پلکوں پہ اُس کے ایک ستا را تھا اور بس

Verses

پلکوں پہ اُس کے ایک ستا را تھا اور بس
زادِ سفر یہی تو ہمارا تھا اور بس

بنجر سماعتو ں کی زمیں کیسے کِھل اُٹھی
تم نے تو مِیرا نام پکارا تھا اور بس

میری فصیلِ ذات پہ چھایا کُہر چھٹا
آنکھوں میں اسکے ایک شرارا تھا اور بس

اِک عمر میری ذات پہ سا یہ فگن رہا
کچھ وقت ہم نے سا تھ گزارا تھا اور بس

تاریکیوں میں نُور کی بارش سی ہو گئی
آنکھوں میں تِیرا عَکس اُتارا تھا اور بس

مجھ تک پہنچتا غم کا ہر دریا پلٹ گیا
شانے پہ میرے ہاتھ تمھارا تھا اور بس

معصومیت بھی ہو، ہنسی بے ساختہ بھی ہو

Verses

معصومیت بھی ہو، ہنسی بے ساختہ بھی ہو
اس عہدِ گمشدہ سے کوئی رابطہ بھی ہو

مایوسیوں کے اندھے گھنے جنگلوں کے بیچ
امید کی کرن کا کوئی راستہ بھی ہو

آنکھوں میں خواب، ہونٹوں پہ لے کر دعا کے پھول
اپنے خدا سے کوئی مجھے مانگتا بھی ہو

خوشیاں ہوں ہمرکاب سدا میرے بعد بھی
میری طرح سے کوئی اسے چاہتا بھی ہو

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer