
رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
کچھ اور بخش ڈالے انداز دلکشی کے
ایثار، خود شناسائی، توحید اور صداقت
اے دل ستوں نہیں یہ ایوان ِبندگی کے
رنج و الم میں کچھ کچھ آمیزش ِمسرت
ہیں نقش کیسے دلکش ، تصویر ِزندگی کے
فرضی خدا بنائے، سجدے کئے بتوں کو
اللہ رے کرشمے احساسِ کمتری کے
قلب و جگر کے ٹکڑے ،یہ آنسوؤں کے قطرے
اللہ راس لائے ، حاصل ہیں زندگی کے
صحرائیوں سے سیکھے کوئی رموز ِہستی
آبادیوں میں اکثر دشمن ہیں آگہی کے
جان ِخلوص بن کر اے شکیب اب تک
تعلیم کررہے ہیں آداب زندگی کے

الہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانی
جدھر دیکھو پریشانی پریشانی پریشانی
جوانی کیا محبت کی یکایک شعلہ افشانی
محبت کیا ہے بس اک کافر نظر کی سحر ارزانی
بس اک ان کے نہ ہونے سے یہ بربادی یہ ویرانی
کسی نے لوٹ لی جیسے بہار بزم امکانی
تصویر ہے کہ اک شہر طلمسات بیابانی
نہ ہنگامہ نہ خاموشی نہ آبادی نہ ویرانی
مجھے سمجھا نہ اے ناصح تجھے سمجھا چکا ہوں میں
اگر اس پر بھی ظالم تو نہ سمجھے تیری نادانی
جو سچ پوچھو حقیقت میں وہی دل ہے کہ ہو جس میں
قیامت خیز جذبات محبت کی فراوانی

رنگ صنم کدہ جو ذرا یاد آ گیا
ٹوٹیں وہ بجلیاں کہ خدایاد آ گیا
ہر چند دل کو ترک محبت کا تھا خیال
لیکن کسی کا عہد وفا یاد آ گیا
جیسے کسی نے چھین لی رنگینی بہار
کیا جانئے بہار میں کیا یاد آ گیا
رحمت نظر بچا کے نکلنے کو تھی مگر
وہ ارتعاش دست دعا یاد آ گیا
اللہ رے ستم کہ انہیں مجھ کو دیکھ کر
سب کچھ محبتوں کے سوا یاد آ گیا

قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا
اڑتی ہوئی خبر ہے کریں اعتبار کیا
مایوس زندگی الم رازگار کیا
جینا تو خود ہی موت ہے جینے سے عارکیا
پنہاں ہیں قہقہوں میں صدائے شکست دل
دنیا اسی کانام ہے پروردگار کیا
آئینہ جمال ہے دنیا کے رنگ و بو
آغوش کا ئنات ہے آغوش یار کیا
وعدے اور اعتبار میں ہے ربط باہمی
اس ربط باہمی کا مگر اعتبار کیا
زخم نگاہ ناز سلامت رہے شکیل
سو بار مسکرائیں ہم ایک بار کیا

ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے
پلٹے مقدرات کچھ اس طور سے کہ ہم
تصویر انقلاب جہاں بن کے رہ گئے
کیا دل نہ بن سکے گا تیری اک نگاہ سے
جب دم زدن میں کون و مکاں بن کے رہ گئے
مظلوم دل کی تلخ نوائی تو دیکھنا
نغمے جو لب تک آئے فغاں بن کے رہ گئے
کرتے ہم ان سے را ز محبت پہ گفتگو
لیکن وہ خود ہی راز نہاں بن کے رہ گئے
اب ہم ہیں اور حقیقت آلام اے شکیل
لمحے خوشی کے خواب گراں بن کے رہ گئے

جز نغمہ رباب وفا اور کچھ نہیں
ظالم شکست دل کی صدا اور کچھ نہیں
لذت یہی سرور یہی زندگی یہی
دل میں ہجوم غم کے سوا اور کچھ نہیں
پس منظر چمن کو ذرا غور سے تو دیکھو
جز رنگ وبو بہار میں کیا اور کچھ نہیں
آئینہ جمال حقیقت ہے کائنات
سب کچھ وہی ہیں ان کے سوا اور کچھ نہیں
پاکیزگی حسن خیالات کی قسم
سب کچھ ہے عاشقی میں ردا اور کچھ نہیں
یوں دیکھتا ہوں جلوہ نقش و نگار دہر
جیسے نظر میں ان کے سوا اور کچھ نہیں
اب ہم ہیں اور مے کدہ حسن اے شکیل
شغل اپنا مے کشی کے سوا اور کچھ نہیں

قصہ ویراں ہوا جاتا ہے
دل پریشاں ہوا جاتا ہے
حرم و دیر کے جلوؤں کی قسم
کفر ایمان ہوا جاتا ہے
تاب نظارہ الہٰی توبہ
جلوہ حیراں ہوا جاتا ہے
نالہ آغوش اثر تک آ کر
خود پشیمان ہوا جاتا ہے
بے پئے شیخ فرشتہ تھا مگر
پی کے انسان ہوا جاتا ہے
دل ہے آمادہ تکمیل نشاط
غم کا سامان ہوا جاتا ہے
کچھ نہیں ہستی پروانہ مگر
بزم کی جان ہوا جاتا ہے
اللہ اللہ کہ انہیں کا پرتو
ان پہ قربان ہوا جاتا ہے
ہر ورق شرح محبت کا شکیل
اپنا دیوان ہوا جاتا ہے

کام آ ہی جائے گی سعئی رائیگاں اک دن
خود جبیں کو ترسے گا سنگ آستاں اک دن
وہ نہیں تو ان کا غم دل میں جا گزیں ہو گا
زندگی ہونا ہے یوں بھی شادماں اک دن
دل تجھے مبارک ہو تیرا زغم خود داری
اور اگر وہ آ جائیں شکوہ بر زباں اک دن
حسن و عشق کی منزل اور ہم ارے توبہ
کچھ یوں ہی سی دیکھی تھی گرد کارواں اک دن
اب کسی سے کیا پوچھیں غم کی انتہا کیا ہے
خود جواب دے گا قلب ناتواں اک دن