شہناز مزمل

ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو

Verses

ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو
اندھے رستے کر رہے ہیں منزلوں کی آرزو

توڑ کر مٹی میری دوبارہ کیوں گوندھی گئی
کر رہا ہے یہ جہان کن صورتوں کی آرزو

آسماں پر ابر کا ہلکا سا بھی ٹکڑا نہیں
خشک مٹی کر رہی ہے بارشوں کی آرزو

پھر میرا ذوقِ تخیل بھی مجسم ہو گیا
پھر ہوئی ذوقِ سفر کو قافلوں کی آرزو

اک عجب منظر میری پیشِ نظر ہے آج کل
پیار کی دہلیز پر ہے نفرتوں کی آرزو

جب زمیں و آسماں آپس میں مل سکتے نہیں
کر رہی ہے خاکِ پا کیوں رفعتوں کی آرزو

حلقۂ گرداب میں شہناز اک مدت سے ہے
دائروں کے باسیوں کو ساحلوں کی آرزو

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے

Verses

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
ہاتھ میں تیشہ لئے پھرتے ہیں رہبر سارے

چشم پوشی کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو
زخمی کر دیتے ہیں احساس کے نشتر سارے

عہدِ رفتہ کی اسیری سے رہائی دے مجھے
یا بدل ڈال میری سوچ کے محور سارے

ہے تمنا تجھے دنیا کی تو بیچ اپنا ضمیر
اہلِ دل، اہلِ نظر رہتے ہیں بے گھر سارے

کعبۂ دل رہے آباد دعا کرنا شہناز
اور اب توڑ دے اغیار کے مندر سارے

ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے

Verses

ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے
بدلے ہوئے موسم کے تقاضے نہیں سمجھے

کیوں سر کو پٹختی رہیں موجیں لبِ دریا
سلگے ہوئے ساحل کے کنارے نہیں سمجھے

خیرہ نہیں کرتے یہ جلاتے ہیں نشیمن
بدلی میں چھپے شوخ شرارے نہیں سمجھے

اے خاکِ بدن! شعلۂ جاں بجھنے لگا ہے
کیوں دیدہء حیراں کے اشارے نہیں سمجھے

ہے کتنا کٹھن درد کے صحرا سے گزرنا
یہ بات مقدر کے ستارے نہیں سمجھے

اونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑا

Verses

اونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑا
بال و پر کٹوانے کا خود فیصلہ کرنا پڑا

ریت کی مانند بکھرا تھا فضاؤں میں وجود
وسعتوں میں وحشتوں کا سامنا کرنا پڑا

حضرتِ انسان جب انسانیت سے گر گئے
فرضِ انساں بھی فرشتوں کو ادا کرنا پڑا

روشنی پھیلی ہے ہر سو میرے دل کی آگ سے
ظلمتِ شب کو بھی مجھ سے رابطہ کرنا پڑا

روگ دل کا بن گیا جب روگ میری جان کا
دشتِ وحشت سے سفر کا فیصلہ کرنا پڑا

بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے

Verses

بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے
کوئی بھی کام خلافِ انا نہیں کرتے

شجر پہ بیٹھے ہوئے پنچھیوں سے بات کرو
فضا میں اڑتے پرندے سنا نہیں کرتے

گہر شناس ہیں طوفاں کے ساتھ رہتے ہیں
سمندروں سے عداوت کیا نہیں کرتے

بڑی خموشی سے آ کر زمیں پہ گرتے ہیں
فلک سے ٹوٹتے تارے صدا نہیں کرتے

بس ایک بار ہی قسمت ہم آزماتے ہیں
پھر اس کے بعد کسی سے گلہ نہیں کرتے

بجھا دیئے ہیں سرِ شام آرزو کے چراغ
ہوا کے رخ پہ دیئے تو جلا نہیں کرتے

وہ دن بھی کیا تھے،غم سے کوئی واسطہ نہ تھا

Verses

وہ دن بھی کیا تھے،غم سے کوئی واسطہ نہ تھا
در پیش اپنے کوئی کٹھن مرحلہ نہ تھا

دہلیز اپنی ذات کی کب ہم نے پار کی
در کونسا تھا ایسا جو ہم پر کھلا نہ تھا

وہ ملتفت ہماری طرف انجمن میں تھے
عرضِ طلب کا ہم کو مگر حوصلہ نہ تھا

ہر نقشِ پا پہ ہو نہ سکی خم جبینِ شوق
جو نقش بھی ملا وہ تیرا نقشِ پا نہ تھا

ہم داستانِ درد سناتے تو کس طرح
محفل میں تیری، کوئی بھی درد آشنا نہ تھا

محسوس اس کو میں نے کیا ہے قریبِ جاں
میرے تخیلات سے وہ ماوراء نہ تھا

یوں تو جہانِ رنگ میں سب کچھ تھا اس کے پاس
شہناز کی دعاؤں کا لیکن صلہ نہ تھا

تھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئی

Verses

تھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئی
رہے فاصلے میرے منتظر، میں تو جسم و جاں سے گزر گئی

مجھے راستوں کی خبر نہ تھی، اڑی راکھ میرے وجود کی
میں تلاش کرتی ہوئی تجھے، تیرے لامکاں سے گزر گئی

تھیں طویل اتنی مسافتیں، کوئی ساتھ میرا نہ دے سکا
وہ یقیں کی حد پہ ٹھہر گیا، میں ہر اک مکاں سے گزر گئی

تو حجاب میں، میں سراب میں، میری زندگی ہے عذاب میں
تجھے اپنا کہنے کی چاہ میں، کڑے امتحاں سے گزر گئی

نہ عیاں ہوا نہ نہاں ہوا، ہوا امتحاں میرے جذب کا
مجھے مل سکا نہ کوئی نشاں، میں کہاں کہاں سے گزر گئی

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا

Verses

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
بدگمانی میں گماں کا ذائقہ کیسا رہا

زلزلے تو ذات کی دہلیز پر آتے رہے
ناقۂ خواہش، ہوا سے رابطہ کیسا رہا

شدّتِ غم کچھ ذرا کم ہو تو بتلانا مجھے
جبرِ موسم میں انا کا تجزیہ کیسا رہا

فصلِ گُل میں خوشبوؤں کی قید میں جکڑے رہے
پتھروں سے زخم تک کا فاصلہ کیسا رہا

وقت کے ساحل پہ طوفاں میں گھرے سوچا کئے
بادباں سے کشتیوں کا فاصلہ کیسا رہا

آرزؤں کے تعاقب میں ہوئے اندھے مگر
ترکِ جاں، ترکِ وفا کا حوصلہ کیسا رہا

آبلہ پا ہم سفر، گردِ سفر میں کھو گئے
کیا بتاؤں ہجرتوں کا سلسلہ کیسا رہا

یہ میری وحشت، میری دیوانگی بتلائے گی
کاتبِ تقدیر تیرا فیصلہ کیسا رہا

نظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتا

Verses

نظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتا
صدف کو توڑ کر مجھ کو گہر نہیں ہونے دیتا

وہ اپنی اور میری زندگی کے درمیاں اکثر
اٹھا رکھتا ہے اک دیوار، در ہونے نہیں دیتا

وہ خودسر ہے مگر اک ڈھال بن کر ساتھ رہتا ہے
حوادث کا کبھی مجھ پر اثر ہونے نہیں دیتا

میں چھاؤں اپنی ممتا کی یہاں پر بانٹنا چاہوں
مجھے وہ اپنے سائے میں شجر ہونے نہیں دیتا

زمانہ ساز نظروں سے وہ سب کچھ بھانپ لیتا ہے
مگر اپنے ارادوں کی خبر ہونے نہیں دیتا

بدلتی رُت کی خوشبو اس کو دیوانہ بناتی ہے
بدلتے موسموں کو ہم سفر ہونے نہیں دیتا

وہ میری سوچ کا تانا سدا الجھائے رکھتا ہے
ہجومِ فکر میں بھی بے ہُنر ہونے نہیں دیتا

میری رنگین سپنے آکے اکثر توڑ جاتا ہے
ہے اس کا مجھ پہ احساں، بے بصر ہونے نہیں دیتا

دَر آتا ہے میری احساس میں خوشبو کی صورت وہ
تصور میں بھی خود سے بے خبر ہونے نہیں دیتا

وہ سارے تیر ترکش کے مجھی پر آزماتا ہے
کبھی شہناز مجھ کو بے سَپر ہونے نہیں دیتا

دمِ رخصت اسے جینے کی دعا دی ہم نے

Verses

دمِ رخصت اسے جینے کی دعا دی ہم نے
اور پھر آخری کشتی بھی جلا دی ہم نے

مل ہی جائے کسی تعبیر کو شاید کوئی خواب
عکسِ دیوار پہ تصویر بنا دی ہم نے

روح کو جسم کے زندان میں رکھنے کے لئے
بزمِ امید ستاروں سے سجا دی ہم نے

ہم اسیرانِ انا، تشنہ لبِ بام گئے
بازیء زیست بھی داؤ پہ لگا دی ہم نے

تیرگی حد سے بڑھی دل کے نہاں خانوں میں
بھولنے والے تیری یاد جلا دی ہم نے

ڈوبتی شام میں کرنوں کو بچانے کے لئے
ریت کے گھر پہ بھی دیوار اٹھا دی ہم نے

کون آئے گا پلٹ کر ہمیں لے جانے کو
لو چراغوں کی سرِ شام بڑھا دی ہم نے

راکھ ہو جاتے تیری آگ سے سُندر سپنے
آرزوئے شمع تیری ،خود ہی بجھا دی ہم نے

بدگمانی سے نکل آئے گماں کی حد پر
بے یقینی کی فضا آج مٹا دی ہم نے

اپنی ہی سانسوں سے دم گھٹنے لگا جب شہناز
قرضِ جاں دے کے سزا اپنی گھٹا دی ہم نے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer