تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں سواے فریب نظر کچھ نہیں

Verses

تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں
سواے فریب نظر کچھ نہیں
زمانہ یہ ہے رقص ذرّات کا
حکایات شمس و قمر کچھ نہیں
ستاروں سے آگے مری منزلیں
بلا سے اگر بال و پر کچھ نہیں
محبّت کی یہ محویت ، کیا کہوں
وہ آے تو اپنی خبر کچھ نہیں
مرا شوق منزل ہے شابت قدم
کوئی رہزن و راہبر کچھ نہیں
محبّت ہے انسان کی آبرو
بغیر محبّت بشر کچھ نہیں
ضیاء تو مریض غم عشق ہے
علاج اس کا اے چارہ گر کچھ نہیں

آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا تو پھر سورج ابھرا ہوتا

Verses

آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا
تو پھر سورج ابھرا ہوتا
کہتے کہتے غم کا فسانہ
کٹتی رات، سویرا ہوتا
کشتی کیوں ساحل پر ڈوبی
موجیں ہوتیں، دریا ہوتا
جو گرجا پیاسی دھرتی پر
کاش وہ بادل برسا ہوتا
پھولوں میں چھپنے والے کو
کانٹوں میں تو ڈھونڈا ہوتا
تجھ کو پانا سہل نہیں ہے
سہل جو ہوتا تو کیا ہوتا
اپنے سو بیگانے ہوتے
ایک یگانہ اپنا ہوتا
پوچھ ضیاء یہ اہل دل سے
پیار نہ ہوتا تو کیا ہوتا

اک قیامت مری حیات بنی گرمئی بزم کائنات بنی

Verses

اک قیامت مری حیات بنی
گرمئی بزم کائنات بنی
آشناے سکوں تھی لاعلمی
آگہی فکر شش جہات بنی
موت نے جب فنا کی دی تعلیم
وہ گھڑی مژدہ حیات بنی
موسم برشگال خوب آیا
اک دلہن ساری کائنات بنی
دامن ضبط میں سکوں پایا
شور و شیون سے جب نہ بات بنی
پھر وہی رات صبح بنتی ہے
جو سحر شام ہو کے رات بنی
جبر کا سب طلسم ٹوٹ گیا
جب ارادوں کی کائنات بنی
کس زمیں میں غزل کہی ہے ضیاء
کہ بناے سے بھی نہ بات بنی

انتظار دوست کا غم کھایں کیا ہم فریب آرزو میں آ یں کیا

Verses

انتظار دوست کا غم کھایں کیا
ہم فریب آرزو میں آ یں کیا
چٹکیاں لیتی ہے دل میں یاد یار
اشک اپنی آنکھ میں بھر لایں کیا
دن وہی ہے اور راتیں بھی وہی
ہم دل مایوس کو سمجھایں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غم کیا چیز ہے
خود نہیں سمجھے انھیں سمجھایں کیا
شکریہ تونے الٹ تو دی نقاب
تیرے دیوانوں کے سر جھک جایں کیا
جب مشیت ہے خلاف آرزو
حوصلے انسان کے کام آ یں کیا
تاب عرض مدعا ہم کو نہیں
دیکھ کر خاموش،وہ فرمایں کیا
زندگی جن کی ہے شعلوں کی لپک
وہ عذاب موت سے گھبرایں کیا
اے ضیاء آغاز وحشت ہے ہنوز
ہم خدا کا نام لب پر لایں کیا

خوبصورت فریب شادی ہے فطرت غم ہی مسکرا دی ہے

Verses

خوبصورت فریب شادی ہے
فطرت غم ہی مسکرا دی ہے
ہم نے چھیڑا ہے جب بھی ساز جنوں
تیرگی شب کی گنگنا دی ہے
عالم وجد و بے خودی میں تجھے
ہم نے آواز بارہا دی ہے
اے زمیں ہم نے تیرے قدموں پر
آسماں کی جبیں جھکا دی ہے
ہم نے طوفان شور و شیون سے
کشتی جبر ڈگمگا دی ہے
کوشش امن تو بجا ہے مگر
آدمی فطرتا فسادی ہے
اے خدا تو نے اپنے بندوں کو
زندگی کی کڑی سزا دی ہے
اے ضیاء قلب عشق پرور میں
حسن نے آگ سی لگا دی ہے

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے

Verses

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے
ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے
پھول ذرا کھلجانے دے صحن گلشن میں ساقی
اک پیمانہ چیز ہے کیا ، مے خانہ پی جایں گے
ان کے دیوانوں کا ہے کوچے کوچے میں چرچا
وہ اپنے دیوانوں کو کب سمجھانے آ یں گے
ساقی کو بیدار کرو ، میخانہ کیوں سونا ہے
بادل تو گھر آے ہیں ، میکش بھی آ جایں گے
ان سے کہنے جاتے ہے بیتابی اپنے دل کی
وہ روداد غم سن کر دیکھیں کیا فرمایں گے
پھولو تم محفوظ رہو باد خزاں کے جھونکوں سے
اب ہم رخصت ہوتے ہیں ، اک دن پھر بھی آ یں گے
ساون کی برساتوں میں تیرا ملہاریں گانا
یہ لمحے یاد آ یں گے ، یاد آ کر تڑپا یں گے
وہ سوتے ہیں سونے دو وا ہے آغوش الفت
کہتے کہتے افسانہ ہم بھی تو سو جایں گے
باقی اک رہ جاے گا نقش ضیاء ے الفت کا
دنیا بھی مٹ جاے گی اور ہم بھی مٹ جایں گے

گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں

Verses

گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں
چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں
منزل مقصود ہوتی ہے قریب
راستے سے جب بھٹک جاتا ہوں میں
دے رہا ہوں رات دن غم کو فریب
دل کو امیدوں سے بہلاتا ہوں میں
میرے استقبال کو ساقی اٹھے
میکدے میں جھومتا آتا ہوں میں
اسکے دل میں بھی ہے داغ سوز عشق
چاند کو ہم داستاں پاتا ہوں میں
چھیڑتی ہے صبح جب ساز حیات
وجد میں آکر غزل گاتا ہوں میں
خود تڑپتا ہوں تڑپ کر اے ضیاء
اہل محفل کو بھی تڑپاتا ہوں میں

شب غم ہے مری تاریک بہت ہو نہ ہو صبح ہے نزدیک بہت

Verses

شب غم ہے مری تاریک بہت
ہو نہ ہو صبح ہے نزدیک بہت
ان سے میں دور ہوا خوب ہوا
آ گئے وہ مرے نزدیک بہت
غم جاناں مرے دل سے نہ گیا
کی غم دہر نے تحریک بہت
مل گئی مر کے حیات جاوید
تیرے بیمار ہوئے ٹھیک بہت
کم سے کم حسن کی رسوائی میں
تھی غم عشق کی تضحیک بہت
رہ نوردان جنوں بیٹھ گئے
منزل شوق تھی نزدیک بہت
اے ضیاء ہم کو در ساقی سے
کم سہی پھر بھی ملی بھیک بہت

بہکی بہکی ہیں ، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا کھوئی کھوئی سی ہیں ، راہوں کو نہ جانے کیا ہوا

Verses

بہکی بہکی ہیں ، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
کھوئی کھوئی سی ہیں ، راہوں کو نہ جانے کیا ہوا
دل کی رگ رگ میں رواں تھا جن سے خون زندگی
ان تمنّاؤں کو ، چاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
نا مکمّل تھا فسانہ دہر کا جن کے بغیر
ان گداؤں ، بادشاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
آسماں سے واپس آئیں ، دل میں گھٹ کر رہ گئیں
کیا بتاوں ، میری آہوں کو نہ جانے کیا ہوا
معبد ہستی میں تھا جن کو عبودیت پہ ناز
ان جبینوں ، سجدہ گاہوں کو نہ جانے کیا ہوا
بن گئی ہیں دور ساغر بزم رنداں میں ضیاء
ان کی شرمیلی نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا

دنیا مری نظر سے تجھے دیکھتی رہی

Verses

دنیا مری نظر سے تجھے دیکھتی رہی
پھر میرے دیکھنے میں بتا کیا کمی رہی

کیا غم اگر قرار و سکوں کی کمی رہی
خوش ہوں کہ کامیاب مری زندگی رہی

اک درد تھا جگر میں جو اٹھتا رہا مدام
اک آگ تھی کہ دل میں برابر لگی رہی

دامن دریدہ ، لب پہ فغاں ، آنکھ خونچکاں
گر کر تری نظر سے مری بے بسی رہی

آئی بہار ، جام چلے ، مے لوٹی مگر
جو تشنگی تھی مجھ کو وہی تشنگی رہی

کھوئی ہوئی تھی تیری تجلّی میں کائنات
پھر بھی مری نگاہ تجھے ڈھونڈتی رہی

جلتی رہیں امید کی شمعیں تعام رات
مایوس دل میں کچھ تو ضیاء روشنی رہی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer