Verses

زخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنے
اور چاہیں کہ چُھپا لیں تو چُھپائے نہ بنے

ہائے بےچارگئ عشق کہ اس محفل میں
سر جُھکائے نہ بنے، آنکھ اٹھائے نہ بنے

یہ سمجھ لو کہ غمِ عشق کی تکمیل ہوئی
ہوش میں آ کے بھی جب ہوش میں آئے نہ بنے

کس قدر حُسن بھی مجبورِ کشا کش ہے کہ آہ
منہ چُھپائے نہ بنے، سامنے آئے نہ بنے

ہائے وہ عالمِ پُرشوق کہ جس وقت جگر
اُس کی تصویر بھی سینے سے لگائے نہ بنے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer