نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی/rafiq sandeelvi

Verses

نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی
فقط اک خواب تھا اور ایک صبح ِ نیلمیں تھی

ستارے بجھ رہے تھے جا نماز ِ جسم و جاں پر
مگر اک کشف کی مشعل نَفَس میں جاگزیں تھی

کسی کو علم ہی کیا تھا،مری شمع ِ مسافت
زمیں جس منطقے پر ختم ہوتی تھی،وہیں تھی

بظاہر سب کے سوکھے جسم جل تھل ہو گئے تھے
مگر وہ اک فریب ِ آب تھا بارش نہیں تھی

مجھے بھی موت کا یہ تجربہ کرنا تھا اک دن
خوشی سے جان دے دی تھی کہ جان ِ اولیں تھی

رفیق سندیلوی