شہزاد قیس

چاند پر اِک مے کدہ آباد ہونا چاہیے

Verses

چاند پر اِک مے کدہ آباد ہونا چاہیے
یا محبت کو یہیں آزاد ہونا چاہیے

قاضیئ مِحشَر! تری مرضی ، ہماری سوچ ہے
ظالموں کو دُنیا میں برباد ہونا چاہیے

رُوح کے بے رَنگ اُفق پر ، رات بھر گونجی ندا
دِل پرندہ ، فکر سے آزاد ہونا چاہیے

خواہشِ جنت میں کرتے ہیں جو زاہد نیکیاں
نام اُن کا ’’متقی شداد‘‘ ہونا چاہیے

خوبصورت تتلیوں نے کھول کر رَکھ دی کتاب
غنچوں کی جانب سے کچھ اِرشاد ہونا چاہیے

عشق کی گیتا کے ’’پچھلے‘‘ نسخوں میں یہ دَرج تھا
طالبانِ حُسن کو فولاد ہونا چاہیے

وَصلِ شیریں تو خدا کی مرضی پر ہے منحصر
عاشقوں کو محنتی فرہاد ہونا چاہیے

نامور عُشاق کی ناکامی سے ثابت ہُوا
عشق کے مضمون کا اُستاد ہونا چاہیے

خون سے خط لکھ تو لُوں پر پیار کے اظہار کا
راستہ آسان تر ایجاد ہونا چاہیے

علم کا اَنبار راہِ عشق میں بے کار ہے
قیس کو بس لیلیٰ کا گھر یاد ہونا چاہیے

اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں

Verses

اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں
دل میں دل دار آئے بیٹھے ہیں

ہاتھ پر اُن کے تتلی بیٹھ گئی
گل سبھی خار کھائے بیٹھے ہیں

دستِ نازک پہ تتلی نے سوچا
گل ، حنا کیوں لگائے بیٹھے ہیں

رنگ اُڑا لے گئے وہ تتلی کا
گل کی خوشبو چرائے بیٹھے ہیں

شائبہ تک نہیں شرارت کا
کیسی صورت بنائے بیٹھے ہیں

اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے نازک؟
روشنی سے نہائے بیٹھے ہیں

اس لیے پاؤں میں دباتا ہوں
وہ مرا دل دبائے بیٹھے ہیں

ایک بت کا سوال ہے مولا!
من کا مندر سجائے بیٹھے ہیں

اس لیے مطمئن ہیں کوہِ گراں
ہم امانت اٹھائے بیٹھے ہیں

دوسرا موقع قیس کیسے ملے؟
ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer