
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر
آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا
پھر دُور کسی نور کے ہالے میں رہوں گا
رکھوں گا کبھی دھوپ کی چوٹی پہ رہائش
پانی کی طرح ابر کے ٹکڑے میں رہوں گا
یہ شب بھی گزر جائے گی تاروں سے بچھڑ کر

غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
آگ جب دل میں سلگتی تھی، دھواں کیوں نہ ہوا
سیلِ غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے
جوشِ گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا
کہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں

غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
جو کناروں میں سمٹ جاۓ وہ دریا ہی نہیں
اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے
سب کا اس دور میں یہ حال ہے، میرا ہی نہیں
برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے

موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے
میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے
اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا
آئنہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے
کتنی گم سم مرے آنگن سے صبا گزری ہے

دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تک
میری منزل میں نہیں رات کے آثار اب تک
پھول مُرجھا گئے، گُلدان بھی گِر کر ٹوٹا
کیسی خوشبو میں بسے ہیں در و دیوار اب تک
حسرتِ دادِ نہاں ہے مرے دل میں شاید

وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
وہ رینگنے لگی کشتی وہ بادبان کھلا
مرے ہی کان میں سرگوشیاں سکوت نے کیں
مرے سوا کبھی کس سے یہ بے زبان کھلا
سمجھ رہا تھا ستارے جنہیں وہ آنکھیں ہیں

کس طرح ریت کے سمندر میں
کشتیِ زیست ہے رواں، سوچو
سن کے بادِ صبا کی سرگوشی
کیوں لرزتی ہیں پتیاں۔۔، سوچو
پتھروں کی پناہ میں کیوں ہے
آئینہ ساز کی دوکاں، سوچو
اصل سر چشمۂ وفا کیا ہے