Verses

جب کبھی چھیڑا جنوں نے دیدہء خوں بار کو
بھر دیا پھولوں سے ہم نے دامن ِکہسار کو

ٹھیس لگ جائے نہ اُن کی حسرتِ دیدار کو
اے ہجومِ غم! سنبھلنے دے ذرا بیمار کو

فکر ہے زاہد کو حور و کوثر و تسنیم کی
اور ہم جنت سمجھتے ہیں ترے دیدار کو

دیکھنے والے نگاہِ مست ساقی کی کبھی
آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ساغرِ سرشار کو

ہرقدم پر، ہر روش پر، ہر ادا پر، ہر جگہ
دیھکنا پڑتا ہے انداز، نگاہِ یار کو

لاکھ سمجھایا جگر کو، ایک بھی مانی نہ بات
دُھن لگی تھی کوچہء قاتل کی میرے یار کو

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer