وہ مری خوش لباس کیسی ہے ؟

Verses

وہ مری خوش لباس کیسی ہے ؟
اس کے تن کی کپاس کیسی ہے ؟

جس نے ہر سو زمین کی سیراب
اس سمندر کی پیاس کیسی ہے ؟

جسے کوئی زمیں محبت کی
کبھی آئی نہ راس، کیسی ہے ؟

جو زمیں کی تھی اور زمیں کی نہ تھی
وہ زمیں ناشناس کیسی ہے ؟

جسے خوش تاب تھی حیات مگر
جی سے تھی جو اداس، کیسی ہے ؟

وہ کہ تھی کاروبار ہستی میں
کچھ عجب بدحواس، کیسی ہے ؟

وہ کہ لرزاں تھی اپنی ذات سے بھی
وہ سراپا ہراس کیسی ہے ؟

جس کی تعمیر سب خیالی تھی
ہاں ! وہی بے اساس کیسی ہے ؟

ہم تو ویراں ہوئے ہیں اس کے بغیر
کچھ کہو! وہ اداس کیسی ہے ؟

دوسروں کی پرکھ تجربہ اور ہے

Verses

دوسروں کی پرکھ تجربہ اور ہے
خود کی پہچان کا مرحلہ اور ہے

تیرے پیش نظر ہے ترا آئنہ
مجھ کو آزارِ صد آئنہ اور ہے

تم نے اپنے حوالے سے سمجھا مجھے
زندگی کا مری مسئلہ اور ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھ سے گریزاں ہوں میں
ان دنوں خود سے بھی رابطہ اور ہے

میں ازل سے ہوں تیری ہی جانب رواں
اب تُو کہتا ہے یہ راستہ اور ہے

ہے کوئی، دے تسلی ذرا جو مجھے
ہے کوئی، جو کہے واقعہ اور ہے

کس کے پیمان دل میں ہے اور غم
کون کہتا ہے مجھ کو نشہ اور ہے

جیت کر ایک دن ہار دیں گے تجھے
زندگی تجھ سے اک معرکہ اور ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer