
ہر سنگ پہ لکھا مرا افسانہ رہے گا
دیوانہ تو دیوانہ ہے، دیوانہ رہے گا
اس عمر میں ہم یادِ خدا خاک کریں گے
دل جیسا تھا ویسا ہی صنم خانہ رہے گا
جتنا کہ غمِ عشق میں دشوار ہے جینا
اس درجہ ہی آساں ہمیں مرجانا رہے گا
اے دوست ترا آنا ہمیں یاد نہیں ہے
ہاں یاد بہت تیرا چلا جانا رہے گا
لو دل بھی چلا عشق میں ہاتھوں سے نکل کے
کیا شہرِ وفا میں کوئی اپنا نہ رہے گا
کیا کیجئے مدت سے ہے دستور ہی ایسا
مے کش تو چلے جائیں گے میخانہ رہے گا
غربت میں بھی ہے سایۂ دیوار کی امید
اے دل تو کہاں تک یوں ہی دیوانہ رہے گا
سرور جو رہی حالتِ گریہ یہی تیری
پھر کوئی بھی دریا کہیں پیاسا نہ رہے گا

پاس ہے تم کو اگر پچھلی شناسائی کا
آؤ دہرائیں فسانہ شبِ تنہائی کا
حسن کو شوق ہے گر انجمن آرائی کا
آئے دیکھے وہ تماشا مری رسوائی کا
زندگی ! میں تجھے مر مر کے جئے جاتا ہوں
کچھ تو انعام دے اِس قافیہ پیمائی کا!
خود پرستی کا یہ الزام ؟عیاذ”باللہ!
میں تو اک عکس ہوں اُس جلوۂ یکتائی کا!
کیوں تجھے شام و سحر خدشۂ بدنامی ہے؟
کون سنتا ہے فسانہ ترے سودائی کا!
گریۂ نیم شبی، آہ و غمِ صبح گہی!
اور کیا ذکر ہو اُس پیکرِ زیبائی کا؟
جان سے جا کے ملی فکرِ دو عالم سے نجات
شکریہ آپ کے اعجازِ مسیحائی کا
!
کیا سمجھتے ہو تم اپنے کو، بتاؤ سرور؟
دعوہ آخر ہے یہ کس بات پہ دانائی کا؟

ظالم حیات، چال مِرے ساتھ چل گئی
صبحِ اُمید، شامِ غریباں میں ڈھل گئی
کیا اعتبارِ عمرِ گریزاں کرے کوئی
جھپکی ذرا جو آنکھ تو دنیا بدل گئی
یادوں کے ہم جلاتے بجھاتے رہے چراغ
چلئے، اِسی بہانے طبیعت بہل گئی
دنیائے نامراد میں آسودگی کہاں؟
سو اور آئیں، ایک جو حسرت نکل گئی
پھر زندگی شکارِ اُمید وفا ہوئی
پھر شمعِ انتظار سرِ شام جل گئی
تا عمر اپنی ذات سے باہر نہ جا سکے!
ا ہلِ خرد سے اُنکی خُودی چال چل گئی
سرور نے تیری یاد میں اک عمر کی تمام
اور لوگ کہہ رہے ہیں تمنا نکل گئی

جو صبح و شام پئے انتظار گزرے ہیں
وہ گل بدست بہ رنگِ بہار گزرے ہیں
رہِ اُمید سے ہم بار بار گزرے ہیں
ہر ایک بار مگر شرمسار گزرے ہیں
سوال لب پہ، زباں بند، دل میں حیرانی
مقامِ دہر سے بے اختیار گزرے ہیں
ہجومِ آرزو رنگین کر گیا جن کو
وہی زمانے مِرے خوشگوار گزرے ہیں
ترے خیال سے دل کانپ کانپ جاتا ہے
کچھ ایسے حادثے، اے یادِ یار گزرے ہیں
خوشی تھی باعثِ غم، اور غم تھے وجہِ نشاط
ہمارے ایسے بھی کچھ غم گسار گزرے ہیں
بُتانِ وہم و گماں ہیںیہ حسرت و ارماں
ہم اِس دیار سے کتنی ہی بار گزرے ہیں
عجب نہیں کہ مری عاقِبت بنا جائیں
وہ مرحلے جو سرِ کوئے یار گزرے ہیں
بڑھاؤ اپنا یہ سرور، سبوئے شعر و غزل
تم ایسے کتنے یہاں بادہ خوار گزرے ہیں

سرور کسی صورت تجھے آرام نہ آیا!
دن رات کا رونا تیرے کچھ کام نہ آیا!
جو دل پہ گزرتی ہے بتائیں بھلا کیسے
کیا کیجے ہمیں ایک یہی کام نہ آیا!
اک عمر کٹی محفلِ ہستی میں ہماری
صہبائے محبت کا مگر جام نہ آیا!
کب تجھ کو رہا پاس وفا، پاسِ خموشی؟
جینے کا سلیقہ، دلِ ناکام نہ آیا!
پابندِ وفا ہو کے تجھے کیا ملا اے دل؟
سر تیرے بتا کون سا الزام نہ آیا؟
خود کامئ شوریدہ سری دل کو نہ بھائی
مومن تھے ہمیں سجدۂ اصنام نہ آیا!
وارفتہ مزاج ایسے ہوئے عشق میں ، یارو!
پھر لب پہ کبھی شکوۂ ایام نہ آیا
آغازِ محبت کے مزے یاد ہیں سرور
اُس وقت تمھیں خدشۂ انجام نہ آیا؟

ہر نظر گویا کتابِ عشق کی تفسیر ہے
”جس ادا کو دیکھتا ہوں، حسن کی تصویر ہے“
دل مرا مستِ مئے خودرائ تدبیر ہے
اور اُدھر جو دیکھئے تو خندہ زن تقدیر ہے!
عشق کی قسمت میں کیا تقصیر ہی تقصیر ہے؟
ہر مقامِ آرزو اک کوئے داروگیر ہے!
کیا بھروسہ ہے ترے اس سایۂ دیوار کا؟
سامنے نظروں کے جب دیوار کی تحریر ہے
یہ کہیں اہلِ خرد، اس چاک دامانی کے ساتھ
آپ کو کیوں اک جہاں کی فکر دامن گیر ہے؟
کیوں ڈراتا ہے زمانہ ہم کو رسوائی سے آج؟
عاشقی ہم کو بھلا کب باعثِ توقیر ہے؟
ہر قدم پر اک تمنا، ہر گھڑی حسرت نئی
خواب سے دلچسپ خوابِ شوق کی تعبیر ہے
بندگی میں آپ کی سرور مسلماں ہو گیا
اور دنیا کے لئے وہ بندۂ تکفیر ہے!

گھر جلا کر دیکھئے، دُنیا لٹا کر دیکھئے
رحمتِ یزداں کو ایسے آزما کر دیکھئے
کیا عجب کھل جائیں سارے راز ہائے زندگی
بازئ الفت میں اک دن مات کھا کر دیکھئے
ہر گھڑی ہے کیوں بیانِ تنگئی دامانِ شوق؟
"کتنی وسعت ہے ہمارے دل میں آ کر دیکھئے"
کھولنا ہے آپ کو اپنے پرائے کا بھرم؟
ہر گلی میں بے پئے ہی لڑکھڑا کر دیکھئے!
کب تلک یہ جرعۂ تلخابۂ غم کب تلک؟
زندگی کو کیوں نہ آئینہ دکھا کر دیکھئے؟
سر جُھکانا تو بہت آساں ہے راہِ عشق میں
لُطف تو جب ہے کہ اپنا سر کٹا کر دیکھئے
رنج و راحت، سوز و ساز و حسرت و آسودگی
ایک ہیں سب بس ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھئے
ہوچکیں سرور بہت دنیا کی خاطر داریاں
جو بھی دل میں ہے وہ اب نامِ خُدا کر دیکھئے!

”مجھے کوئی شام و سحر یاد آیا“
نہ آنا تھا، پھر بھی مگر یاد آیا
ہوا ایسا مانوس بربادیوں سے
بیاباں سے نکلا تو گھر یاد آیا!
تجھے ڈھونڈے ڈھونڈتے کھو گیا میں
نہ گھر یاد آیا، نہ در یاد آیا
!
تماشائے ہستی! تماشائے ہستی!
ہمیشہ برنگِ دگر یاد آیا!
وہ خوابِ محبت، وہ خوابِ پریشاں
برا یاد آیا اگر یاد آیا
نظر جو پڑی اپنی ناکامیوں پر
ہمیں تیرا حسنِ نظر یاد آیا
نہ فکرِ سفر تھی، نہ پروائے منزل
گیا جو زمانہ گزر، یاد آیا!
اٹھایا جو سرور نے کل سنگِ غالب (1)
اسے بھی خود اپنا ہی سر یاد آیا
(1)ہم نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا(غالب)