خود اپنے تن پہ زخم کسی نے لگا لئے

Verses

خود اپنے تن پہ زخم کسی نے لگا لئے
دیوارِ آئینہ پہ نگینے سجا لئے

طوفاں اٹھے تو ہم ہی نبرد آزما ہوئے
یاروں نے ساحلوں سے سفینے لگا لئے

ہم کو ہی خود ستائی کے سائے سے بیر تھا
یہ پیڑ اپنے گھر میں سبھی نے لگا لئے

غم جتنے آسمان سے اترے زمین پر
ہنس کر گلے سے دیکھ ہمی نے لگا لئے

ہم جیسے شاعروں نے تمہارے دیار میں
دو دن کا تھا پڑاﺅ ، مہینے لگا لئے

یارا بری ہے اہل کدورت سے دوستی
کیوں تو نے اپنے ساتھ ، کمینے لگا لئے

نقشہ میں کائنات کے خانے ہیں اور بھی

Verses

نقشہ میں کائنات کے خانے ہیں اور بھی
میں چھوڑ دوں زمیں تو ٹھکانے ہیں اور بھی

جو سامنے ہے اس پہ ابھی اکتفا نہ کر
اس خوشہء حیات میں دانے ہیں اور بھی

دل کے نگر میں صرف زرِ سوزِ غم نہیں
اس بحر بیکراں میں خزانے ہیں اور بھی

میں ہی نہیں ہوں صرف روایت کا پاسباں
اس شہر کم نظر میں گھرانے ہیں اور بھی

دو دن کی روشنی کے یہ منظر ہرے بھرے
اندر ہو روشنی تو سہانے ہیں اور بھی

ذوق شکار ، طائر مہتاب تک نہیں
لوگو مری نظر میں نشانے ہیں اور بھی

روکو نہیں روانی مری اس جہان تک
جانے دو مجھ کو ، آگے زمانے ہیں اور بھی

آئے ہیں سامنے جو حقیقت میں وہ نہیں
اس شخص سے ملن کے بہانے ہیں اور بھی

یہ مشورہ ہوائے وفا نے دیا مجھے
اس راہ پہ چراغ جلانے ہیں اور بھی

کن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتاب

Verses

کن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتاب
مل کر گلے سحر سے سِسکتا ہے آفتاب

آدھا تو سازشوں کے اندھیرے نے ڈس لیا
آدھا ردائے ابر میں لپٹا ہے آفتاب

اس کا مری طرح سے کوئی ہمسفر نہیں
کتنے بسیط دشت میں تنہا ہے آفتاب

چھو لو تو جسم و جاں کی طنابیں سلگ اٹھیں
دیکھو تو ایک برف کا گولا ہے آفتاب

مجھ کو خبر نہیں کہ مرے ہونٹ جل گئے
میں نے عجیب کیف میں چوما ہے آفتاب

آنکھوں میں رنگ و بو کے شرارے مچل اٹھے
سینے میں کتنے کرب سے تڑپا ہے آفتاب

میں تیرہ بخت اس کے اجالوں سے دور ہوں
مجھ سے ذرا سی بات پہ روٹھا ہے آفتاب

آداب روشنی کے کوئی جانتا نہیں
تیرہ شبی میں سب کی تمنا ہے آفتاب

کچھ دوستوں کے گھر میں نہیں ایک بھی کرن
کچھ دوستوں کے طاق پہ رکھا ہے آفتاب

اپنی ضعیف ماں پہ لٹاتا ہے روشنی
لوگو مری زمین کا بیٹا ہے آفتاب

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer