وصی شاہ

dont now

Verses

hoi thhi sham to ankhoon main bas gia thha tu kahan gia hie mere shaer ke musafr tu bahut udas hie ik shaksh tere jane se jo ho sake to chala aa usi ki khatar tu T M YASIR BUTT MUSCAT 0096892989139

جب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا

Verses

جب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا
جب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا، تو کہاں تھا
اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم، مرے ہمدم
جب تیرے لئے مرا ہر احساس جواں تھا ، تو کہاں تھا
اب صرف خموشی ہے مقدر کا ستارہ ، مرے یارا
جب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا، تو کہاں تھا
اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیا ساون، مرے ساجن
جب چار سو میرے لئے خوشیوں کا سماں تھا، تو کہاں تھا

ہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کردیتا ہے

Verses

وصـــــی شـــــاہ

ہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کردیتا ہے
سونے جیسے شخص کو پیتل کردیتا ہے

میرے عشق میں شاید کوئی کمی ہوئی ہو
تیرا حسن تو اب بھی پاگل کردیتا ہے

ایسی لذت کہیں نہیں ملتی ،شاید وہ
اپنا پیار بھی چائے میں شامل کردیتا ہے

دل میرا ویران ہوا تو حیرت کیسی
ہجر کا زہر تو دریا کو تھل کردیتا ہے

مجھ ضدی کو رب بھی راضی کر نہ پائے
لیکن تیری آنکھ کا کاجل کردیتا ہے

تیرے لمس کا جادو بھی کیسا جادو ہے
جس کو چھو لے اس کو صندل کردیتا ہے

تیرا چہرہ ہر چہرے پر چھا جاتا ہے
یہ منظر ہر منظر اوجھل کردیتا ہے

آنکھ کے ریگستان کو تیری یاد کا بادل
چھو جائے تو پل میں جل تھل کردیتا ہے

اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے

Verses

اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
تیرا بھلا برا ہمیں سب کچھ قبول ہے

یہ عمر بھر کا جاگنا بیکار ہی نہ جائے
تُو نہ ملا تو ساری ریاضت فضول ہے

خود ہی کہا تھا تو نے مری جان چھوڑ دے
اب چھوڑ دی تو کیوں ترا چہرہ ملول ہے

اے ماں یہ میری شہرتیں، میری یہ عزتیں
کچھ بھی نہیں ہے، بس ترے قدموں کی دھول ہے

آئی جو تیری یاد تو آنکھیں برس پڑیں
اس وقت ترے درد کا دل پر نزول ہے

اک دوسرے کے واسطے دونوں بنے وصی
گلدان میرا دل ہے، تری یاد پھول ہے

غم کی اِس سِل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

Verses

غم کی اِس سِل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
تُو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
مجھ سے جاہل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

پوچھ لے مجھ سے حقیتت تُو وگرنہ اپنے
آنکھ کے تِل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

بِن محبت کے تُو ہنستی ہوئی ان آنکھوں کی
بھیگی جِھلمل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

زندگی خود بھی تجھے مرنا پڑے گا ورنہ
میرے قاتل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

Verses

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں

تم مری آنکھ کے سمندر میں
تم مری رُوح کے اجالوں میں

پُھول ہی پُھول کِھل اُٹھے مجھ میں
کون آیا مرے خیالوں میں

میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا
تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں

میری خُوشیوں کی کائنات بھی تُو
تُو ہی دکھ درد کے حوالوں میں

جب ترا دوستوں میں ذکر آئے
ٹیس اُٹھتی ہے دل کے چھالوں میں

تم سے آباد ہے یہ تنہائی
تم ہی روشن ہو گھر کے جالوں میں

سانولی شام کی طرح ہے وہ
وہ نہ گوروں میں ہے، نہ کالوں میں

کیا اُسے یاد آ رہا ہوں وصی
رنگ ابھرے ہیں اُس کے گالوں میں

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے ہو

Verses

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے ہو
یہ جو تم بھول جایا کرتے ہو

کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
دل کی دھڑکن سنایا کرتے ہو

ہم جہاں چائے پینے جاتے تھے
کیا وہاں اب بھی آیا کرتے ہو

کون ہے اب کہ جس کے چہرے پر
اپنی پلکوں کا سایہ کرتے ہو

کیوں مرے دل میں رکھ نہیں دیتے
کس لیے غم اٹھایا کرتے ہو

فون پر گیت جو سناتے تھے
اب وہ کس کو سنایا کرتے ہو

آخری خط میں اس نے لکھا تھا
تم مجھے یاد آیا کرتے ہو

اداس راتوں میں، تیز کافی کی تلخیوں میں

Verses

اداس راتوں میں، تیز کافی کی تلخیوں میں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں

مجھے اجازت نہیں ہے اُس کو پکارنے کی
جو گونجتا ہے لہو میں، سینے کی دھڑکنوں میں

وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا
میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں

اُسے دلاسے تو دے رہا ہوں مگر یہ سچ ہے
کہیں کوئی خوف بڑھ رہا ہے تسلیوں میں

تم اپنی پوروں سے جانے کیا لکھ گئے تھے جاناں
چراغ روشن ہیں اب بھی میری ہتھیلیوں میں

جو تُو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہوسکیں گی
تری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں

مجھے یقیں ہے وہ تھام لے گا، بھرم رکھے گا
یہ مان ہے تو دیئے جلائے ہیں آندھیوں میں

ہر ایک موسم میں روشنی سی بکھیرتے ہیں
تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو

Verses

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سُلا دے مجھ کو

جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے میں لگادے مجھ کو

یاد کرکے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہوگی
ایک قصہ ہوں پرانا سا ، بُھلا دے مجھ کو

ڈوبتے ڈوبتے آواز تری سن جاؤں
آخری بار تو ساحل سے صدا دے مجھ کو

میں ترے ہجر میں چپ چاپ نہ مرجاؤں کہیں
میں ہوں سکتے میں ،کبھی آ کے رُلا دے مجھ کو

دیکھ میں ہوگیا بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر، اب تو جلا دے مجھ کو

روٹھنا تیرا میری جان لئے جاتا ہے
ایسے ناراض نہ ہو، ہنس کے دکھا دے مجھ کو

اور کچھ بھی نہیں مانگا میرے مالک تجھ سے
اس کی گلیوں میں پڑی خاک بنا دے مجھ کو

لوگ کہتے ہیں کہ یہ عشق نِگل جاتا ہے
میں بھی اِس عشق میں آیا ہوں، دُعا دے مجھ کو

یہی اوقات ہے میری، تیرے جیون میں اگر
کوئی کمزور سا لمحہ ہوں، بُھلا دے مجھ کو

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer