صابر ظفر

zamane bheet jate he

Verses

kabi nazre malane me zamane bheet jate haen
kabi nazre chorane me zamane bheet jate haen

kisi ne ankh b kholi to sone ki nagry me
kisi ko ger bnane me zamane bheet jate haen

kabi kali seyaa ratein humein ik pal see lagti he
kabi ik pal btane me zamane bheet jate haen

kabi ger se neklte hi mill jati he manzal
or kabi manzal ko pane me zamane bheet jate haen

ik pal me toot jate haen umer bher k wo rishte
wo rishte jenhe bnane me zamane bheet jate haen

کہاں کوئی بدن کا بوجھ اتارے

Verses

کہاں کوئی بدن کا بوجھ اتارے
سمندر کیا ہوئے تیرے کنارے

یہ پانی اب مقدر ہو چکا ہے
مگر جو ساحلوں پر دن گذارے

یہاں تو دوسرا کوئی نہیں ہے
کوئی اپنے سوا کس کو پکارے

رواں ہیں آخِر شب کے مسافر
مگر اب ڈوبتے جاتے ہیں تارے

ظفر یہ بادباں ہی جانتا ہے
ہواؤں نے کیے ہیں کیا اشارے

ہم سفر کوئی نہیں تو شور و شر کس کے لیے

Verses

ہم سفر کوئی نہیں تو شور و شر کس کے لیے
اے مسافر! یہ صدائے رہ گذر کس کے لیے

خُود کُشی سے باز رکھا میں نے اپنے آپ کو
مر تو جانا تھا مجھے، مرتا مگر کس کے لیے

کون آتا ہے مرے پیچھے، یہ کیسا وہم ہے
میں ٹھہر جاتا ہوں ہر اک موڑ پر، کس کے لیے

یہ جو رنگِ نامرادی کھل رہا ہے چار سُو
اے خزاں اس کا سبب کیا ہے یہ زر، کس کے لیے

چین باہر بھی نہیں ہے پھر نجانے کیوں ظفر
دکھ سا ہوتا ہے کہ لوٹ آیا ہوں گھر کس کے لیے

اک ساتھ ہم اور کوئی پل ہیں

Verses

اک ساتھ ہم اور کوئی پل ہیں
پھر تو تنہائیاں اٹل ہیں

مٹی میں ملی ہوئی محبت
کہتی ہے ہم آج ہیں نہ کل ہیں

خود مفلسی اوڑھ لی ہو جیسے
ہم آپ مسائل، آپ حل ہیں

پتھر کی طرح پڑے ہیں در پر
ہم لوگ ازل سے بے عمل ہیں

تاب نہ تب بال و پَر میں اور پرندہ

Verses

تاب نہ تب بال و پَر میں اور پرندہ
خوف نمایاں سفر میں اور پرندہ

ایک پرندہ ابھی اڑان میں انجان
اُس کو رکھے گا نظر میں اور پرندہ

جو بھی تنا کھوکھلا ہے سانپوں کا گھر ہے
موت کا ساماں شجر میں اور پرندہ

تیر کماں کی طرح ہیں پیڑ کی شاخیں
خون رواں چشمِ تر میں اور پرندہ

کس کی ظفر ہے مجال، مار سکے پَر
ایک خلا رہ گذر میں اور پرندہ

جسے بھی دُھوپ بار آور لگی تھی

Verses

جسے بھی دُھوپ بار آور لگی تھی
اُسے اک بانجھ پرچھائیں ملی تھی

تھکن کوئی مجھے کیا رنج دیتی
سڑک خود خستہ خستہ چل رہی تھی

میں اپنے آپ کو بھی چاہتا کیا
جہاں میں تھا وہاں بیگانگی تھی

عیاں تھی رہ گذر سے بھی جُدائی
مسافر کی جگہ دُھول اڑ رہی تھی

ظفر میں اِس لیے نغمہ سرا ہوں
مری ایجاد رونے سے ہوئی تھی

بے خبر ہوں کہ ستارے بھی سفیروں میں نہیں

Verses

بے خبر ہوں کہ ستارے بھی سفیروں میں نہیں
میری قسمت مرے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں

میں کسی تیر سے کس طرح بچا، حیراں ہوں
یا ہدف میں نہیں یا جان ہی تیروں میں نہیں

دل دھڑکتا ہے ابھی عشق میں جی لگتا ہے
آج بھی فرق کوئی اپنے وتیروں میں نہیں

ہم فقیر اپنی طبعیت کے شہنشہ ہیں ظفر
کوئی خوبی بھی تو ہم جیسی امیروں میں نہیں

آخر تمام کاغذِ تنہائی جل گیا

Verses

آخر تمام کاغذِ تنہائی جل گیا
کیا لکھ دیا کہ شہرِ شکیبائی جل گیا

پہلے جلا میَں اُس کے تماشے کے واسطے
پھر یوں ہوا کہ میرا تماشائی جل گیا

کہنے کو اک شرارہ تھی وہ آتشِ خموش
لیکن اُسی سے تارِ شناسائی جل گیا

جس کو قصیدہ گوئی سے فرصت نہ تھی ظفر
وہ دیکھ کر غزل کی پذیرائی جل گیا

دل درد سے ہو چلا تھا خالی

Verses

دل درد سے ہو چلا تھا خالی
تُو نے مری زندگی بچا لی

جاگے ہیں نصیب اس طرح بھی
دہلیز پہ سو گیا سوالی

دیکھو مرے پیار کا کرشمہ
اک ہاتھ سے بج رہی ہے تالی

بے رنگ ہے کینوس تو کیا ہے
تصویر تو بن گئی خیالی

ملنا نہ بھلا کمال ہوتا؟
جب تیرا وداع تھا مثالی

کچھ اور بڑھا گئی تجسس
اک بات سمجھ میں آنے والی

تکتے رہے چاند یا ستارے
ہم نے یونہی رات کی ہے کالی

سبزے کو نصیب تک نہ ہوگی
جو دل کی ہوئی ہے پائمالی

اب خیالوں میں بھی مشکل ہے رفاقت اُس کی

Verses

اب خیالوں میں بھی مشکل ہے رفاقت اُس کی
میری آنکھوں میں ٹھہرتی نہیں صورت اُس کی

ایک سا اُس پہ اثر کرنے لگے ہجر و وصال
زرد پڑتی ہی چلی جاتی ہے رنگت اُس کی

موت کی آنچ کو تم آتشِ دل مت جانو
دُور ہونے لگی اب اُس سے حرارت اُس کی

گئے لمحوں میں دعا کرنے چلا جاتا ہوں
میرے ماضی میں ہے مدفون محبت اُس کی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer