شکیل بدایونی

رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے

Verses

رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
کچھ اور بخش ڈالے انداز دلکشی کے

ایثار، خود شناسائی، توحید اور صداقت
اے دل ستوں نہیں یہ ایوان ِبندگی کے

رنج و الم میں کچھ کچھ آمیزش ِمسرت
ہیں نقش کیسے دلکش ، تصویر ِزندگی کے

فرضی خدا بنائے، سجدے کئے بتوں کو
اللہ رے کرشمے احساسِ کمتری کے

قلب و جگر کے ٹکڑے ،یہ آنسوؤں کے قطرے
اللہ راس لائے ، حاصل ہیں زندگی کے

صحرائیوں سے سیکھے کوئی رموز ِہستی
آبادیوں میں اکثر دشمن ہیں آگہی کے

جان ِخلوص بن کر اے شکیب اب تک
تعلیم کررہے ہیں آداب زندگی کے

الہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانی

Verses

الہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانی
جدھر دیکھو پریشانی پریشانی پریشانی

جوانی کیا محبت کی یکایک شعلہ افشانی
محبت کیا ہے بس اک کافر نظر کی سحر ارزانی

بس اک ان کے نہ ہونے سے یہ بربادی یہ ویرانی
کسی نے لوٹ لی جیسے بہار بزم امکانی

تصویر ہے کہ اک شہر طلمسات بیابانی
نہ ہنگامہ نہ خاموشی نہ آبادی نہ ویرانی

مجھے سمجھا نہ اے ناصح تجھے سمجھا چکا ہوں میں
اگر اس پر بھی ظالم تو نہ سمجھے تیری نادانی

جو سچ پوچھو حقیقت میں وہی دل ہے کہ ہو جس میں
قیامت خیز جذبات محبت کی فراوانی

رنگ صنم کدہ جو ذرا یاد آ گیا

Verses

رنگ صنم کدہ جو ذرا یاد آ گیا
ٹوٹیں وہ بجلیاں کہ خدایاد آ گیا

ہر چند دل کو ترک محبت کا تھا خیال
لیکن کسی کا عہد وفا یاد آ گیا

جیسے کسی نے چھین لی رنگینی بہار
کیا جانئے بہار میں کیا یاد آ گیا

رحمت نظر بچا کے نکلنے کو تھی مگر
وہ ارتعاش دست دعا یاد آ گیا

اللہ رے ستم کہ انہیں مجھ کو دیکھ کر
سب کچھ محبتوں کے سوا یاد آ گیا

قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا

Verses

قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا
اڑتی ہوئی خبر ہے کریں اعتبار کیا

مایوس زندگی الم رازگار کیا
جینا تو خود ہی موت ہے جینے سے عارکیا

پنہاں ہیں قہقہوں میں صدائے شکست دل
دنیا اسی کانام ہے پروردگار کیا

آئینہ جمال ہے دنیا کے رنگ و بو
آغوش کا ئنات ہے آغوش یار کیا

وعدے اور اعتبار میں ہے ربط باہمی
اس ربط باہمی کا مگر اعتبار کیا

زخم نگاہ ناز سلامت رہے شکیل
سو بار مسکرائیں ہم ایک بار کیا

ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے

Verses

ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے

پلٹے مقدرات کچھ اس طور سے کہ ہم
تصویر انقلاب جہاں بن کے رہ گئے

کیا دل نہ بن سکے گا تیری اک نگاہ سے
جب دم زدن میں کون و مکاں بن کے رہ گئے

مظلوم دل کی تلخ نوائی تو دیکھنا
نغمے جو لب تک آئے فغاں بن کے رہ گئے

کرتے ہم ان سے را ز محبت پہ گفتگو
لیکن وہ خود ہی راز نہاں بن کے رہ گئے

اب ہم ہیں اور حقیقت آلام اے شکیل
لمحے خوشی کے خواب گراں بن کے رہ گئے

جز نغمہ رباب وفا اور کچھ نہیں

Verses

جز نغمہ رباب وفا اور کچھ نہیں
ظالم شکست دل کی صدا اور کچھ نہیں

لذت یہی سرور یہی زندگی یہی
دل میں ہجوم غم کے سوا اور کچھ نہیں

پس منظر چمن کو ذرا غور سے تو دیکھو
جز رنگ وبو بہار میں کیا اور کچھ نہیں

آئینہ جمال حقیقت ہے کائنات
سب کچھ وہی ہیں ان کے سوا اور کچھ نہیں

پاکیزگی حسن خیالات کی قسم
سب کچھ ہے عاشقی میں ردا اور کچھ نہیں

یوں دیکھتا ہوں جلوہ نقش و نگار دہر
جیسے نظر میں ان کے سوا اور کچھ نہیں

اب ہم ہیں اور مے کدہ حسن اے شکیل
شغل اپنا مے کشی کے سوا اور کچھ نہیں

قصہ ویراں ہوا جاتا ہے

Verses

قصہ ویراں ہوا جاتا ہے
دل پریشاں ہوا جاتا ہے

حرم و دیر کے جلوؤں کی قسم
کفر ایمان ہوا جاتا ہے

تاب نظارہ الہٰی توبہ
جلوہ حیراں ہوا جاتا ہے

نالہ آغوش اثر تک آ کر
خود پشیمان ہوا جاتا ہے

بے پئے شیخ فرشتہ تھا مگر
پی کے انسان ہوا جاتا ہے

دل ہے آمادہ تکمیل نشاط
غم کا سامان ہوا جاتا ہے

کچھ نہیں ہستی پروانہ مگر
بزم کی جان ہوا جاتا ہے

اللہ اللہ کہ انہیں کا پرتو
ان پہ قربان ہوا جاتا ہے

ہر ورق شرح محبت کا شکیل
اپنا دیوان ہوا جاتا ہے

کام آ ہی جائے گی سعئی رائیگاں اک دن

Verses

کام آ ہی جائے گی سعئی رائیگاں اک دن
خود جبیں کو ترسے گا سنگ آستاں اک دن

وہ نہیں تو ان کا غم دل میں جا گزیں ہو گا
زندگی ہونا ہے یوں بھی شادماں اک دن

دل تجھے مبارک ہو تیرا زغم خود داری
اور اگر وہ آ جائیں شکوہ بر زباں اک دن

حسن و عشق کی منزل اور ہم ارے توبہ
کچھ یوں ہی سی دیکھی تھی گرد کارواں اک دن

اب کسی سے کیا پوچھیں غم کی انتہا کیا ہے
خود جواب دے گا قلب ناتواں اک دن

دل لذت نگاہ کرم پا کے رہ گیا

Verses

دل لذت نگاہ کرم پا کے رہ گیا
کتنا حسین خواب نظر آ کے رہ گیا

لب تک شکایت غم دل لا کے رہ گیا
ان کی ندامتوں پہ میں شرما کے رہ گیا

میرے دل تباہ کا عالم نہ پوچھئے
اک پھول تھا جو کھلتے ہی مرجھا کے رہ گیا

منزل سے دور رہرو منزل تھا مطمئن
منزل قریب آئی تو گھبرا کے رہ گیا

شوریدگی نالئہ گستاخ کیا کہوں
اس قلب نازنین کو بھی تڑپا کے رہ گیا

بے گانہ وار جب وہ گزرتے چلے گئے
کچھ بے قرار دل مجھے سمجھا کے رہ گیا

ان کے حضور لب تو مکرر نہ کھل سکے
روداد غم نگاہ سے دہرا کے رہ گیا

یوں ختم داستان محبت ہوئی شکیل
جیسے کوئی حسین غزل گا کے رہ گیا

کشمکش حیات کو جزو حیات پا کے ہم

Verses

کشمکش حیات کو جزو حیات پا کے ہم
ہر غم بے پناہ پر رہ گئے مسکرا کے ہم

جذب انہی میں ہو گئے ان کے حضور جا کے ہم
اپنی نظرسے کھو گئے ان سے نظر ملا کے ہم

رہ گئے تشنہ کام ہی تشنہ لبی مٹا کے ہم
دیکھ تو ہم کو ساقیا رند ہیں کس بلا کے ہم

غم ہی سکوں نواز تھا غم ہی خوشی کا راز تھا
آہ کہ خوش نہ رہ سکے غم سے نجات پا کے ہم

اس نے مزاج یار کو زحمت برہمی نہ دی
شکر گزار کیوں نہ ہوں نالہ نارسا کے ہم

تازہ بہ تازہ نو بہ نو اف وہ فریب کاریاں
بیٹھ سکے نہ مطمئن حسن کو آزما کے ہم

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer