تم گئے تو جہان بھی نہ رہا

Verses

تم گئے تو جہان بھی نہ رہا
دل کو دنیا کا دھیان بھی نہ رہا

اِس طرح مٹ گیا ہوں دنیا سے
دیکھنے کو نشان بھی نہ رہا

خاک پر میرے ساتھ آ بیٹھے!
کیا تمہارا مکان بھی نہ رہا؟

کیا زمانہ تھا، ہم بھی ہوتے تھے
اب ہمارا گمان بھی نہ رہا

سرحدِ جسم سے نکلتے ہی
کیا زمین، آسمان بھی نہ رہا

اچھے لفظوں میں اُس کو یاد کرو
اب تو وہ درمیان بھی نہ رہا

میں بھی کیا ہوں، مگر زمانے میں
کوئی میرے سمان بھی نہ رہا

خود کو کیوں ڈھونڈتا ہے اُس دل میں
جس میں تیرا گمان بھی نہ رہا

یومِ عاشور! پھر سے کہنا ذرا
کیا کہا؟ بے زبان بھی نہ رہا

آخری سانس تک تھا ساتھ میرے
اور پھر امتحان بھی نہ رہا

تم محبت تلاش کرتے ہو!
اُس کا تو خاندان بھی نہ رہا

اُس سے کچھ مانگنا نہیں نیر
کیا کرو گے جو مان بھی نہ رہا

تلاش بول رہی ہے، نہیں ملا اب تک

Verses

تلاش بول رہی ہے، نہیں ملا اب تک
جہاں پکار رہا ہے 'خدا خدا' اب تک

ہر ایک درد کو عادت بنا لیا دل نے
بس ایک ہجر کا عادی نہیں ہوا اب تک

دماغ اور ٹھکانوں میں جا بسا کب سے
مگر یہ دل کہ محبت میں ہی رہا اب تک

ہر ایک دور نے اپنے لیے تجھے سوچا
کوئی تو تیرے لیے تجھ کو سوچتا اب تک

سکوت چار طرف ہے مگر سکون کہاں
دلوں میں کھول رہی ہے کوئی صدا اب تک

مرا خیال ہے اک بھی نہیں بچا ورنہ
کوئی تو آن کے مقتل میں بولتا اب تک

یہ پوچھتی ہے بشر سے فلک کی خاموشی
تُو کس کے نام پہ سہتا رہا سزا اب تک

مرا نہیں تو وہ پھر کس کا خواب تھا نیّر
جو میری آنکھ کو دیتا رہا صدا اب تک

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer