4512 of 11,111 Ghazals...
دین اور تعلیم
فلک کو کس نے اک پرکار پر رکھا ہوا ہے
پھر بچھڑے پتے شاخوں سے
Achy Lagty Hain
آدمی جلتا دیا ھے اور بس
آنکھ میں بے کراں ملال کی شام
آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ھے
آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے
اب تو ہر اِک آن بدلتی رُت سے جی ڈرتا ہے
اب تو یوں لگتا ھے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا
اب رفتگاں کی یاد کا کچھ تو پتا بھی دے
اب وہ طوفان ھے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اجاڑ بستی کے باسیو،ایک دوسرے سے پرے نہ رہنا
اس طرح مِرے ذہن میں اُترا ہُوا تُو ہے
اس کو اپنے گھر کی سناٹے سے کتنا پیار تھا
اس کو پا کے ہم یہ سمجھے تھے کہ کچھ کھویا نہیں
اسے تو کھو ہی چکے پھر کیا خیال اس کا
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے
اُس کی تسکین کو غارت کرتا
اپنے گھر کو جَلتا چھوڑ آیا ہوُں میَں
اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا
ایک دن طبع آزمائی کی
بچھڑ کے تجھ سے یہ سوچوں کہ دِل کہاں جائے؟
بکھرتا جسم میری جاں کتاب کیا ھو گا؟
بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا
بہار کیا اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
تراشتا ہے سَفر، آبلے نکھارتا ہے
تم حقیقت نہیں ھو حسرت ھو
تمام شہر میں وہ نقش پا تلاش کروں
تمام عمر وہی قصّئہ سفر کہنا
تو نے اس موڑ پہ توڑا ھے تعلق کہ جہاں
جامۂ مستیِ عشق اپنا مگر کم گھیر تھا
جانے اب کس دیس ملیں گے اونچی ذاتوں والے لوگ
جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ھر رستہ سنسان ھوا
جب سے قلم کو حنامئہ مانی بنا لیا
جس کی قسمت ہی در بدر ٹھہرے
جن پر ستم تمام قفس کی فضا کے تھے
جو شہر مِٹ چکے ہیں وہ آباد کب ہوُئے؟
جگنو،گہر،چراغ،اجالے تو دے گیا
جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا
جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ھے
خواب در خواب لکھ رہا ہوں میں
خواہشوں کے زہر میں اخلاص کا رس گھول کر
در قفس سے پرے جب صبا گزرتی ھے
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے پتے اگر بولیں
دشت ہجراں میں کوئی سایہ نہ صدا تیرے بعد
دل میں ہے رَنجِ رہگزر کِتنا
دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا
دُھوپ چھاؤں میں کدُورت کیوں ہے؟
دِل تیرا درد سَدا مانگتا ہے
دیا خود سے بجھا دینا
ذرا سی دیر میں ہم کیسے کھولتے اُس کو
رخصت ہوا تو بات میری مان کر گیا
رفیق سندیلوی :میں اِک پہاڑی تلے دبا ہوں کسے خبر ہے
رکے ہوئے ہیں کہ حالت سفر میں ہیں
رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
سجا کے سر پہ ستاروں کا تاج رکھتا ھے
سخنوری کا جو محسن کبھی ارادہ کرو
سفر تنہا نہیں کرتے
سفر کا ذوق ہی کچھ تو مسافروں میں نہ تھا
سمجھ سکا نہ میرے چاند کوئی درد تیرا
سَرِ حُسنِ کلام تھا، تیرا نام بھی میرا نام بھی
سَناٹے میں بند دریچہ کھول دیا کرنا
سُخن سو بار خُود سے تولتا ہوں
سکوں سے آشنا اب تک دل انساں نہیں ہے کہوں کیوں کر کہ احساس غم دوراں نہیں ہے
سکوں کے دن سے فراغت کی رات سے بھی گئے
شفق کی جھیل میں جب سنگِ آفتاب گِرے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
فلک پر اِک ستارا رہ گیا ہے
فلک کا منہ نہیں اس فتنے کے اٹھانے کا
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
فنکار ھے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
لٹتے کہاں کہ صاحب جاگیر ہم نہ تھے
لہو کی موج ہوں اور جسم کے حصار میں ہُوں
محبت پھول ھے،پتھر نھیں ھے
ملا ھی تھا تو پھر اپنوں کی طرح ملنا تھا
موسم گل بھی نہیں،تو بھی میرے پاس نہیں
موسمِ گل بھی نہیں تُو بھی میرے پاس نہیں
مَیں بھی اُڑوں گا ابر کے شانوں پہ آج سے
مہرباں کوئی نظر آئے تو سمجھوں تو ہے
میری محبت تو اک گہر ھے،تیری وفا بے کراں سمندر
میکدہ تھا، چاندنی تھی، میں نہ تھا
میں جاں بہ لب تھا پھر بھی اصولوں پہ اڑ گیا
ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
نبی نہ تھے مگر انساں پہ جاں چھڑکتےتھے
نفَس کو جب دُھواں کہنا پڑے گا
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
نہ دل میں لَو نہ گریباں ہے سُرخرو میرا
وحشت میں سکون ڈھونڈتی ہے
وحشتیں بکھری پڑی ہیں جس طرف بھی جاؤں مَیں
وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی
وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی
وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی
وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا
وہ دن کتنے اچھے تھے
وہ ماہتاب جو ڈوبا ھوا ملال میں تھا
پتوں کی طرح خود سے بکھرتے ھوئے کچھ لوگ
پتیاں پھولوں کی بکھریں راستے کی ڈھال پر
پھر وہی مَیں ہُوں وہی درد کا صحرا یارو
پھر کوئی یاد آ گئی جیسے
چارہ گر سارے پریشاں ہیں کہ سب کیا تھا
چبھتے اشکوں سے بجھی آنکھیں نہ چمکایا کرو
کام پل میں مرا تمام کیا
کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا
کبھی جو فرصت ملے تو دل کے تمام بے ربط خواب لکھوں
کبھی جوغم نے گھڑی بھر کو تھک کے سانس لیا
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
کوئی بھی چیز جہاں میں سدا کسی کی نہیں
کوئی نئی چوٹ پھر سے کھاؤ اداس لوگو
کیا خزانے میری جاں ہجر کی شب یاد آئے
کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دلِ آرمیدہ تھا
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا
کیا ھے عہد تو اس کو نباہتے رھنا
گفتگو اُس سے جو کَل ہو جاتی
گِلا نہیں کوئی تجھ سے جو تُو دکھائی نہ دے
ہجر کی شام دھیان میں رکھنا
ہجر کی شب کا نشاں مانگتے ھیں
ہجر کے شہر میں دھوپ اتری،میں جاگ اٹھا تو خواب ھوا
ہجوم میں تھا وہ کھل کر نہ رو سکا ھو گا
یوں ھر اک کاغذ اٹھا کر چاک کرنا کیا ھوا
یوں ہرِدے کے شہر میں اکثر تیری یاد کی لہر چلے
"Ab KHUDA K Liay Chord Do Nafrten"
"MGR JANAT TU HAI"
4>>>Kaghaz Kay Phool...!!
Aankhon Aankhon Main,,,,P,I,A
Aapka Dukh Hum Sah Nahi Sakte m,,,,P,I,A
ab bhi baqi hai
ADNAN & FAROOQ
Aik khoobsurat shair
ajeeb kashmkash
alone_person_in_many_frnds
anjame ashqi
Apni nagah-e-naaz k khanjar se mar do
Ay Dost ,,P,I,A
AY DUST,,P,I,A
Bewafa Bhi Na Keh Saka,,,,,,,,,,,,P.I.A
Bewafa Ka Talabgaar Tha,,,,,P,I,A
Bewafai se pareshan bhi ho jatey hain
by naeem abbas ranjha
by naeem abbas ranjha http://www.freeurdupoetry.com
chahat 4 zahid.P.I.A
chahat 4 zahid P.I.A
chamak teri ayan bijli mein aatish mein shrarey mein
chamak teri ayan bijli mein aatish mein shrarey mein
Dekho Aawaz Dekar, Paas Hamme Paoge ,,, P,I,A
dil bi bujha ho sham ki......
dil-e-nadan tujhey huwa kya hai
dont now
EK Lamha-e-Wisaal Tha Wapas Na Aa Saka
ek pal ke liye
For My Dear Friend
Ganwa di hum na jo islaf say
GEET
Gham-e Dauran bhi to hai k galat hota nahi
ghazal
Ghazal
GORME ULFAT KI SAZA DATAIN HAIN TARE Y SHARE K LOGE
gulo me rang bhare base no bahar chale
hadsay peeshe nazar thay phir bhi main chalta raha
hadsay peeshe nazar thay phir bhi main chalta raha
ham se kia ho ska
Har Shaks Ki Ajab Kahani Hai Ay Dost ,,,,,P,I,A
Her Ek Shakhs Kaha'n Hum Kheyal Hota Hay
http://www.youtube.com/watch?v=ffH5aS5d53U
Hum na tum ko bhula saky 313.2417039
Inqilaab
inshaa ji
iqbal
Jab bhi jazbon ke liye alfaz nashtar ho gaye
joke
joke
Kaash Yeh Zalim Judaai Na Hoti ,,,,P,I,A
Kabhi Yeh Hont Tarsay Hoon
kabhi yeh hont tarsey hon
kabi nazre malane me zamane bheet jate haen
Kai badnamia'n hoti , kai ilzam sar jatey
Kalam by Raees warsi
Kalam By Sarfaraz Sultani
Kalam By Sarfaraz Sultani
Kalam By Sarfaraz Sultani
kash main tere hasin hath ka gangan hota
kia khadim aur kia makhdoom,,,, sab alfaz ka chakker hai yeh
Kisi ghar men koi pathar gira tha
Kisi Ka Khawab Dekha Ho
kisi se pyar jo kaRO GE
Kisma ,,,,,,,,P,I,A
Koi aansoo tere daaman par gira kar
KUCH TO ARZOO BANI SAHIR
Main Zindagi Kese Bitaon
matai loho qalqm chin gaya to kiya gham hai
mery dil ki sbhi baharon pe
Mil Kr B Us se Hasrat-E-Mulaqat Reh Gae
mirza zain ul abedin ''yadien udas karti hein''
Mohsin raza A
muhbbat ho to aise P.I.A
naseeb
Qaisar Muneer 0345/7679576
ROH E INQALAB
Samandar kya karen ge qatra-e-shabnam chura lae'n
sarab
SHAHEED E INQALAB by M Atif (Khi) 0321-2408785
sham
shikewa or jawabe shikwa
shikwa
SYED AMMAR HASSAN GILLANI
Tanhai
Tarz-e-Fikro Nazar Nahia'n Aaya
tera mera rishya kesa
thoda sa ghame-tarke-muhabbat hai mujhe bhi.
tum bin
tum pocho or main na bataon
Ussay Bhoula Kay Bhi Yadoun Kay Silselay Na Gaye
uthay gi us ki naza rafta rafta
WABASTGI
waqte mushkil mein bhee honto per hansi achchi lagee
wo aarzoo he kia
wo raat
Yu To Koi Tanha Nahi Hota,,,,,,P.I.A
zamane bheet jate he
{Amjad Ali Shah} آپ سے دوستی نہیں ہوتی
آ مری جاں! کہاں بھٹکتا ہے
آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں
آ گئی ہیں رحمتیں پھر جوش میں
آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
آ گیا راس شکستوں کا شمار آخرِ کار
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
آؤ جینے کا اہتمام کریں
آؤ جینے کا اہتمام کریں
آؤ ساجن سے ملواؤں
آؤ ساجن سے ملواؤں
آؤ کہ ہم غریب لیں، قسمت کو ہات میں - اِبنِ اُمید
آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے
آئینوں میں عکس بن کر ٹوٹتے رہ جائیں گے
آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
آئینہ بن کر کبھی ان کو حیراں دیکھیے
آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا؟
آئینہ حسّ و خبر سے عاری
آئینہ دیکھ کے، ایک اور تماشا دیکھو
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
آئینۂ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیں
آئینۂ حیرت ہوں تری جلوہ گری کا
آئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیا
آئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیا
آئینے سے رہا کرئے کوئی
آئینے سے شمع گل کرنا پڑے
آئینے میں بھی وہ حیرت نہ رہی
آئینے پر کبھی کتاب میں ھیں
آئے تھے اُن کے ساتھ، نظارے چلے گئے
آئے کوئی، تو بیٹھ بھی جائے، ذرا سی دیر
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
آئے ہیں میر منھ کو بنائے خفا سے آج
آئے، کوئی انقلاب آئے
آبدیدہ تھا جو میں بے سر و سامانی پر
آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیں
آبلہ پا گھومتا ہوں وادئ بیداد میں
آتا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اُتار بھی؟
آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا
آتاہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا
آتے جاتے ھوئے لوگوں پہ نظر کیا رکھنا
آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں
آج اشکوں کا تار ٹوٹ گیا
آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
آج تو بے سبب اداس ہے جی
آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم
آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم
آج تک حُسن کا معیار ہے عشِق آزاری
آج تک میں نہیں سمجھا تیری دنیا کیا ہے
آج جو تُجھ سے ملا ہے، کل جدا ہو جائے گا
آج سوچا تو آنسو بھر آئے
آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی
آج کی شب تم نہ آ پائے، مگر اچھا ہوا
آج کیوں ہم سے لپٹتی ہے صبا
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
آخر تمام کاغذِ تنہائی جل گیا
آخر کار ہم انجامِ سفر تک پہنچے
آداب عاشقی سے بیگانہ کہہ رہی ہے
آدمی وقت پر گیا ہوگا
آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
آرزو چیز ہے کیا اور تمنا کیا ہے؟
آرزوئے جناب کون کرے؟
آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے
آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے
آزاد کردے اپنا گرفتار میں ہی ہوں
آسمان کی سمت دیکھو جا رہا ہے پھر کوئی
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
آسماں بحر کی پُتلی سے عیاں ہوتا ہے
آسماں کی چادر پرجس قدر ستارے ہیں
آشیاں میں بھی آنکھ بھر آئی
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
آفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہے
آفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہے
آلام حیات‘ لوٹ آئیں
آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
آن رہ جائے گی تمہاری بھی
آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
آنسو ؤں سے دُھلی خوشی کی طرح
آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
آنچل کو گھونگٹ کر جانا اب کی بار جو آؤ تم
آنکھ بن جاتی ھے ساون کی گھٹا شام کے بعد
آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ
آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ
آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
آنکھ رو جاے یہ ممکن ہی نہیں داغ دھو جاے یہ ممکن ہی نہیں
آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا تو پھر سورج ابھرا ہوتا
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
آنکھ میں رنگ بھریں ، روح کو تازہ کرلیں
آنکھ نے بات کی لب سے پہلے
آنکھ کے شیشوں میں پہلے روشنی نہ تھی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا
آنکھوں میں انتظار کے بادل ٹھہر گئے
آنکھوں میں ترا دیار بھی ہے
آنکھوں میں ترا دیار بھی ہے
آنکھوں میں جل رہا ہے کیوں بجھتا نہیں دھواں
آنکھوں میں جی مرا ہے اِدھر پار دیکھنا
آنکھوں میں رہا‘ دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
آنکھوں میں کوئی خواب اترنے نہیں دیتا
آنکھوں میں کہیں عکس تمہارا نہیں کوئی
آنکھوں پہ تھے پارۂ جگر رات
آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا
آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے
آنکھوں کے خواب زار کو تاراج کر گئی
آنکھیں تیری، کیوں لُٹی ہوُئی ہیں
آنگن میں اُترا ہے بام و در کا سناٹا
آنے والی تھی خزاں ، میدان خالی کر دیا
آو کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہم
آواز میں عجب کھنک ہے
آپ آئیں شب غم اتنا بھی احساں کیوں ہو؟
آپ آئے یاد کی وہ فتنہ سامانی گئی
آپ آتے ہیں تو ملنے سے خوشی ہوتی ہے
آپ اپنی آرزو سے بیگانے ہو گئے ہیں
آپ جیسے یہاں فنکار بہت ملتے ہیں
آپ نے مَسَّنی الضُّر کہا ہے تو سہی
آپ کا اعتبار کون کرے
آپ کے چہرے
آپ کے، اے مہرباں! آنے تلک
آگ اشکِ گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
آگ لہرا کے چلی ہے اِسے آنچل کر دو
آگ کے درمیان سے نکلا
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
آگ ہیں عمل میرے یا ثواب رہنے دے
آگہی میں اک خلا موجود ہے
آگے جمالِ یار کے معذور ہوگیا
آہ دشوارئی و سوہان سفر کیا کیجے
آہ سحر نے سوزشِ دل کو مٹا دیا
آہ پہلی سی کوئی بات کہاں؟
آہ پہلی سی کوئی بات کہاں؟
آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے* تک
آہ کے تئیں دلِ حیران و خفا کو سونپا
آہن میں ڈھلتی جائے گی اکیسویں صدی
آہوں کی بارات سجی ہے، اشکوں کی برسات ہوئی ہے
آیا تھا خانقہ میں وہ نور دیدگاں کا
آیا جو واقعے میں درپیش عالمِ مرگ
آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر
اب آنے والی ہے فصلِ بہار ، سوچتے تھے
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
اب اس کو وہ بھولی باتیں یاد دلانا ٹھیک نہیں
اب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہے
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
اب اُن سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا
اب اے میرے احساس جنوں کیا مجھے دینا
اب ترے رُخ پر محبّت کی شفق پھُولی، تو کیا
اب تصور میں حرم ہے نہ صنم خانہ ہےM Nazim Rao Sufi Poetry
اب تمہارے لوٹ آنے کا کوئی امکاں نہیں
اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے
اب تو ہیں اُس شوقِ گستاخانہ سے بیگانہ ہم
اب تک تو نور و نگہت و رنگ و صدا کہوں
اب تک موجود غزلیات کے پہلے مصرعوں کی فہرست
اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!
اب تک ہے وہی عشق فسوں ساز کا عالم
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
اب جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیا
اب خیالوں میں بھی مشکل ہے رفاقت اُس کی
اب دعا، بد دعا میں فرق کہاں
اب دل ہے مقام بےکسی کا
اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
اب دُھوپ بھول جاؤ کہ سورج یہاں نہیں
اب ساری خدائی ہے تماشائی ہماری
اب ساز ِ وفا میں دم نہیں ہے
اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے
اب شہر میں کوئی بھی ستم گر نہیں رہا
اب شہرِ جاں بچانے کی خواہش نہیں رہی
اب مانگ میں سجی ہوئی رستے کی دُھول ہے
اب مجھے مے نہیں ، میکدہ چاہیئے
اب محبت کی وکالت نہیں کی جا سکتی
اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
اب نہ بولو گے تو پھر بول نہ پاؤ گے کبھی
اب وفا اور جفا کچھ بھی نہیں
اب وہ خود محو علاج درد پنہاں ہو گئے
اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پُر آب روز و شب
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
اب کرو گے بھی کیا وفا کر کے
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
اب کہاں وہ لوگ جن کے نام سے
اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
اب کیسی پردہ داری ، خبرعام ہو چکی
اب کے بارشوں میں یہ کار زیاں ھونا ھی تھا
اب کے بچھڑا ہے تو کچھ ناشادماں وہ بھی تو ہے
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں
اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اب کے یوں موسمِ بہار آیا
اب ہوش و حواس کھو رہے ہیں
اب یاد نہیں آتا مجھے کون ہوں کیا ہوں
اب یہ بات مانی ہے
اب یہ خواہش ہے کہ اپنا ہمسفر کوئی نہ ہو
اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
اب یہ ویران دن کیسے ہوگا بسر
ابتدائے شوق کااعلانِ مستانہ ہوں میں
ابر اُترا ہے چار سو دیکھو
ابروئے چشم دشمناں جیسا
ابروئے چشم دشمناں جیسا
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
ابو لہب کی شادی
ابھی آگ پوری جلی نہیں، ابھی شعلے اونچے اٹھے نہیں
ابھی آگ پوری جلی نہیں‘ ابھی شعلے اونچے اٹھے نہیں
ابھی تو طے نہ ہوا تھا مرا سفر آدھا
ابھی تو میری تمنّا جوان ہے دیکھو
ابھی جذبہ شوق کامل نہیں ہے
ابھی سے خواب جزیروں سے اتنا ڈرتے ہو
ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
ابھی مجھے اک صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے
ابھی ميں محبت کو بھولا نہيں ہوں
ابھی نہیں اگر اندازہء سپاس ہمیں
ابھی پروں میں اڑانوں کا زور زندہ ہے
ابھی کیا تھا، ابھی یہ ہوگیا کیا
ابھی کیا تھا، ابھی یہ ہوگیا کیا
اتر گیا تن نازک سے پتیوں کا لباس
اتریں عجیب روشنیاں رات خواب میں
اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں
اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
اتنی بلندیوں سے، تہوں میں اُتر نہ جا
اتنی بڑھی جو بات کوئی مسئلہ تو تھا
اتنی فرصت نہیں اب اور سخن کیا لکھنا
اتنی لمبی ہے کہانی کہیں دم ٹوٹ نہ جاۓ
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
اثر دعاؤں میں کیونکر ہو چشمِ تر کے بغیر
اج آکھاں وراث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول
اجل سے وہ ڈریں جینے کو جو اچھا سمجھتے ہیں
اجنبی آنکھ نے جب مجھ میں اتر کر دیکھا
اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا
اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا
اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا
اجنبی خوف فضاؤں میں بسا ہو جیسے
اجنبی شخص نے چپکے سے جو کھولیں آنکھیں
اجنبیت بھی ایک رشتہ ہے
اجڑ اجڑ کے سنورتی ھے تیرے ہجر کی شام
احباب سب بضد کہ گوہر تراشنا
احباب کے حِصّے میں ہزاروں ہُنر آئے
احساس میں پھول کھِل رہے ہیں
اختلاف اس سے اگر ہے تو اسی بات پہ ہے
اداس راتوں میں، تیز کافی کی تلخیوں میں
اداس شام دلِ سوگوار تنہائی
اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
اداسِیوں کا ہُنر اِختیار کرتے ہیں
ادراک پر محیط ہے ارض و سما کا دُکھ
ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو
ادھر آکر شکار افگن ہمارا
ادھر بھی دیکھ کبھی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے
اذانِ صُبح سے شب کا علاج کیا ہو گا
ارادہ کب تھا اُس کا خُود کو دریا میں ڈبونے کا
اس ادا سے وہ وفا کرتے ہیں
اس ایک ذات سے اپنا عجیب ناتا ہے
اس بت کدے میں تو جو حسیں ترلگا مجھے
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے
اس داستانِ زیست کا الجھا خیال تُو
اس در کا دربان بنادے یااللہ
اس دل نے تیرے بعد محبت بھی نہیں کی
اس دل کے چند اثاثوں میں ایک موسم ہے برساتوں کا
اس دنیا میں اپنا کیا ہے
اس دورِ بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو
اس دھرتی پر ایسے آدم بھینٹ چڑھے
اس سے ملنا ہی نہیں دل میں تہیہ کر لیں
اس سے پہلے کہ بے وفا ھو جائیں
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
اس سے پہلے کہ حشر آنے لگے
اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہیے
اس طرح کے حادثے مجھ کو ستانے لگ گئے
اس طرح ہوں ترے خیال میں گم
اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے
اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا
اس عہد میں‌ الہی محبت کو کیا ہوا
اس قدر مجھ سے بڑھی ہے آبروئے انتظار
اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
اس نے محبت کو بھی اک تجارت سمجھا
اس نے پوچھا تھا وفا کی بابت
اس نے پوچھا وچن نبھایا ہے ؟
اس نے کہا جو رات، وہیں رات ھو گئی
اس نے کہا کہ دل میرا آزاد ھو گیا
اس نے کہا کہ ھم بھی خریدار ھو گئے
اس نے کہا ھم آج سے دلدار ھو گئے
اس نے کہا ھم آج سے غمخوار ھو گئے
اس نے کہاکہ مجھ سے تمہیں کتنا پیار ہے؟
اس وقت وہ حدّت ہے امانت میرے فن کی
اس پر بھی دشمنوں کا کہیں سایہ پڑ گیا
اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے
اس پہ ظاہر مرا احوال نہیں ہو سکتا
اس کا خیال خواب کے در سے نکل گیا
اس کشمکشِ ذہن کا حاصل نہیں کچھ اور
اس کو تکتے بھی نہیں تھے پہلے
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ھوگا
اس کی پائل اگر چھنک جائے
اس کی چاہت کا بھرم کیا رکھنا؟
اس گلی کا نشاں ملے نہ ملے
اسرافیل کی موت
اسی آگ میں
اسی آگ میں:رفیق سندیلوی
اسی ایک شخص کے واسطے میرے دل میں درد ہے کس لیے
اسی طرح سے ہر اک زخم خوشنما دیکھے
اسی طلسم شب ماہ میں گزر جائے
اسی لیے تو اجل نے دیا ہے جینے مجھے
اسی لیےتو اندھیرے بھی کم نہیں ہوتے
اسے اپنے کل ہی کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
اسے تشبیہہ کا دوں آسرا کیا
اسے جلوہ دکھانا ھے وہ آئے تو کدھر آئے
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چُھپا لیں گے
اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا
اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا
اشک جب اپنی آنکھ میں آیا، ساری کہانی ختم ہوئی
اشکوں میں جو پایا ہے وہ گیتوں میں دیا ہے
اشکوں میں جو پایا ہے وہ گیتوں میں دیا ہے
اشکِ الفت کا یہ انجام؟ خُدا خیر کرے!
اشکِ الفت کا یہ انجام؟ خُدا خیر کرے!
اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اظہار اور رسائی
اظہارِ الم، شکوہء دوراں نہیں کرتے
اعتبارِ نگاہ کر بیٹھے
اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا
افسردہ نہ ہوا اے نگر ناز محبت
افق کو افق سے ملا دینے والے
افلاک کا سایا ہے جو کُچھ بھی زمیں پر ہے
افلک کے روزنوں سے جھانک کر سورج نے دیکھ :رفیق سندیلوی
اقرار کر گیا کبھی انکار کر گیا
اقرار گئے انکار گئے ہم ہار گئے
اقرارِوفا، اُمید کرم، کچھ کہہ نہ سکے، کچھ بھول گئے
اللہ اللہ رے پریشانی مری
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
الہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانی
امانت
امید و بیم کے محور سے ہَٹ کے دیکھتے ہیں
ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
ان شوخ حسينوں پہ مائل نہيں ہوتا
ان کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
ان کی نگہِ قہر سے مایوس نہ ہو دل
ان کے اک جانثار ہم بھی ہیں
ان کے بغیر ہم جو گلستاں میں آ گئے
انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟
انا کو خود پر سوار میں نے نہیں کیا تھا
انتظار دوست کا غم کھایں کیا ہم فریب آرزو میں آ یں کیا
انتقام
انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام۔۔۔۔عمران شناور
انجمن میں تری کچھ اور بھلا کیا ہوگا؟
انجمنیں اُجڑ گئیں، اُٹھ گئے اہلِ انجمن
انداز ہو بہو تیری آوازِ پا کا تھا
اندازِ خزاں رنگِ بہاراں نہیں دیکھا
اندھا کباڑی
اندھیروں سے بھرا وہ دِن بھی کیا تھا؟
اندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں - اِبنِ اُمید
اندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں - اِبنِ اُمید
اندھیری رات کو یہ معجزہ دکھائیں گے ہم
اندھیری رات ہے، رستہ سجھائی دے تو چلیں
اندھیرے کے تعاقب میں کئی کرنییں لگا دے گا
اندھیرے کے پس پردہ اجالا کھوجتا کیوں ہے جو اندھا ہو گیا وہ دن میں سورج ڈھونڈتا کیوں ہے
اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑجا ئے گا
انساں ابھی شہ پارہء ارژنگ نہیں ہے
انقلاب اپنا کام کر کے رہا
انقلابِ جہاں کی باری ہے
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے
انگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں
انگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں
انگڑائی کی اوٹ میں جانے، پوشیدہ ہیں کِتنے بہانے
انھیں کھو کر دکھے دل کی دُعا سے اور کیا مانگوں
انہی رسموں سے رواجوں سے بغاوت کی تھی
انہی میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
او وی خوب دیہاڑے سن
اودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گزر
اور اب یہ دل بھی مانتا ہے
اور بھی مجبُور ہوتا جا رہا ہوں میں
اور تو کوئی بس نا چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا
اور نہیں تو اس کو بھی بدنام کروں
اور وہ شحص ٹوٹ گیا
اور کا ذکر تو کیا میرؔ کا بھی سایہ نہ ہو
اور ہم زندگی کو کيا سمجھے
اور ہیں کتنی منزلیں باقی
اور ہے اپنی کہانی اور ہے
اوس پڑی تھی رات بہت اور ہلکی تھی گرمائش, پر
اول و آخر سبھی کچھ تو ہوئے ہم M Nazim Rao Ghazal
اول و آخر سبھی کچھ تو ہوئے ہم بات ہے سچ مگر کہتے ہیں ذرا کم
اونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑا
اونے پونے غزلیں بیچیں،نظموں کا بیو پار کیا
ايک دل ھم دم مرے پہلو سے کيا جاتا رہا
اَن گِنت بے حساب آن بسے
اُداس شام ہے اجڑا ہوا ہے گھر میرا
اُداس یہ آسماں ہے،دل مرا کتنا اکیلا ہے
اُداسی میں گِھرا تھا دِل چراغِ شام سے پہلے
اُس دشت کو جانا ہے تو گھر بھول ہی جانا
اُس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا
اُس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ!
اُس نے احسان وہ کیے یارو
اُس نے جھیلے اَلم محبت میں
اُس نے خوابوں میں دیکھنا رکھا
اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو
اُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اُس کا خیال ذہن پہ چھایا، چلا گیا
اُس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
اُس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
اُس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
اُس کو اپنے گھر کے سناٹے سے کتنا پیار تھا
اُس کو دیکھے سال ہوئے ہیں
اُس کو ملنے کے تھے کتنے امکاں وقت سے پہلے
اُس کو منزل ملی نہ گھر ہی رہا
اُس کی خواہش کروں تو یہ دھڑکا ملے
اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے
اُس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے
اُس گل زمیں سے اب تک اُگتے ہیں سرو جس جا
اُسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھا
اُسے بلاو کہ جس کے چہرے پہ چاند تارے سجے ہوئے ہیں
اُسے شوقِ غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا:رفیق سندیلوی
اُطاقِ نفس میں اِک مشعلِ تمنا ہو:رفیق سندیلوی
اُطاقِ نفس میں اِک مشعلِ تمنا ہو:رفیق سندیلوی
اُفق کے اُس طرف رَستہ بھی ہو گا
اُلجھ کے رہ گئے ہستی کے تانے بانے میں
اُمنگ مجھ کو نہیں چرخِ نو بنانے کی
اُمید و بیمِ دست و بازوِ قاتل میں رہتے ہیں
اُمید کرم، حسرتِ دیدار ہے، میں ہوں!
اُن جفاوں پر۔ ان وفاوں پر
اُن دنوں اُس خاک پر بارش تھی جیسے نُور کی
اُن دنوں اُس خاک پر بارش تھی جیسے نُور کی
اُن سے نین ملا کر دیکھو
اُٹھتا نہیں مُجھ سے ، تری فُرقت کا جنازہ
اُٹھو گلے سے لگا لو، مٹے گلہ دل کا
اُگا سبزہ دَر و دیوار پر آہستہ آہستہ
اِتنا دشوار نہیں موت کو ٹالے رکھنا
اِس تیرے سر کی قسم فرق سرِ مُو بھی نہیں
اِس جہاں میں عجب نہیں کُچھ بھی
اِس طرف سے، تیرا اِک پَل کو گزُر ہونے تک
اِس عشق میں پورا کبھی ساماں نہیں دیکھا
اِس قدر مل گئی غم کو جِلا
اِسی امید پہ اب زندگی گزاروں گا
اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
اِن زمینوں میں شجر کارئ نو ہے درکار
اِن کی خاطر ہی ملا دیدۂ نمناک مجھے
اِک خوابِ دل آویز کی نسبت سے مِلا کیا
اِک دمکتا ذہن بھی ہوُں، اِک سُلگتا دل بھی ہوُں
اِک عمر سے اس شب میں گرفتار ہوں مَیں بھی - اِبنِ اُمید
اِک محبت ہے بدگماں ہونا
اِک نام کی اُڑتی خُوشبو میں اِک خواب سفر میں رہتا ہے
اِک پشیمان سی حسرت مُجھے سوچتا ہے
اِک پشیماں سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے
اٹھائے پھرتا کہاں تک ترے نشیلے ہاتھ
اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں
اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
اپنا درد بڑھا لیتا ہوں
اپنا دل تھام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
اپنا مزاجِ کار بدلنے نہیں دیا
اپنا ہی شکوہ اپنا گلہ ہے
اپنی آنکھوں میں بسا لی تیری حیرت مَیں نے
اپنی اپنی خواہشوں کے عکس میں دیکھا گیا
اپنی اپنی دھن میں نکلے چندا، رات اور مَیں
اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے
اپنی دھن میں رہتا ہوں
اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
اپنی صورت دیکھنا اور آئینوں کو چومنا
اپنی قامت اپنے قد سے باہر آ
اپنی محبت کا صلہ نہیں مانگتا
اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بناؤ گے
اپنی منزل کا راستہ بھیجو
اپنی پلکوں پہ جمی گَرد کا حاصل مانگے
اپنی ہتھیلیوں پہ نہ رنگِ حنا سجا
اپنی ہی تیغِ ادا سے آپ گھائل ہوگیا
اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو
اپنے اندر اُلجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں مَیں
اپنے اندر اُلجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں مَیں
اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر
اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر
اپنے تیرو کمان دیکھوں گا
اپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
اپنے خوابوں کے کئی ارض و سما لے جائے گا
اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو
اپنے لہوُ سے آپ چراغاں کرتا ہوُں
اپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیا
اپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیا
اپنے چہروں کو گُل فشاں دیکھو
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں
اپنے ہی دست و پا مرے اپنے رقیب ہو گئے
اچھا تُمھارے شہر کا دستور ہوگیا
اچھا لگتا ہے مجھے گُل تو بجا لگتا ہے
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
اچھے عیسٰی ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
اڑ کر کبوتر ایک سرِ بام آ گیا
اڑتے اڑتے آخر چاند
اڑتے ہوئے جگنو کو ستارا نہیں لکھا
اک آن میں تمام مرا کام کر گئی
اک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھا
اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا
اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے
اک تعلق مجھے نبھانا تھا
اک تمہارے پیار نے جادو یہ کیسا کر دیا
اک تو شوقِ سفر بھی رکھتے ہو - اِبنِ اُمید
اک جھلک اُس کفِ حنائی کی
اک ساتھ ہم اور کوئی پل ہیں
اک شخص کو سوچتی رہی میں
اک عمر رھے ساتھ یہ معلوم نہیں تھا
اک قیامت مری حیات بنی گرمئی بزم کائنات بنی
اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
اک مسافت پاؤں شل کرتی ہوئی سی خواب میں
اک معما سمجھ کے بھول گئے
اک نظر سوئے بام کر چلئے
اک ٹہنی پر پھُولے پھلے ہیں، پاکستان اور میں
اک کماں اور کوئی تیر بنادے آکر
اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
اک گھڑی بکھر رھا ہوں
اک ہم ہيں کہ ہيں بے نياز ِ زخم ہائے شوق
اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
اکثر ایسا ہو جاتا ہے
اگر ازل تھا تو کیا ابد ہے، مکاں ہے، یا لامکاں نہیں ہے
اگر تو ہر نفس فطرت کا ہم آواز ہو جائے
اگر حضور ابھی مائلِ ظہور نہ تھے
اگر شامل نہ درپردہ کسی کی آرزُو ہوتی
اگر فرشتہ میرے غم سے آشنا ہو جائے
اگر مجھ کو نہ کچھ ادراک حسنِ یار کا ہوتا
اگر مجھ کو نہ کچھ ادراک حسنِ یار کا ہوتا
اگر پوچھا کہ مجھ سے کام کیا ہے ، کیا کہوں گا میں
اگر ہواؤں کی سازش کا احتمال نہیں
اگرچہ آج وہ اگلا سا التفات نہیں
اگرچہ تیری نظر کا ہی ترجماں ہوں میں
اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا
اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا
اہانت دل صبر آزما نہیں کرتے
اہل دل آنکھ جدھر کھولیں گے
اہلِ ثروت پہ خدا نے مجھے سبقت دے دی
اہلِ جفا سے ربطِ وفا توڑ دیجیے
اہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیں
اہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیں
ایسا بھی جوئی سپنا جاگے
ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا
ایسا تو اِتلاف، نہ دیکھا جانوں کا
ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
ایسا لگتا ہے ، زندگی تم ہو
ایسا نہیں کہ اِس کو نہیں جانتے ہو تم!!
ایسا نہیں کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے
ایسا نہیں کہ پیاس کا صحرا نہیں ہوں میں
ایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتا
ایسے تیری لکھی ہوئی تحریر کھو گئی
ایسے نہ تھے ہم اہلِ دل ، اتنے کہاں خراب تھے
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
ایسے ہی چپ چپ بھی کیا جیا جائے
ایک احساسِ جادُوانہ ہُوا ۔ ۔ ۔
ایک اداسی دل پہ چھائی رہتی ہے
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
ایک بار پھر ہم کو حکمِ انتظار آئے
ایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفت
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو بھی مٹ گیا
ایک جگنو ہی سہی، ایک ستارا ہی سہی
ایک ذرا سی رُت بدلی تو سب کی سب اُس پار چلیں
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
ایک شعر
ایک منزل کے ہمسفر چپ ہیں
ایک نگر میں ایسا دیکھا دن بھی جہاں اندھیر
ایک نگر کے نقش بُھلا دوں، ایک نگر ایجاد کروں
ایک پرواز دکھائی دی ہے
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
ایک ہمیں نے شور مچایا گِرگٹ جیسی چالوں پر
ایک یوسف کے خریدار ہوئے ہیں ہم لوگ
اے تو کہ یاں سے عاقبتِ‌ کار جائے گا
اے دل رائیگاں اداس اداس
اے دوست دعا اور مسافت کو بہم رکھ
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا
اے شہر جن و بشر تجھ پہ درود اور سلام
اے صبح! میں اب کہاں رہا ہوں
اے قافلہِ شوق میرے دِل سے گزر جا
اے میری سوچ کی محور، تم اپنے سارے دکھ رو لو
اے وعدہ فراموش رہی تجھ کو جفا یاد
اے گلِ نو دمیدہ کے مانند
اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
اے ہوا بتا مجھ کو کیوں یہ دل دھڑکتا ہے
اےمیرےفن کے پرستار تجھےکیامعلوم
بات اظہار تک چلی آئی
بات انوکھی ہے یہ کیسی کوئی تو مجھ کو سمجھائے
بات بس سے نکل چلی ہے
بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی !
بات میری کبھی سنی ہی نہیں
بات کر
بات کہنی تھی ایک بر موقع
بات کیا ہے تری گزر نہ ہوئی
باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے
باد بہار غم میں وہ آرام بھی نہ تھا
باد بہار غم میں وہ آرام بھی نہ تھا
بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
بادشاہوں کا بادشاہ تھا وہ
بارش کو بُلا رہا ہوُں کب سے
بارش ہُوئی تو پُھولوں کے تن چاک ہو گئے
بارہا گور دل جھکا لایا
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
باعث ننگ محبت کی پذیرائی ہے
باعثِ ننگِ محّبت کی پذیرائی ہے
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
باغی میں آدمی سے نہ منکر خدا کا تھا
باقی رہی نہ خاک بھی میری زمانے میں
باقی ہے یہی ایک نشاں موسمِ گل کا
بالآخر یہ حسیں منظر مٹا دینا ہی پڑتا ہے
بانجھ ہے برکھا پون،آنکھوں کا موسم اور ہے
باندھ رکھا ہے مَیں نے ازل سے رختِ سفر
باندھ لیں ھاتھ پہ سینے پہ سجالیں تم کو
باہر بھی اپنے جیسی خدائی لگی مجھے
ببول کوہ پہ تھی، دشت میں صنوبر تھے
بتا جو ابر آئے تھے وہ ابر کیسے چھٹ گئے
بتا ساتوں سمندر آئینے ہیں کن زمانوں کے
بتا عدیم اپنی خوبیوں کا حساب آیا
بتا نجومی میری ہتھیلی میں پیار کوئی
بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا
بتا یہ جذبۂ بے اختیار کیا ہو گا؟
بتاؤ اب کیوں اسے منانے کی آرزو ھے
بتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟
بتاؤ ذرے گنے جو سارے غبار میں ہیں
بتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا؟
بتاؤ کیسا حسین خط کا جواب آیا
بجا کہ آنکھوں میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
بجا کہ اُس میں جو تھیں کج ادائیاں، نہ گئیں
بجا کہ تیرے تغافل کے شکوے کرتا ہوُں
بجا، کہ یوں تو سکوں تیری بارگاہ میں ہے
بجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے
بجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھی
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
بدل گئی ہے زندگی اب، سبھی نظارے بدل گئے ہیں
بدلی نہ اس کی روح کسی انقلاب میں
بدمست ہو کے اے نگہہ ناز دیکھنا
بدن صحرا ہے اور پاگل ہوا ہے
بدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہے
بدن کی سر زمین پر تو حکمران اور ہے
برباد کر گیا میرا دستِ دُعا مجھے
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
برف کی لڑکی
برقع اُٹھا تھا رُخ سے مرے بد گمان کا
برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے مَیں
برگِ دل کی طرح ہے زرد ہَوا
برہنہ کر کے سحر، شب کو بے ردا کر کے: رفیق سندیلوی
بریدہ پیڑ کی شاخوں پہ پھل نہیں ہوتے
بزم آرا ہیں لوگ ہم تنہا
بزم آرا ہیں لوگ ہم تنہا
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
بزمِ انساں میں بھی اِک رات بسر کر دیکھو
بزمِ مے، جام و سبو، بادہ کشی بھول گئے
بس آنکھ لایا ھُوں اور وُہ بھی تَر نہیں لایا
بس اب کے اتنی تبدیلی ہوئی ہے
بس اتنا سا زیاں ہونے لگا ہے
بس اِک چراغ یہ روشن دِل تباہ میں ہے
بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں
بس ایک دھن تھی اُسی دھن میں ‌شعر کہتے رہے
بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
بس کہ پابندیِ آئینِ وفا ہم سے ہوئی
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
بستیاں سنہری تھیں، لوگ بھی سنہرے تھے
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
بعد میں آگ بجھائی بھی تو کیا حاصل
بلا جواز رکھیں خود کو بےقرار بھی کیوں
بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار
بلا کی دھوپ تھی ساری فضا دہکتی رہی
بن پڑے گر تو یہ ہار بھی مان لیں
بن ہو، ابر ہو، تیز ہوا ہو
بنایا دشت میں خوشبو نے راستا بھی تو کیا
بند تھا دروازہ بھی اور گھر میں بھی تنہا تھا میں
بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
بندہ نواز! صورتِ حالات اور ہے
بندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھا
بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا
بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جانکلے
بنے بناۓ سے رستوں کا سلسلہ نکلا
بوئے موجود سے موہوم اشارے تک ہے
بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نشاں کُھلے
بول سکھی ، دل نے کس پل اُکسایا ہو گا ؟
بول سکھی، کب تک چاہت کو ٹھکرائے گی؟
بولو ہیں رنگ کتنے زمانے کے اور بھی
بولو، بھیگی رت میں کوئل کیوں روئے ہے؟
بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے
بچوں کی سی حیرانی ہے ہر جانب
بچپن کے دُکھ ۔ ۔ ۔ ۔
بچھائے جال کہیں جمع آب و دانہ کیا
بچھڑ کے بھی مَیں تیرے پرتوِ و صال میں ہوُں
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے
بچھڑنے والے
بچھڑنے کا سماں ہے اور میں ہوں
بچھڑنے کے زمانے آ گئے ہیں
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
بڑی آگ ہے‘ بڑی آنچ ہے‘ ترے میکدے کے گلاب میں
بڑے خطرے میں ہے گلستاں، ہم نہ کہتے تھے
بک گئی دیوار تو پھر در کا سودا کر دیا
بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہو گا
بکھر رہے ہیں خد و خال چار سُو میرے
بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے
بکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتا
بگاڑ ہو کہ بناؤ، عجیب تیرے سبھاؤ
بگڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے
بگڑ کے مُجھ سے، وہ میرے لیے اُداس بھی ہے
بھاتی نہیں دنیائے سخن ساز کی باتیں
بھرم غزال کا جس طرح رم کے ساتھ رہا
بھری برسات میں، جس وقت آدھی رات کے بادل
بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہوں
بھلا نہیں تو برا ملے گا
بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
بھلا ہے یا برا دیکھا نہ جائے
بھنور لپیٹ کے پاؤں، سفر میں رکھا ھے - اِبنِ اُمید
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے، تَن کے بیٹھے ہیں
بھول جانا بھی اسے یاد بھی کرتے رھنا
بھول جانے کا تو بس ایک بہانہ ہوگا
بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں۔۔۔۔عمران شناور
بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو
بھُولے رستوں پہ جانا ضروری نہیں
بھڑک سکتی ہے ظالم آگ ، پانی میں نہیں رہنا
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
بھیڑ ہے برسربازار کہیں اور چلیں
بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنا
بہار جب بھی چمن میں دِیے جلاتی ہے
بہانہ جو کوئی تجھ سا نہیں ہے
بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
بہت دنوں بعد
بہت دنوں سے ہوں خالد اسیر حلقۂ خواب
بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی
بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟
بہت فسردہ ہیں ان کو کھو کر جگر فگاروں سے کچھ نہ کہنا
بہت مشکل ہے ترکِ عاشقی کا درد سہنا بھی
بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
بہت گہرا ہے اپنا تاجرانہ پیار آپس میں
بہت ہُوا کہ غمِ دو جہاں کی زد میں نہیں
بہت ہے میرے لیے زباں اور قطبی تارا
بہکی بہکی ہیں ، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا کھوئی کھوئی سی ہیں ، راہوں کو نہ جانے کیا ہوا
بیانِ شوق کو مرہونِ خامشی تو کروں
بیانِ قصۂ بے چارگی کیا جائے
بیخودی! تو ہی آخر بتا، کیا کریں؟
بیخودی! تو ہی آخر بتا، کیا کریں؟
بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنے
بیٹھا ہوُں تشنگی کو چھُپائے نگاہ میں
بیکار ہے گرہ تیرے بندِ نقاب کی
بیکراں رات کے سنّاٹے میں
بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے
بے انت خیالات مجھے مار ہی دیں گے
بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
بے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا
بے تعلق میں خود اپنے ہی گھرانے سے ہوا
بے خبر ہوں کہ ستارے بھی سفیروں میں نہیں
بے خودی لے اڑی حواس کہیں
بے خودی میں کیا بتائیں آج ہم نے کیا کِیا
بے درد ہیں جو درد کسی کا نہیں رکھتے
بے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟
بے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟
بے رخی اور وہ بھی اتنے ناز سے؟
بے رنگ ہے ہر غنچہ لب کیا اسے کہنا
بے زبانوں کو بے زباں کہئے بے زبانی کی داستاں کہئے
بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
بے سبب کیوں کہ لبِ زخم پہ اُفغاں ہوگا
بے سبب ہیں تیری باتیں اے دل
بے سود ہمیں روزنِ دیوار سے مت دیکھ
بے سَبب سائے سے جدُا رہنا
بے شمار انسان ہیں، سب کا سراپا ایک ہے
بے قراری سی بے قراری ہے
بے لباسی جو ہر لباس کی ہے
بے نام ہوں، بے کار ہوں، بدنام نہیں ہوں
بے وفا وقت نہ تیرا ہے، نہ میرا ہو گا
بے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں
بے پردہ جلوہ ہائے جہاں آفریں ہوئے
بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا
بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا
بے چین ہوا مست بول پیا کے لہجے میں
بے کار گئی آڑ تیرے پردہ در کی
بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا
بے کیف جوانی ہے بے در د زمانہ ہے
بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے
بےشک نہ میرے ساتھ سفر اختیار کر
بےصدا ٹھہرے ہونٹ کھول کے ہم
تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا
تاب نہ تب بال و پَر میں اور پرندہ
تابہ مقدور انتظار کیا
تارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میں
تاروں کی چلمنوں سے کوئی جھا نکتا بھی ہو
تارِ شبنم کی طرح صورتِ خس ٹوٹتی ہے
تاریخ شرمسار ہے، ابواب منتشر
تارے ہیں نہ ماہتاب یارو
تتلیاں،جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون
تتلیوں کی بے چینی آبسی ہے پاؤں میں
تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہے
تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جاسکتی
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
تجھ سے ملتے ہی، بچھڑنا تیرا یاد آتا ہے
تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا
تجھ سے ہوتی بھی تو کیا ہوتی شکایت مجھ کو
تجھ پر بھی فسوں دہر کا چل جائیگا آخر
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے اِدھر آتے ہوئے
تجھُ سے کہنے کی بس اَب یہی بات ہے
تجھُ سے کہنے کی بس اَب یہی بات ہے
تجھی سے ابتدا ہے، تُو ہی اک دن انتہا ہوگا
تجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھا
تجھے باہوں میں بھرنا چاہتا ہوں
تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے
تجھے رُسوائی کا ڈر ہے نہ آیا کر
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں، جہاں تک دیکھوں
تجھےکہا نا،کہ تو ہمیشہ سے رائیگاں مجھ کو سوچتا ہے،وہ تو نہیں ہے
تر بہ تر اے چشم تجھ کو کر چلے
ترا جمال بھی ہے آج ایک جہان ِفراق
ترا ہجر ہی پیار ہے
ترک محبت کر بیٹھے ھم،ضبط محبت اور بھی ھے
ترکِ اُلفت کا بہانہ چاہے
ترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو؟ اتنی کیا بیزاری ہے
تری آنکھیں سمندر تھیں ، میں ان میں ڈوب جاتا تھا
تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
تری انجمن میں وہ سب لوگ آئے
تری بے نیازی، مری بے قراری
تری خوشبو نہیں ملتی،تری لہجہ نہیں ملتا
تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
تری طرح کوئی بھی غمگسار ہو نہیں سکا
تری طلب نے ہمیں کس قدر خراب کیا
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
تری نظر سے زمانے بدلتے رہتے ہیں
تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے
ترے جیسا مرا بھی حال تھا،نہ سکوں تھا نہ قرار تھا
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
ترےکنول، مرے گلاب سب دھوئیں میں کھو گئے
تسلی دے کے مرا صبر آزمانا مت
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
تشنگی مورد الزام نہیں ہوتی تھی
تعبیر میں ڈھل رہے ہیں دونوں
تعبیر ہو جس کی اچھی سی ، کوئی ایسا خواب نہیں دیکھا
تلاش بول رہی ہے، نہیں ملا اب تک
تلاشِ لالہ و گل فکرِ رنگ و بو نہ رہی
تلاشِ لالہ و گل فکرِ رنگ و بو نہ رہی
تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریں
تم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤ
تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
تم اتنا جو مسکرا رھے ھو
تم اپنے گرد حصاروں کا سلسلہ رکھنا
تم ایسے زہرہ نگاروں کی بات کون کرے؟
تم بھُول گئے کہ یاد آئے
تم بھُول گئے کہ یاد آئے
تم بھی رہنے لگے خفا صاحب!
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
تم سے بچھڑکے کام یہ کرنا پڑا ہمیں
تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
تم سے ملی نظر تو طبیعت بہل گئی
تم سے پہلے بھی کسی اور نے چاہا تھا مجھے
تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
تم میری آنکھ کے تیور نھ بھلا پاؤ گے
تم نے تقدیریں جگائیں مرے ارمانوں کی
تم نے تو کہہ دیا کہ محبت نہیں ملی
تم نے سچ بولنے کی جرات کی
تم نے ہمارے چاروں طرف ہی گھاتیں کیں
تم نے یہ کیسا رابطہ رکھا
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ، ایسے تو حالات نہیں
تم چین سے کب ہو، ہمیں آرام کہاں ہے؟
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو
تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
تم کیسی محبت کرتے ہو
تم گئے تو جہان بھی نہ رہا
تم یہ کیا معجزے دکھانے لگے
تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں
تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں سواے فریب نظر کچھ نہیں
تمام رات میرے گھر کا ایک درکُھلا رہا
تمام شب یونہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
تمام شہر میں اب تو ہے راج کانٹوں کا
تمام عمر تڑپتے رہیں کسی کے لئے
تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟
تمام لوگ اکیلے ، راہبر ہی نہ تھا
تمام یادیں مہک رہی ہیں، ہر ایک غنچہ کھلا ہوا ہے
تمنا پھر مچل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ
تمناؤں کے سب دَر کھولتا ہے
تمناہے کہ مرتے وقت بھی ہم مسکراتے ہوں
تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
تمھارے خواب میرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
تمھیں جو حُسن فقط فِتنہ گر نظر آئے
تمھیں جو میرے غم. دل سے آگہی ہوجائے
تمہارا پیار مرے چارسو ابھی تک ہے
تمہارا پیار چھپ چھپ کر کئی چہرے بدلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
تمہاری راہ کی دیوار تو ہونا نہیں ہم کو
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
تمہارے بعد اس دل کا کھنڈر اچھا نہیں لگتا
تمہارے بعد اس دل کا کھنڈر اچھا نہیں لگتا
تمہارے خُلق میں فتنے ہیں کیا کیا، ہم نہیں کہتے
تمہارے شہر کے لوگوں کے ہیں ستائے ہوئے
تمہارے وہاں سے یہاں آتے آتے
تمہارے ٹھاٹھ بھی، اپنی جگہ سارے، بجا جاناں
تمہارے پاس سے میں اُٹھ کے آگیا ہوں مگر
تمہیں بھی علم ہو اہل وفا پہ کیا گزری
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں،مرے دل سے بوجھ اتار دو
تمہیں جو روبرو دیکھا کریں گے
تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں
تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے
تنکا تنکا کانٹے توڑے ، ساری رات کٹائی کی
تنگ آ چکے ہیں کشمکشِ زندگی سے ہم
تنگ آچکے ہیں یورشِ بے چارگی سے ہم
تنہا ھے دل تو ذہن کئی محفلوں میں ھے
تو اسیر برم ہے ہم سخن تجھے ذوقِ نالہء نےَ نہیں
تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
تو بعنوانِ حیا یاد آیا
تو بگڑتا بھی ہے، خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ
تو بھی میرے ساتھ رویا کس لئے تو نے بھی دامن بھگویا کس لئے
تو بھید بتادے مِٹی کا
تو تھا کہ کوئی تجھ سا تھا
تو جو اللہ کا محبُوب ہوا، خُوب ہوا
تو جو نہ ہو تو جیسے سب کو چپ لگ جاتی ہے
تو دل میں کیا تھا تمھارے ،ساجن اگر نہیں تھا؟
تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا
تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تو مجھ سے تیز چلے گا تو راستہ دوں گا
تو معمہ ہے تو حل اس کو بھی کرنا ہے مجھے
تو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملے
تو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملے
تو نے تو اے رفیق جاں ، اور ہی گل کھلا دئیے
تو نے جو خواب توڑ ڈالے تھے
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
تو نے کس جا پہ اتارا ہے ابھی
تو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دے
تو پھُول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھا
تو پھُول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھا
تو کعبئہ دل میں تھا تو پتّھر کا صنم تھا
تو ہے دلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن
تو ہے مشہور دل آزار، یہ کیا
تو ہے یا ترا سایا ہے
توبہ ہے کہ ہم عشق، بتوں کا نہ کریں گے
توُ جو بدلا تو زمانہ ہی بدل جائے گا
تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے
تُو اپنی محبت کا اثر دیکھ لیا کر۔۔۔۔عمران شناور
تُو نے ہی نام و نمود ِ ذات کی تدبیر کی
تُو ہے اک گوہر نایاب
تُونے پھینکا عدیم جال کہاں
تِری آنکھوں میں فصلِ ہجر کیسے بو گیا کوئی؟
تِیر ہے اور نہ تلوار انسان ہے
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے
تھا مستعار حسن سے اُس کے جو نور تھا
تھا میرجن کو شعر کا آزار مرگئے
تھا میّسر ہی نہ پیرایۂ اظہار ہمیں
تھا میّسر ہی نہ پیرایۂ اظہار ہمیں
تھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامنا
تھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامنا
تھکن سے چُور ارادے، جگر پہ اُترے ہیں
تھکی تھکی گلوں کی بُو
تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا
تھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئی
تہمت اتار پھینکی، لبادہ بدل لیا
تہی بھی ہوں تو پیمانے حسیں معلوم ہوتے ہیں
تیر جو اس کمان سے نکلا
تیرا رخِ مخطّط قرآن ہے ہمارا
تیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہ
تیرا غم پا کر بلائے عشرتِ فانی گئی
تیرا گزر ادھر جو برنگ صبا ہوا
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
تیرگی پُرہول، صحرا بے اماں، بادل سیاہ
تیری آنکھوں میں رنگِ مستی ہے
تیری باتیں ہی سنانے آئے
تیری جانب اگر چلے ہوتے
تیری جبیں پہ لکھا تھا کہ تو بھلادے گا
تیری جنت سے ہجرت کر رہے ہیں
تیری جوانی کے پاسباں حشر تک یونہی نوجواں رہیں گے
تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
تیری سانسوں کی مہک پھیلے، زمانے ہو گئے
تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
تیری مجبوریاں درست مگر
تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا
تیری میری باتیں ہوں
تیری نگاہ کے جادو بکھرتے جاتے ہیں
تیری وضاحت ٹھیک ہے،اسےجھٹلائے کون
تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
تیری یادوں سے دل فروزاں کریں گے
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی تیرے جاں نثار چلے گئے
تیرے لبوں کی سُرخی، میرے لہو جیسی تھی
تیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہے
تیرے گمنام اگر نام کمانے لگ جائیں
تیز آندھیوں میں اڑتے پر وبال کی طرح
تیز رنگوں سے بنائیں تری ڈولی، آنکھیں
جا کے میں تیرے ساتھ لے آؤں
جاتی ہے دھوپ اُجلے پروں کو سمیٹ کے
جاتے جاتے اس طرح سب کچھ سوالی کرگیا
جاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیا
جاتے کہاں تھے، اور چلے تھے کہاں سے ہم
جاتے ہو تو لے جاؤ یادیں بھی میرے دل سے
جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں
جام دیکھو نہ پھر سبُو دیکھو
جان تم پر نثار کرتے ہیں
جان تن سے جو تڑپ کر شبِ فرقت نکلی
جان میری! رات کے خیموں میں صبحیں ڈھونڈنے والوں کو پچھتانا پڑے گا
جاناں! کبھی تو مژدۂ لطفِ وصال دے
جانے پھر اگلی صدا کِس کی تھی
جانے کس سمت سے آیا ہوُں، کدھر جاتا ہوُں
جانے کس وحشت کا سایہ سا مجھ پہ لہراتا ہے
جانے کس چاہ کے‘ کس پیار کے گن گاتے ہو
جانے کیا سوچ کے اربابِ نظر لوٹ آئے
جانے کیسے سنبھال کررکھّے
جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے
جانے، کون رہزن ہیں! جانے، کون رہبر ہیں
جانےکیا ہو پلک جھپکنے میں
جاہ و جلال دوام و درم اور کتنی دیر
جب آنکھ میں نیند اُتر آئے
جب اسے چاہا تو چاہا ہر طرح کے حال میں
جب اُس کی نوازش ہوتی ہے، یہ معجزہ تب ہو جاتا ہے
جب اپنی اپنی محرومی سے ڈر جاتے تھے ہم دونوں
جب بھی تیرے ستم کی بات چلی
جب بھی دہرائے فسانے دل کے
جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیں
جب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہے
جب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہے
جب بھی یہ دِل اُداس ہوتا ہے
جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
جب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گے
جب ترا دامنِ تر یاد آیا
جب تری جان ہو گئی ہو گی
جب تصور میں نہ پائیں گے تمہہں
جب تلک اک تشنگی باقی رہے گی
جب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیرا
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
جب تک لہو دیدہء انجم میں ٹپک لے
جب تیرا انتظار رہتا ہے
جب تیرا حکم ملا ، ترک محبت کردی
جب تیرا درد میرے ساتھ وفا کرتا ہے
جب تیرا ظہوُر دیکھتا ہوُں
جب جب رات کا آنچل بھیگے
جب جب وہ سرِ طورِ تمنا نظر آیا
جب جب وہ سرِ طورِ تمنا نظر آیا
جب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرے
جب دل کی راہ گذر پر نقشِ پا نہ تھا
جب ذات بٹ گئی تو لگا کچھ نہیں بچا
جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے
جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے
جب زمانے کو ہی قرار نہیں
جب سے اس حسنِ بلاخیز کا شیدائی ہوا
جب سے اس حسنِ بلاخیز کا شیدائی ہوا
جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیے
جب سے قریب ہوکے چلے زندگی سے ہم
جب سے میرے یار دشمن ہو گئے ۔۔۔۔عمران شناور
جب سے واقف میں ہوئی ہوں کسی ہرجائی سے
جب سے وُہ بدن، اپنے قریں ہونے لگا ہے
جب سے ہم تقسیم ہوُئے ہیں نسلوں اور زبانوں میں
جب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا
جب وہ بُت ہمکلام ہوتا ہے
جب وہ صورت عجب بنائی گئی
جب پوَ پھٹی:رفیق سندیلوی
جب پوَ پھٹی:رفیق سندیلوی
جب چرخ پہ تارے مجھے کرتے ہیں اشارے
جب کبھی آنکھ ملاتے ہیں وہ دیوانے سے
جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی
جب کبھی خوبئ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
جب کبھی چھیڑا جنوں نے دیدہء خوں بار کو
جب کسی صورت سرِ محفل نہ شنوائی ہوئی
جب کوئی غم مجھے ستاتا ہے
جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
جب ہم کہیں نہ ہوں گے تب شہر بھر میں ہوں گے
جب ہوا تک یہ کہے ، نیند کو رخصت جانو
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلُو آئی
جب یہ طے ہوا، مَیں کبھی تُجھ کو نہیں پا سکتا
جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے
جبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گا
جتنی بھی رسوائی تھی
جتنے دن اس بت کو اپنا غم سنانے میں لگے
جدا جو پہلو سے وہ دلبرِ یگانہ ہوا
جدا رہ کر بھی جی لینا بہت بے کا ر لگتا تھا
جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا
جدائی کربلا جیسی
جدھر کا رخ بھی میں کرتا ، جہاں بھی جاتا تھا
جذبات کی رو میں بہہ گیا ہوں
جذبہ و شوق کی روانی میں
جرم بھی تھا محسن بھی میرا لگتا تھا
جرمِ انکار کی سزا ہی دے
جز نغمہ رباب وفا اور کچھ نہیں
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے
جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گيا
جس دن سے چلا ہوں ، کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
جس سے لرزاں تھی وُہ ڈر، یاد آیا
جس شجر پر بھی آشیانہ رہا
جس قدر خود کو وہ چھپاتے ہیں
جس نے تمہیں غم خوار کِیا ہے
جس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہم
جس کو اکثر سوچا تھا تنہائی میں
جس کو چاہتا ہوں میں وہ مرا نہیں ہوتا
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
جستجو میں تری جو گئے کون جانے کہاں کھو گئے
جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
جسم تپتے پتھروں پر روح صحراؤں میں تھی
جسم دَمکتا، زُلف گھَنیری، رنگیں لَب، آنکھیں جادُو
جسے بھی دُھوپ بار آور لگی تھی
جفاؤں پر ملال تو آتا ہو گا
جل کے اپنی آگ میں خود صورت پروانہ ہم
جلتا رہا ہوں رات کی تپتی چٹان پر
جلتا ہوں ہجر شاہد و ياد شراب ميں
جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا
جلتے فانوس کی روشنی چھن گئی
جلوؤں کے تسلط سے مجھے ہوش نہیں ہے
جلوہ تھا کسی کا وہ جلوہ ہم ہر غمِ دنیا بھول گئے
جلوہ حسن کرم کا آسرا کرتا ہوں میں
جلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سے
جلوہ گر پھر وہ ماہتاب ہوا
جلوہ گر پھر وہ ماہتاب ہوا
جلوہء معتبر کو کیا کہیئے
جمال فن کا، تیرے اور میرے گھر میں رہا
جمالِ یار کا دفتر رقم نہیں ہوتا
جمالِ یار کو تصویر کرنے والے تھے
جمالِ یار کی مشعل اٹھا کے دیکھتے ہیں
جمع کرتے بدن کی یہ نم، تھک گئے
جن کے لائے ہوئے سندیس، بھُلائے نہ گئے
جنت ماہی گیروں کی
جنون سے گزرنے کو جی چاہتا ہے
جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
جنُوں کے راستے خاصے کڑے ہیں
جنگل جنگل شوق سے گھومو، دشت کی سیر مدام کرو
جنگل میں گھومتا ہے پہروں فکرِ شکار میں درندہ
جنہیں دشمن سمجھتے تھے وہی اپنے نکل آئے
جو آنسو دل میں گرتے ہیں وہ آنکھوں میں نہیں رہتے
جو اتنے قریب ہیں اس دل سے، وہ دور ہوئے تو کیا ہوگا ؟
جو اس شور سے میر روتا رہے گا
جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
جو اُس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
جو اپنی جڑوں کو کاٹتا ہے
جو بھی اُس چشم خُوش نگاہ میں ہے
جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیا
جو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچا
جو بھی ہے طالبِ یک ذرّہ، اُسے صحرا دے
جو تری قربتوں کو پاتا ہے۔۔۔۔عمران شناور
جو خواب حویلی کا ہوا، پھر نہیں آیا
جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
جو دل لگانے کا سوچتے ہو
جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
جو دن گزر گئے ہیں ترے التفات میں
جو دُکھ سُکھ بانٹ سکے ،ہم اس کو عورت کہتے ہیں
جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا
جو راز دل کی زمیں پہ لکھے، مٹا دیئے ہیں
جو روا تھے پہلے اب وہ نا روا کیوں ہو گئے؟
جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیں
جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے
جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے
جو سوا نیزے پہ سورج کے نکلتا ہوگا
جو سچی بات کرتا تھا، کہاں ہے وہ
جو شخص بھی اپنا قد و قامت نھیں رکھتا
جو شوق ہے، کہ اضافہ ہو نکتہ چینوں میں
جو صبح و شام پئے انتظار گزرے ہیں
جو عطا کرتے ہیں وہ نام خدا دیتے ہیں
جو غم بھی دل وجان سے پیارا نہیں ہوتا
جو لکھا ہے، عام ہوا ہے
جو مجتمع ہو رہا ہوں پل پل مجھے بتامیں بکھر نہ جاؤں
جو مجتمع ہو رہا ہوں پل پل مجھے بتامیں بکھر نہ جاؤں
جو مجھے بُھلا دیں گے میں انھیں بُھلا دُوں گا
جو محفل سے اُن کی نکالے ہوئے ہیں
جو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہے
جو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہے
جو چشم کرم ہے وہ زمانے کے لئے ہے
جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
جو چُنے جاتے ہیں دیواروں کے بیچ
جو کم نصیبی کا اپنی خیال آتا ہے
جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے
جو کہہ چکے تھے تو پھر ہمارا یہ حال ہونا تو چاہیئے تھا
جو گفتنی نہیں وہ بات بھی سنادوں گا
جو گم ہوئے وہ زمانے تلاش کرتا ہوں
جو ہمسفر تھے، ہوئے گرد راہ سب میرے
جو ہڈیوں سے مری بام و در بناتا ہے
جو ہے رائیگاں تیری جستجو ‘ یہ تیری نظر کی خطا نہیں
جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
جَل کے ٹھنڈے ہوئے ترے غم میں
جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
جگمگائیں گے نگر آخر شب
جگمگائیں گے نگر آخر شب
جھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کا
جھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کا
جھلستے دشت میں لگتا ہے مثلِ سائباں ہے تُو
جھومتی ٹہنی پر اس کا ہمنوا ہوجاؤں میں
جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر
جھُلسے بدن کو گاہ نمو آشنا کرے
جھُلسے بدن کو گاہ نمو آشنا کرے
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
جھیل آنکھوں میں خلا ہو جیسے
جہانِ مرگ صدا میں اک اور سلسلہ ختم ہو گیا ہے
جہاں بجھ گئے تھے چراغ سب، وہاں داغ دل کے جلے تھے پھر
جہاں بھی رہنا ہمیں یہی اک خیال رکھنا
جہاں بھی سرِ انجمن شاہ بولے
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا
جہاں میں ہوں وہاں بدلے گا کیا کچھ؟
جہاں والوں یہ جور آسمانی دیکھتے جاؤ
جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا
جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے
جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
جی میں ہے یادِ رخ و زلفِ سیہ فام بہت
جی چاہتا ہے کوئی سخن آشنا بھی ہو
جی چاہتا ہے، فلک پہ جاؤں
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
جیتا ہی نہیں ہو جسے آزارِ محبت
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
جیسا بھی چاہے حصہ لے لیتا ہے
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
جیسے جیسے لوگ حق کے رازداں بنتے گئے
حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی
حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی
حاصل بجز کدورت اس خاک داں سے کیا ہے
حال خوش تذکرہ نگاروں کا
حال دوری میں خدا جانے میرا کیا ہوتا
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
حالِ دل تجھ سے، دل آزار، کہوں یا نہ کہوں
حالِ دل میر کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
حبس دنیا سے گزر جاتے ھیں
حجرہءِ کشف و کرامت میں رکھا ہے میں نے :رفیق سندیلوی
حد سے گزرا تری فرقت میں شبِ تار کا لطف
حدودِ جاں سے پرے جا رہا ہے اور طرف
حدِ امکاں سے پرے خواب نگر ہوتا ہے
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
حرفِ ناگفتہ
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا
حروف آگہی تھے بےکس و لاچار کیا کرتے
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز
حسرت آتی ہے دلِ ناکام پر
حسرتِ دید کو ترسا کے چلا جاؤں گا
حسن جب بے نقاب ہوتا ہے
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
حسن مرہونِ جوشِ بادہء ناز
حسن مرہونِ جوشِ بادہء ناز
حسن و جمال کے بھی زمانے نہیں رہے
حسن کہتا ہے اک نظر دیکھو
حسنِ بیان قصر کا ایسا بھی اہتمام کیا
حسنِ فردا غمِ امروز سے ضَو پاۓ گا
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
حشر دل میں بپا ہوئے کیا کیا
حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے
حشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اِس تدبیر کا
حشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اِس تدبیر کا
حصارِ لفظ و بیاں میں گُم ہوں
حصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریں
حصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریں
حضرت دل آپ ہیں جس دھیان میں
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
حقیقت غمِ الفت چھپا رہا ہوں میں
حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے
حلقہ رنگ سے باہر نکلوں
حمد ۔۔۔۔۔ یہ زمیں آسماں تیرے صدقے
حواس کا جہان ساتھ لے گیا
حوصلہ ڈوبتے موسم کا بڑھا دیتا ہے
حَسَن کوزہ گر (٢)
حَسَن کوزہ گر (٣)
حَسَن کوزہ گر- 1 --
حُسن اور مقتضی جفاؤں کا
حُسن اور مقتضی جفاؤں کا
حُسنِ اضداد سے بَہلتا ہوُں
حُسنِ کافر بنا عنواں مرے افسانے کا
حیراں ہوں زندگی کی انوکھی اڑان پر
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں
حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
حیرتِ دید لئے حلقہء خُوشبو سے اُٹھا
حیوانیت کی آگ میں انسان مر گیا
خارو خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
خامشی نے کیا سفر کیسے
خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
خاموشیوں میں ڈوب گیا ہے، گگن تمام
خاک میں خون ملایا اس نے
خاک میں گزرا ہوا کل نہیں ڈھونڈا کرتے
خاک ِ میداں کی حِدتوں میں سفر
خاک پر خلدِ بریں کی باتیں
خاک ہے جس کا مقّدر وُہ نگینہ دیکھا
خبط کرتا نہیں کنارہ ہنوز
ختم ھونے کو ھے سفر شاید
خدا بھی اور سمندر میں ناخدا بھی ہے
خدا تو خیر خدا ہے بشر نہیں مِلتا
خدا کا ذکر نہ کر اِن اداس لوگوں سے
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
خدا ھم کو ایسی خدائی نہ دے
خراب و خستہ سا دن، خستہ و خراب سی شام
خزانہء زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
خزاں نصیب ہیں، رشتہ مگر بہار سے بھی
خزاں کی رت میں‌ بھی نقشِ بہار باقی ہے
خزاں کے پُھول کی صُورت بِکھر گیا کوئی
خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
خشک ہونٹوں پر ترانے آ گئے
خطا اپنی چھپانے کو نئی تدبیر کرتے ہیں
خطا ہونے لگے تھے رعد سے اوسان میرے
خلا میں پر توِ آدم دکھائی دیتا ہے
خلش ہجرِ دائمی نہ گئی
خلق تکمیل کی ہے دیوانی
خلق کو آتش نفس، آنکھوں کو نم دیکھا نہ تھا
خلقت کا احتجاج تو کم کر دیا گیا
خلوتوں کا امیں گھر کہاں رہ گیا
خمار غم ہے، مہکتی فضا میں جیتے ہیں
خمار ِ شب میں اُسے سلام کر بیٹھا
خموشی بول اٹھے، ہر نظر پیغام ہوجائے
خمیدہ سر نہیں ہوتا میں خودداری کے موسم میں
خنجر سے کرو بات نہ تلوار سے پوچھو
خوئے اظہار نہیں بدلیں گے
خواب آنکھوں کو جگاتے تو کوئی بات بھی تھی
خواب اب کے نہیں، تعبیر ملے
خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں
خواب ساتھ رہنے کے نت نئے دکھاتا ہے
خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہُوں
خواب پلکوں میں جگانے کی بھی مہلت نہیں دی
خواب پلکوں کو چھو گیا ہوگا
خواب کا شہر ہی مٹا دیتے
خواب کتنے عجیب ہوتے ہیں
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
خواب کے گاؤں میں پَلے ہیں ہم
خوابوں کا اِک جہاں مجھے دے گیا کوئی
خوابوں کو تصویر بنانا بھول گئے
خوابوں کی بستیاں نہ بسائیں، تو کیا کریں
خوابوں کی تعبیر کو مٹی کر دو گے
خوابِ کِمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے
خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا
خوبصورت فریب شادی ہے فطرت غم ہی مسکرا دی ہے
خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہوگیا
خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں
خود اپنی جفاوں پہ رونے لگے ہو
خود اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے
خود اپنے تن پہ زخم کسی نے لگا لئے
خود اپنے صحن میں گردن جھکا کے ٹھہرے تھے
خود اپنے گرد ہی پھرتے ہیں ہم آہستہ آہستہ
خود سے ہم اک نفس ہلے بھی کہاں
خود وقت میرے ساتھ چلا وہ بھی تھک گیا
خود وقت میرے ساتھ چلا،وہ بھی تھک گیا
خود کو تجھ پہ میں وار دیتا ہوں
خود کو وقف ِعذاب کیا کرنا
خود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتا
خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے
خودسری کا بھرم نہ کھل جائے
خوش آمدید ۔ اس سائٹ کا مشن
خوشا وہ دور کہ جب فکر روز گار نہ تھی
خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
خوشبو کو تتلیوں کے پروں میں چھپاؤں گا
خوشبو کی ترتیب ، ہَوا کے رقص میں ہے
خوشبو کی طرح آیا ، وہ تیز ہواؤں میں
خوشبو کے ہاتھ پھول کا پیغام رہ گیا
خوشبو ہے وہ تو چُھو کے بدن کو گزر نہ جائے
خوشبوؤں‌ کی بارش تھی، چاندنی کا پہرہ تھا
خوشی کو بانٹنے والو
خوشی کی رت کو پکارو تو کب نہیں آتی
خوف سے آنکھوں میں خُوں کی دھاریاں ایسی نہ تھیں
خوف کی شب میں ہونٹ سینے سے
خوف کے سیلِ مسلسل سے نکالے مجھے کوئی
خون رسنے لگتا ہے، ان کے دامنوں سے بھی
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
خون کو ترسا ہوا راستہ رہ جاتا ہے
خون کے رشتے الجھ کر رہ گیٔے مقدار میں
خُدا نہیں، نہ سہی، ناخدا نہیں، نہ سہی
خُوب ہمارا ساتھ نبھایا، بیچ بھنور کے چھوڑا ہات
خُوب ہے شوق کا یہ پہلُو بھی
خُود فریبی کے نِکل آئے ہیں کتنے پہلو
خُوش ہوُا ہوُں تو مجھے اشک فشاں ہونے دو
خُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئی
خیال یکتا میں خواب اتنے
خیالِ ترکِ تمنا نہ کر سکے تو بھی
خیمہ خواب کی طنابیں کھول
دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں
داستانِ شوق لے کر نامہ بر آیا تو کیا؟
داستانِ شوق لے کر نامہ بر آیا تو کیا؟
داستانِ نا مُرادی، مختصر، دیکھے گا کون
داستانِ نا مُرادی، مختصر، دیکھے گا کون
داغ لہو کے خاروں پر
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
دامانِ کوہ میں جو میں دھاڑ مار رویا
دامن چاک ہی اے ہم نفساں ایسا تھا
دامن کو نہ تار تار کر لے
دامنوں کا پتہ ھے نہ گريبانوں کا
دامنِ ضبط بھگو دینے کو جی چاہتا ہے
دامِ خُوشبُو میں گرفتار صبا ہے کب سے
دانستہ سامنے سے جو وہ بے خبر گئے
در و دیوار میں سمٹا ہوا ہوں
در پردہ جفاؤں کو اگر مان گئے ہم
در گزر کرنے کی عادت سیکھو
دراڑیں سی ابھر آئی ہیں دل کا آئینہ دیکھو
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
درد اب ہوبھی گیا کم تو بھلا کیا ہوگا
درد دل میں ہزار اُٹھتا ہے
درد دل میں ہزار اُٹھتا ہے
درد دل کا جہاں رواج نہیں
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
درد سے گیت نکھارے ہیں ، تمہیں کیا معلوم
درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
درد پھر جاگا ، پرانا زخم پھر تازہ ہُوا
درد کانٹا ہے اس کی چھبن پھول ہے
درد کم ہونے لگا آو کہ کچھ رات کٹے
درد کو جب دلِ شاعر میں زوال آتا ہے
درد کی ایک بے کراں رُت ہے
درد کی سلطنت کا راج ملا
درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر
درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر
دردِ دل بھی غمِ دوراں کے برابر سے اٹھا
درو دیوار میں ، مکان نہیں
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
درِ کسریٰ پہ صدا کیا کرتا
دریا سے، کوہسار سے پہلے کی بات ہے
دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے
دریچے سے دیا جا کر ہٹا دو
دریچے میں چراغ انجمن روشن ہوا اس کا
دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے
دستِ تقدیر نے یوُں نقش اُبھارا میرا
دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گی
دستِ گُل چیں میں کھِل رہی ہے کلی
دستکیں دیتی ہیں شب کو درِ دل پر یادیں
دستگیری کر، اے زبانِ جمال
دشت جو دل کو بتاتا ہوگا
دشت میں ساتھ چلے تو ہزاروں، جو بھی چلا بیگانہ چلا
دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
دشت و صحرا اگر بساۓ ہیں
دشتِ جنون و کوہِ ارادہ اٹھا لیا
دشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
دشمنوں سے دوستی، غیروں سے یاری چاہیے
دشمنِ جان و جگر غارت گرِ ایمان ہے
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
دعوٰی ہمیں تو جرات اظہار کا بھی ہے
دعویٰ تو کیا حُسنِ جہاں سوز کا سَب نے
دفعتہ دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
دل آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے
دل اَب بھی اِضطراب سے آگے نہیں گیا
دل اپنے آپ بھر آیا تو میں نے پھر سوچا
دل بکھرنے کے لیے ہوتے ہیں
دل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
دل بھی عجیب عالم ہے نظر بھر کے تو دیکھو
دل بہ دل ہیں شہر میں، یُوں نفرتیں اُتری ہوئی
دل بہل جائے گا، اس کا مجھے اندازہ ہے
دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
دل بہلنے کی شبِ غم یہی صورت ہوگی
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
دل بیکل ہے
دل تھا درہم اور برہم رائیگاں
دل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کر ہُوا
دل جو اپنا ہوا تھا زخمی چُور
دل جو زیرِ غبار اکثر تھا
دل جو ہے آگ لگادوں اس کو
دل جگر سب آبلوں سے بھر چلے
دل خون ھوا کہیں تو کبھی زخم سہہ گئے
دل درد سے ہو چلا تھا خالی
دل دریا کے پار اک ایسی وادی تھی
دل دُکھا کر آپ نے پوچھا، ’کہو کیسا لگا؟‘
دل دکھانے کی انتہا کر دی
دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دل سے شوقِ رخِ نکو نہ گیا
دل سے ملتا ہے سلسلہ دل کا
دل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا
دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف
دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں
دل عشق کا ہمیشہ حریفِ نبرد تھا
دل غم زدہ پر جفائیں کہاں تک
دل لذت نگاہ کرم پا کے رہ گیا
دل لگانے کی ابتدا کردی
دل لگی ہی دل لگی میں دل کسی کا ہوگیا
دل مجبور کی آہ و فغاں سے کچھ نہیں ہوتا
دل مجھ سے ترا ہائے ستمگر نہیں ملتا
دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا
دل میرا اک کتاب کی صورت
دل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانا
دل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانا
دل میں آو عجیب گھر ہے یہ
دل میں اب درد مچلتا ہی نہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
دل میں احساس وفا کا بھی جگا کر دیکھو
دل میں اور تو کیا رکھا ہے
دل میں اک لہر سے اٹھی ہے ابھی
دل میں بھرا زبسکہ خیالِ شراب تھا
دل میں جب تیری لگن رقص کیا کرتی تھی
دل میں درد ، محبت کیسے بوتی رہتی ہے؟
دل میں درد ڈبو لیتے ہیں
دل میں طوفان بپا ہونے تک
دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تک
دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تک
دل میں محبّت درد کے پیڑ اُگاتی رہی
دل میں وفا کی ہے طلب، لب پہ سوال بھی نہیں
دل میں وفا کی ہے طلب، لب پہ سوال بھی نہیں
دل میں وُہ رشکِ گلستاں اُترا
دل میں کسی خلش کا گزر چاہتا ہوں میں
دل میں کِسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں
دل میں ہم ایک ہی جذبے کو سموئیں کیسے
دل میں یوں سما رہے ہیں!
دل میں‌ مہک رہے ہیں‌ کسی آرزُو کے پھول
دل نے دہرائے کتنے افسانے
دل نے صدمے بہت اُٹھائے ہیں
دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
دل نے پھر غم کا راگ چھیڑا ہے
دل نے کسی کی ایک نہ مانی
دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
دل و نگاہ میں قندیل سی جلا دی ہے
دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے
دل وہی دل ناشاد کئے جاتا ہوں
دل ِ حبیب دکھانے کا حوصلہ نہ ہوا
دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا
دل پہ جو نیل پڑے ہیں وہ مٹا ڈالوں گی
دل پہ چھایا ہے وہ احساسِ گراں
دل پہ چھایا ہے وہ احساسِ گراں
دل چُرا کر نظر چُرائی ہے
دل چھلک اُٹھا ، آنکھ بھر آئی
دل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہا
دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیں
دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد
دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہے
دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
دل کو بہلاؤں کہاں تک کہ بہلتا ہی نہیں
دل کو تسکیں جو صنم دیتے ہیں
دل کو تسکیں جو صنم دیتے ہیں
دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش
دل کو دیوار کریں ، صبر کو وحشت کریں ہم
دل کو کچھ اور سنبھلنے دینا
دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
دل کی دنیا بسا گیا کوئی
دل کی رہ جاۓ نہ دل میں، یہ کہانی کہہ لو
دل کی منزل اُس طرف ہے گھر کا رستہ اِس طرف
دل کی ہی دل میں رہ گئی حسرت گناہ کی
دل کے اِک اِک شوق پر قربان تھا، وہ بھی گیا
دل کے تئیں آتشِ ہجراں سے بچایا نہ گیا
دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے
دل کے لیے دردبھی روز نیا چاہیئے
دل کے پاتال سے ابھرا ہے کوئی
دل کے پھول بھی کھلتے ہیں ، بکھر جاتے ہیں
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
دل گیا ،تم نے لیا ہم کیا کریں
دل ہو کہ جاں، میرا نام و نشاں، تیرے پیار کے سنگ رہے
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
دل ہی سوز دروں سے جل جاتا
دل یہ کہتا ہے، طوافِ کوئے جانانہ سہی!
دل، دماغ و جگر یہ سب اک بار
دلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھے
دلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھے
دلوں سے آرزوئے عُمرِ جاواں نہ گئی
دلوں میں رکھتی ہیں خدشہ قدیم دیواریں
دلوں پہ جبر کی تمام حکمتیں الٹ گئیں
دلوں پہ کی ہیں سخن نے، گرانیاں کیا کیا
دلوں کو برف کرتی رائیگانی سے نکل آئے
دلوں کو جوڑتی ہے، سلسلہ بناتی ہے
دلوں کی گرد کو ہم لوگ صاف کرتے نہیں
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
دلِ پُر اضطراب نے مارا
دم بخود ہیں فسون ِ یار میں ہم
دم توڑتی چیخوں کے مبہوت صداؤں کے
دم عشق میں کیا دلِ مجبور رہ گیا
دمِ رخصت اسے جینے کی دعا دی ہم نے
دمک رہا ہے رُخِ شام پر ستارہء شام
دن بھی نہ بیتا رات نہ بیتی
دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب
دن مصیبت کے ٹل گئے ہوتے
دن ٹھہر جائے، مگر رات کٹے
دن کچھ ایسے گذارتا ھے کوئی
دنیا مری نظر سے تجھے دیکھتی رہی
دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلا انمول دیا
دنیا کو تو حالات سے امید بڑی تھی
دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
دو گھڑی دِل کا حال سُنتا جا
دور دل میں اترنا پڑتا ہے
دور ہی دور سے اقرار ہوا کرتے ہیں
دورسا کون ہے ? جہاں تو ہے
دوست بن کر بھی نھیں ساتھ نبھانے والا
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
دوست بن کر بھی ہمارے نکتہ چینوں میں رہے
دوست جیسی، کبھی دشمن کی طرح لگتی ہے
دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی
دوستوں کے درمیاں
دوسروں کی پرکھ تجربہ اور ہے
دولت نغمہ و آہنگ و فغاں میری ہو
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے
دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے
دُنیا نے دل کو پیار کا تحفہ دیا نہیں
دُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا ! آہستہ
دُھوپ میں جھلسا ہوں مَیں کچھ دیر سستانے تو دو
دُھوپ میں جھلسا ہوں مَیں کچھ دیر سستانے تو دو
دِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نِکال بھی
دکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیں‌جاتا
دکھ سب کو خود اپنی ذات کا ہے
دکھ فسانہ نہیں ‌کہ تجھ سے کہیں
دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ
دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں
دھندلی دھندلی فضا یہ صبح نہ شام
دھندلی سمتوں میں اگر کُونج کا پَر مل جائے
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
دھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پر
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
دھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا، وُہی فیصلہ لکھ دیا
دھوپ نکلی دن سہانےہو گئے
دھوپ کے دشت میں شیشے کی ردائیں دی ہیں
دھوپ کے روپ میں برسات بھی ہوسکتی تھی
دھڑکن کو تیری یاد سے تحریک مل رہی ہے
دھڑکنیں تیز ہو گئیں، چہرہ بھی لال ہو گیا
دہرمیں حرفِ محبت عام ہونا چاہئے
دہرمیں حرفِ محبت عام ہونا چاہئے
دہن میں نیولے کے دیکھئے گا اژدر ہے
دہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھا
دی ہے وحشت تو یہ وحشت ہی مسلسل ہو جائے
دیا اس نے محبت کا جواب، آہستہ آہستہ
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
دیارِ عشق کا یہ حادثہ عجیب سا تھا
دیارِ یار میں دیدارِ یار ہی نہ ہوا
دیتی نہیں اماں جو زمین آسماں تو ہے
دیدہ شوق سے نہاں محفل رنگ و بو نہیں
دیدہ نم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
دیدہء حیراں نے تماشا کیا
دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیں
دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا
دیس سبز جھلیوں کا
دیوار پہ لرزہ ہے تو ڈر کانپ رہا ہے
دیوار گر رہی ہے سہارا مگر کہاں
دیوار ہے کسی کی، دریچہ کسی کا ہے
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
دیپ بن کر جلا بجھا ہوں میں
دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
دیکھ تو یہ کیا ہوا
دیکھ خورشید تجھ کو اے محبوب!
دیکھ لئے ہیں، اپنے کیا بیگانے کیا
دیکھ مت دل کی طرف اتنی فراوانی سے
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
دیکھ کر سانولی صورت تری یوسف بھی کہے
دیکھئے حیلے ہیں کیا کیا یاد آنے کے لئے
دیکھا تو تھا یونہی کسی غفلت شعار نے
دیکھا تو سب خیال کےمنظر بدل گئے
دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
دیکھنا ہے کہ وہاں سامنے کیا آتا ہے
دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک
دیکھو راہِ حیات میں کہیں ہمسفر تنہا نہ ہو
دیکھو کبھی تو میری طرف خوشدلی کے ساتھ
دیکھو کبھی تو میری طرف خوشدلی کے ساتھ
دیکھوں جو تجھے شعلوں میں ڈھل جاتے ہیں آنسو
دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
دیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوں
دیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوں
دیکھے گا جو تجھ رُو کو سو حیران رہے گا
دے رھا ھے دلاسے تو عمر بھر کے مجھے
ذات اپنی گواہ کی جائے
ذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کا
ذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کا
ذرا سی دیر کو منظر سُہانے لگتے ہیں
ذراٹھہرؤ‘ دُعا کے ساتھ ہی انعام لے جانا
ذرّے ذرّے میں تیرا عکس نظر آتا ہے
ذرّے ذرّے میں جو تابانئیِ جوھر دیکھیں
ذرے سرکش ہُوئے ، کہنے میں ہوائیں بھی نہیں
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرا
ذکر جفا کئے بغیر اب نہ قرار آئے گا
ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں
ذکر ہوتا ہے جہاں بھی میرے افسانے کا
ذہن میں صورت گماں ٹھہری
ذہنوں میں خیال جل رہے ہیں
رابطہ لاکھ سہی قافلہءسالار کے ساتھ
رابطے اور بھی بڑھتے ہی گئے
رابطے رشتے نہ دیوار نہ در سے اس کے
رات آئی ہے،گزر جائے گی
رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئے
رات باقی رہے کہ ڈھل جائے؟
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
رات بیٹھا تھا مرے پاس خیالوں میں کوئی
رات میں اس کشمکش میں ایک پَل سویا نہیں
رات ڈھل رہی ہے
رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے
رات کو خواب ہو گئی ، دن کو خیال ہو گئی
رات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میں
رات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میں
رات کچھ یارِ طرحدار بہت یاد آئے
رات کی زلفیں مرھم مرھم
رات کی سیج خالی خالی ہے
رات کے زہر سے رسیلے ہیں
رات کے ساتھ ہی رخصت ہوُا مہتاب اپنا
رات ہو دن سوگوار ہے تُو
رات ہے ، چاندنی ہے، خوشبو ہے
راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
راحت نظر بھی ہے ،وہ عذاب جاں بھی ہے
راحتیں کہاں ہوں گی کونسے نگر جائیں
راز الفت عیاں ہے کیا کہیئے
راز وفائے ناز پھر دل کو بتا گیا کوئی
راز کی بات کوئی کیا جانے۔۔۔۔عمران شناور
رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
راستوں میں کوئی رستہ معتبر ایسا تو ہو
راکھ کا ڈھیر کریدا بھی مگر کچھ نہ بنا
راکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دُھواں ڈھونڈتے ہیں
راکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دُھواں ڈھونڈتے ہیں
راہ آسان ہو گئی ہو گی
راہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیں
راہ پر اُن کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
راہبر بن کر راہِ الفت میں رہزن بن گیا
راہوں میں کب جال بچھا تھا یاد نہیں ہے
راہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دعا رکھنا
راہِ جنوں پہ چل پڑ ے ، جینا محال کر لیا
راہِ جنوں پہ چل پڑ ے ، جینا محال کر لیا
راہِ دور عشق ہے روتا ہے کیا
رخ پہ گردِ ملال تھی، کیا تھی
رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
رخِ حیات کو رنگ نشاط مل جائے
رزم گاہِ عشق میں یوں کوئی گھائل جائے گا
رستے میں جو شام پڑ گئی ہے
رستے میں جو شام پڑ گئی ہے
رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا
رسوا رسوا سارے زمانے
رسیدن گلِ باغ واماندگی ہے
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!
رعنائی بہار و گل و گلستاں گئی
رعنائی دستورِ مشیت کی ادا ہوں
رعنائیِ نگاہ کو قالب میں ڈھالیے
رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے
رفتہ رفتہ آدمی جب قافلوں میں بٹ گیا پردہ منزل پر پڑا تھا جو وہ آخر ہٹ گیا
رفتہ رفتہ دل ہمارا تیرا دیوانہ ہوا
رفتہ رفتہ دل ہمارا تیرا دیوانہ ہوا
رقص
رقص میں رات ہے بدن کی طرح
رقص میں رات ہے بدن کی طرح
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
رقم کریں گے ترا نام انتسابوں میں
رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
رنجش کوئی رکھتا ہے تو پھر بات بھی سن لے
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے
رنگ اور نور کی دنیا میں ذرا لے جائے
رنگ بدل کے رہ گیا گلشن روزگار بھی
رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ھم بھی ھیں
رنگ صنم کدہ جو ذرا یاد آ گیا
رنگ و خوشبو، شباب و رعنائی
رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
رنگینیء حیات کے مارو جواب دو
روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں
روز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میں
روز یہ وقت آ جاتا ہے
روز، اِک نیا سوُرج ہے تیری عطاؤں میں
روزانہ ملوں یار سے یا شب ہو ملاقات
روش روش ہیے وہی انتظار کا موسم
روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
روشن کیے جو دل نے کبھی دن ڈھلے چراغ
روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغ
روشنی تیرے سفیروں کا نشاں باقی ہے
روشنی جب میرے مکان میں ھو
روشنی خوگرِزنجیر نہیں ہو سکتی
روشنی دل کے دریچوں میں بھی لہرانے دے
روشنی کا، افقِ شب پہ اشارہ کیوں ہے؟
رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گۓ
رونے سے ملال گھٹ گیا ہے
روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیا
روکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
رویے اور فقرے ان کے پہلو دار ہوتے ہیں
رَس میں جو بات ہے وہ مَس میں نہیں
رَگوں میں زہر بھر لینا
رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع
رُوح گھائل ہو گئی اور جسم بھی شل ہو گیا
رُک گئی عقل و فکر کی پرواز
رچی ہوئی ہے یہ کیسی مہک ہواؤں میں
رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب
رہ بہ رہ پھر وہی اندیشۂ غم
رہ بہ رہ پھر وہی اندیشۂ غم
رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر
رہا جائے گا چُپ کیسے خدا کے رُوبرو ہم سے
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
رہبر کی نہ فکر ہے نہ فکر منزل کی
رہنے کا پاس نہیں ایک بھی تار آخرکار
رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
رہین خوف نہ وقف ہراس رھتا ھے
رہے اسیرِ قفس در قفس بہار میں ہم
رہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا
رہے گا ہم پہ یہ احسانِ دو جہاں کب تک؟
ریاضِ دہر میں پوچھو نہ میری بربادی
ریت بھری ہے ان آنکھوں میں تم اشکوں سے دھو لینا
ریزہ ریزہ بکھر گئے ہم بھی
زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا
زباں سے ایک ہیں دل سے بٹے ہیں ذاتوں میں
زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے
زخم تحریر پر سلا لینے دو
زخم دل کی کہانی کیا کروں
زخم نگاہ کے لیے مرہم اندمال تھے
زخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنے
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
زخم کو پھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
زخمِ امید بھر گیا کب کا
زخمِ دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہو
زخمِ دل رشکِ مہ و غیرتِ خورشید نہیں
زرِ گل تھے بھی گر تو زر نہ جانا
زلفیں آئی ہیں لٹک کر روئے جاناں کی طرف
زمانه آیا هے بے حجابی كا ، عام دیدار یار هو گا
زمانہ خدا ہے
زمانہ خوش کہاں ہے سب سے بے نیاز کر کے بھی
زمانہ میں کوئی تم سا نہیں ہے
زمانہ کچھ نہیں بدلا،محبت اب بھی باقی ہے
زمانہ ہے خفا مجھ سے کہ تم سے
زمانے سے جدا لگنے لگا ہے
زمانے کی پہلے سی فطرت نہیں ہے
زمین جلتی ہے اور آسمان ٹوٹتا ہے
زمین خشک، فلک بادلوں سے خالی ہے
زمینِ چشمِ نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا
زمیں بارہ ستونوں پر کھڑی تھی اور میں بھی :رفیق سندیلوی
زمیں پہ سبزہ لہک رہا ہے، فلک پہ بادل دھواں دھواں ہے
زمیں پہ مستی برس رہی ہے فلک پہ انوار چھا رہے ہیں
زمیں چل رہی ہے کہ صبحِ زوالِ زماں ہے
زمیں کہیں ہے مری اور آسمان کہیں
زمیں کے نیچے کوئی شے تھی آسماں کی طرح
زندگی ان کی چاہ میں گزری
زندگی انساں كی اک دم كے سوا كچھ بھی نہیں
زندگی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی
زندگی اک پیرہ زن!
زندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی
زندگی جب بھٹک گئی ھو گی
زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں
زندگی جیسی تمنا تھی، نہیں ،کچھ کم ہے
زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
زندگی صرف اسی دھن میں گزارے جائیں
زندگی غیر کی سوغات نہ ہو
زندگی مدہوش ہو کر رہ گئی
زندگی پاؤں نہ دھر جانب انجام ابھی
زندگی ڈر کے نہیں ہوتی بسر، جانے دو
زندگی کا مآل۔ تنہائی
زندگی کس ڈگر پہ چلتی ہے
زندگی کی دھوپ میں اس سر پر ایک چادر تو ہے
زندگی کے میلے میں
زندگی یوں تھی کہ جینے کا بہانہ تو تھا
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
زور پیدا جسم وجاں‌کی ناتوانی سے ہوا
زُلفِ سیاہ خم بہ خم، نوُرِ جمال یَم بہ یَم
زہر پی کر بھی یہاں کس کو ملی غم سے نجات
زہر کے بعد جو شرمندہء تریاق ہوُئے
زیست آزار ہوُئی جاتی ہے
سائے پگھل رھے تھے
سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے
ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے
ساتھ چلنے کے لئے وہ ذرا تیار تو ہو
ساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیں
ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟
ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟
ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
ساحل سے دور جب بھی کوئی خواب دیکھتے
ساحلوں پہ مثلِ گوہر پھینک دے
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
ساری دُنیا میں مرے جی کو لگا ایک ہی شخص
ساری رات جگاتی ہے
سارے رئیس اعضاء ہیں معرضِ تلف میں
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ساغر ِچشم سے سرشار نظر آتے ہیں
ساقی نظر سے پنہاں شیشے تہی تہی سے
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
سامنے ہے صنم کدہ سوئے حرم نظر بھی ہے
سامنے ہے مرے لیکن نظر آتا بھی نہیں
سانحہ کتنا بڑا ہے، سانحے کو کیا پتہ
سانحہ ہم پہ یہ پہلا ہے مری جاں کوئی؟
سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
سانس لینا ہوا محال مجھے
سانس کے شور کو جھنکار نہ سمجھا جائے
سانپ ہی سانپ نظر آتے ہیں خوابوں میں مجھے
ساون بھادوں ساٹھ ہی دن ہیں پھر وُہ رت کی بات کہاں
ساون میں برسات ضروری ہوتی ہے
سب اپنی ذات کے اظہار کا تماشا ہے
سب بھول چکا ہوں
سب راستے دشمن ہوئے، اشجار مخالف
سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
سب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرے
سب نے انسان کو معبوُد بنا رکھا ہے
سب چلے جاؤ، مجھ میں تاب نہیں
سب کو دل کا محرم پایا
سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
سب ہوئے نادم پئے تدبیر ہو جاناں سمیت
سب ہیں اسیر راہ گزر، کیا کروں گا میں
سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ چھپانے کا
سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ چھپانے کا
سبز موسم کی خبرلے کے ہَوا آئی ہو
سبز گنبد کی جھلک دیدہء تر سے آگے
سبزانِ تازہ رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی
سبق ایسا پڑھا دیا تُو نے
سبھی اپنے نشاں کھوئے ہوئے ہیں
سبھی جذبے بدلتے جا رہے ہیں
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
ستارہ وار چلے پھر بجھا دیئے گئے ہم
ستارہ وار چلے پھر بجھا دیے گئے ہم
ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے ۔۔۔۔عمران شناور
ستم نہیں یہ ستم کی ہے انتہا لوگو
ستم کا عدو مستحق ہوگیا
ستم کی رات کو جب دن بنانا پڑتا ہے
ستم ہی کرنا، جفا ہی کرنا، نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
ستمِ کامیاب نے مارا
سجتی ہے چاندنی کو روایت حجاب کی
سحر بن کے آنکھیں کھُلیں تو حقیقت کا پورا سبق داستاں ہو گیا
سحر جو آئینہ یہ رشکِ ماہ دیکھتے ہیں
سحر کے خواب کا مجھ پر اثر کچھ دیر رہنے دو
سحَر کہ عید میں دورِ سبو تھا
سخن آرائی باقی رہ گئی ہے
سخنِ حق کو فضیلت نہیں ملنے والی
سر بارِ دوشِ وحشت و موجِ نفس عذاب
سر بھی ہے پائے یار بھی شوق سوا کیا ہوا
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیں
سر ِ صحرا حباب بیچے ہیں
سر پراک سچ مچ کی تلوار آئے تو
سر گزشت دل کو رو داد جہاں سمجھا تھا میں
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے
سر گوشیاں ہیں بزم میں کچھ میری آہ سے
سرابِ زیست میں ہم ڈوبتے اُبھرتے رہے
سراپا آرزو بن کر تصور آشنا ہو کر
سراہوں گا تیرے مَن مَن کے روُٹھ جانے کو
سرحدِ مرگ سے اب واپسی ناممکن ہے
سرحدِ مرگ سے اب واپسی ناممکن ہے
سرحدِ مرگ سے اب واپسی ناممکن ہے:rafiq sandeelvi
سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا
سرنگوں ہی کر دیا ذوق جبیں سائی نے
سرور جگر کے داغ نمایاں نہ کیجئے
سرور کسی صورت تجھے آرام نہ آیا!
سرور کو جہاں دیکھو وہاں خوار بہت ہے
سرِ بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئی
سرِ خیال تھے وجہِ نشاط ، خواب اس کے
سرِ دورِ فلک بھی دیکھوں اپنے روبرو ٹوٹا
سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
سرگوشی بہار سے خوشبو کے در کھلے
سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
سطح پر آج تو پتّھر بھی اُبھرنا چاہیں
سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہونگے
سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہو
سلسلہ دار و رسن کا نہ کبھی ٹوٹے گا
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں
سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں
سلگ رہی ہے فضا سائباں کے ہوتے ہوئے
سم کھا موے تو دردِ دلِ زار کم ہوا
سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سمندر میں ہوں اور کوئی کنارا نہیں مِل رہا : رفیق سندیلوی
سمندر کا سفر اچھا نہیں ہے
سمندر کیا کریںگےقطرہ ﺀ شبنم چرالائیں
سمے سمے کی خلش میں تیرا ملال رہے
سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟
سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟
سن سکے تو سن لے یہ آخری کہانی ہے
سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے
سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کا
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
سناّٹا فضا میں بہہ رہا ہے
سنو ادھر اس طرف کہ جو ہیں ریا گزیدہ
سنو اچھا نہیں لگتا
سنو بلاؤ انہیں جو دل کے دیار میں ہیں
سنو ھم دو تھے دونوں نے بھرے بازار کو دیکھا
سنو، اہل وفا نے ہی ہمیشہ کیوں جفا پائی؟
سنو، وہ جب ستاتا ہے
سنگ مجھ بہ جاں قبول اس کے عوض ہزار بار
سنگ مرمر کی طرح سرد نہیں لگتے ہیں
سنگدل کتنے تیرے شہر کے منظر نکلے
سنہرے خواب بُنے، خاک سے نباہ کیا
سو بھی جاؤں تو ہر اِک خواب بُرا ہی دیکھوں
سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
سو رج بھی بندھا ہوگا دیکھ مرے بازو میں
سو گئی شہر کی ہر ایک گلی
سودا خودی کا تھا نہ ہمیں بے خودی کا تھا
سورج تھے، چراغِ کفِ جادہ میں نظر آئے
سورج روز ہی جیتے مرتے رہتے ہیں
سورج سے جنگ کرنے کی بادل نے ٹھان لی
سوز اِتنا تو نوا میں آئے
سوزِ دل کو آشنائے ساز ہونا چاہیے
سوزِ پنہاں کے سوا، حالِ پریشاں کے سوا
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
سوچتا ہوں کہوں تجھ سے ’’مگر‘‘ جانے دے
سوچتے رہنے کی عادت ہوگئی
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
سُن اے حکیمِ ملت و پیغمبرِ نجات
سُن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
سُن لی خُدا نے وہ دُعا تم تو نہیں ہو
سُنو، وہ جب ستاتا ہے
سُوکھی ٹہنی ، تنہا چڑیا ، پھیکا چاند
سِحرِ عہدِ شباب سے آگے
سپنے میرے
سچ کو بھی سچ مانے کون
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں
سکوتِ دہر رگوں تک اتر گیا ہوتا
سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤ
سکوتِ مرگ کے سائے بچھا کے لہجے میں
سکون درد کو ، غم کو دوا بناتی ہے
سکون و صبر کا امیدوار ہے اب تک
سکوں بھی خواب ہوا،نیند بھی ہےکم کم پھر
سکوں محال ہے امجد وفا کے رستے میں
سکھ کا موسم خیال و خواب ہوا
سہل کب ہوتے ہیں ،دشوار ہوا کرتے ہیں
سیاہ ہجر گیا زرد انتظار گئے
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اُس نخچیر کا
سیل گریہ ہے کوئی جو رگ جاں کھینچتا ہے
سیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہے
سینہ دشنوں سے چاک تا نہ ہوا
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
سینے میں خنجر کی نوک چُھبوتی ہیں
شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی
شاعرِِ درماندہ
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
شام کا بُھولا ہوا وقتِ سحر آ جائے گا
شام کنارے چاند اُبھرتا بھُول گئے
شام کنارے چاند اُبھرتا بھُول گئے
شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں
شامل میرا دشمن صف یاراں میں رھے گا
شامِ سفر کی حد پہ تھے دن رات کی طرح
شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
شامِ فراق ایک عجب تجربہ ہُوا
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئی
شانِ عطا کو، تیری عطا کی خبر نہ ہو
شاید اسے ملے گی لب بام چاندنی
شاید حریفِ آرزوئے دل ہے ان کی یاد
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ھوئی
شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر
شاید کہ آغاز ہو پھر کسی افسانے کا
شب تُم جو بزمِ غیر میں آنکھیں چُرا گئے
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا
شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
شب سوزِ دل کہا تھا میں مجلس میں شمع سے
شب غم آرزوؤں کی فراوانی نہیں جاتی
شب غم ہے مری تاریک بہت ہو نہ ہو صبح ہے نزدیک بہت
شب و روز رونے سے کیا فایدہ ہے
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
شب کو اس کا خیال تھا دل میں
شب کو جب کبھی میں نے اپنی جستجو کی ھے
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا
شب کی بیداریاں نہیں اچھی
شب کی تلخی شبِ غم سے پوچھو
شب کے تیرہ سمندر نے کھولا ہے در دن نکلتا نہیں
شب گزرنے سے تو انکار نہیں
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
شبِ شعر میں ہُنر آشکارا مرا بھی ہو
شبِ فراق کو جب مژدہء سحر آیا
شبِ مہتاب و شامِ زندگانی یاد آتی ہے
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ
شبِ ہجراں تھی جو بسر نہ ہوئی
شبِ‌ ہجر میں کم تظلم کیا
شجر بن کے زندگی کو گزارا جائے
شجر شجر نے زباں پیاس سے نکالی تھی
شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
شرح بے دردی حالات نہ ہونے پائی
شرح جفائے چرخ کہن مختصر نہیں
شریکِ گردشِ ہفت آسماں نہ تھا پانی
شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
شعلہ سا پیچ وتاب میں دیکھا
شعلہ سامان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
شعوُر میں، کبھی احساس میں بساؤں اُسے
شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی
شفق غبار بنی اور کوچ کرنے لگی
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارہء شام
شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں
شمارِ گردش لیل و نہار کرتے ہُوئے
شناور۔۔۔۔عمران شناور
شوخ نظروں میں جو شامل برہمی ہو جائے گی
شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے
شوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کُھلتیں
شکر تھا جن کے کھوج میں وہ گام اور تھے
شکست شیشہ عقل و شعور دیکھیں گے
شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں
شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا
شکستہ پائی کے مرحلے، دشتِ ہجر میں اس لیے نہ آئے
شکل دیکھی نہ شادمانی کی
شکوہ اضطراب کون کرے
شکوہ اول تو بے حساب کیا
شکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھے
شکوہ کروں میں کب تک اُس اپنے مہرباں کا
شکوۂ تاخیر
شکوے تیرے حضور کئے جا رہا ہوں میں
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
شہاب تھا کہ ستارہ، گریز پا ہی لگا
شہر دل، ڈھونڈ رہی ہیں گلیاں
شہر سنسان ہے کدھر جائیں
شہر میں‌چاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
شہر ِویران کے دروازے سے لگ کر روئے
شہر کے دکاں دارو! کاروبارِ الفت میں سود کیا، زیاں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گے
شہروں کا شور کر گیا بے خبر مجھے
شہرِ بے مہر سے پیمانِ وفا کیا باندھیں
شہرِ جاں سے گزر گئے ہم
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیر
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور
صاف جب تک نہ ترے ذہن کے جالے ہوں گے
صبح بھی چین نہیں شام بھی آرام نہیں
صبح دربار میں ایک شان سے بیٹھا دیکھوں
صبح سے ہو گئی ہے یارب شام
صبح میں دیکھتا ہوُں شام کے آثار ابھی
صبح نہیں ہو گی کبھی،دل میں بٹھا لےتو بھی
صبح کو ہم یوں شام کرتے ہیں
صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
صبحِ عشرت دیکھ کر، شامِ غریباں دیکھ کر
صبحیں نہیں رہی ہیں وہ راتیں نہیں رہیں
صبر کے ساتھ مرا دل بھی لیے جائیں آپ
صحبت یاد رفتگاں کب تک؟
صحرا میں جا کے گھر کا نشاں ڈھونڈتے رہے
صحرا میں سیلِ اشک مرا جا بہ جا پھرا
صحرا کو گلزار بناتی رہتی ہیں
صحرا ہوُں، مجھے چمن بنا دے
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
صداقتوں نے معیار پہلے ہی کھو دیا ہے
صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے
صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے
صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے
صرف اُسی کو سلام کرتے ہیں
صرف اک عزِم سفر، زادِ سفر اپنا تھا
صنم تراش پر آدابِ پر آدابِ کافرانہ سمجھ
صورتِ رنگِ گل و بوئے سمن جاتے ہیں
صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے
صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے
ضائع کرتے تھے ملاقاتوں کو
ضبط کا عالم جب اِس حد تک تہہ و بالا نہ تھا
طالب دید ہوں، چہرہ تو دکھا، دکھوں میں درمیاں پردہ ہے کیا، پردہ اٹھا دکھوں میں
طرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزری
طرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزری
طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
طلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھی
طلسم جب سے نہاں ہو گئے ہیں لہروں میں
طلسمِ خواب سے میرا بدن پتھر نہیں ہوتا
طلوعِ ہجر کی بستی میں چاند سا نکلے
طلوُعِ صُبح کا الزام میرے سَر آیا
طواف حرم نہ دیر کی گہرائیوں میں ہے
طور سے کوئی علاقہ ہے نہ ربط ایمن سے
طوفان سامنے ہے کنارے کدھر گئے
طوفان ہے ہمرکاب میرا
طوفاں ہے اگر گھر کے درپے، یوں بیٹھ نہ جاؤ، کچھ تو کرو
طیور سے نظر آتے ہیں جو درختوں پر
ظالم حیات، چال مِرے ساتھ چل گئی
ظاہر میں ہم فریفتہ حُسنِ بُتاں کے ہیں
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
ظلمتوں کے پروردہ روشنی سے ڈرتے ہیں
ظلمِ رنگ
عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا
عالم نہ پوچھئے جو ہمارا ہے آج کل
عالم ِ محبت میں
عالمِ ہجر میں سویا ہوُں، نہ سونا چاہوں
عام ہو جائے نہ اس پیکرِ مے فام کا نام
عبادتوں کی طرح میں یہ کام کرتا ہوں
عبرت آموز محبت یوں ہوا جاتا ہے دل
عجب اِک سایئِہ لاہوت میں تحلیل ہوگی:رفیق سندیلوی
عجب اپنا حال ہوتا، جو وصالِ یار ہوتا
عجب جہانِ طلسمات میرے اندر تھا
عجب حالت ہماری ہوگئی ہے
عجب سا ذائقہ ہُوں میں
عجب موسم ہے میرےہر قدم پہ پھول رکھتا ہے
عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے
عجب پاگل سی لڑکی ہے
عجزِ اہل ستم کی بات کرو
عجیب رنگ تیرے حُسن کا، لگاؤ میں تھا
عجیب وقت پڑا، اب کے با ضمیروں پر
عذاب آنکھ میں اترے تو راستہ نہ ملا
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کرلوں
عذاب در بدری سے نکالنا چاہتے ہیں
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
عذابِ ہجر بڑھالوں، اگر اجازت ہو
عذرآنے میں بھی ہےاور بلاتے بھی نہیں
عرش سے سچ کی ہدایت بارہا مِلتی رہی
عرش سے پار پہنچتی میری پروازِ خیال
عرش پر جا کے بھی جو خاک نشیں ہوتا ہے
عرصۂ زیست جاودانی ہے
عرضِ نازِ شوخئِ دنداں براۓ خندہ ہے
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
عشق تاثیر سے نومید نہیں
عشق سے سچ کو آنچ کیا آتی
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
عشق منت کشِ قرار نہیں
عشق منت کشِ قرار نہیں
عشق میں نام کر گئے ہوں گے
عشق میں نام کر گئے ہوں گے
عشق نہ پُو چھے ذات
عشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو
عشق پیشہ نہ رہے داد کے حق دار یہاں
عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرضِ سوال سے پہلے
عشق کو معجزہ سمجھتے ہو ؟
عشق کوہ گراں ہے لگتا ہے
عشق کیا کیا فریب کھاتا ہے
عشق کے باب میں کچھ یوں ہے تمہارا ، میرا
عشق ہی کارِ مسلسل ہو گیا ہے
عشّاق نہ پتھر نہ گدا کوئی نہیں ہے
عقائد وہم ہیں، مذہب خیال خام ہے ساقی
عمر بھر رویا کیے ناکامیاں دیکھا کیے
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
عنایتوں کا کبھی وحشتوں کا قائل ہوں
عُمر بھر اُس نے اِسی طرح لُبھایا ہے مُجھے
عُمر بھر کے لیے اب تو سوئی کی سوئی ہی معصوم شہزادیاں رہ گئیں
عُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہے
عِشق بے دم ہے تو فردوسِ وفا مت ڈھونڈو
عِشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا
عکس جمال ہوا جا رہا ہوں میں
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
عکسِ تنویر پسِ گردِ سفر کیسا ہے
عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیرے
عہدے سے مدِح‌ناز کے باہر نہ آ سکا
عیش بھی اندوہ فزا ہو گیا
عیش ِ امید ہی سے خطرہ ہے
غازی بنے رہے سبھی عالی بیان لوگ
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
غبارِ دشت طلب زیادہ ہے تو جنوں میں زیادہ ہو جا
غبارِ رنگ جو آئینۂ بہار میں ہے
غرور و کذب و ریا کل من علیھا فان
غزل بعد ازیگاؔنہ سرخرو ہم سے رہے گی
غزل سن کر پریشاں ہو گئے کیا
غزل لکھوں تو کِسے اپنا مُدّعا مانوں
غزل لکھوں تو کِسے اپنا مُدّعا مانوں
غزل کو ماں کی طرح باوقار کرتا ہوں
غزل کو پھر سجا کے صورت محبوب لایا ھوں
غزل کو پھر سجا کے صورت محبوب لایا ھوں
غزل کے دل میں بسے ، نظم کی نظر میں رہے
غزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتے
غصے سے اُٹھ چلے ہو جو دامن کو جھاڑ کر
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
غلط کہا کہ دہن کا رفو ضروری ہے
غلط ہے عشق میں اے ابوالہوس اندیشہ راحت کا
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
غم بھی وہیں رہ گیا، ہم بھی وہیں پہ رہ گئے
غم دنیا جو نہ ہو گا غم جاناں ہو گا
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
غم سے لپٹ ہی جائیں گے ایسے بھی ہم نہیں
غم سے چھوٹوں ، تو ادھر دیکھوں میں
غم عاشقی کے نظام اور بھی ہیں
غم فرقت کی لو ہر لمحہ مدھم ہوتی جاتی ہے
غم میں تمام رات کا جاگا ہوا تھا میں
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
غم کا احساس جواں ہو جاتا اشک آنکھوں سے رواں ہو جاتا
غم کا خوگر بنا دیا ہے
غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
غم کی اِس سِل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
غم کی جاگیر کو کچھ اور بڑھا سکتے ہو
غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے
غم ہے یا خوشی ہے تو
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا
غمزے نے اُس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
غموں سے اس قدر ہے دوستی اب
غموں سے دو عالم کے گھبرا گئے ہم
غموں کی خوشی مار ڈالے گی اِک دن
غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
غمِ عاشقی نے رُلا دیا ، مرے دل کا چین گنوا دیا
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں
غیر جب سے وُہ اپنا یار لگا
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
غیر کے ہات میں ہات ہمارا؟
غیروں سے مل چلے تم مستِ شراب ہو کر
غیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپا کر
فائدہ مصر میں یوسف رہے زنداں کے بیچ
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
فاصلے ایسے بھی ہوں گےیہ کبھی سوچا نہ تھا
فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو
فراق صدیوں پہ چھا گیا نا، وہی ہوا نا
فراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہے
فرصت میں اوپر والے کو دھیان جب آیا تیرا
فرصت کہاں خطوط پڑھوں آج پیار سے
فروغِ ماہ میں توُ اور شبِ سیاہ میں توُ
فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا
فریاد کروں مگر کہاں تک
فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے
فریب محبت سے غافل نہیں ہوں
فریب کھا کے بھی اک منزلِ قرار میں ہیں
فریبِ رنگ عیاں ہے، جدھر نگاہ کروں
فصل گل ہے تو بے اثر کیوں ہے
فصلوں پر اب آ بیٹھا ہے سلطاں، وقت سے پہلے
فصلیں اُجڑیں اور قُرقی کھلیان ہوئے
فصیح الملک داغ (شاعر) کے حضور میں
فصیلِ ذہن پہ سوچوں کا بھوت ہو جیسے
فضا میں رنگ نہ ہو آنکھ میں نمی بھی نہ ہو
فضا میں وحشتِ سنگ و سناں کے ہوتے ہوئے
فضا پیتی ہوُئی آنسو، ہوَا بھرتی ہوُئی آہیں
فغاں بے فیض کیوں ہے، نالۂ دل بے اثر کیوں ہے؟
فغاں کا ذکر کریں، آرزو کی بات کریں
فقط اپنی ضرورت کے لئے غم خوار تھے میرے
فقط گھر کی محبت کیا کرے گی
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
فلک سے چاند ، ستاروں سے جام لینا ہے
فلک سے چاند اترنے کا انتظار نہ کر
فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
فلک کو کس نے اک پرکار پر رکھا ہوا ہے
فلک کے روزنوں سے جھانک کر سورج نے دیکھا :رفیق سندیلوی
فلک کے روزنوں سے جھانک کر سورج نے دیکھا :رفیق سندیلوی
فن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پر
فن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پر
فنا کی سمت ہے رُخ زندگی کے دھارے کا
فکر دلداریء گلزار کروں یا نہ کروں
فکرِ انجام کر انجام سے پہلے پہلے
فکرِ دنیا کہاں اور سرورِ بدنام کہاں!
فکرِ زمیں نہیں ہے غمِ آسماں نہیں
قاصد جو تھا بہار کا نا معتبر ہُوا
قبولیت کا گِلہ نہیں ہے
قرار چھين ليا بے قرار چھوڑ گئے
قرارِ جاں بھی تمھی، اضطرابِ جاں بھی تمھی
قربان کسی پہ دولت ہستی ہے آج کل
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
قریہء جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے
قصہ ویراں ہوا جاتا ہے
قصۂ غم سنا کے دیکھ لیا
قصۂ غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئے
قصۂ غم کہتے کہتے خود فسانا ہوگئے
قصے ہیں خموشی میں نہاں اور طرح کے
قطعات
قفس تو یاں سے گئے پرمدام ہے صیاد
قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
قلم جب دَرہم و دِینار میں تولے گئے تھے
قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
قّصۂ دہر کا عنواں ہونا
قّصۂ دہر کا عنواں ہونا
قہوہ خانے میں دھواں بن کےسمائے ہوئے لوگ
قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر
قیامت ہو مصیبت ہو بلا ہو
قیامت ہو مصیبت ہو بلا ہو
قیامت ہیں بانکی ادائیں تمہاری
قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا
قیمت خلعت زر برسرِ بازار گری
قیمت ہے ہر کِسی کی دُکان پر لگی ہوئی
كوئی بھی لمحہ كبھی لوٹ كر نہیں آیا
لا دوا درد جو دیا اس نے
لارہا ہے مے کوئی شیشے میں بھر کے سامنے
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
لازم نہیں کہ اُس کو بھی میرا خیال ہو
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
لالہ و گُل کے جو سامان بہم ہو جاتے
لالہ وگل کو دیکھتے کیا یہ بہار دیکھ کر
لاکھ اب یاد کی، احساس کی پہنائی ملے
لاکھ غموں کا پینا ہے
لاکھ چاہیں ہم مقٌدر کو بدل سکتے نہیں
لاکھوں ستم اُٹھائے، ہزاروں ہی غم ہوئے
لب پہ آ جائے تو حق بات کی تردید کہاں
لب پہ آئے، بکھر گئے نغمے
لب پہ نہ لائے دل کی کوئی بات اسے سمجھا دینا
لبوں میں نرم تبسّم رچا کے گھُل جائیں
لبوں پر ہے ہر لحظہ آہِ شرر بار
لبوں پہ حرف رَجَز ہے زِرَہ اُتار کے بھی
لبِ خاموش سے افشَا ہو گا
لخت لخت چہروں کو، آئینوں میں کیا دیکھیں
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
لطف آرام کا نہیں ملتا
لطف فرما سکو تو آجاؤ
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓ
لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے
لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
لفظوں سے چھاؤں کی سطروں کو سائباں کیا
لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
لمحہ لمحہ دم بہ دم
لمحہ لمحہ وقت کی جھیل میں ڈُوب گیا
لو ، خدا حافظ تمہیں کہنے کی ساعت آگئی
لو مَیں بھی ہر بات تمہی سی کہتا ہوں
لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب۔۔۔۔عمران شناور
لو یُوں بھی بن باس رچائیں شہروں میں
لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
لوگ جائیں یا ترا پیچھا کریں
لوگ وابستہ ہیں اُس یارِ طرح دار کے ساتھ
لوگ ہلالِ شام سے بڑھ کر پَل میں ماہِ تمام ہوۓ
لوگوں کے لیے صاحب کردار بھی میں تھا
لُطف سو گواری میں
لپکیں گے پلٹ کے پھر وہاں سے
لچک سی جیسے لپکتی ہوُئی صَدا میں پڑے
لچکتی ہے بہت بارِ نظر سے
لکھ اپنی ڈائیری میں کبھی میرا نام بھی
لکھو تم ہمیں چِٹھیاں دوستو
لگ رہا ہے شہر کے آثار سے
لگی دل کی ہم سے کہی جائے نا
لگے خدنگ جب اس نالہء سحر کا سا
لگے نہ کیوں خود سے مجھ کو پیارا،کبھی سمندر،کبھی ستارہ
لہو اچھال گیا ہے غبار آنکھوں میں
لہو بونے کو بھی جی چاہتا ہے
لہو رونے سے ڈرتا ہوں، جدا ہونے سے ڈرتا ہوں
لہو لہو سے گلابوں کی داستاں دیکھو
لہو میں زہر ملانے کی کیا ضرورت تھی
لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے
لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
لے اڑا ایسے ترا دھیان مجھے
لے چلا جان میری روٹھ کے جانا تیرا
لے کر مہِ شب تاب سے کرنوں کا بہاؤ
لے گئی کل ہوسِ مے جو سرخُم مجھ کو
لے ہاتھ سے ہاتھ اَب مِلا بھی
مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے
مال و زر کے کسی انبار سے کیا لینا ہے
مالک! یہ آب و خرما یہ نان و نمک نہ دے
مان لے اب بھی مری جانِ ادا ،درد نہ چُن
مانا وادی ء عشق میں پاؤں اندھا رکھنا پڑتا ہے
مانا کہ علاجِ دلِ بیمار بہت ہے
مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
مانندِ شمعِ مجلس شب اشک بار پایا
مانندِ صبا جدھر گئے ہم
مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ
مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتے
ماں
ماں کی ممتا، چھاؤں گھنیری ، ٹھاٹھیں مارتی رحمت
مت پوچھو کس حال میں ہیں
مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کا
متاعِ قلب وجگر ہیں ، ہمیں کہیں سے ملیں
متفرق اشعار
مثال اس کی کہاں ہے زمانے میں
مثال شمع جلاتی ہے زندگی ہم کو
مثال پرتو مے ، طوف جام كرتے هیں
مثالِ اَبر زمیں کا لباس ہو جاؤں
مثالِ مَوجِ ہوا دَربدر وہ ایسا تھا
مجُھ کو رُسوا سرِمحفل تو نہ کروایا کرے
مجُھ کو یہ کربِ مسافت بھی ہے، انعام لگا
مجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پر
مجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پر
مجھ سے تھا، جو چاند گریزاں دیکھ لیا ہے
مجھ سے خفا خفابھی ہیں اور غم برہمی بھی ہے
مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
مجھ پر ستم ظریف زمانے کے ساتھ ساتھ
مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن
مجھ کو ساقی نے جو رخصت کیا مے خانے سے
مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز
مجھ کو یقین ہے سچ کہتی تھیں ،جو بھی امٌی کہتی تھیں
مجھے اندھیرے میں بیشک بٹھا دیا ہوتا
مجھے اے اہلِ کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہے
مجھے اے زندگی ! تجھ سے مکرنا پڑ رہا ہے
مجھے خبر تھی میرے بعد وہ بکھر جاتا
مجھے خلا میں بھٹکنے کی آرزو ھی سہی
مجھے خود سے مُکرنا پڑ گیا ہے
مجھے زنہار خوش آتا نہیں کعبے کا ہمسایا
مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں
مجھے عزیز ہے کوئی بھی نور پارہ ہو
مجھے فجر آئی ہے شہر میں
مجھے ملنے جب آیا‘ساتھ پہرے دار لے آیا
مجھے وداع کر
مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا
مجھے پہنچنا ہے منزلوں پر، لگن ہے اتنی
مجھے کیا خبر تھی سچ مچ یہ سمے گذر رہا ہے
محاذوں پر اترنے کا ارادہ بھول سکتا ہے
محبت آشنا ہوکر وفا نا آشنا ہونا
محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
محبت ميں کرے کيا کچھ کسی سے ہو نہيں سکتا
محبت میں آہِ رسا چاہتا ہوں
محبت میں اُف کیا سے کیا ہو گئے ہم
محبت میں جگر گزرے ہیں ایسے بھی مقام اکثر
محبت میں غلط فہمی اگر الزام تک پہنچے
محبت میں کوئی بھی المیہ اچھا نہیں لگتا
محبت پاکے دل کھونا پڑے گا، کب یہ سوچا تھا
محبت پھر اُسکا بیاں، اللہ اللہ!
محبت پھر اُسکا بیاں، اللہ اللہ!
محبت کا انوکھا قافلہ ہے
محبت کا جب زورِ بازار ہوگا
محبت کو بھلانا چاہیے تھا
محبت کھیل نہیں
محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
محبت کی حسیں رت میں تمہیں ہم سے بچھڑ نا تھا
محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے
محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے
محبت کی طبیعت میں اگرچہ غم نہیں ہوتا
محبت کیا ہے، کیا ہے آرزو، بیگانگی کیا ہے؟
محبت کیا ہے، کیا ہے آرزو، بیگانگی کیا ہے؟
محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنا
محبتوں کا بھرم کھولتے ہیں سناٹے
محبتیں تھیں کچھ ایسی، وصال ہوکے رہا
محبتیں جب بھی شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
محراب کا چراغ ہوں یا پھول ہوں ابھی :رفیق سندیلوی
محسن نقوی تو نے اس موڑ پہ توڑا ھے تعلق کہ جہاں
محشر میں پاس کیوں دمِ فریاد آ گیا
محل سے شاہ نے دیکھا ہی تھا جلال سمیت
محور ہے یہی خواجگیِ کون و مکاں کا
مداعاے مدعی مطلب کی بات آپ نے بھی خوب کی مطلب کی بات
مداوا حبس کا، ہونے لگا آہستہ آہستہ
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے
مدتوں بعد میرا سوگ منانے آئے
مدینہ دل سے مدینے سے دل جدا نہ ہوا
مر جاتا ہوں، جب یہ سوچتا ہوں
مر رہتے جو گُل بِن تو سارا یہ خلل جاتا
مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے
مر کر بھی نہ ہوں گے رائیگاں ہم
مر گیا میں ملا نہ یار افسوس
مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
مرا حال دل آشکارا تو ہوتا
مرا پاؤں زیرِ زمین ہے، پسِ آسماں مرا ہاتھ ہے
مرا کیا کہیں بھی چلا جاؤں گا
مرا ہر لفظ بے توقیر رہنے کے لئے ہے
مرا ہے کون دشمن ، میری چاہت کون رکھتا ہے
مرتے ہیں تیری نرگسِ بیمار دیکھ کر
مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ
مرجھانے لگی ہیں پھر خراشیں
مرحلے شوق کے دشوار ھوا کرتے ھیں
مروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
مروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
مری داستان ِ حسرت وہ سُنا سُنا کے روئے
مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا
مری فکرِ رسا جب مائلِ پرواز ہوتی ہے
مری فکرِ رسا جب مائلِ پرواز ہوتی ہے
مری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خُوش
مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے
مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہے
مرے خدا مرے لفظ و بیاں میں ظاہر ہو
مرے خلاف ہوا ہے تو اس کا ڈر بھی نہیں
مرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہت
مرے چہرے کے پیچھے عکس اس کا جاگتا ہے
مرے ہم سفر ! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں
مرے ہم نفس، مرے ہم نوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں
مسافر کے راستے بدلتے رہے
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
مست نظارہ بھی کس درجہ تجاہل کوش ہے
مستقبل پڑھنے والے تصویر ہوئے
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
مسجد و منبر کہاں میخوار و میخانے کہاں
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
مشکل یہ آپڑی تھی ہمارے نباہ میں
مشہور کوئی غم کا فسا نہ نہیں کرتے
مصلحت حرف ِ صداقت پہ نہ ڈالے رکھنا
معبود ِ جاں، خیال کا پیکر نہ ہو کہیں
معبوُد کے راز جانتا ہوں
معجزے اب یہاں نہیں ہوتے
معصومیت بھی ہو، ہنسی بے ساختہ بھی ہو
معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ
معیارِ شرف حلقۂ اربابِ ہُنر میں
مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا
مغرب کے افق پہ جو شفق ہے
مغرور تھے اپنی ذات پر ہم
مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا
مقامِ ہجر میں لطف و کرم کی باتیں ہیں
مقدر پھر سے آڑے آ گیا نا
مقدّر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا
مل سکے تم نہ ، مقدر اپنے
مل گئی آپ کو فرصت کیسے
مل گیا تھا تو اسے خود سے خفا رکھنا تھا
مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے
ملا نہیں اذان رقص جن کو ،کبھی تو وہ بھی شراردیکھو
ملا وُہ خطّۂ جاں دشتِ انتظار کے بعد
ملال اس سے بچھڑنے کا آہ! کیا کرتا
ملتان کے عشق میں
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
ملک سخن کا تاجور حال اٹھ گیا
ملی نجات قفس سے تو بے نگر ہو کر
ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا
ملے تو کیسے ملے منزل خزینہء خواب
ملے کیا کوئی اُس پردہ نشیں سے
ملے کیسے صدیوں کی پیاس اور پانی، ذرا پھر سے کہنا
ملے گی دادِ فغاں کیا ہمیں نہیں معلوم
ممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لے
ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
من کی اداس دنیا کے سب تار کس گئے
منتظر رہنا مری جان بہار آنے تک
منحرف ہیں مرے ساتھی تو خدا ہی آئے
منزل کی دھن میں ہوش و خرد سے گزر گئے
منزلوں کا پتہ لگانا کیوں؟
منظر تھا اک اجاڑ نگاہوں کے سامنے
منظر کوئی فردوس نظر ڈھونڈ رہا ہوں
منظر کے اردگرد بھی اور آرپار دُھند
منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کی
منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
منہ زور ہو دریا کہ اتر جائے ہمیں کیا
منہ سے نکلے گی تو پھر دل میں اتر جائے گی
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
موت اپنی، نہ عمل اپنا، جینا اپنا
موت و حیات کا مقصد کیا ہے، آخر کچھ معلوُم تو ہو
موت کا اعتبار کر لیتے
موت کی انجمن آرائی ہے
موتی کی طرح جو ہو خدا داد
موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے
موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے
موجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہئے
موسم خو شگوار کی راتیں
موسم کا عذاب چل رہا ہے
موسم کی طرح بدل رہے ہیں
موسم ہوگا جس کا گہنا
موسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیں
موسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیں
موسمِ گلزارِ ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ
موے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا
مير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف
ميں نے تم کو دل ديا، تم نے مجھے رسوا کيا
مَیں آپ اپنا جواب اور آپ اپنی نظیر
مَیں اس فریب ہی میں رہا مبتلا سدا
مَیں اُس سے چاہتوں کا ثمر، لے کے آ گیا
مَیں ایک ذرّہ سہی، کائنات بھر میں رہوں
مَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوں
مَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوں
مَیں تجھ کو دیکھنے کی تمنا میں چوُر تھا
مَیں تیرے ساتھ رواں تھا، مگر اکیلا تھا
مَیں جو اُس کے قدموں میں ریت سا بکھر جاتا
مَیں حقائق میں گرفتار ہوُں، وہموں میں نہیں
مَیں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
مَیں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا
مَیں روشنی کے تسلسل کو ٹوٹنے ہی نہ دوں
مَیں زندئہ جاوید بانداز، دگر ہوں
مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے
مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے
مَیں وہ شاعر ہوں، جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا
مَیں کب سے گوش برآواز ہوُں، پکارو بھی
مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا
مَیں ہوُں تیرا کہ توُ شَیدا میرا
مَیں ہوُں، یا توُ ہے، خُود اپنے سے گریزاں جیسے
مُجھ سے کافر کو تیرے عِشق نے یوُں شرمایا
مُجھے دُکھ یہ ہے کہ بہار میں بھی طیور بے پر و بال ہیں
مُجھے موت دے کہ حیات دے
مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے
مُکر جاتے ہو دل لے کر یہ دلداروں کی باتیں ہیں
مِرا ذوقِ محبت دیکھیے کیا گل کھلاتا ہے
مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر
مٹّی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا
مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کر
مٹی میں کوئی رنگ ملایا نہیں کرتے
مچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک
مکالماتی غزل
مکاں بھر ہم کو ویرانی بہت ہے
مکمل مقصد تخلیق انساں ہو نہیں سکتا
مگن کس دھن میں اپنے آپ کو دن رات رکھتا ہے
مہتاب رتیں آئیں تو کیا کیا نہیں کرتیں
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا
مہرباں ہوکے جب ملیں گے آپ
مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
مہکے ہمارا باغ بھی شاید، بہار میں
میرا اِک اِک لفظ حجاب
میرا جانا نہ ہوا ، آپ کا آنا نہ ہوا
میرا جو حال ہو سو ہو، برقِ نظر گرائے جا
میرا جُدا مزاج ہے اُن کا جُدا مزاج
میرا ذوقِ دید، تیرا رُوئے زیبا جل گیا
میرا غرور، تجھے کھو کے، ہار مان گیا
میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے
میرا نام تیرے لبوں پہ ہو، میرا ذکر دل سے کیا بھی کر
میری آنکھوں سے روشنی چھینی
میری آنکھوں میں آنُسو پگھلتا رہا،چاند جلتا رہا
میری آنکھوں کو سُوجھتا ہی نہیں
میری آنکھیں ہیں کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میں
میری بساطِ شاعری رقص گہِ خیال تھی
میری تربت پر اگر آئیے گا
میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے
میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میری حدِ نظر وہاں تک ہے
میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
میری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہیں دُور دے
میری ساری زندگی کو بےثمر اُس نے کیا
میری سانسوں کی خوشبو سے تجھے زنجیر ھونا ھے
میری طرح، کسی کو تو اپنا بنا کے دیکھ
میری محدود بصارت کا نتیجہ نِکلا
میری نظر کا ہے، نہ تمھاری نظر کا ہے
میری نظر کو حوصلہء امتحاں نہ تھا
میری نگاہ سے یہ پردہ کس نے سرکایا
میری وحشت کے لیے چشم تماشا کم ہے
میری پہچان نمازیں ہیں نہ تکبیریں ہیں
میری چاہت کا سرِعام تو چرچا نہ کرو
میرے آنسو میرے اندر گرتے ہیں
میرے اندر خاموشی بولتی ہے
میرے اندر سانس لینا چھوڑ دے
میرے بارے میں ہواؤں سے وہ کب پوچھے گا
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
میرے بھی ہیں کچھ خواب
میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میرے دل کو دیکھ کر، میری وفا کو دیکھ کر
میرے دل کے شام سویرے ہو
میرے ساتھ تم بھی کرو دعا یوں کسی کے حق میں برا نہ ھو
میرے سبو میں میری زیست کا لہو تو نہیں
میرے سنگِ مزار پر فرہاد
میرے سوال کا، یارب! کوئی جواب ملے
میرے صحرا بھی تیرے، میرا چمن بھی تیرا
میرے لفظوں کے سب جادُو تمہارے
میرے لیے میرے غم بھی خدا کی رحمت ہیں
میرے وجود میں سچائی میری ماں کی ہے
میرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کو
میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی
میرے ہونٹوں پہ نہیں تیرے گِلے
میرے ہی غم کی ترجماں فطرت بے زباں نہ ہو
میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دور
میں آسماں کی شاخ پہ زندہ ہوں دوستو
میں ابھی موت سے بچ کر نکلا
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس کی آہٹیں چن لوں ‘ میں اس سے بول کر دیکھوں
میں اسے واقف الفت نہ کروں -
میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
میں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیں
میں اَزل کی شاخ سے ٹوٹا ہُوا
میں ایک عمر اسے بحر و بر میں ڈھونڈتا تھا
میں بزمِ تصوّر میں اُسے لائے ہوئے تھا
میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا
میں تنہا درپیش سفر تقدیر کا ہے
میں تنہائی کا حاصل ہو گیا ہوں
میں تو ایک کاغذی پھول تھا ، سرِ شام خو شبو سے بھر گیا
میں تو ہوں اک سیپ کا موتی، بیچ سمندر رہنا تھا
میں جانتا تھا ایسا بھی اک دور آئے گا
میں جس کے ساتھ ظفر عمر بھر اٹھا بیٹھا
میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہُوئی
میں جی رہا ہوں صرف ترے اعتبار تک
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہے
میں خود کو لا مکاں سے ڈھونڈ لوں گا :رفیق سندیلوی
میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں
میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں
میں سبک نوش ہوں مری گلرُو
میں سعد کیا کہوں کہ وہ کیونکر نہیں رہا
میں سہوں کربِ زندگی کب تک
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں‘ کہ کچھ لکھوں گا
میں فرشِ کُہر پہ اپنے قدم نہیں رکھتا :رفیق سندیلوی
میں قفس میں ہوں کہ سرِچمن مرے ماہ و سال نہ دیکھنا
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
میں نہ دیکھ پایا خوشی کوئی، ملا غم سدا مجھے بھول جا
میں نے آنکھوں میں سمندر کا نشاں رکھا ہے
میں نے تجھ کو تیرے دامن کو بہت یاد کیا
میں نے دیکھا دیوانوں کو شام کے بعد
میں نے دیکھا ہے یہ ہر روز سحر سے پہلے
میں نے راتوں کو بہت سوچا ہے تم بھی سوچنا
میں نے سب کچھ ہی کہا ہو جیسے
میں نے چاہا جو تمہیں، اس کا گناہ گار تو ہوں
میں نے کہا جو حسن سے کوئی وفا شناس ھے
میں نے کہا جہان میں بازار کیوں بنے
میں نے کہا کہ کیوں تیرے حالات اور ہیں
میں نے کہا کہیں کوئی صدق و صفا شناس ھے
میں نے کہا گزر کسی انجان کی طرح
میں نے یہ بندگی کا طریقہ بنا لیا M Nazim Rao Ghazal
میں نے یہ چہرہ کبھی دیکھا نہ تھا آئنے میں عکس وہ میرا نہ تھا
میں چپ رھا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا
میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا
میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
میں کہ ہوں استادہ اس تاریک محور پر جہاں : رفیق سندیلوی
میں کہیں بھی کسی نگر میں رہا
میں کیا ہوں معلوم نہیں
میں کیوں نہ ترک تعلق کی ابتدا کرتا
میں گریز کیا کرتا، اُس کے ساتھ چلنے سے
میں ہر کام کو ٹال رہا ہوں
میں ہمکلام ہوا تو سوال تک پہنچا
میں ہوا کو منجمد کر دوں تو کیسے سانس لُوں: رفیق سندیلوی
میں ہوں رات کا ایک بجا ہے
میں ہوں مجنوں مرا انداز زمانے والا۔۔۔۔عمران شناور
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
میں یہ دُنیا مٹانا چاہتا ہوں
میں یہ ہزار جگہ حشر میں پُکار آیا
میں یہاں اور تو وہاں جاناں
میں‌ کب کہتا ہوں کہ وہ اچھا بہت ہے
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
نئی طرزوں سے مے خانے میں رنگِ مے جھلکتا تھا
نئے انساں کی جو رعنائی ہے
نئے انساں کے عجب تیور ہیں
نئے سفر کے لیے فیصلے کا موقعہ دے
نئے کپڑے بدل کر جاوں کہاں اور بال بناوں کس کے لیے
نا آشنا کرے نہ کوئی آشنا کرے
نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے
نارسائی کی قسم، اتنا سمجھ میں آیا
ناروا کہیے نا سزا کہیے
ناروا ہے سخن شکایت کا
ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں
نالہ نارسا نہیں کچھ بھی
نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا
نام آیا بھی تو کن ناموں میں
نام اسی کا سویرے شام لکھا
نام بے حد تھے مگر اُن کا نشاں کوئی نہ تھا
نام بے نام بھی ہو جاتے ہیں
نام لے لے کر نہ میرا شہر کی نظروں میں آ
نام ور ہیں نہ کوئی شہرتِ فن رکھتے ہیں
ناکام عرض شوق کی جرات ہے کیا کروں
ناگنوا اپنا سکون تم مری چاہ میں
نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے
نجانے کن غم کے جگنوؤں کو چھپائے پھرتی ہے مٹھیوں میں
نرم بوندوں میں مسلسل بارشوں کے سامنے
نری خوش فہمیاں ہوتی ہیں‘ یکسر کب بدلتا ہے
نشاطِ زندگی میں ڈوب کر آنسو نکلتے ہیں
نشانی کوئی تو اب کے سفر کی گھر لانا
نشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہے
نشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہے
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
نظارہ جمال سے جنت ہے زندگی
نظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیں
نظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیں
نظر جب سے وہ مہرباں ہوگئی ہے
نظر جب سے وہ مہرباں ہوگئی ہے
نظر سے یہ قید تعین اٹھائی جاتی ہے
نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
نظر محو رخ پیر مغاں معلوم ہوتی ہے
نظر میں زخم تبسم چھپا چھپا کے ملا
نظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتا
نظر کی تیزی میں ہلکی ہنسی کی آمیزش
نظر کی شاخ پہ اِس طرح اَب سجاؤں تجھے
نظر کی شاخ پہ اِس طرح اَب سجاؤں تجھے
نظر کے پار دیا سا جلا کے دیکھ لیا
نظروں پہ ستم، دل پہ جفا ہو کر رہے گی
نظریں ملیں تو پیار کا اظہار کر گیا
نعت۔۔۔۔موت ہی نہ آجائے کاش ایسے جینے سے
نفس کے لوچ میں رم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ
نقاب دیدہ پر نور ہو گئے ہو تم
نقاش دیکھ تو میں کیا نقشِ یار کھینچا
نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
نقش مٹِتی ہوُئی کرنوں کا اُبھارا کِس نے
نقش ہُوا ہے پل پل کا شر آنکھوں میں
نقشہ میں کائنات کے خانے ہیں اور بھی
نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا،رات کے ساتھ
نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے
ننگے سچ کے لفظ زباں پر کیا کیا تھے
نوکِ مژگاں سے اشک ڈھلے، اور بہہ گئے
نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے
نَفس کو فِکرِ جوہر ہے جہاں میں ہوں
نَے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
نِکوہِش ہے سزا فریادئِ بیدادِ دِلبر کی
نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے
نکل کر قصر سے تیرے ٹھکانہ ڈھونڈ ہی لیتا
نگا ہیں ملا نا، نگا ہیں چرانا
نگاہ ناز کا ایک وار کر کے چھوڑ دیا
نگاہوں کا اشارہ ہو رہا ہے
نہ آنے دے یہ موسم بے دلی کا
نہ آیا نامہ بر اب تک، گیا تھا کہہ کے اب آیا
نہ اب مسکرانے کو جی چاہتا ہے
نہ اب وہ گھر کے مکیں ہیں نہ بام ودرویسے
نہ اس طرح کوئی آیا نہ کوئی آتا ہے
نہ بن سکا میں تمھارا نہ ہی زمانہ کا
نہ تجھ سے ہے نہ گلہ آسمان سے ہو گا
نہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہے
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے
نہ تیری دسترس میں ‌کچھ نہ میرے اختیار میں
نہ جانے ترجماں ہیں کس قیامت کے اشاروں کی
نہ جانے خال و خد کیوں چھِن گئے ہیں خوش جمالوں کے
نہ خط لکھوں نہ زبانی کلام تجھ سے رہے
نہ دل میں درد، نہ آنکھوں میں نوُرِ ربطِ قدیم
نہ دوائیں پر اثر ہیں نہ دعائیں کیا بتائیں
نہ سہی اور کہیں گھر میرا
نہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تُھوکا جائے
نہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تُھوکا جائے
نہ سیو ھونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ھم کو
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
نہ شعور میں جوانی، نہ خیال میں روانی
نہ شکا یتیں نہ گلہ کرے
نہ شکستہ حرف ہیں اجنبی، نہ فگار لفظ پرائے ہیں
نہ ظلمتِ شب میں کچھ کمی ہے، نہ کوئی آثار ہیں سحر کے
نہ غم ہے اور نہ ہی کوئی خوشی ہے
نہ قرضِ ناخنِ گُل ، نام کو ، لُوں
نہ محبّت نہ صباحت فانی
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
نہ وہ فرشتہ ہو نہ فرشتوں جیسا ہو
نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چُھپا
نہ پوچھ خوابِ زلیخا نے کیا خیال لیا
نہ پوچھ ہم سے کہ اس گھر میں کیا ہمارا ہے
نہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد!
نہ چین آتا ہے دن کو نہ شام آتا ہے
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
نہ کسی نے دل ہی دیکھا ، نہ کسی نے غم ہی جانا
نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہ
نہ کوئی خواب نہ سہیلی تھی
نہ کوئی رنگ، نہ ہاتھوں میں حنا، میرے بعد
نہ کور باطن ہو، اے برہمن، ذرا تو چشمِ تمیز وا کر
نہ کٹتی ہم سے شب جدائی کی
نہ کیوں کر مطلعِ دیواں ہو مطلع مہرِ وحدت کا
نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
نہ گمان موت کا ہے ‘نہ خیال زندگی کا
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی
نہ یقین وجود پہ رکھ کر،نہ ردائے یاس میں آؤں گا
نہاں ہے محشرِ آہنگ زیرِ پردہء ساز
نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا
نہیں کُچھ ایسا تغافل میں وُہ بھی کم نکلا
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں، خیال نہ تھا
نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
نہیں ہوتا نسب محبت میں
نہیں ہوتا نسب محبت میں
نہیں ہے رخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں
نیا اک ربط پیدا کیوں کریں ہم
نیا فلک ہو رہا ہے پیدا، نئے ستارے نِکل رہے ہیں
نیاز و ناز کی یہ شان زیبائی نہیں جاتی
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
نیازِ عشقِ بتاں ہے کیسا، غرورِ حسن و شباب کیا ہے
نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
نیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کر گیا
نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
نین جھیلوں میں اترنا سیکھو
نیند تو خواب ہو گئی شاید
نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
نیند میں جا چکی ہے رانی بھی
نیند کے آبِ رواں کو مات دینے آؤں گا:رفیق سندیلوی
نیکوں کی فہرست میں نام لکھاتا رہ
وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
وارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھئے!
وارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھئے!
وارفتگی میں جنس محبت خرید لی
واعظ بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہو
واللہ! محبت کا ہے کون بھلا ثانی؟
واپس نہ آئے پھول سے جسموں کو چیرکے
واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
واہمے سارے تیرے اپنے ہیں
وجود کیا ہے عدم کیا ہے کچھ نہ تھا معلوم
وجہ قدر و قیمت دل حسن کی تنویر ہے
وحشت دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے
وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا
وحشت کے ان معماروں سے بنیادِ ایواں ٹوٹ گئی
وحشی اُسے کہو جسے وحشت ہے غزل سے
وسعتِ چشم کو اندوہِ بصارت لکھا
وصال چپ چاپ مر گیا ہے، اسے نہ ڈھونڈو
وصال کا بھی کوئی اہتمام کر ڈالو
وصل میں جھوٹی تسلی کے سوا کیا ہوگا
وصل کا خواب دکھائے گا ٹھہر جائے گا
وصل کي شب شام سے ميں سو گيا
وصل ھو جائے يہيں، حشر ميں کيا رکھا ہے
وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
وفا انجام ہوتی جا رہی ہے
وفا میری متاعِ نا خریدہ
وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ھے
وفا کا درس کبھی خود کو بےوفا دیتا
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیا
وفا کے جنگلوں میں کھو گیا تو؟
وفا کے خواب، محبت کا آسرا لے جا
وفا کے راہرو کو کیوں سدا برباد دیکھا ہے؟
وفائے وعدہ نہیں وعدہء دگر بھی نہیں
وقت درماں پذیر تھا ہی نہیں
وقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئے
وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے
وقت وہ آ گیا ہے اب، میں بھی لبوں کو وا کروں
وقت کے کتنے ہی دھاروں سے گزرنا ہے ابھی
وقت کے ہاتھوں حکایاتِ انا بھول گئے
وقت ہر چیز کا امکان بدل سکتا ہے
وقتِ سفر قریب ہے بِستر سمیٹ لُوں
وقتِ نمازِ عشق قضا کچھ نہیں کیا
وُہ دن بھی تھے لپکنے اور لطفِ خاص پانے کو
وُہ یاد آئے تو کس طرح مَیں بھلاؤں اُسے
وُہ یاد آئے تو کس طرح مَیں بھلاؤں اُسے
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے
وہ آئنہ رخسار دمِ باز پس آیا
وہ آئیں اگر اس دم، معلوم ہے کیا ہوگا
وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے
وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے
وہ اجنبی اجنبی سے چہرے،وہ خواب خیمے رواں دواں سے
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہوگیا
وہ ایک تیر خراش آ گیں جو دل سے نکلے گا آہ بن کر
وہ ایک یارِ طرحدار بھی ضروری تھا
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
وہ بظاھر جو زمانے سے خفا لگتا ھے
وہ بھولتا ہے نہ دل میں اتارتا ہے مجھے
وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد
وہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ہم
وہ بھی ہمیں سر گراں مِلے ہیں
وہ بے ارادہ سہی،تتلیوں میں رہتا ہے
وہ ترے غم کا دور تھا جس میں
وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دل
وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دل
وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھرجائے گا
وہ تو کیا سب کے لئے فیصلہ دشوار نہیں
وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
وہ تھکا ہوا میری بانہوں میں ذرا سو گیا تھا تو کیا ہوا
وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا
وہ جب پوچھا کہ دل میں آپ کیا ارمان رکھتے ہیں
وہ جس سے رہا آج تک آواز کا رشتہ
وہ جس کا ڈر تھا آخر ہوگیا ناں
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں ‌ستارے لے کر
وہ جو انجام سے ڈر جاتے ہیں
وہ جو اپنا یار تھا، دیر کا کسی اور شہر میں جا بسا
وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
وہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھے
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
وہ جو خار چبھوتے ہیں
وہ جو دعویدار ہے شہر میں کہ سب ہی کا نبض شناس ہوں
وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیے
وہ جو صُبحوں سی جبیں رکھتا ہے
وہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعد
وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
وہ جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گے
وہ حسنِ بلا خیز، یہ اندازِ محبت!
وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا
وہ خواب ٹوٹے ہوئے کتنے ماہ و سال ہوئے
وہ خود بھی پیاس کے سوکھے نگر میں بستا ہے
وہ دریچے میں کب نہیں آتا
وہ دعا بھی زر تاثیر سے خالی دے گا
وہ دل میں رہتے ہیں دل کا نشاں نہیں معلوم
وہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گا
وہ دل کہ جو شائستۂ آلام نہیں ہے
وہ دل ہی کیا تیرے ملنے کی جو دعا نہ کرے
وہ دن بھی کیا تھے،غم سے کوئی واسطہ نہ تھا
وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
وہ دھندلکا جسے سب حدِّ نظر کہتے ہیں
وہ رسوائی سے ڈر جائے تو اچھا
وہ رنگِ رخ، وہ آتشِ خوں کون لے گیا
وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
وہ زمانہ نظر نہیں آتا
وہ زود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا
وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں
وہ شخص مجھ کو جیت کے ہارا ہے اور بس
وہ صرف ہم سفر ہے مرا ہم نفس نہیں
وہ طریق ِمہر و وفا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
وہ عکسِ موجہ گل تھا، چمن چمن میں رہا
وہ عہدِ غم کی کاہشہائے بے حاصل کو کیا سمجھے
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ لوگ جن کو ستاروں کی جستجو ہے بہت
وہ مری خوش لباس کیسی ہے ؟
وہ مل گیا تھا رہِ خواب سے گزرتے ہوۓ
وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
وہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیا
وہ پہلی پہل لگن کا معاملہ ہے عجیب
وہ ڈَھل رہا ہے تو یہ بھی رَنگت بدل رہی ہے
وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سوجا و
وہ کتنی سادہ وہ کتنی پگلی وہ ایک لڑکی
وہ کسی آنکھ کو پرنم نہیں ہونے دیتا
وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا
وہ کف جاں پہ رگ جاں کی طرح رہتا ہے
وہ کون لوگ تھے ان کا پتہ تو کرنا تھا
وہ کون ہے جو میرے گرجتے سکوت کا مدّعا نہ سمجھا
وہ کون ہے جو پسِ چشمِ تر نہیں آتا
وہ کچھ اس طرح بھی تقدیر بنا دیتا ہے
وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے
وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی
وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں
وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہمنوائی نہ تھی
وہ ہوئے مہربان دشمن پر
وہ ہوائے تند تھی، اُس کو خفا ہونا ہی تھا
وہ یکسر مختلف ہے منفرد پہچان رکھتا ہے
وہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوشے میں کرتے ہیں
وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی
وہاں نہ پھول کھلتے ہیں نہ ہی موسم بدلتے ہیں
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
وہی آہٹیں در و بام پر ، وہی رتجگوں کے عذاب ہیں / وہی ادھ بجھی میری نیند ہے وہی ادھ چلے میرے خواب ہیں
وہی بہشت کی تنہائیوں سے بیزاری
وہی تھا رنگ اداسی کا رہگزر جیسا
وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچا تھا
وہی حالات ابتداء سے رہے
وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنی
وہی نقش رو برو ہے، وہی عکس چار سو ہے
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
ویرانۂ وجود میں چلنا پڑا ہمیں
ویسے تو کج ادائی کا دُکھ کب نہیں سہا
يہ تو ميں کيونکر کہوں تيرے خريداروں ميں ہوں
يہ قول کسی کا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا
ٹوُٹتے جاتے ہیں سب آئینہ خانے میرے
ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے
ٹوٹ کر جو کف مژگاں پہ بکھر جاتا ہے
ٹوٹتی راتوں کی خاموشی میں رونا چھوڑ دے
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!
ٹوٹے ہوئے ستارے کے سب تار کس گئے
ٹوٹے ہوئے لفظوں میں روانی نہیں ملتی
ٹھہر کے دیکھے تو رُک جائے نبض ساعت کی
ٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
ٹہنی سے جھڑ کے رقص میں آیا، ادا کے ساتھ
پابہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ
پاس جو کچھ تھا وار آیا ہوں
پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں دوست
پاس رہ کر جُدا سی لگتی ہے
پاس ہے تم کو اگر پچھلی شناسائی کا
پان تو لیتا جا فقیروں کے
پانی آنکھ میں بھر کر لایا جاسکتا ہے
پانی پر بھی زادِ سفر میں پیاس تو لیتے ہیں
پانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُترا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
پتّوں کی طرح شاخ پہ مرنا پڑا مجھے
پتھر بدست ہم کو یہاں ہر بشر ملا
پتھر بنا دیا مجھے رونے نہیں دیا
پتھر کے تلے اگتے اور زیرِ عتاب آئے
پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
پتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہے
پتھروں سے واسطہ ہونا ہی تھا۔۔۔۔عمران شناور
پربت پربت اڑے پھرے ہے من پنچھی بے چین
پردہء شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے
پرسش کو مری کون مرے گھر نہيں آتا
پرندے پوچھتے ہیں تم نے کیا قصور کیا
پرواز کو محدود نہ کر شام و سحر تک
پرکھنا مت ، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
پری جمال بھی انساں ضرُور ہوتا ہے
پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے
پسِ شفق مُجھے خُونِ جگر نظر آئے
پشتِ پا ماری بسکہ دنیا پر
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
پلٹ کے آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا
پلٹنا چاہو، تو جاؤ، ابھی اُجالا ہے
پلک پلک پہ جلائے ہیں اشک تر کے چراغ
پلکوں پہ اُس کے ایک ستا را تھا اور بس
پنہاں دل بے تاب میں ارمان بہت ہیں
پورا چاند اور رات
پوچھا ، بتاؤ زیست کا عنوان ہے کوئی؟
پوچھا ، تمام خواب کے منظر بھلا دئیے؟
پوچھا بتاؤ اوج پہ کیوں درد آج ہے؟
پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیا
پوچھا گہر تو اشک بہا کر دکھا دیا
پوچھا ھے کیسے درد کو روپوش کر دیا
پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر
پُورا دکھ اور آدھا چاند!
پُوچھ لو پُھول سے کیا کرتی ہے
پُھول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرے
پُھول کو رنگ ستارے کو ضیا کِس نے دی
پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق
پڑ گئے ذہن پہ نسیان کے تالے کیا کیا
پھر اس انداز سے بہار آئی
پھر اس مٹی سے اک دیوی اُٹھے گی
پھر اسی غم سے آشنائی ہے
پھر اسی کا خیال آیا ہے
پھر اٹھی دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ
پھر بھٹکتا پھر رہا ہوں ہجر موسم کے لیے
پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے
پھر تیرا ذکر دل سنبھال گیا
پھر تیرے پاس ہوں اور کشمکش جاں بھی وہی
پھر جدائی، پھر جئے، پھر مر چلے
پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے
پھر حسینوں پہ اعتبار کریں
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
پھر سے پیار کا دھوکہ کھایا جاسکتا تھا
پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا
پھر شبِ غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر
پھر صبح کی ہوا میں جی ملال آئے
پھر لوٹا ہے خورشیدِ جہانتاب سفر سے
پھر لہو بول رہا ہے دل میں
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی وہی اک شے جو اجنبی ہوگی
پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
پھر موسم خیال کی ٹھنڈی ہوا چلی
پھر نئی فصل کے عنواں چمکے
پھر نہ کہنا ہم کو نالوں سے پریشانی ہوئی
پھر نیا خواب آنکھ میں رکھو
پھر وقت ہمیں اشک بہم کرنے لگا ہے
پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہے
پھر چہرہ ہواؤں پہ بناتے ہوئے سوچا
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
پھر یاد وہ مہ جمال آیا
پھرا ہوا جو کسی کی نظر کو دیکھتے ہیں
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
پھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا
پھول بھی ابر بھی مہتاب تھے میرے کب تھے
پھول بھی کاغذ کے ہیں، مانگے کی ہے مہکار بھی
پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں
پھول کہو یا دل کے فسانے
پھول کہو یا دل کے فسانے
پھولوں سا کھلتا ہوں دیپ سا جلتا ہوں
پھولوں کی اور چاند ستاروں کی کیا کمی
پھوُل ہیں گلشن میں کچھ خوابیدہ کچھ بیدار سے
پھوُلوں سے تو لد رہی ہے ڈالی
پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا
پھُولوں سے لہو کیسے ٹپکتا ہوُا دیکھوں
پھِرآیا جب سے موسم ٹہنیوں کی بے ردائی کا
پھیلتا جاتا ہے اک لمحہ جو ڈھلتا ہی نہیں
پہلو میں اک گرہ سی تہِ خاک ساتھ ہے
پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے
پہلی سی بات نہیں باتوں میں
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
پہلے دشمن کو للکارا کرتے ہیں ----عمران شناور
پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے
پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے
پی نہ ملن کو آئے سانول
پیار میں پاگل ہوجاتے ہیں
پیار کا گھاؤ سنو، یوں نہیں کھایا کرتے
پیار کرنے کے لیے گیت سنانے کے لیے
پیار کے دائرے کو تنگ کروں
پیار کے کھیل میں جیون اپنا ہار گئی تو پھر کیا ہوگا
پیارے دیس کی پیاری مٹی
پیاس کے عالم میں کیا بولوں مجھ کو کیسا لگتا ہے
پیت کرنا تو ہم سے نبھانا سجن، ہم نے پہلے ہی دن تھا کہا نا سجن
پیت کے روگی سب کچھ بُوجھے سب کچھ جانے ہوتے ہیں
پیغامِ غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا
پیماں جو بندھ رہے ہیں، کوئی سُن رہا نہ ہو
پیوست دل میں جب ترا تیرِ نظر ہوا
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے، خبردار سے ہیں
پیہم تلاش دوست میں کرتا چلا گیا
پۓ نذرِ کرم تحفہ ہے 'شرمِ نا رسائی' کا
چار دن اُس حسنِ مطلق کی رفاقت میں کٹے
چارپائی پر دراز اک گنگ پیکر سوچنا
چارہ گر، ہارگیا ہو جیسے
چارہ گرو، کیوں اُلجھاتے ہو غنچہ و گل کے فسانوں میں
چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں !
چاند بے نُور ہوا بادل میں
چاند تارے جب آنگن سے گزرتے ہوں گے
چاند جب بام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
چاند سوُرج نگراں رہتے ہیں باطل کی طرف
چاند مٹھی میں چھپانے کا کبھی سوچا نہ تھا
چاند میری طرح پگھلتا رہا
چاند نکلا تو ہم نے وحشت میں
چاند چمکا جنگلوں پر، آسماں کا در کُھلا
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
چاند کے پیالے سے ہے چھلکی ہوئی یہ چاندنی
چاند گھٹتا ہی گیا جتنا تجھے یاد کیا
چاند ہاتھ میں بھر کر جگنوؤں کے سر کاٹو اور آگ پر رکھ دو
چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتا
چاندنی پر گماں سیاہی کا
چاندی جیسا رنگ ھے تیرا سونے جیسے بال
چاک دامانیاں نھیں جاتیں
چاک پر چاک ہوا، جوں جوں سلایا ہم نے
چاک کی خواہش ، اگر وحشت بہ عُریانی کرے
چاہت بھری کتاب سے آگے نکل گیا
چاہت کا ایک میٹھا میٹھا درد جگانے شام ڈھلے !
چاہت کی راہ گزر میں تجارت نہیں کرو
چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے
چرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا
چراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراق
چراغ لے کے ترے شہر سے گزرنا ہے
چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی
چراغِ جاں کو سپرد ہوا بھی اس نے کیا
چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
چراغِ ماہ لیے تجھ کو ڈھونڈتی گھر گھر
چرواہا بستی والوں سے کہتا ہے
چشم میگوں ذرا ادھر کر دے
چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
چل دئیے شکل دکھا کر وہ کوئی کیا دیکھے
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا مُنہ
چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے
چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
چلو کہ کوچۂ دلدار چل کے دیکھتے ہیں
چلی ہے شہر میں اب کے ہوا ترکِ تعلق کی
چلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
چلے بہشت سے ہم نکہتِ بہار کے ساتھ
چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ھیں
چمن میں رنگ ِ بہار اترا تو میں نے دیکھا
چمن میں گل نے جو کل دعویِ جمال کیا
چمن پہ جو بھی تھے نافذ اصول اس کے تھے
چمکے گا شجر پر نہ مرے گھر میں رہے گا
چند لمحوں کو سہی، ہوتا کبھی بشّاش مَیں
چند گھرانوں نے مل جل کر
چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا
چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا
چُپ نہ رہتے بیان ہو جاتے
چُپ کھڑے ہیں وہ، ہتھیلی پہ ہمارا دل ہے
چُھونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
چُھپ چُھپ کے اب نہ دیکھ وفا کے مقام سے
چٹان چھوڑ کے شاہیں سر نہال آیا
چپ چپ کیوں ہو ؟
چپکے چپکے جل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا کب کا
چھم چھم کرتی اتری نیند خلاؤ ں سے
چھن گئے تم، تو حسِینوں کے یہ میلے کیوں ہیں
چھوٹے چھوٹے سے مفادات لئے پھرتے ہیں
چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ
چھُپے جو راز، میری قدرتِ بیاں بن کر
چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیں
چھپا کے سَر میں جو تہذیب کے کھنڈر نِکلے
چھڑ گئی اُس سے اہلِ درد کی بات
چہرہ افروز ہوئی پہلی جھڑی ہم نفسو شکر کرو
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
چہرہ نہ دکھا ، صدا سُنا دے
چہرے پڑھتا آنکھیں لکھتا رہتا ھوں
چہرے پہ مرےزُلف کو پھیلا ؤ کسی دن
چہرے کو دیکھیئے، مری آنکھوں میں جھانکیئے
چہرے کو دیکھیئے، مری آنکھوں میں جھانکیئے
چیت چیت اک جیسی، کلفتوں کا ساماں ہے
چین اب مجھ کو تہ دام تو لینے دیتے
ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کِس سے بولیے
ڈَر شب کا وہاں کیوں نہ بھلا تیز بہت ہو
ڈھل گیا چاند، گئی رات، چلو سو جائیں
ڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کے
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
ڈھونڈنے جس میں زندگی نکلی
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے
کئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتے
کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دلِ زار تھا
کئی رُت کی وحشت کا خراج مانگتی ہے
کئی قیدیوں کی نجات ہوں، میں چراغ ہوں:رفیق سندیلوی
کائناتوں کے تماشائی تھے
کاجل تیری آنکھوں کا میری آنکھوں میں دَر آئے
کارواں‌سست رہبر خاموش
کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ
کاش کچھ دیر یونہی وقت گزرتا رھتا
کاش گلشن میں یوں بہار آئے
کاش! مَیں جس کے اُوپر ہوں اِک خوں سا
کافرِ عشقم، مسلمانی مرا درکار نیست
کام آ ہی جائے گی سعئی رائیگاں اک دن
کام آخر جذبہ ء بے اختیار آ ہی گیا
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہو جائے گا
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
کام ہی کیا ہے مُسافر کو، گزُرنے کا سوا
کانٹا ملا تو ضد میں، گُلِ تر بنا دیا
کانٹوں کا اِک مکان مرے پاس رہ گیا
کانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھ
کانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھ
کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی
کب اداسی پیام ہوتی ہے؟
کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درست
کب تلک اپنی تپش میں آپ جلنا ھے تجھے
کب تلک مدعا کہے کوئی
کب تلک یہ ستم اُٹھایئے گا
کب تک آخر مَیں بھَرے شہر کو صحرا سمجھوں
کب تک بیٹھے ہاتھ ملیں
کب تک درد کے تحفے بانٹو خون جگر سوغات کرو
کب تک دل کی خیر منائیں، کب تک راہ دکھلاؤ گے
کب تک شکیل دل کو دعا کیجئے گا آپ
کب سے گم سم ہیں در و بام اے رات
کب صبا تیرا پتہ لائے گی
کب صبا تیرا پتہ لائے گی
کب ضرورت ہمیں تمہاری نہ تھی
کب مصیبت زدہ دل مائلِ آزار نہ تھا
کب ملے غیر کی پناہوں سے
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
کب ياد ميں تيرا ساتھ نہيں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی
کب کہا ہے کہ مجھے فخر ہے اس جینے پر
کبھی جو حدِّ نظر تک پروں کو پھَیلا دوُں
کبھی جو رونا بھی چاہیں تو رو نہیں پاتے
کبھی جو عہد وفا میری جان تیرے میرے درمیاں ٹوٹے
کبھی جو چھیڑ گئی یاد رفتگاں محسن
کبھی دامن کبھی پلکیں بھگونا کس کو کہتے ہیں
کبھی دیکھو میرے ہمدم میری تحریر کے آنسو
کبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوں
کبھی صحرا میں دریا چاہتے ہو
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
کبھی قیاس‘ کبھی وہ گمان بدلے گا!
کبھی ملنے کبھی مجھ سے جدا ہونے کی جلدی ہے
کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں
کبھی نیندیں ، کبھی آنکھوں میں پانی بھیج دیتا ہے
کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں ، گر آجائے ہے ، مُجھ سے
کبھی پڑھ لو سمندر پر لکھا جو نام ہوتا ہے
کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو
کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ھیں
کبھی کسی شجر کی اوٹ میں‘کبھی کھنڈر میں ہے
کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
کبھی ہیرے کبھی پکھراج میں ڈھلنے والے
کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی
کتابِ عمر کا اک اور باب ختم ہوا
کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے
کتنا حسین پھر سے نظارہ بنا دیا
کتنا مشکل ہے زندگی کرنا
کتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے
کتنی مدت بعد تمہاری یاد آئی ہے
کتنے برس لگے یہ جاننے میں
کتنے بہت سے رُوپ ہیں، حضرتِ آدمی کے بھی
کتنے سال رُل جاتے، میں اگر نہیں ہوتا
کتنے نالے تھے جو شرمندئہ تاثیر ہوُئے
کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
کثرتِ داغ سے دل رشکِ گلستاں نہ ہوا
کر دے ہمارے نام، خجالت کُچھ اور بھی
کر رحم ٹک کب تک ستم مجھ پر جفاکاراس قدر
کر نہ تاخیر تُو اک شب کی ملاقات کے بیچ
کرتا ہُوں جمع میں تو بِکھرتی ہے ذات اور
کرلیا خود کو جا تنہا میں نے
کروٹیں وقت کی بیکار ہوُئی جاتی ہیں
کرکے وفا، پلٹ کے وفا مانگنے لگا
کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ
کس انوکھے دشت میں ہوائے غزالان ختن
کس رنگ میں ہیں اہلِ وفا، اس سے نہ کہنا
کس سادگی سے ہم ترے صدقے اتر گئے
کس شام سے اُٹھا تھا مرے دل میں درد سا
کس طرح ترکِ دوستی کر لوں
کس طرح ریت کے سمندر میں
کس قدر بے شعور ہوتے ہیں
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے ہو
کس کی مسجد کیسے بت خانےکہاں کے شیخ و شاب
کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
کسی اور کےخواب نہیں دیکھے،کسی اور کو کب اپنایا ہے
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
کسی خوشی کے سراغ جیسا
کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں
کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں
کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو
کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو
کسی پر ہیں زیادہ اور کہیں احساں ہیں کم تیرے
کسی کا درد ہو دل بے قرار اپنا ہے
کسی کا راستہ تکتا تو ہوگا
کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے
کسی کو اپنے دردِ عشق میں ہمراز کیا کرتے؟
کسی کو اپنے دردِ عشق میں ہمراز کیا کرتے؟
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
کسی کو جب نگاہوں کے مقابل دیکھ لیتا ہوں
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے
کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
کسی کی چاہ میں ایسا بھی کیا سرشار ہو جانا
کسی کی یاد میں پلکیں ذرا بھگو لیتے
کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا
کسی کے جبر کا دل میں خیال کیا کرتا
کسی کے جور و ستم یاد بھی نہیں کرتا
کسی کے ساتھ چاہت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
کسی کے سامنے مت اپنا دل نکال کے رکھ
کسی کے ہجر میں گر ہم بھی مر لیتے تو کیا لیتے
کسی کے ہجر کا دل پر نشان باقی ہے
کسی گماں پہ توقی زیادہ رکھتے ہیں
کسی گماں پہ توقی زیادہ رکھتے ہیں
کسی ہجر کی رات کا کوئی منظر اٹھائے ہوئے
کسے معلوم تھا اس شے کی تجھ میں بھی کمی ہوگی
کشاکش غم ہستی ستائے کیا کہئے
کشتی کوئی تھی رقص میں کوئی بھنور تھا رقص میں
کشتیِ زیست سلامت ہے نہ پتوار یہاں
کشمکش حیات کو جزو حیات پا کے ہم
کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو
کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو
کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں
کعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیا
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
کفِ مومن سے نہ دروازۂ ایماں سے ملا
کل تمہیں کوئی مُصیبت بھی تو پڑ سکتی ہے
کل تھا جو مِلا، کرب وُہی آج ملا ہے
کل جنہیں زندگی تھی راس بہت
کل رات بزم میں جو ملا گلبدن سا تھا
کل رات عجیب خواب دیکھا
کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
کل شبِ ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا
کل نالۂ قمری کی صدا تک نہیں آئی
کل پرسش احوال جو کی یار نے میرے
کل چمن میں گُل و سمن دیکھا
کل کچھ طبیعت اپنی جو مشکوک ہوگئی
کل کہیں تجھ سے بھی اچھا ترا بیمار نہ ہو
کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں
کل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی
کلام کرتا ہوا، راستہ بناتا ہوا
کم نہیں سامان میں ہنگامہء محشر سے آپ
کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
کن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتاب
کن لفظوں میں اتنی کڑوی ، اتنی کسیلی بات لکھوں
کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں
کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
کنجِ زنداں فرازِ دار قبول
کوئی امّید بر نہیں آتی
کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے
کوئی اُجالا اندھیروں سے کام لیتا ہوا
کوئی بتائے یہ کیسا غمِ جُدائی ہے
کوئی بتائے یہ کیسا غمِ جُدائی ہے
کوئی بستی نہ دیوار و در سامنے
کوئی بستی نہ دیوار و در سامنے
کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے
کوئی بھیڑ جیسی یہ بھیڑ ہے کسی دوسرے کا پتا نہیں
کوئی تو ترکِ مراسم پہ واسطہ رہ جائے
کوئی تو تھا پسِ ہوا، آخرِ شب کے دشت میں
کوئی تو عکس ہو ایسا جو معتبر ٹھہرے
کوئی تو محبت میں مجھے صبر ذرا دے
کوئی تو مُجھ کو میرا بھر پُور سراپا لا دے
کوئی تو ہو ناں - اِبنِ اُمید - By: ibn-e-Umeed
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
کوئی دیکھے تو سہی یار طرح دا رکا شہر
کوئی دیکھے تو یہ سایہ ہے سہارا اپنا
کوئی رُقعہ نہ لفافے میں کلی چھوڑ گیا
کوئی سبب ہے جو تاریک شب ہوئی ہے میاں
کوئی سخن برائے قوافی نہیں ‌کہا
کوئی سچے خواب دکھاتا ہے، پر جانے کون دکھاتا ہے
کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی
کوئی صورت قرار کی نہ رہی
کوئی عکس تھا کہ سراب تھا، وہ کمال تھا
کوئی قضا اسے سمجھے، کوئی بلا جانے
کوئی مرکز بھی نہیں کوئی خلافت بھی نہیں
کوئی مزدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہے
کوئی موسم تو مہکتی ہوئی صبحیں لائے
کوئی نہیں آتا سمجھانے
کوئی ٹکڑا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہے
کوئی پوچھے بھلا کہ ہم کیا ہیں
کوئی پھرے نہ قول سے، بس فیصلہ ہوا
کوئی چلمن سے مُسکرایا ہے
کوئی گماں بھی نہیں درمیاں ،گماں ہے یہی
کوئی ہوتا ہے دل تپش سے بُرا
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
کوتاہیاں تو سارے جہاں کی پکڑ سکا
کون بدلے گا تغزل کی فضا میرے بعد
کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا
کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں
کون جگ میں تیرا ہمسر دیکھے
کون سا قافلہ ھے یہ ، جس کے جرس کا ھے یہ شور
کون سی منزل پہ لے آئی اکائی ذات کی
کون کس کا ہے ہمسفر اے دوست
کون کہتا ہے شرارت سے تمہیں دیکھتے ہیں
کون کہتا ہے محبت مر گئی
کون کہتا ہے محبت نام ہے رسوائی کا!
کون کہتا ہے محبت کی زبان ہوتی ہے
کون کہتا ہے کہ تجھ سی کوئی صُورت نہ ملی
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا
کون کہتا ہے کہ وہ بُھولتا جاتا ہے مُجھے
کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟ -
کوہ کاٹیں گے کبھی، دشت کبھی چھانیں گے
کيا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ ديکھوں
کُل اثاثہ تھا اِک دِیا لوگو
کُنج کُنج نغمہ زن بسنت آگئی
کُوبہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
کُچھ دِل سے نگاہ بدگماں ہے
کُھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
کِتنا مُشکل ہے منانا اُس کا
کِتنے خورشید بیک وقت نِکل آئے ہیں
کِتنے سَر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں
کِتنے طلسم عشق کی نادانیوں میں تھے
کِس کو دلدار کہیں، کس کو دلآزار کہیں
کِسی ترنگ ، کسی سر خوشی میں رہتا تھا
کِسی لاعلاج رجائی نے یہ خبر چمن میں اُڑائی ہے
کِسی کی چاپ نہ تھی، چند خُشک پتّے تھے
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یوں ہوا کہ مر گئے
کٹ ہی گئی جدائی بھی یہ کب ہوا کہ مر گئے
کٹی پتنگ ہے ساری دُنیا کی نظروں میں سمائی ہوُئی
کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے
کچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیؤں ہوں مَیں
کچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیؤں ہوں مَیں
کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میں
کچھ تو اے یار علاجِ غمِ تنہائی ہو۔۔۔۔عمران شناور
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیراخیال بھی
کچھ جفا بھی ہے کچھ وفا بھی ہے
کچھ جو نہیں انہیں مجھ سے حجاب آ گیا
کچھ خوشی کے سائے میں اور کچھ غموں کے ساتھ ساتھ
کچھ دن اگر یہی رہا دیوار و در کا رنگ
کچھ دن سے انتظارِ سوال دگر میں ہے
کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا
کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا :رفیق سندیلوی
کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا
کچھ لوگ بھی وہموں میں گرفتار بہت ہیں
کچھ لوگ جن کو فکرِ زیاں دے دیا گیا
کچھ لوگ جو سوار ھیں کاغذ کی ناؤ پر
کچھ محتسبوں کی خلوت میں، کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
کچھ مضطرب سی عشق کی دنیا ہے آج تک
کچھ مفلسی میں چل دیئے، کردار بیچنے - اِبنِ اُمید
کچھ نہ تھا زیست کے صحرائے بلا سے آگے
کچھ نہ دیکھا پھر بجز اک شعلۂ پُر پیج و تاب
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
کچھ نہیں ہے یہاں وہاں ہونا
کچھ پاس نہیں، پھر بھی خزانہ تجھے دیتے
کچھ گھبرایا گھبرایا سا لگتا ہوُں
کچھ ہجر کے موسم نے ستایا نہیں اتنا
کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں
کچی دیوار ہوں ٹھوکر نہ لگانا مجھ کو
کچے زخموں سے بدن سجنے لگے راتوں کے
کھا جائیں نہ چیلیں ہی بیابان میں آنکھیں
کھا گیا ہے غمِ بتاں افسوس
کھدائی کو کھنڈر کوئی نہیں ہے
کھل گئے ہیں بہار کے رستے
کھلا مہتاب بھی ٹوٹے ہوئے دَر کے حوالے سے
کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آو سچ بولیں
کھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں
کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا
کھو چکے ہیں جس کو‘وہ جاگیر لے کر کیا کریں
کھو گیا تھا راہبر میرے بغیر کس کو تھی اتنی خبر میرے بغیر
کھول کر اِن سیاہ بالوں کو
کھول کر دیکھ باب آنکھوں کا
کھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروں
کھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروں
کھویا، پانے والوں نے
کھڑا تھا کب سے، زمیں پیٹھ پر اُٹھائے ہوئے
کہ مَیں سکوں کی خاطر اُترا ہوں آسماں سے
کہا آنکھیں جھپکتا کوئی جادو لے کے آتے ہیں
کہا اس نے کہ تم تعبیر ہو اور خواب سا ہوں میں
کہا اُس نے ، زمانہ درد ہے اور تُم دوا جیسے
کہا ایسا کہیں سے کوئی جادو لے کے آتے ہیں
کہا بپھرے ھوئے طوفان کی یلغار کو دیکھا
کہا تو دل میں رہی ہیبتِ شہاں کیا کیا
کہا جذبات کی تصویر دیکھی
کہا دل چھیدنے والے تو ماھر تھے نشانوں کے
کہا دل کو محبت کے لیے تیار کرتے ہیں
کہا دھوکہ بھی نکلا ھے تعلق بھی پرانا ھے
کہا ساماں بچانا ھے، تو کیا ساماں بچانا ھے
کہا مزے تو بہت اگرچہ شکار میں ہیں
کہا میں نے کہاں ہو تم
کہا میں نے کہاں ہو تم
کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر
کہا چھپ کر محبت کا مجھے اظہار کرنا ھے
کہا کہ ھجر کو بھول جا، کہا وصال یاد رکھ
کہا کینہ بھڑکتا ھے اسے کیسے بجھانا ھے
کہا گر پیار کرنا ھے تو کتنا پیار کرنا ھے
کہا یہ تو نہیں کہرام سے تکلیف ھوتی ھے
کہا، ساتھی کوئی دکھ درد کا تیار کرنا ہے
کہانیاں غمِ ہجراں کی، مَیں نے کِس سے کہیں
کہاں آ کے رکے تھے راستے، کہاں‌موڑ تھا، اسے بھول جا
کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
کہاں دل قید سے چھوٹا ہوا ہے
کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے
کہاں سے آگئے تم کو نہ جانے
کہاں ڈھونڈیں اُسے کیسے بلائیں
کہاں کوئی بدن کا بوجھ اتارے
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
کہاں گئے وہ سخنور جو میرِ محفل تھے
کہاں یہ بس میں کہ ہم خود کو حوصلہ دیتے
کہاں*تھا اتنا عذاب آشنا میرا چہرہ...Mohsin Naqvi
کہتا ہے دَر پن
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیں
کہنا چاہوُں مگر اے کاش کبھی کہہ پاؤں
کہنے کو تو وہ میرا کہا مان کر گیا
کہنے کو تو گزرے کئی طوفان بھی سر سے
کہنے کو میرا اُس سے کوئی واسطہ نہیں
کہو اس کے لبوں پر شعلہء گفتار کو دیکھا
کہو بنایا نہیں ہے پھولوں کا ہار کوئی
کہو تلوے چھلے دیکھے، رہ دشوار کو دیکھا
کہو تم نے کبھی خوابوں کے رنگوں کو چرایا ہے؟
کہو تو کس لیے عدیم اضطراب اور ھے
کہو تو کیسا نظارہٴ انتظار دیکھا
کہو جدائی میں کس طرح کا قرار دیکھا
کہو ریا کی بات ھے
کہو ریا کی بات ھے
کہو عدیم کون سے سراب دیکھتے رھے
کہو فلک ، میرے محبوب جیسا کوئی کہیں تھا؟
کہو متاع وفا بچانے کی آرزو ھے
کہو مسافر کسی ٹھکانے کی آرزو ھے
کہو مسافر کہاں پہ میرا خیال آیا
کہو وفا کا امتحاں، کہا مآل یاد رکھ
کہو کہ سب سے بڑی خوشی کون سی ملی ھے
کہو کہ سینہ ہی جب ھو آہ و بکا گزیدہ
کہو کہ عکس کس کا زیر آب دیکھتے رہے
کہو کیا پھر کہیں رسم و رہ دشوار کو دیکھا
کہو کیسا ھے تاج اس کا
کہو کیسے ضرورت میں بدلتے یار کو دیکھا
کہو، تم کیوں جھجکتے ہو ؟
کہو، وہ یار کیسا تھا؟
کہو، وہ یار کیسا تھا؟
کہو، کیا جل رہا ہے پھر جہاں میں آشیاں اس کا ؟
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "
کہہ دیا تجھ کو مرے دل کا یہی ارمان ھے
کہیں آرزوئے سفر نہیں، کہیں منزلوں کی خبر نہیں
کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در
کہیں ایسا کبھی دیکھا نہیں ہے
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
کہیں تو گرد اُڑے یا کہیں غبار دِکھے
کہیں توُ میری محبّت میں گھُل رہا ہی نہ ہو
کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا
کہیں پنگھٹوں کی ڈگر نہیں، کہیں آنچلوں کا نگر نہیں
کہیں چراغ ہیں روشن، کہیں پہ مدھم ہیں
کہیں چراغ، کہیں چشمِ تر حوالہ ہے
کہیں کہیں پہ ستاروں کے ٹوٹنے کے سوا
کہیں گھر بار حائل ہے کہیں سنسار حائل ہے
کی دل شکنی نہ تند خو کی
کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
کیا آگیا خیال دلِ بےقرار میں
کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے
کیا بتائیں فصلِ بے خوابی یہاں بوتا ہے کون
کیا بھروسا ہو کسی ہمدم کا
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
کیا تھا پیار جسے ھم نے زندگی کی طرح
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
کیا جُرم ہے شوقِ خود نمائی؟
کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا
کیا خبر تھی، یہ زمانے بھی ہیں آنے والے
کیا خبر کیسی ہے وہ سودائے سر میں زندگی
کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
کیا دوستوں کا رنج کہ بہتر نہیں ملے
کیا ذکرِ برگ و بار ، یہاں پیڑ ہل چُکا
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
کیا سبب شاد ہے بشّاش ہے جی آپ ہی آپ
کیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ
کیا ضروری ہے وہ ہم رنگ نوا بھی ہو جائے
کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا
کیا عجب پل میں‌اگر ترک ہو اُس سے جاں کا
کیا قیامت تھی، کیا قیامت تھی
کیا لگے آنکھ پھر دل میں سمایا کوئی
کیا محسوس کیا تھا تم نے میرے یار درختو۔۔۔۔عمران شناور
کیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیا
کیا وہاں کام مری طاقتِ گفتار کا تھا
کیا پوچھتے ہو مجھ سے مری شورشِ جذبات؟
کیا چیز ہے یہ سعیء پیہم، کیا جذبہء کامل ہوتا ہے
کیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیں
کیا کر لے گی اِن اشکوں، اِن تاروں کی بارات
کیا کشش حسن روش گار میں ہے
کیا کہوں کس کی جان ہے تتلی
کیا کہوں کیسا ستم غفلت میں مجھ سے ہوگیا
کیا کہوں، اب تجھ کو اپنا کر بھی کیوں افسردہ ہوُں
کیا کہیں اپنی اُس کی شب کی بات
کیا کہیں کیسا وُہ اچّھا لاگے
کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا
کیا کیا نہ خواب ہجر کے موسم میں کھو گئے
کیا کیا کچھ زوروں پہ نہیں ہے، کام ہمیں بہلانے کا
کیا ہر پل ہر ساعت ہے ؟
کیا ہوتا نہ آنکھوں کو غمِ ہستی میں تر میں نے
کیا ہے مدّھم اگر پڑی آواز
کیا ہے مدّھم اگر پڑی آواز
کیا ہے یہ زندگی، یہ سخن ذات ہی سے ہے
کیاری کیاری صحن چمن میں گو تھے عام پریشاں پُھول
کیسا خوف بلاؤں کا
کیسا لمحہ آن پڑ ا ہے
کیسی بھلا یہ برہمی یہ پیچ و تاب ھے
کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے
کیسی کیسی بے ثمر یادوں کے ہالوں میں رہے
کیسے آئے گا تیرے خدوخال کا موسم
کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر
کیسے کیسے تھے جزیرے خواب میں
کیوں ایک ہی بار آپ انھیں رخصت نہیں کرتے
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
کیوں خوابوں کے محل بنائیں کیوں سپنے تعمیر کریں
کیوں ساجن کی آس نہیں ہے؟
کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
کیوں غریبِ آرزو کو اس طرح رسوا کیا
کیوں غریبِ آرزو کو اس طرح رسوا کیا
کیوں قسم کھاتے ہو ہم جور سے باز آتے ہیں
کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے
کیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیں
کیوں چراتے ہو دیکھ کر آنکھیں
کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلب
کیوں کے نکلا جائے بحرِ غم سے مجھ بیدل کے پاس
کیوں ہر قدم پہ لاکھ تکلف جتائیے
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
گئے دنوں میں محبت مزاج اس کا تھا
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
گئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرح
گا رہا تھا کوئی درختوں میں
گاؤں مٹ جائیں گے، شہر جل جائے گا
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
گجرا اُس کی باہوں کا
گذر آیا میں چل کے خود پر سے
گذرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتے
گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے
گر طوفاں میں ہی بسنا تھا {Amjad Ali Shah}
گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا
گر وہاں بھی یہ خموشی اثر افغاں ہوگا
گر یہی تلخی یہی تکرار بڑھتی جائے گی
گرانیء شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
گرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئی
گرفتِ خاک سے باہر مجھے نکلنے دے
گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
گرمیء شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
گرچہ دل آباد نہیں ہے
گرہو سلُوک کرنا، انسان کر کے بُھولے
گریاں ہیں اکیلے درودیوار ہمارے
گزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہم
گزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہم
گزر گیا یہ اگر وقت تو فسانہ ہوا
گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا
گزرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتے
گزرے دنوں کی یاد برستی گھٹا لگے
گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی
گزند اور نہ پہنچا بس ایک سر ہی کٹا
گفتگو سے نہ ہی صورت سے عیاں ہوتا ہے
گفتگو میں یک بیک تبدیلی آواز کیا
گل شرم سے بہ جائےگا گلشن میں ہو کر آب سا
گل و بلبل بہار میں دیکھا
گل پریشاں ہیں تو جھونکے، نار ہیں اَب کے برس
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
گل ہی نہیں صلیب پہ سارا چمن چڑھا
گل ہیں خوشبُو ہیں کہکشاں ہیں ہم
گلاب جسم کا یونہی نہیں کِھلا ہوگا
گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
گلابوں سے یہ دل اکتا گیا ہے
گلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آج
گلوں ميں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
گلوں کو سننا ذرا تم، صدائیں بھیجی ہیں
گلہ نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا
گلہ کرے نہ کبھی، اشک ِغم سے کام نہ لے
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
گلی کوچوں میں برگِ خشک کی صورت بکھرنا تھا
گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا
گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل
گلی گلی ہے فساد و فتنہ نگر نگر ہے فتور دیکھیں
گلیوں میں اب تلک تو مذکور ہے ہمارا
گلے سے باز آیا جا رہا ہے
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
گم صم ھوا آواز کا دریا تھا جو اک شخص
گم گشتہ محبّت کے خوابوں کی طرح ہے
گم ہی نہ ہوگئی ہو مری رہ گزر کہیں
گماں میں جینے کا اس نے ہنر سکھایا ہے
گماں کی اک پریشاں منظری ہے
گمشدہ بچے کے پیچھے اک خلا رہ جائے گا
گنو نہ زخم نہ دل سے اذیتیں پوچھو
گنگ جزبات کو بہتا ہوا دریا نہ کیا
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
گو خاک اُڑا رہا ہوں وحشت!
گو زر و سیم کے انبار ہیں اغیار کے پاس
گو میری بے کسی کا کوئی رازداں نہیں
گو میرے دل کے زخم ذاتی ہیں
گوری کرت سنگھار
گونج رہی ہے دل میں یوں بھولی باتوں کی چاپ
گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے
گُریز شب سے ،سحر سے کلام رکھتے تھے
گُریز پا ہے جو مجھ سے ، اُسی کے پاس بہت ہوں
گُزر گیا جو زمانہ اُسے بُھلا ہی دو
گُزرے کل سا لگتا ہو جب آنے والا کل
گُل بہ گُل حُسن، میرا طلب گار تھا
گُل تیرا رنگ چُرا لائے ہیں گلزاروں میں
گُل میں اُس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا
گھاؤ گہرا بھر جانا تھا
گھبرا کے شبِ ہجر کی بے کیف سحر میں
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
گھر جلا کر دیکھئے، دُنیا لٹا کر دیکھئے
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
گھر میں رہیں تو سوچ کے صحرا کو جایئے
گھر چھوڑنے لگے تو کوئی یاد آگیا
گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آجانا
گھر گیا ہوں بےطرح میں خواہشوں کے درمیاں
گھٹری دو گھڑی کا مزا چاہیے
گھپ اندھیرا سہی زمانے میں
گھیر لیا ہے وحشت نے
گہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوں
گیا جو مَیں کِسی محفل میں التجا بن کر
گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں
ھاتھ دیا اس نے جب مرے ھاتھ میں
ھم سے مت پوچھ راستے گھر کے
ھمیں اس کو بھلانا تھا سو ھم یہ کام کر آئے
ھمیں اس کو بھلانا تھا سو ھم یہ کام کر آئے
ہائے اس مجبوریٔ ذوقِ نظر کو کیا کروں
ہائے کیا دن تھے کہ جب تیرے بغیر
ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
ہاتھ اٹھے ھیں مگر لب پہ دعا کوئی نھیں
ہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیا
ہاتھ میں تیشہ ہے یا نسخہ کوئی اکسیر کا
ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
ہاتھ ہاتھوں میں جب تمہارا تھا
ہاں کچھ تو مزاج اپنا جنوں خیز بہت ہے
ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو
ہجر سہنے کی غم شناسی کی
ہجر شب میں اک قرار غائبانہ چاہیے
ہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کردیتا ہے
ہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کردیتا ہے
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے جائیے
ہجر کی بد دعا نہ ہو جانا
ہجر کی رات کا انجام تو پیارا نِکلا
ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے
ہجر کی صبح کے سورج کی اداسی نہ پوچھ
ہجر کی پہلی شام کے سائے دور افق تک چھائے تھے
ہجومِ شہر میں کیا ڈھونڈیں گمشدہ چہرے
ہر آن محبت میں مری جاں پہ بنی ہے
ہر اِک قدم پہ یہ خدشہ میری نگاہ میں ہے
ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
ہر اک سیل بلا، ایک اک شناور سامنے ہے
ہر اک چلن میں اسی مہربان سے ملتی ہے
ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ہر ایک بات ہے منّت کشِ زباں لوگو
ہر ایک غم نچوڑ کے، ہر ایک رس جیئے
ہر ایک لمحہ پَہن کے صدیوں کی شال گُزرا
ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرو
ہر جانب ویرانی بھی ہوسکتی ہے
ہر جزر و مد سے دست وبغل اُٹھتےہیں خروش
ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
ہر خوشی میں کوئی کمی سی ہے
ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا
ہر دم اُسی کی دُھن ہے اُسی کا خیال ہے
ہر ذرّہ گلفشاں ہے، نظر چور چور ہے
ہر ذرہء امید سےخوشبو نکل آئے
ہر ذہن میں منزل کا تصوّر تھا ہوائی
ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گئے
ہر سمت جہاں میں آگ لگا رہا ہے کوئی
ہر سمتِ چمن ماتم ہوُا ہے
ہر سنگ پہ لکھا مرا افسانہ رہے گا
ہر سُو خیالِ یار کی چادر سی تان کے
ہر شام اس سے ملنے کی عادت سی ہو گئی
ہر شخص رہنما ہے کِسے رہنما کریں
ہر شخص رہنما ہے کِسے رہنما کریں
ہر شخص کو جس بات پہ اصرار بہت ہے
ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے
ہر شے اپنی اپنی زباں میں اظہارِ حالات کرے
ہر طرف ہے فسوں محبت کا
ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط
ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سے
ہر قدم مرحلہء دار و صلیب آج بھی ہے
ہر لمحہ اِک بند کلی اور بول مرے تھے بادِصبا
ہر لمحہ اِک بند کلی اور بول مرے تھے بادِصبا
ہر لمحہ اگر گریز پا ہے
ہر نظر پیار تو ہر لب پہ ہنسی مانگتے ہیں
ہر نظر گویا کتابِ عشق کی تفسیر ہے
ہر نفس ان کا خیال آتا رہا
ہر نفس درد کے سانچے میں ڈھلا ھو جیسے
ہر نفس رنج کا اِشارہ ہے
ہر نفس عزم خطا کوشی بروئے کار تھا
ہر چند مری قوتِ گفتار ہے محبوس
ہر چند چاہتا ہوں کہ انکا کھا کروں لیکن یہ آرزو کہ تماشا کیا کروں
ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
ہر کوئی ناکام ہوا ہے
ہر گوشئہ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
ہر گھڑی رائیگاں گزرتی ھے
ہر گھڑی عمرِ فرومایہ کی قیمت مانگے
ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
ہزار خوف ھو لیکن زبان ھو دل کی رفیق
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
ہم اس خطا پہ برے اعتبار اس کے ہوئے
ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
ہم اندھیروں سے بچ کے چلتے ہیں
ہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھے
ہم اُن سے اگر مل بیٹھے ہیں، کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
ہم اُنہیں جی سے پیار کرتے ہیں
ہم اپنے آپ سے اتنی مروّ ت کر ہی لیتے ہیں
ہم اپنے آپ میں گم تھے ہمیں خبر کیا تھی
ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
ہم اپنے چراغ کیوں بجھائیں
ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے
ہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں
ہم اہلِ غم بھی رکھتے ہیں جادو بیانیاں
ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
ہم بھی شکستہ دل ہیں پریشان تم بھی ہو
ہم بھی پھرتے ہیں یک حشَم لے کر
ہم بھی کہتے ہیں یہی، ہاں کھیتیاں اُگنے لگیں
ہم بہرحال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
ہم تو آئے ہیں ابھی شہر سے ہجرت کر کے
ہم تو اس عاشقی سے باز آئے
ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی
ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے
ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
ہم جس پیڑ کی چھاوں میں بیٹھا کرتے تھے
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
ہم جو خستہ حال ہوئے ہیں
ہم خاک ہوئے تری خوشی کو
ہم خاک ہوئے تری خوشی کو
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
ہم سادہ دلوں نے دشمنی سے
ہم سفر کوئی نہیں تو شور و شر کس کے لیے
ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
ہم سے دلچسپ کبھی سچّے نہیں ہوتے ہیں
ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دن
ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو
ہم سے کیا پُوچھتے ہو ہِجر میں کیا کرتے ہیں
ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا
ہم لوگ سوچتے ہیں ہمیں کچھ ملا نہیں
ہم مرگئے کہ پیاس میں پانی نہیں ملا
ہم مٹ گئے تو پُرسشِ نام و نشاں ہے اب
ہم نہ ہوئے تو کوئی افق مہتاب نہیں دیکھے گا
ہم نے اک بات کہی ہم کو محبت سی ہے بات لے اڑنے کی دنیا کو تو عادت سی ہے
ہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑالی یارو
ہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑالی یارو
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں ، تری گلیوں میں
ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں
ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں
ہم نے منصف جسے بنایا تھا
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں
ہم پر طبیبِ وقت کا احسان دیکھنا
ہم پرورشِ لوح قلم کرتے رہیں گے
ہم کبھی عِشق کو وحشت نہیں بننے دیتے
ہم کس سے اپنا درد کہیں، کس سُکھ کی جوت جگائیں ہم
ہم کو اپنا پتا نہیں ملتا
ہم کو اپنا پتا نہیں ملتا
ہم کو اکثر گھاؤ دل کے خون سے دھونا پڑے
ہم کو بڑے خلوص سے مرجانا چاہیے
ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہے
ہم کو تو گردش ِ حالات پہ رونا آیا
ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
ہم کو مٹا سکے ، یہ زمانے میں دم نہیں
ہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سُہانے سُہانے لگے
ہم کو کیا اپنے خریدار میسر آتے
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو
ہم کہاں اور تم کہاں ، جاناں‌
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہم ہی آغازِ محبّت میں تھے، اَنجان بہت
ہم ہیں آج پھر ملول یارو
ہم ہیں اور ان کی خوشی ہے آج کل
ہمارا حال کچھ یوں ہے ترے دربان کے آگے
ہمارا یہ تم کو سلام آخری ہے
ہماراتن بدن ہی جھاڑ ہو، جھنکار ہو جیسے
ہماری انا کو قتل نہ کر
ہماری سوچوں پہ چھا گیا ہے
ہمارے آپ کے، ہونے لگے ہر شب، زیاں کیا کیا
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
ہمارے بس میں اگر اپنے فیصلے ہوتے
ہمارے بعد چلی رسم دوستی کہ نہیں؟
ہمارے خواب سے بہتر خیال بنتا ہے
ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
ہمارے عہد میں کب دیدۂ بیدار غالب ہے
ہمارے پاس تو آؤ، بڑا اندھیرا ہے
ہمتِ التجا نہیں باقی
ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا
ہمیں تو خاک پہ حکمِ سفر دیا اس نے
ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں
ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے
ہمیں زمانہ ہوا آپ سے وفا کرتے
ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
ہمیں پچھاڑ کے کیا حیثیت تمہاری تھی
ہمیں کیا کیا ملا اس آستاں سے
ہمیں یاد آیئں اکثر تری دلبری کی باتیں
ہنس ہنس کے زندگی کی دعا دے گیا مجھے
ہنستے گاتے روتے پھول
ہنسنا اچھا نہیں لگتا تو رلا دیتی ہے
ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا
ہنسی آتی ہے مجھ کو امتیازِ دشت و گُلشن پر
ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا
ہنوز درد محبت سکوں نواز نہیں
ہنگامہ ہے کیوں برپا ٹھوڑی سی جو پی لی ہے
ہو آدمی اے چرخ ترکِ گردشِ ایّام کر
ہو تو کمال ربط محبت کسی کے ساتھ
ہو درد اور درد کا درمان بھی نہ ہو۔۔۔۔عمران شناور
ہو رہا ہے کیا یہاں کچھ عقدہء محشر کھلے۔۔۔۔عمران شناور
ہو مرا آشیانہ ضروری نہیں
ہو نہ محتاجِ پرسشِ احوال
ہو نہ محتاجِ پرسشِ احوال
ہو پوری خواہش پرواز کیسے
ہو چلی ہے اَن دیکھی بات، میرے آنگن میں
ہو چکیں بزمِ طرب، رقصِ شرر کی باتیں
ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف
ہوئی اک عُمر ترکِ التجا کو
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
ہوئے ہیں اہلِ جہاں سارے مہرباں کیسے
ہوا سے جنگ میں ہوں ‘ بے اماں ہوں
ہوا سے مل کر چنری کاہے مجھ کو ستائے؟
ہوا نہیں کہ جسے دیکھ ہی نہ پاؤں گا
ہوا چلی بھی تو خود سے ڈرا دیا ھے مجھے
ہوا کی دُھن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
ہوا کے ہاتھ ایک پیغام
ہواؤں سے سَدا لڑنے کی عادت
ہوائے دشت میں کیفیتِ بہار بھی ہے
ہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں
ہوائے شوق کے رنگیں دیار جلنے لگے
ہوتا نہیں ہے باب اجابت کا وا ہنوز
ہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائے
ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا
ہوتی ہے جیسی خواب میں وہ ایسی عورت ہی نہیں
ہوس تو ہے کہ بلندی پہ تیرا گھر دیکھوں
ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم
ہونٹ کھولے ہوئے خاموش دریچے دیکھو
ہونٹوں پہ تبسّم لانے کو ہم کتنے خراب و خوار ہوُئے
ہونٹوں پہ نہ لائیں یہ سخن ’’یار ہے کیسا‘‘
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
ہونٹوں کے دو پھول رکھے تھے اس نے جب پیشانی پر
ہونے لگا گزار غمِ یار بے طرح
ہوگئی اُن سے ملاقات گھڑی بھر کے لیے
ہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوں
ہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوں
ہوں رہ گزر میں تیرے ہر نقشِ پا ہے شاہد
ہيں لبريز آہوں سےٹھنڈی ہوائيں
ہیں آباد لاکھوں جہاں میرے دل میں
ہیں دھوپ کے نیزے بھی جعلی اشجار بھی یونہی لگتے ہیں
ہیں رواں اُس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو
ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے
ہیں یوں تو بہت آپ کی قربت سے بھی محروم
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
ہے اس گل رنگ کا دیدار ہونا
ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
ہے بکھرنے کو یہ محفل، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہے جنوں عطر، آگہی خوشبُو
ہے جنوں عطر، آگہی خوشبُو
ہے حال جائے گریہ جانِ پُر آرزو کا
ہے عجیب چیز مۓ جنوں، کبھی دل کی پیاس نہیں بجھی
ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں
ہے میرے گرد کثرتِ شہر جفا پرست
ہے چھوڑ کے جانا تو مجھے چھوڑ مکمل
ہے کرب ہجر میں وہی جو ہے وصال میں
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
یا مرے خواب، مرے ساتھ ہی مر جائیں گے؟
یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
یاد بھی خواب ہوئی، یاد وہ آتے کیوں ہیں؟
یاد سمندر پار جو کرنا پڑتا ہے
یاد کیا آئی کہ روشن ہو گئے آنسو کے گھر
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے ،نہ گئے
یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یارب" ، مجھے
یادش بخیر! جب وہ تصور میں آ گیا
یادوں کی الماری کھولے بیٹھا تھا
یادِ ایام کہ یاں ترکِ شکیبائی تھا
یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
یادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھ
یار عجب طرح نگہ کر گیا
یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے
یارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
یارب ہمیں دے عشقِ صنم اور زیادہ
یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
یارب، تو اگر اب بھی گریزاں رہا ہم سے
یارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہے
یارو کہاں تلک محبت نبھاؤں میں
یاس اور تیرگی میں پلتا ہوں
یاں نام یار کس کا دردِ زباں نہ پایا
یاں‌ دل میں خیال اور ہے، واں مدِ نظر اور
یقین ٹوٹ گیا تو بحال پھر نہ ہوا
یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو
یونہی تو نہیں خدا ملا ہے
یونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں
یوُں تو مَیں دشت پہ بھی پر تو گلشن دیکھوں
یوُں تو پہنے ہوُئے پیراہنِ خار آتا ہوُں
یوُں تو پہنے ہوُئے پیراہنِ خار آتا ہوُں
یوُں تو کہنے کو ہے بدن بھی یہی
یوُں تو ہر دَور میں ڈھالے گئے پیکر کِتنے
یوں آفتاب ِ شوق شب ِغم میں ڈھل گیا
یوں ارتباط شادی غم دیکھتے رہے
یوں اس پہ مری عرضِ تمنا کا اثر تھا
یوں بٹ کے، بکھر کے رہ گیا ہوُں
یوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصد
یوں تمھارا طرزِ محبوُبی تو معصُومانہ تھا
یوں تو اس جلوہ گہِ حُسن میں کیا کیا دیکھا
یوں تو سب پھول کھلے سائے میں تلواروں کے
یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
یوں تو کہنے کو سبھی اپنے تئیں زندہ ہیں
یوں تو کیا چیز زندگی میں نہیں
یوں تو ہے پرستار زمانہ تیرا کب سے
یوں تیرے حسن کی تصویر غزل میں آئے
یوں جستجوئے یار میں آنکھوں کے بل گئے
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے
یوں لاکھ اک خرابۂ دیوار و در ملے
یوں لاکھ اک خرابۂ دیوار و در ملے
یوں مٹا جیسے کہ دہلی سے گمانِ دہلی
یوں نکلے ہے فلک ایدھر سے نازکناں جو جانے تو
یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
یُوں تو ہے وحشت جزوِ طبیعت، ربط انہیں کم لوگوں سے
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یہ آنکھ کیوں ہے، یہ ہاتھ کیا ہے
یہ اتصال اشکِ جگر سوز کا کہاں
یہ ان دنوں کا ذکر ہے اک بادشاہ تھا
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے
یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے
یہ اچھا ہوا وہ خفا ہوگیا
یہ اگر انتظام ہے ساقی
یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دُعا کئے جائیں
یہ بھی شبِ تار، وہ بھی شبِ تار
یہ بھی کرنا پڑا محبت میں
یہ تماشا دیکھئے یا وہ تماشا دیکھئے
یہ تماشا نہیں ہوا تھا کبھی ہے وہ اپنا، جو دوسرا تھا کبھی
یہ تمام غنچہ و گل، میں ہنسوں تو مسکرائیں !
یہ تنہا رات، یہ گہری فضائیں
یہ تو آساں ہے عرض غم پنہاں ہو جائے
یہ تو ہم کہتے نہیں‘ سایہ ظلمت کم ہے
یہ جاہ و حشم نہیں رہے گا
یہ جب تیری مشیت ہے تو کیا تقصیر میری ہے
یہ جلوہ گاہِ ناز تماشائیوں سے ہے
یہ جو آنسوؤں میں غرور ہے
یہ جو اس سے مجھے محبت ہے
یہ جو اِک عُمر کی تنہائی ہے
یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے
یہ جو قول و قرار ہے ، کیا ہے
یہ جو ہم سفر میں بھی گھر سا اک بناتے ہیں
یہ جو ہے حکم میرے پاس نہ آئے کوئی
یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک
یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک
یہ حال ہے بے قرار دل کا
یہ حسرت ہے مروں اُس میں لیے لبریز پیمانا
یہ حسیں لوگ ہیں‘ تو ان کی مروت پہ نہ جا
یہ خلاء عرش بریں نہیں، کہاں پاؤں رکھوں زمیں نہیں
یہ خوابِ سبز ہے یا رت وہی پلٹ آئی
یہ خوف دل میں نگاہ میں اضطراب کیوں ھے؟
یہ دشت ، وہ رہ صحرا بھی مجھ کو دیکھنے دو
یہ دشتِ ہجر یہ وحشت یہ شام کے سائے
یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی
یہ دل ملول بھی کم ہےاداس بھی کم ہے
یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
یہ دل کی بات کسی کو نہیں بتانے کی
یہ دنیا شہرِ نا پرساں، زمانہ یہ سیاست کا
یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے
یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے
یہ دوپہر، یہ خموشی کے لب پہ سائیں سائیں
یہ راز ہے جواز میرے انتظار کا
یہ رزم گاہِ عناصر کسی کے کام آئے
یہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
یہ زرد پتوں کی بارش میرا زوال نہیں
یہ زُلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچّھا
یہ زُلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچّھا
یہ سال بھی اداس رہا،روٹھ کر گیا
یہ سرمئی فضاؤں کی کچھ کِنمناہٹیں
یہ سودا مجھ کو مہنگا پڑگیا ہے
یہ سوچ بھی کیسا دائرہ ہے
یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
یہ شعر کی دیوی ہے بہروپ تو دھارے گی
یہ شہر روز ہی بستا ہے، روز اجڑتا ہے
یہ صبح و شام کی الجھن، یہ روز و شب کی یاد
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
یہ عجب ساعت رخصت ہےکہ ڈر لگتا ہے
یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر
یہ عُمر بھر کا سفر اور یہ رائیگانی تری
یہ عہد کرب مرے نقش کو ابھارے گا
یہ غزل کِس کی ہے اس مطلعے کو پڑھ کر دیکھو
یہ غم نہیں، کوئی پتّھر اِدھر بھی آئے گا
یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں
یہ فراغت مجھے نہیں ہے راس
یہ مزا تھا، خلد میں بھی نہ مجھے قرار ہوتا
یہ مصرع کاش نقشِ ہر در و دیوار ہو جائے
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
یہ موسم کا غذی پھولوں سے ٹالا جا رہا ہے
یہ موسم گل گرچہ طرب خیز بہت ہے
یہ میری بے جہتی ہے کہ تیری بے خبری
یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
یہ میں جو حرف سے مصرعے نہیں حجرے بناتا ہوں
یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا
یہ نقش ہم جو سرِ لوح جاں بناتے ہیں
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاا
یہ نہیں کہ میری محبتوں کو کبھی خراج نہیں ملا
یہ وصال ہے کہ فراق ہے، دلِ مبتلا کو پتا رہے
یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا
یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا
یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ کیا ستم ظریفی فطرت ہے آج کل
یہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں وہیں کے نہیں
یہ کیا کہ دن کو بھی رات لکھو
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
یہ کیا، کہ لمحۂ موجود کا ادب نہ کریں
یہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہاہے
یہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہاہے
یہ کیسا خوف تھارخت سفر بھی بھول گئے
یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں
یہ کیسی بے خودی ہے ؟
یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن
یہ ہجر کا موسم بھی گذر کیوں نہیں جاتا
یہ ہجومِ نامرادی دلِ بے قرار کب تک؟
یہ ہم جو تجھ سے تجھے بار بار مانگتے ہیں
یہ ہم جو تجھ سے تری بات کرنا چاہتے ہیں
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
یہ ہو رہی ہیں جو سرگوشیاں ہواؤں میں
یہاں سے دُور نہ ہو گا دیارِ موسمِ گُل
یہاں میرا کوئی بھی گھر نہیں ہے
یہی بہت ہے کہ دل اس کو ڈھونڈ لایا ہے
یہی دنیا ہے اُس کی راہگزر
یہی سمجھ میں آیا ہے
یہی سوزِ دل ہے تو محشر میں جَل کر
یہی نہیں کوئی طوفان مِری تلاش میں ہے
یہی چنار یہی جھیل کا کنارا تھا
“Ussay Kaho Qasam Lay Lo”
”اپنے گھر کو واپس جاؤ“ رو رو کر سمجھاتا ہے
”ذرا سنبھل کے سرِ بزم چھیڑنا ہم کو“
”مجھے کوئی شام و سحر یاد آیا“
”یہی ہوا ناں“