے تصویر ہوئے
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
معبوُد کے راز جانتا ہوں
معجزے اب یہاں نہیں ہوتے
معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ
مغرب کے افق پہ جو شفق ہے
مقامِ ہجر میں لطف و کرم کی باتیں ہیں
مل سکے تم نہ ، مقدر اپنے
مل گئی آپ کو فرصت کیسے
مل گیا تھا تو اسے خود سے خفا رکھنا تھا
ملا نہیں اذان رقص جن کو ،کبھی تو وہ بھی شراردیکھو
ملتان کے عشق میں
ملک سخن کا تاجور حال اٹھ گیا
ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا
ملے کیسے صدیوں کی پیاس اور پانی، ذرا پھر سے کہنا
ممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لے
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
من کی اداس دنیا کے سب تار کس گئے
منزل کی دھن میں ہوش و خرد سے گزر گئے
منزلوں کا پتہ لگانا کیوں؟
منظر تھا اک اجاڑ نگاہوں کے سامنے
منظر کوئی فردوس نظر ڈھونڈ رہا ہوں
منظر کے اردگرد بھی اور آرپار دُھند
منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
منہ زور ہو دریا کہ اتر جائے ہمیں کیا
منہ سے نکلے گی تو پھر دل میں اتر جائے گی
موت اپنی، نہ عمل اپنا، جینا اپنا
موت و حیات کا مقصد کیا ہے، آخر کچھ معلوُم تو ہو
موت کا اعتبار کر لیتے
موت کی انجمن آرائی ہے
موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے
موجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہئے
موسم خو شگوار کی راتیں
موسم کا عذاب چل رہا ہے
موسمِ گلزارِ ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ
مير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف
مَیں آپ اپنا جواب اور آپ اپنی نظیر
مَیں اس فریب ہی میں رہا مبتلا سدا
مَیں ایک ذرّہ سہی، کائنات بھر میں رہوں
مَیں تجھ کو دیکھنے کی تمنا میں چوُر تھا
مَیں تیرے ساتھ رواں تھا، مگر اکیلا تھا
مَیں حقائق میں گرفتار ہوُں، وہموں میں نہیں
مَیں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
مَیں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا
مَیں روشنی کے تسلسل کو ٹوٹنے ہی نہ دوں
مَیں زندئہ جاوید بانداز، دگر ہوں
مَیں کب سے گوش برآواز ہوُں، پکارو بھی
مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا
مَیں ہوُں تیرا کہ توُ شَیدا میرا
مَیں ہوُں، یا توُ ہے، خُود اپنے سے گریزاں جیسے
مُجھ سے کافر کو تیرے عِشق نے یوُں شرمایا
مُجھے دُکھ یہ ہے کہ بہار میں بھی طیور بے پر و بال ہیں
مُجھے موت دے کہ حیات دے
مِرا ذوقِ محبت دیکھیے کیا گل کھلاتا ہے
مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کر
مچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک
مکالماتی غزل
مکمل مقصد تخلیق انساں ہو نہیں سکتا
مہتاب رتیں آئیں تو کیا کیا نہیں کرتیں
میرا جانا نہ ہوا ، آپ کا آنا نہ ہوا
میرا جو حال ہو سو ہو، برقِ نظر گرائے جا
میرا ذوقِ دید، تیرا رُوئے زیبا جل گیا
میرا غرور، تجھے کھو کے، ہار مان گیا
میری آنکھوں سے روشنی چھینی
میری آنکھوں میں آنُسو پگھلتا رہا،چاند جلتا رہا
میری آنکھوں کو سُوجھتا ہی نہیں
میری آنکھیں ہیں کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میں
میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
میری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہیں دُور دے
میری سانسوں کی خوشبو سے تجھے زنجیر ھونا ھے
میری محدود بصارت کا نتیجہ نِکلا
میری نظر کا ہے، نہ تمھاری نظر کا ہے
میری نظر کو حوصلہء امتحاں نہ تھا
میری نگاہ سے یہ پردہ کس نے سرکایا
میری پہچان نمازیں ہیں نہ تکبیریں ہیں
میرے بارے میں ہواؤں سے وہ کب پوچھے گا
میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میرے دل کے شام سویرے ہو
میرے ساتھ تم بھی کرو دعا یوں کسی کے حق میں برا نہ ھو
میرے سبو میں میری زیست کا لہو تو نہیں
میرے سوال کا، یارب! کوئی جواب ملے
میرے صحرا بھی تیرے، میرا چمن بھی تیرا
میرے لفظوں کے سب جادُو تمہارے
میرے لیے میرے غم بھی خدا کی رحمت ہیں
میرے وجود میں سچائی میری ماں کی ہے
میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی
میرے ہونٹوں پہ نہیں تیرے گِلے
میرے ہی غم کی ترجماں فطرت بے زباں نہ ہو
میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دور
میں آسماں کی شاخ پہ زندہ ہوں دوستو
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس کی آہٹیں چن لوں ‘ میں اس سے بول کر دیکھوں
میں اَزل کی شاخ سے ٹوٹا ہُوا
میں ایک عمر اسے بحر و بر میں ڈھونڈتا تھا
میں بزمِ تصوّر میں اُسے لائے ہوئے تھا
میں تنہا درپیش سفر تقدیر کا ہے
میں تنہائی کا حاصل ہو گیا ہوں
میں تو ایک کاغذی پھول تھا ، سرِ شام خو شبو سے بھر گیا
میں تو ہوں اک سیپ کا موتی، بیچ سمندر رہنا تھا
میں جانتا تھا ایسا بھی اک دور آئے گا
میں جس کے ساتھ ظفر عمر بھر اٹھا بیٹھا
میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہُوئی
میں سہوں کربِ زندگی کب تک
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
میں نے آنکھوں میں سمندر کا نشاں رکھا ہے
میں نے دیکھا دیوانوں کو شام کے بعد
میں چپ رھا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا
میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
میں کہیں بھی کسی نگر میں رہا
میں کیوں نہ ترک تعلق کی ابتدا کرتا
میں ہوں رات کا ایک بجا ہے
میں یہ دُنیا مٹانا چاہتا ہوں
میں یہاں اور تو وہاں جاناں
میں کب کہتا ہوں کہ وہ اچھا بہت ہے
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
نئے انساں کی جو رعنائی ہے
نئے انساں کے عجب تیور ہیں
نئے سفر کے لیے فیصلے کا موقعہ دے
نئے کپڑے بدل کر جاوں کہاں اور بال بناوں کس کے لیے
نا آشنا کرے نہ کوئی آشنا کرے
نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے
نارسائی کی قسم، اتنا سمجھ میں آیا
ناروا کہیے نا سزا کہیے
ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
نام آیا بھی تو کن ناموں میں
نام اسی کا سویرے شام لکھا
نام بے نام بھی ہو جاتے ہیں
نام لے لے کر نہ میرا شہر کی نظروں میں آ
نام ور ہیں نہ کوئی شہرتِ فن رکھتے ہیں
ناکام عرض شوق کی جرات ہے کیا کروں
ناگنوا اپنا سکون تم مری چاہ میں
نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے
نجانے کن غم کے جگنوؤں کو چھپائے پھرتی ہے مٹھیوں میں
نشانی کوئی تو اب کے سفر کی گھر لانا
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
نظارہ جمال سے جنت ہے زندگی
نظر جب سے وہ مہرباں ہوگئی ہے
نظر جب سے وہ مہرباں ہوگئی ہے
نظر سے یہ قید تعین اٹھائی جاتی ہے
نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
نظر محو رخ پیر مغاں معلوم ہوتی ہے
نظر میں زخم تبسم چھپا چھپا کے ملا
نظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتا
نظر کی تیزی میں ہلکی ہنسی کی آمیزش
نظر کے پار دیا سا جلا کے دیکھ لیا
نظروں پہ ستم، دل پہ جفا ہو کر رہے گی
نظریں ملیں تو پیار کا اظہار کر گیا
نعت۔۔۔۔موت ہی نہ آجائے کاش ایسے جینے سے
نفس کے لوچ میں رم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے
نقاب دیدہ پر نور ہو گئے ہو تم
نقش مٹِتی ہوُئی کرنوں کا اُبھارا کِس نے
نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا،رات کے ساتھ
نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے
نوکِ مژگاں سے اشک ڈھلے، اور بہہ گئے
نَفس کو فِکرِ جوہر ہے جہاں میں ہوں
نگا ہیں ملا نا، نگا ہیں چرانا
نگاہ ناز کا ایک وار کر کے چھوڑ دیا
نگاہوں کا اشارہ ہو رہا ہے
نہ اب مسکرانے کو جی چاہتا ہے
نہ اس طرح کوئی آیا نہ کوئی آتا ہے
نہ بن سکا میں تمھارا نہ ہی زمانہ کا
نہ تجھ سے ہے نہ گلہ آسمان سے ہو گا
نہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہے
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
نہ جانے ترجماں ہیں کس قیامت کے اشاروں کی
نہ جانے خال و خد کیوں چھِن گئے ہیں خوش جمالوں کے
نہ خط لکھوں نہ زبانی کلام تجھ سے رہے
نہ دل میں درد، نہ آنکھوں میں نوُرِ ربطِ قدیم
نہ سہی اور کہیں گھر میرا
نہ سیو ھونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ھم کو
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
نہ شعور میں جوانی، نہ خیال میں روانی
نہ شکستہ حرف ہیں اجنبی، نہ فگار لفظ پرائے ہیں
نہ غم ہے اور نہ ہی کوئی خوشی ہے
نہ قرضِ ناخنِ گُل ، نام کو ، لُوں
نہ محبّت نہ صباحت فانی
نہ پوچھ ہم سے کہ اس گھر میں کیا ہمارا ہے
نہ چین آتا ہے دن کو نہ شام آتا ہے
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
نہ کسی نے دل ہی دیکھا ، نہ کسی نے غم ہی جانا
نہ کوئی خواب نہ سہیلی تھی
نہ کوئی رنگ، نہ ہاتھوں میں حنا، میرے بعد
نہ یقین وجود پہ رکھ کر،نہ ردائے یاس میں آؤں گا
نہاں ہے محشرِ آہنگ زیرِ پردہء ساز
نیا اک ربط پیدا کیوں کریں ہم
نیا فلک ہو رہا ہے پیدا، نئے ستارے نِکل رہے ہیں
نیاز و ناز کی یہ شان زیبائی نہیں جاتی
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
نیازِ عشقِ بتاں ہے کیسا، غرورِ حسن و شباب کیا ہے
نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
نیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کر گیا
نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
نیند تو خواب ہو گئی شاید
نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
وارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھئے!
وارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھئے!
وارفتگی میں جنس محبت خرید لی
واہمے سارے تیرے اپنے ہیں
وجود کیا ہے عدم کیا ہے کچھ نہ تھا معلوم
وجہ قدر و قیمت دل حسن کی تنویر ہے
وحشت دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے
وحشت کے ان معماروں سے بنیادِ ایواں ٹوٹ گئی
وحشی اُسے کہو جسے وحشت ہے غزل سے
وصال چپ چاپ مر گیا ہے، اسے نہ ڈھونڈو
وصال کا بھی کوئی اہتمام کر ڈالو
وصل کا خواب دکھائے گا ٹھہر جائے گا
وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
وفا میری متاعِ نا خریدہ
وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ھے
وفا کا درس کبھی خود کو بےوفا دیتا
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
وفا کے جنگلوں میں کھو گیا تو؟
وفا کے راہرو کو کیوں سدا برباد دیکھا ہے؟
وفائے وعدہ نہیں وعدہء دگر بھی نہیں
وقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئے
وقت کے کتنے ہی دھاروں سے گزرنا ہے ابھی
وقت کے ہاتھوں حکایاتِ انا بھول گئے
وہ آئیں اگر اس دم، معلوم ہے کیا ہوگا
وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے
وہ اجنبی اجنبی سے چہرے،وہ خواب خیمے رواں دواں سے
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
وہ ایک تیر خراش آ گیں جو دل سے نکلے گا آہ بن کر
وہ ایک یارِ طرحدار بھی ضروری تھا
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
وہ بظاھر جو زمانے سے خفا لگتا ھے
وہ بھولتا ہے نہ دل میں اتارتا ہے مجھے
وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد
وہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ہم
وہ بے ارادہ سہی،تتلیوں میں رہتا ہے
وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دل
وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھرجائے گا
وہ تو کیا سب کے لئے فیصلہ دشوار نہیں
وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
وہ تھکا ہوا میری بانہوں میں ذرا سو گیا تھا تو کیا ہوا
وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا
وہ جس سے رہا آج تک آواز کا رشتہ
وہ جس کا ڈر تھا آخر ہوگیا ناں
وہ جو انجام سے ڈر جاتے ہیں
وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
وہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھے
وہ جو خار چبھوتے ہیں
وہ جو صُبحوں سی جبیں رکھتا ہے
وہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعد
وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
وہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گے
وہ حسنِ بلا خیز، یہ اندازِ محبت!
وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا
وہ دعا بھی زر تاثیر سے خالی دے گا
وہ دل میں رہتے ہیں دل کا نشاں نہیں معلوم
وہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گا
وہ دل کہ جو شائستۂ آلام نہیں ہے
وہ دل ہی کیا تیرے ملنے کی جو دعا نہ کرے
وہ دن بھی کیا تھے،غم سے کوئی واسطہ نہ تھا
وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
وہ دھندلکا جسے سب حدِّ نظر کہتے ہیں
وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا
وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں
وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
وہ عکسِ موجہ گل تھا، چمن چمن میں رہا
وہ عہدِ غم کی کاہشہائے بے حاصل کو کیا سمجھے
وہ لوگ جن کو ستاروں کی جستجو ہے بہت
وہ پہلی پہل لگن کا معاملہ ہے عجیب
وہ ڈَھل رہا ہے تو یہ بھی رَنگت بدل رہی ہے
وہ کون لوگ تھے ان کا پتہ تو کرنا تھا
وہ کون ہے جو میرے گرجتے سکوت کا مدّعا نہ سمجھا
وہ کچھ اس طرح بھی تقدیر بنا دیتا ہے
وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی
وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
وہی بہشت کی تنہائیوں سے بیزاری
وہی تھا رنگ اداسی کا رہگزر جیسا
وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچا تھا
وہی حالات ابتداء سے رہے
وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنی
وہی نقش رو برو ہے، وہی عکس چار سو ہے
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
ویرانۂ وجود میں چلنا پڑا ہمیں
ویسے تو کج ادائی کا دُکھ کب نہیں سہا
ٹوُٹتے جاتے ہیں سب آئینہ خانے میرے
ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے
ٹوٹتی راتوں کی خاموشی میں رونا چھوڑ دے
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!
ٹوٹے ہوئے ستارے کے سب تار کس گئے
ٹوٹے ہوئے لفظوں میں روانی نہیں ملتی
ٹھہر کے دیکھے تو رُک جائے نبض ساعت کی
ٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں دوست
پاس رہ کر جُدا سی لگتی ہے
پانی آنکھ میں بھر کر لایا جاسکتا ہے
پانی پر بھی زادِ سفر میں پیاس تو لیتے ہیں
پانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُترا
پتّوں کی طرح شاخ پہ مرنا پڑا مجھے
پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
پتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہے
پربت پربت اڑے پھرے ہے من پنچھی بے چین
پردہء شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے
پرواز کو محدود نہ کر شام و سحر تک
پرکھنا مت ، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
پسِ شفق مُجھے خُونِ جگر نظر آئے
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
پلٹ کے آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا
پلٹنا چاہو، تو جاؤ، ابھی اُجالا ہے
پلک پلک پہ جلائے ہیں اشک تر کے چراغ
پنہاں دل بے تاب میں ارمان بہت ہیں
پوچھا ، بتاؤ زیست کا عنوان ہے کوئی؟
پوچھا ، تمام خواب کے منظر بھلا دئیے؟
پوچھا بتاؤ اوج پہ کیوں درد آج ہے؟
پُورا دکھ اور آدھا چاند!
پُوچھ لو پُھول سے کیا کرتی ہے
پُھول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرے
پُھول کو رنگ ستارے کو ضیا کِس نے دی
پھر اسی غم سے آشنائی ہے
پھر اسی کا خیال آیا ہے
پھر اٹھی دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ
پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے
پھر تیرا ذکر دل سنبھال گیا
پھر تیرے پاس ہوں اور کشمکش جاں بھی وہی
پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے
پھر حسینوں پہ اعتبار کریں
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
پھر سے پیار کا دھوکہ کھایا جاسکتا تھا
پھر لوٹا ہے خورشیدِ جہانتاب سفر سے
پھر لہو بول رہا ہے دل میں
پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
پھر موسم خیال کی ٹھنڈی ہوا چلی
پھر نئی فصل کے عنواں چمکے
پھر نیا خواب آنکھ میں رکھو
پھر چہرہ ہواؤں پہ بناتے ہوئے سوچا
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
پھر یاد وہ مہ جمال آیا
پھرا ہوا جو کسی کی نظر کو دیکھتے ہیں
پھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا
پھول بھی ابر بھی مہتاب تھے میرے کب تھے
پھول بھی کاغذ کے ہیں، مانگے کی ہے مہکار بھی
پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں
پھولوں کی اور چاند ستاروں کی کیا کمی
پھوُل ہیں گلشن میں کچھ خوابیدہ کچھ بیدار سے
پھُولوں سے لہو کیسے ٹپکتا ہوُا دیکھوں
پھیلتا جاتا ہے اک لمحہ جو ڈھلتا ہی نہیں
پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے
پہلی سی بات نہیں باتوں میں
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
پی نہ ملن کو آئے سانول
پیار میں پاگل ہوجاتے ہیں
پیار کا گھاؤ سنو، یوں نہیں کھایا کرتے
پیار کرنے کے لیے گیت سنانے کے لیے
پیار کے دائرے کو تنگ کروں
پیار کے کھیل میں جیون اپنا ہار گئی تو پھر کیا ہوگا
پیارے دیس کی پیاری مٹی
پیماں جو بندھ رہے ہیں، کوئی سُن رہا نہ ہو
پیوست دل میں جب ترا تیرِ نظر ہوا
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے، خبردار سے ہیں
پیہم تلاش دوست میں کرتا چلا گیا
چارہ گر، ہارگیا ہو جیسے
چارہ گرو، کیوں اُلجھاتے ہو غنچہ و گل کے فسانوں میں
چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں !
چاند تارے جب آنگن سے گزرتے ہوں گے
چاند جب بام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
چاند سوُرج نگراں رہتے ہیں باطل کی طرف
چاند مٹھی میں چھپانے کا کبھی سوچا نہ تھا
چاند میری طرح پگھلتا رہا
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
چاند کے پیالے سے ہے چھلکی ہوئی یہ چاندنی
چاند گھٹتا ہی گیا جتنا تجھے یاد کیا
چاند ہاتھ میں بھر کر جگنوؤں کے سر کاٹو اور آگ پر رکھ دو
چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتا
چاندنی پر گماں سیاہی کا
چاندی جیسا رنگ ھے تیرا سونے جیسے بال
چاک دامانیاں نھیں جاتیں
چاہت بھری کتاب سے آگے نکل گیا
چرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا
چراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراق
چراغ لے کے ترے شہر سے گزرنا ہے
چراغِ جاں کو سپرد ہوا بھی اس نے کیا
چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
چراغِ ماہ لیے تجھ کو ڈھونڈتی گھر گھر
چشم میگوں ذرا ادھر کر دے
چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
چلی ہے شہر میں اب کے ہوا ترکِ تعلق کی
چلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
چلے بہشت سے ہم نکہتِ بہار کے ساتھ
چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ھیں
چند گھرانوں نے مل جل کر
چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا
چُپ نہ رہتے بیان ہو جاتے
چُھونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
چٹان چھوڑ کے شاہیں سر نہال آیا
چپ چپ کیوں ہو ؟
چپکے چپکے جل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا کب کا
چھن گئے تم، تو حسِینوں کے یہ میلے کیوں ہیں
چھُپے جو راز، میری قدرتِ بیاں بن کر
چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیں
چھپا کے سَر میں جو تہذیب کے کھنڈر نِکلے
چھڑ گئی اُس سے اہلِ درد کی بات
چہرہ افروز ہوئی پہلی جھڑی ہم نفسو شکر کرو
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
چہرہ نہ دکھا ، صدا سُنا دے
چہرے پڑھتا آنکھیں لکھتا رہتا ھوں
چہرے پہ مرےزُلف کو پھیلا ؤ کسی دن
ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کِس سے بولیے
ڈَر شب کا وہاں کیوں نہ بھلا تیز بہت ہو
ڈھل گیا چاند، گئی رات، چلو سو جائیں
ڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کے
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
ڈھونڈنے جس میں زندگی نکلی
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے
کائناتوں کے تماشائی تھے
کارواںسست رہبر خاموش
کاش کچھ دیر یونہی وقت گزرتا رھتا
کاش گلشن میں یوں بہار آئے
کام آ ہی جائے گی سعئی رائیگاں اک دن
کام آخر جذبہ ء بے اختیار آ ہی گیا
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
کام ہی کیا ہے مُسافر کو، گزُرنے کا سوا
کانٹوں کا اِک مکان مرے پاس رہ گیا
کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی
کب اداسی پیام ہوتی ہے؟
کب تلک اپنی تپش میں آپ جلنا ھے تجھے
کب تلک مدعا کہے کوئی
کب تک آخر مَیں بھَرے شہر کو صحرا سمجھوں
کب تک بیٹھے ہاتھ ملیں
کب تک دل کی خیر منائیں، کب تک راہ دکھلاؤ گے
کب تک شکیل دل کو دعا کیجئے گا آپ
کب ياد ميں تيرا ساتھ نہيں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی
کب کہا ہے کہ مجھے فخر ہے اس جینے پر
کبھی جو حدِّ نظر تک پروں کو پھَیلا دوُں
کبھی جو عہد وفا میری جان تیرے میرے درمیاں ٹوٹے
کبھی جو چھیڑ گئی یاد رفتگاں محسن
کبھی دامن کبھی پلکیں بھگونا کس کو کہتے ہیں
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
کبھی ملنے کبھی مجھ سے جدا ہونے کی جلدی ہے
کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں
کبھی پڑھ لو سمندر پر لکھا جو نام ہوتا ہے
کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو
کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ھیں
کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
کبھی ہیرے کبھی پکھراج میں ڈھلنے والے
کتنا حسین پھر سے نظارہ بنا دیا
کتنا مشکل ہے زندگی کرنا
کتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے
کتنے بہت سے رُوپ ہیں، حضرتِ آدمی کے بھی
کتنے سال رُل جاتے، میں اگر نہیں ہوتا
کتنے نالے تھے جو شرمندئہ تاثیر ہوُئے
کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
کرتا ہُوں جمع میں تو بِکھرتی ہے ذات اور
کرلیا خود کو جا تنہا میں نے
کروٹیں وقت کی بیکار ہوُئی جاتی ہیں
کرکے وفا، پلٹ کے وفا مانگنے لگا
کس رنگ میں ہیں اہلِ وفا، اس سے نہ کہنا
کس سادگی سے ہم ترے صدقے اتر گئے
کس قدر بے شعور ہوتے ہیں
کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
کسی اور کےخواب نہیں دیکھے،کسی اور کو کب اپنایا ہے
کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں
کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں
کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو
کسی کا درد ہو دل بے قرار اپنا ہے
کسی کا راستہ تکتا تو ہوگا
کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے
کسی کو اپنے دردِ عشق میں ہمراز کیا کرتے؟
کسی کو اپنے دردِ عشق میں ہمراز کیا کرتے؟
کسی کو جب نگاہوں کے مقابل دیکھ لیتا ہوں
کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے
کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
کسی کی چاہ میں ایسا بھی کیا سرشار ہو جانا
کسی کی یاد میں پلکیں ذرا بھگو لیتے
کسی کے ہجر کا دل پر نشان باقی ہے
کسی گماں پہ توقی زیادہ رکھتے ہیں
کسی گماں پہ توقی زیادہ رکھتے ہیں
کسے معلوم تھا اس شے کی تجھ میں بھی کمی ہوگی
کشاکش غم ہستی ستائے کیا کہئے
کشتی کوئی تھی رقص میں کوئی بھنور تھا رقص میں
کشتیِ زیست سلامت ہے نہ پتوار یہاں
کشمکش حیات کو جزو حیات پا کے ہم
کفِ مومن سے نہ دروازۂ ایماں سے ملا
کل جنہیں زندگی تھی راس بہت
کل رات بزم میں جو ملا گلبدن سا تھا
کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
کن لفظوں میں اتنی کڑوی ، اتنی کسیلی بات لکھوں
کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں
کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے
کوئی بتائے یہ کیسا غمِ جُدائی ہے
کوئی بتائے یہ کیسا غمِ جُدائی ہے
کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے
کوئی تو ترکِ مراسم پہ واسطہ رہ جائے
کوئی تو تھا پسِ ہوا، آخرِ شب کے دشت میں
کوئی تو مُجھ کو میرا بھر پُور سراپا لا دے
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
کوئی دیکھے تو سہی یار طرح دا رکا شہر
کوئی دیکھے تو یہ سایہ ہے سہارا اپنا
کوئی سخن برائے قوافی نہیں کہا
کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی
کوئی صورت قرار کی نہ رہی
کوئی قضا اسے سمجھے، کوئی بلا جانے
کوئی مرکز بھی نہیں کوئی خلافت بھی نہیں
کوئی موسم تو مہکتی ہوئی صبحیں لائے
کوئی ٹکڑا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہے
کوئی گماں بھی نہیں درمیاں ،گماں ہے یہی
کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا
کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں
کون جگ میں تیرا ہمسر دیکھے
کون سا قافلہ ھے یہ ، جس کے جرس کا ھے یہ شور
کون سی منزل پہ لے آئی اکائی ذات کی
کون کہتا ہے شرارت سے تمہیں دیکھتے ہیں
کون کہتا ہے کہ تجھ سی کوئی صُورت نہ ملی
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا
کوہ کاٹیں گے کبھی، دشت کبھی چھانیں گے
کُل اثاثہ تھا اِک دِیا لوگو
کُنج کُنج نغمہ زن بسنت آگئی
کُوبہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
کُچھ دِل سے نگاہ بدگماں ہے
کُھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
کِتنے خورشید بیک وقت نِکل آئے ہیں
کِتنے سَر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں
کِتنے طلسم عشق کی نادانیوں میں تھے
کِس کو دلدار کہیں، کس کو دلآزار کہیں
کِسی ترنگ ، کسی سر خوشی میں رہتا تھا
کِسی لاعلاج رجائی نے یہ خبر چمن میں اُڑائی ہے
کٹ ہی گئی جدائی بھی یہ کب ہوا کہ مر گئے
کٹی پتنگ ہے ساری دُنیا کی نظروں میں سمائی ہوُئی
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیراخیال بھی
کچھ جو نہیں انہیں مجھ سے حجاب آ گیا
کچھ دن اگر یہی رہا دیوار و در کا رنگ
کچھ دن سے انتظارِ سوال دگر میں ہے
کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا
کچھ لوگ بھی وہموں میں گرفتار بہت ہیں
کچھ لوگ جن کو فکرِ زیاں دے دیا گیا
کچھ لوگ جو سوار ھیں کاغذ کی ناؤ پر
کچھ محتسبوں کی خلوت میں، کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
کچھ مضطرب سی عشق کی دنیا ہے آج تک
کچھ نہ تھا زیست کے صحرائے بلا سے آگے
کچھ پاس نہیں، پھر بھی خزانہ تجھے دیتے
کچھ گھبرایا گھبرایا سا لگتا ہوُں
کچھ ہجر کے موسم نے ستایا نہیں اتنا
کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں
کچے زخموں سے بدن سجنے لگے راتوں کے
کھدائی کو کھنڈر کوئی نہیں ہے
کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آو سچ بولیں
کھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں
کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا
کھڑا تھا کب سے، زمیں پیٹھ پر اُٹھائے ہوئے
کہا اس نے کہ تم تعبیر ہو اور خواب سا ہوں میں
کہا اُس نے ، زمانہ درد ہے اور تُم دوا جیسے
کہا میں نے کہاں ہو تم
کہا میں نے کہاں ہو تم
کہا، ساتھی کوئی دکھ درد کا تیار کرنا ہے
کہانیاں غمِ ہجراں کی، مَیں نے کِس سے کہیں
کہاں آ کے رکے تھے راستے، کہاںموڑ تھا، اسے بھول جا
کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
کہاں دل قید سے چھوٹا ہوا ہے
کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے
کہاں سے آگئے تم کو نہ جانے
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
کہاں گئے وہ سخنور جو میرِ محفل تھے
کہاں یہ بس میں کہ ہم خود کو حوصلہ دیتے
کہتا ہے دَر پن
کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیں
کہنا چاہوُں مگر اے کاش کبھی کہہ پاؤں
کہنے کو تو گزرے کئی طوفان بھی سر سے
کہو تم نے کبھی خوابوں کے رنگوں کو چرایا ہے؟
کہو فلک ، میرے محبوب جیسا کوئی کہیں تھا؟
کہو، تم کیوں جھجکتے ہو ؟
کہو، وہ یار کیسا تھا؟
کہو، کیا جل رہا ہے پھر جہاں میں آشیاں اس کا ؟
کہیں آرزوئے سفر نہیں، کہیں منزلوں کی خبر نہیں
کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
کہیں تو گرد اُڑے یا کہیں غبار دِکھے
کہیں توُ میری محبّت میں گھُل رہا ہی نہ ہو
کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا
کہیں پنگھٹوں کی ڈگر نہیں، کہیں آنچلوں کا نگر نہیں
کہیں چراغ ہیں روشن، کہیں پہ مدھم ہیں
کہیں کہیں پہ ستاروں کے ٹوٹنے کے سوا
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
کیا آگیا خیال دلِ بےقرار میں
کیا بتائیں فصلِ بے خوابی یہاں بوتا ہے کون
کیا بھروسا ہو کسی ہمدم کا
کیا تھا پیار جسے ھم نے زندگی کی طرح
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
کیا جُرم ہے شوقِ خود نمائی؟
کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا
کیا خبر تھی، یہ زمانے بھی ہیں آنے والے
کیا دوستوں کا رنج کہ بہتر نہیں ملے
کیا ذکرِ برگ و بار ، یہاں پیڑ ہل چُکا
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
کیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ
کیا قیامت تھی، کیا قیامت تھی
کیا لگے آنکھ پھر دل میں سمایا کوئی
کیا وہاں کام مری طاقتِ گفتار کا تھا
کیا پوچھتے ہو مجھ سے مری شورشِ جذبات؟
کیا چیز ہے یہ سعیء پیہم، کیا جذبہء کامل ہوتا ہے
کیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیں
کیا کشش حسن روش گار میں ہے
کیا کہوں، اب تجھ کو اپنا کر بھی کیوں افسردہ ہوُں
کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا
کیا کیا نہ خواب ہجر کے موسم میں کھو گئے
کیا ہر پل ہر ساعت ہے ؟
کیا ہوتا نہ آنکھوں کو غمِ ہستی میں تر میں نے
کیا ہے یہ زندگی، یہ سخن ذات ہی سے ہے
کیسی بھلا یہ برہمی یہ پیچ و تاب ھے
کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے
کیسے آئے گا تیرے خدوخال کا موسم
کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر
کیسے کیسے تھے جزیرے خواب میں
کیوں ایک ہی بار آپ انھیں رخصت نہیں کرتے
کیوں ساجن کی آس نہیں ہے؟
کیوں غریبِ آرزو کو اس طرح رسوا کیا
کیوں غریبِ آرزو کو اس طرح رسوا کیا
کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے
کیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیں
کیوں ہر قدم پہ لاکھ تکلف جتائیے
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
گئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرح
گا رہا تھا کوئی درختوں میں
گاؤں مٹ جائیں گے، شہر جل جائے گا
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
گذر آیا میں چل کے خود پر سے
گرانیء شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
گرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئی
گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
گرمیء شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
گزر گیا یہ اگر وقت تو فسانہ ہوا
گزرے دنوں کی یاد برستی گھٹا لگے
گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی
گفتگو سے نہ ہی صورت سے عیاں ہوتا ہے
گفتگو میں یک بیک تبدیلی آواز کیا
گلاب جسم کا یونہی نہیں کِھلا ہوگا
گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
گلابوں سے یہ دل اکتا گیا ہے
گلوں ميں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
گلوں کو سننا ذرا تم، صدائیں بھیجی ہیں
گلہ کرے نہ کبھی، اشک ِغم سے کام نہ لے
گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
گلی کوچوں میں برگِ خشک کی صورت بکھرنا تھا
گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا
گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل
گلے سے باز آیا جا رہا ہے
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
گم صم ھوا آواز کا دریا تھا جو اک شخص
گم ہی نہ ہوگئی ہو مری رہ گزر کہیں
گماں میں جینے کا اس نے ہنر سکھایا ہے
گماں کی اک پریشاں منظری ہے
گنو نہ زخم نہ دل سے اذیتیں پوچھو
گنگ جزبات کو بہتا ہوا دریا نہ کیا
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
گو زر و سیم کے انبار ہیں اغیار کے پاس
گو میری بے کسی کا کوئی رازداں نہیں
گو میرے دل کے زخم ذاتی ہیں
گوری کرت سنگھار
گونج رہی ہے دل میں یوں بھولی باتوں کی چاپ
گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے
گُریز شب سے ،سحر سے کلام رکھتے تھے
گُریز پا ہے جو مجھ سے ، اُسی کے پاس بہت ہوں
گُزر گیا جو زمانہ اُسے بُھلا ہی دو
گُزرے کل سا لگتا ہو جب آنے والا کل
گُل تیرا رنگ چُرا لائے ہیں گلزاروں میں
گھاؤ گہرا بھر جانا تھا
گھبرا کے شبِ ہجر کی بے کیف سحر میں
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
گھر چھوڑنے لگے تو کوئی یاد آگیا
گھر گیا ہوں بےطرح میں خواہشوں کے درمیاں
گھیر لیا ہے وحشت نے
گیا جو مَیں کِسی محفل میں التجا بن کر
ھاتھ دیا اس نے جب مرے ھاتھ میں
ھم سے مت پوچھ راستے گھر کے
ہائے اس مجبوریٔ ذوقِ نظر کو کیا کروں
ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
ہاتھ اٹھے ھیں مگر لب پہ دعا کوئی نھیں
ہاتھ میں تیشہ ہے یا نسخہ کوئی اکسیر کا
ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو
ہجر سہنے کی غم شناسی کی
ہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کردیتا ہے
ہجر کی بد دعا نہ ہو جانا
ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے
ہجر کی صبح کے سورج کی اداسی نہ پوچھ
ہجر کی پہلی شام کے سائے دور افق تک چھائے تھے
ہر آن محبت میں مری جاں پہ بنی ہے
ہر اِک قدم پہ یہ خدشہ میری نگاہ میں ہے
ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
ہر اک سیل بلا، ایک اک شناور سامنے ہے
ہر ایک بات ہے منّت کشِ زباں لوگو
ہر ایک غم نچوڑ کے، ہر ایک رس جیئے
ہر ایک لمحہ پَہن کے صدیوں کی شال گُزرا
ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرو
ہر جانب ویرانی بھی ہوسکتی ہے
ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
ہر خوشی میں کوئی کمی سی ہے
ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا
ہر ذرہء امید سےخوشبو نکل آئے
ہر ذہن میں منزل کا تصوّر تھا ہوائی
ہر سمتِ چمن ماتم ہوُا ہے
ہر سُو خیالِ یار کی چادر سی تان کے
ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے
ہر شے اپنی اپنی زباں میں اظہارِ حالات کرے
ہر قدم مرحلہء دار و صلیب آج بھی ہے
ہر لمحہ اگر گریز پا ہے
ہر نظر پیار تو ہر لب پہ ہنسی مانگتے ہیں
ہر نفس ان کا خیال آتا رہا
ہر نفس درد کے سانچے میں ڈھلا ھو جیسے
ہر نفس رنج کا اِشارہ ہے
ہر نفس عزم خطا کوشی بروئے کار تھا
ہر چند مری قوتِ گفتار ہے محبوس
ہر گوشئہ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
ہر گھڑی رائیگاں گزرتی ھے
ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
ہزار خوف ھو لیکن زبان ھو دل کی رفیق
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
ہم اندھیروں سے بچ کے چلتے ہیں
ہم اپنے چراغ کیوں بجھائیں
ہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی
ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے
ہم جس پیڑ کی چھاوں میں بیٹھا کرتے تھے
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
ہم سادہ دلوں نے دشمنی سے
ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
ہم سے دلچسپ کبھی سچّے نہیں ہوتے ہیں
ہم سے کیا پُوچھتے ہو ہِجر میں کیا کرتے ہیں
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں ، تری گلیوں میں
ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں
ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں
ہم نے منصف جسے بنایا تھا
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
ہم پرورشِ لوح قلم کرتے رہیں گے
ہم کبھی عِشق کو وحشت نہیں بننے دیتے
ہم کو اپنا پتا نہیں ملتا
ہم کو اپنا پتا نہیں ملتا
ہم کو اکثر گھاؤ دل کے خون سے دھونا پڑے
ہم کو بڑے خلوص سے مرجانا چاہیے
ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہے
ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
ہم کو مٹا سکے ، یہ زمانے میں دم نہیں
ہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سُہانے سُہانے لگے
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہم ہی آغازِ محبّت میں تھے، اَنجان بہت
ہم ہیں آج پھر ملول یارو
ہم ہیں اور ان کی خوشی ہے آج کل
ہماری سوچوں پہ چھا گیا ہے
ہمارے بس میں اگر اپنے فیصلے ہوتے
ہمارے بعد چلی رسم دوستی کہ نہیں؟
ہمارے خواب سے بہتر خیال بنتا ہے
ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
ہمارے پاس تو آؤ، بڑا اندھیرا ہے
ہمتِ التجا نہیں باقی
ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا
ہمیں زمانہ ہوا آپ سے وفا کرتے
ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
ہمیں پچھاڑ کے کیا حیثیت تمہاری تھی
ہمیں کیا کیا ملا اس آستاں سے
ہمیں یاد آیئں اکثر تری دلبری کی باتیں
ہنس ہنس کے زندگی کی دعا دے گیا مجھے
ہنستے گاتے روتے پھول
ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا
ہنسی آتی ہے مجھ کو امتیازِ دشت و گُلشن پر
ہنوز درد محبت سکوں نواز نہیں
ہو تو کمال ربط محبت کسی کے ساتھ
ہو چکیں بزمِ طرب، رقصِ شرر کی باتیں
ہوئی اک عُمر ترکِ التجا کو
ہوئے ہیں اہلِ جہاں سارے مہرباں کیسے
ہوا سے جنگ میں ہوں ‘ بے اماں ہوں
ہوا سے مل کر چنری کاہے مجھ کو ستائے؟
ہوا نہیں کہ جسے دیکھ ہی نہ پاؤں گا
ہوا چلی بھی تو خود سے ڈرا دیا ھے مجھے
ہوا کی دُھن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
ہواؤں سے سَدا لڑنے کی عادت
ہوائے دشت میں کیفیتِ بہار بھی ہے
ہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں
ہوس تو ہے کہ بلندی پہ تیرا گھر دیکھوں
ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں
ہونٹ کھولے ہوئے خاموش دریچے دیکھو
ہونٹوں پہ تبسّم لانے کو ہم کتنے خراب و خوار ہوُئے
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
ہيں لبريز آہوں سےٹھنڈی ہوائيں
ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے
ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں
ہے کرب ہجر میں وہی جو ہے وصال میں
یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
یاد بھی خواب ہوئی، یاد وہ آتے کیوں ہیں؟
یاد سمندر پار جو کرنا پڑتا ہے
یاد کیا آئی کہ روشن ہو گئے آنسو کے گھر
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے ،نہ گئے
یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
یادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھ
یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے
یارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
یارب، تو اگر اب بھی گریزاں رہا ہم سے
یارو کہاں تلک محبت نبھاؤں میں
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو
یوُں تو مَیں دشت پہ بھی پر تو گلشن دیکھوں
یوُں تو پہنے ہوُئے پیراہنِ خار آتا ہوُں
یوُں تو پہنے ہوُئے پیراہنِ خار آتا ہوُں
یوُں تو کہنے کو ہے بدن بھی یہی
یوُں تو ہر دَور میں ڈھالے گئے پیکر کِتنے
یوں آفتاب ِ شوق شب ِغم میں ڈھل گیا
یوں ارتباط شادی غم دیکھتے رہے
یوں اس پہ مری عرضِ تمنا کا اثر تھا
یوں بٹ کے، بکھر کے رہ گیا ہوُں
یوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصد
یوں تمھارا طرزِ محبوُبی تو معصُومانہ تھا
یوں تو اس جلوہ گہِ حُسن میں کیا کیا دیکھا
یوں تو سب پھول کھلے سائے میں تلواروں کے
یوں تو کیا چیز زندگی میں نہیں
یوں تو ہے پرستار زمانہ تیرا کب سے
یوں تیرے حسن کی تصویر غزل میں آئے
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے
یوں لاکھ اک خرابۂ دیوار و در ملے
یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
یہ ان دنوں کا ذکر ہے اک بادشاہ تھا
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے
یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے
یہ اچھا ہوا وہ خفا ہوگیا
یہ اگر انتظام ہے ساقی
یہ بھی شبِ تار، وہ بھی شبِ تار
یہ تمام غنچہ و گل، میں ہنسوں تو مسکرائیں !
یہ تو آساں ہے عرض غم پنہاں ہو جائے
یہ جب تیری مشیت ہے تو کیا تقصیر میری ہے
یہ جلوہ گاہِ ناز تماشائیوں سے ہے
یہ جو آنسوؤں میں غرور ہے
یہ جو اِک عُمر کی تنہائی ہے
یہ جو قول و قرار ہے ، کیا ہے
یہ جو ہم سفر میں بھی گھر سا اک بناتے ہیں
یہ خلاء عرش بریں نہیں، کہاں پاؤں رکھوں زمیں نہیں
یہ خوابِ سبز ہے یا رت وہی پلٹ آئی
یہ خوف دل میں نگاہ میں اضطراب کیوں ھے؟
یہ دشتِ ہجر یہ وحشت یہ شام کے سائے
یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی
یہ دل ملول بھی کم ہےاداس بھی کم ہے
یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
یہ دل کی بات کسی کو نہیں بتانے کی
یہ دنیا شہرِ نا پرساں، زمانہ یہ سیاست کا
یہ دوپہر، یہ خموشی کے لب پہ سائیں سائیں
یہ راز ہے جواز میرے انتظار کا
یہ رزم گاہِ عناصر کسی کے کام آئے
یہ زرد پتوں کی بارش میرا زوال نہیں
یہ سال بھی اداس رہا،روٹھ کر گیا
یہ سرمئی فضاؤں کی کچھ کِنمناہٹیں
یہ سودا مجھ کو مہنگا پڑگیا ہے
یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
یہ صبح و شام کی الجھن، یہ روز و شب کی یاد
یہ عجب ساعت رخصت ہےکہ ڈر لگتا ہے
یہ عُمر بھر کا سفر اور یہ رائیگانی تری
یہ غزل کِس کی ہے اس مطلعے کو پڑھ کر دیکھو
یہ غم نہیں، کوئی پتّھر اِدھر بھی آئے گا
یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں
یہ مصرع کاش نقشِ ہر در و دیوار ہو جائے
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
یہ موسم گل گرچہ طرب خیز بہت ہے
یہ میری بے جہتی ہے کہ تیری بے خبری
یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
یہ میں جو حرف سے مصرعے نہیں حجرے بناتا ہوں
یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا
یہ وصال ہے کہ فراق ہے، دلِ مبتلا کو پتا رہے
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ کیا ستم ظریفی فطرت ہے آج کل
یہ کیا کہ دن کو بھی رات لکھو
یہ کیا، کہ لمحۂ موجود کا ادب نہ کریں
یہ کیسا خوف تھارخت سفر بھی بھول گئے
یہ کیسی بے خودی ہے ؟
یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن
یہ ہجومِ نامرادی دلِ بے قرار کب تک؟
یہ ہم جو تجھ سے تجھے بار بار مانگتے ہیں
یہ ہم جو تجھ سے تری بات کرنا چاہتے ہیں
یہ ہو رہی ہیں جو سرگوشیاں ہواؤں میں
یہاں سے دُور نہ ہو گا دیارِ موسمِ گُل
یہی بہت ہے کہ دل اس کو ڈھونڈ لایا ہے
یہی دنیا ہے اُس کی راہگزر
یہی نہیں کوئی طوفان مِری تلاش میں ہے
”ذرا سنبھل کے سرِ بزم چھیڑنا ہم کو“