شہریار

وحشت دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے

Verses

وحشت دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے
کس لئے یاد ہمیں بیتے زمانے آئے

دشت خالی ہوئے،زنجیر ہوئے دیوانے
تھی خطا اتنی کہ کیوں خاک اڑانے آئے

کیا عجب رسم ہے دستور بھی کیا خوب ہے یہ
آگ بھڑکائے کوئی، کوئی بجھانے آئے

کوئی آسان نہیں ترک تعلق کرنا!!
بزم ِاغیار میں یاروں کو بھلانے آئے

نقش کچھ اب بھی سر ِجادہء دل باقی ہے
تیز آندھی سے کہو ،ان کو مٹانے آئے

حال دوری میں خدا جانے میرا کیا ہوتا

Verses

حال دوری میں خدا جانے میرا کیا ہوتا
جیسا سوچا تھا اگر تو کہیں ویسا ہوتا

یہ تو اچھا ہوا میں چھوڑ چلا وحشت کو
ورنہ اب شہر جہاں ہے وہاں صحرا ہوتا

ٹوٹ کر ملنا کبھی ہفتوں نہ دکھلانا شکل
چند دن اور یہ سب رہتا تو اچھا ہوتا

سچ یہی ہے کہ اگر چوٹ نہ کھاتا یہ دل
خوش تو کیا ہوتا یہ ، غمگین نہ اتنا ہوتا

زندہ رہنے کے سوا کام نہیں کچھ میرا
فرق کیا پڑتا جو میں نے نہ یہ جانا ہوتا

جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا

Verses

جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا
اک ایسا بھی موڑ ہماری رات میں آنا تھا

تجھ سے بچھڑ جانے کا غم کچھ خاص نہیں ہم کو
ایک نہ اک دن کھوٹ ہماری ذات میں آنا تھا

آنکھوں کو یہ کہتے سنتے رہتے ہیں ہر دم
سوکھے کو آنا تھا اور برسات میں آنا تھا

اک لمبی سنسان سڑک پر تنہا پھرتے ہیں
وہ آہٹ تھی ، ہم کو نہ اس کی بات میں آنا تھا

گلاب جسم کا یونہی نہیں کِھلا ہوگا

Verses

گلاب جسم کا یونہی نہیں کِھلا ہوگا
ہوا نے پہلے تجھے، پھر مجھے چُھوا ہوگا

میری پسند پہ تجھ کو بھی رشک آئے گا
کہ آئینے سے جہاں تیرا سامنا ہوگا

شریر شوخ کِرن مجھ کو چوم لیتی ہے
ضرور اِس میں اشارہ تیرا چھپا ہوگا

یہ سوچ سوچ کے کٹتی نہیں ہے رات میری
کہ تجھ کو سوتے ہوئے چاند دیکھتا ہوگا

یہ اور بات کہ میں خود نہ پاس آ پایا
ہاں میرا سایہ تو ہر شب تجھے ملا ہوگا

میں تیرے ساتھ رہوں گا وفا کی راہوں میں
یہ عہد ہے، نہ میرے دل سے تُو جدا ہوگا

زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں

Verses

زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں

سرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں
دن ڈھلے یوں تیری آواز بلاتی ہے ہمیں

یاد تیری ، کبھی دستک ، کبھی سرگوشی سے
رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں

ہر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ہے ؟
اب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ہے ہمیں

ایسا نہیں کہ اِس کو نہیں جانتے ہو تم!!

Verses

ایسا نہیں کہ اِس کو نہیں جانتے ہو تم!!
آنکھوں میں مری، خواب کی صورت بسے ہو تم

رہتا ہے اس خیال سے سرشار دل میرا
میں ہوں تمہارے واسطے، میرے لئے ہو تم

دوری کی کوئی حد، کوئی منزل نہیں ہے کیا؟
کیسے کہوں کہ یاد بہت آ رہے ہو تم!

دنیا کو ، زندگی کو نئے رنگ دے سکیں
دو میرا ساتھ، مجھ کو اگر چاہتے ہو تم!

تجھ سے ہوتی بھی تو کیا ہوتی شکایت مجھ کو

Verses

تجھ سے ہوتی بھی تو کیا ہوتی شکایت مجھ کو
تیرے ملنے سے ملی درد کی دولت مجھ کو

زندگی کے بھی کئی قرض ہیں باقی مجھ پر
یہ بھی اچھا ہے ، نہ راس آئی محبت مجھ کو

تیری یادوں کے گھنے سائے سے رخصت چاہوں
پھر بلاتی ہے کہیں دھوپ کی شدت مجھ کو

ساری دنیا میرے خوابوں کی طرح ہوجائے
اب تو لے دے کے یہی ایک ہے، حسرت مجھ کو

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے

Verses

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

سب کا احوال وہی ہے جو ہمارا ہے آج
یہ الگ بات کہ شکوہ کیا تنہا ہم نے

خود پشیماں ہوئے اسے شرمندہ نہ کیا
عشق کی وضع کو کیا خوب نبھایا ہم نے

عمر بھر سچ ہی کہا سچ کے سوا کچھ نہ کہا
اجر کیا اس کا ملے گا یہ نہ سوچا ہم نے

کون سا قہر یہ آنکھوں پہ ہوا ہے نازل
ایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے

زندگی جیسی تمنا تھی، نہیں ،کچھ کم ہے

Verses

زندگی جیسی تمنا تھی، نہیں ،کچھ کم ہے
ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے

گھر کی تعمیر تصورہی میں ہوسکتی ہے
اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگی
دل میں امید تو کافی ہے، یقیں کچھ کم ہے

اب جدھر دیکھیے لگتا ہے کہ اس دنیا میں
کہیں کچھ چیز زیادہ ہے، کہیں کچھ کم ہے

آج بھی ہے تیری دوری ہی اداسی کا سبب
یہ الگ بات کہ پہلی سی نہیں، کچھ کم ہے

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے

Verses

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اِس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

دِل ہے تو دھَڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے
پتھر کی طرح بے حِس و بے جان سا کیوں ہے

!تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو
تا حدِ نظر ایک بیابان سا کیوں ہے

ہم نے تو کوئی بات نکالی نہیں غم کی
وہ زُود پشیمان ، پشیمان سا کیوں ہے

کیا کوئی نئی بات نظر آتی ہے ہم میں
آئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer