ساحر لدھیانوی

کون کہتا ہے محبت کی زبان ہوتی ہے

Verses

کون کہتا ہے محبت کی زبان ہوتی ہے
یہ حقیقت تو نگاہوں سے بیان ہوتی ہے

وہ نہ آئیں تو ستاتی ہے خلش سی دل کو
وہ جو آئیں تو خلش اور جواں ہوتی ہے

روح کو شاد کرے، دل کو پرنور کرے
ہر نظارے میں یہ تنویر کہاں ہوتی ہے

ضبط سیلاب محبت کو کہاں تک روکیں
دل میں جو بات ہو آنکھوں سےعیاں ہوتی ہے

زندگی ایک سلگتی سی چتا ہے ساحر
شعلہ بنتی ہےنہ یہ بجھ کےدھواں ہوتی ہے

اہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیں

Verses

اہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیں
ایک ہم ہی نہیں دُنیا سے خفا اور بھی ہیں

ہم پہ ہی ختم نہیں مسلکِ شوریدہ سری
چاکِ دل اور بھی ہیں چاکِ قبا اور بھی ہیں

کیا ہُوا اگر میرے یاروں کی زبانیں چُپ ہیں
میرے شاہد میرے یاروں کے سوا اور بھی ہیں

سر سلامت ہے تو کیا سنگِ ملامت کی کمی
جان باقی ہے تو پیکانِ فضا اور بھی ہیں

مُنصفِ شہر کی وحدت پہ نہ حرف آ جائے
لوگ کہتے ہیں کہ اربابِ جفا اور بھی ہیں

طرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزری

Verses

طرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزری
دلِ زندہ! ترے مرحوم اَرمانوں پہ کیا گُزری

زمیں نے خون اُگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گُزری

ہمیں یہ فکر، ان کی انجمن کس حال ہو گی!
انھیں یہ غم کہ اُن سے چھٹ کے دیوانوں پہ کیا گُزری

مِرا الحاد تو خیر ایک لعنت تھا سو ہے اَب تک
مگر اس عالمِ وحشت میں ایمانوں پہ کیا گُزری

یہ منظر کون سا منظر ہے پہچانا نہیں جاتا
سیہ خانوں سے کچھ پُوچھو شبستانوں پہ کیا گُزری

چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آ گئے ہیں
خُدا کی مملکت میں سوختہ جانوں پہ کیا گُزری

انھیں کھو کر دکھے دل کی دُعا سے اور کیا مانگوں

Verses

انھیں کھو کر دکھے دل کی دُعا سے اور کیا مانگوں
میں حیراں ہُوں کہ آج اپنی وفا سے اور کیا مانگوں

گریباں چاک ہے، آنکھوں میں آنسو، لب پہ آہیں ہیں
یہی کافی ہے دُنیا کی ہَوا سے اور کیا مانگوں

مِری بربادیوں کی داستاں ان تک پہنچ جائے
سِوا اس کی محبت کے خُدا سے اور کیا مانگوں

یہ زُلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچّھا

Verses

یہ زُلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچّھا
اس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچّھا

جس طرح سے تھوڑی سی ترے ساتھ کٹی ہے
باقی بھی اِسی طرح گزر جائے تو اچّھا

دنیا کی نگاہوں میں بُرا کیا ہے بھلا کیا
یہ بُوجھ اگر دل سے اُتر جائے تو اچّھا

ویسے تو تمھیں نے مُجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچّھا

اشکوں میں جو پایا ہے وہ گیتوں میں دیا ہے

Verses

اشکوں میں جو پایا ہے وہ گیتوں میں دیا ہے
اِس پر بھی سُنا ہے کہ زمانے کو گِلہ ہے

جو تار سے نکلی ہے وہ دُھن سب نے سُنی ہے
جو ساز پہ گُزری ہے وہ کِس دل کو پتہ ہے

ہم پھول ہیں اوروں کے لئے لائے ہیں خُوشبو
اپنے لیے لے دے کے بس ایک داغ مِلا ہے

مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے

Verses

مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے
مِرے قاتلوں کو خبر کیجیے

زمین سخت ہے آسماں دور ہے
بسر ہو سکے تو بسر کیجیے

ستم کے بہت سے ہیں ردّعمل
ضروری نہیں چشم تر کیجیے

وہی ظُلم بارِدگر ہے تو پھر
وہی جرم بارِدگر کیجیے

قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہشِ بال و پَر کیجیے

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں

Verses

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
خُدا ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریں

اُنھیں پتہ بھی چلے اور وہ خفا بھی نہ ہوں
اس احتیاط سے کیا مدعا کی بات کریں

ہمارے عہد کی تہذیب میں قبا ہی نہیں
اگر قبا ہو تو بندِ قبا کی بات کریں

ہر اِک دور کا مذہب نیا خدا لایا
کریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں

وَفا شعار کئی ہیں، کوئی حسیں بھی تو ہو
چلو پھر، آج اسی بے وفا کی بات کریں

صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے

Verses

صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے
دُکھ کی دھوپ کے آگے سُکھ کا سایا ہے

ہم کو ان سَستی خوشیوں کا لوبھ نہ دو
ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے

جُھوٹ تو قاتل ٹھہرا اِس کا کیا رونا
سچ نے بھی انساں کا خُوں بہایا ہے

پیدائش کے دِن سے موت کی زَد میں ہیں
اِس مقتل میں کون ہمیں لے آیا ہے

اوّل اوّل جِس دل نے برباد کیا
آخر آخر وہ دل ہی کام آیا ہے

اِتنے دن احسان کیا دیوانوں پر
جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے

مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے

Verses

مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے
مِرے قاتلوں کو خبر کیجیے

زمین سخت ہے آسماں دور ہے
بسر ہو سکے تو بسر کیجیے

ستم کے بہت سے ہیں ردّعمل
ضروری نہیں چشم تر کیجیے

وہی ظُلم بارِدگر ہے تو پھر
وہی جرم بارِدگر کیجیے

قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہشِ بال و پَر کیجیے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer