سعد اللہ شاہ

اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا

Verses

اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم محبت سے مکر جاتے تو اچھا ہوتا

جن کو تعبیر میسر نہیں اس دنیا میں
وہ حسیں خواب جو مر جاتے تو اچھا ہوتا

ہم کو سب پھول نظر آتے ہیں بے مصرف سے
گر تری رہ میں بکھر جاتے تو اچھا ہوتا

ان ستاروں کے چمکنے سے بھی کیا حاصل ہے
ہاں، تری مانگ کو بھر جاتے تو اچھا ہوتا

ابرِ باراں کے سبھی قطرے گہر ہیں لیکن
تیری آنکھوں میں اُتر جاتے تو اچھا ہوتا

ہم کو مارا ہے فقط تیز روی نے اپنی
سانس لینے کو ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا

ہم کبھی شام سے آگے نہ گئے تیرے لیے
شام سے تا بہ سحر جاتے تو اچھا ہوتا

ہم نے جو پھول چنے، کام نہ آئے اپنے
تیری دہلیز پہ دھر جاتے تو اچھا ہوتا

کس لیے سعد مقدر کے بھروسے پہ رہے
ہم اگر خود ہی سنور جاتے تو اچھا ہوتا

اب وفا اور جفا کچھ بھی نہیں

Verses

اب وفا اور جفا کچھ بھی نہیں
اس کا دنیا میں صلہ کچھ بھی نہیں

دل کو سینے میں چھپا رہنے دو
اس پہ داغوں کے سوا کچھ بھی نہیں

اپنی بربادی کی تفصیل نہ پوچھ
یوں سمجھ لے کہ بچا کچھ بھی نہیں

ہم نے تعمیر کیے تاج محل
خواب ٹوٹا تو بچا کچھ بھی نہیں

مارتا جاتا ہے دنیا ساری
اور کہتا ہے ہوا کچھ بھی نہیں

ہم نے دشمن کو لگایا ہے گلے
یعنی اب خون بہا کچھ بھی نہیں

بے حسی اپنی کہاں تک پہنچی
اپنا دیکھا یا سنا کچھ بھی نہیں

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا، ساری کہانی ختم ہوئی

Verses

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا، ساری کہانی ختم ہوئی
تم نے جب احساس دلایا، ساری کہانی ختم ہوئی

تم ہی نہیں ہو دشمن اپنے، ہم بھی ہیں کچھ ایسے ہی
ہم نے خود جب دل کو جلایا، ساری کہانی ختم ہوئی

ساری باتیں ٹھیک تھیں تیری، تُو میرا میں تیرا تھا
اور مفاد جہاں ٹکرایا، ساری کہانی ختم ہوئی

دھوپ کے ساتھ تھا سایہ اپنا، جو اپنی پہچان بنا
شام ہوئی تو چھپ گیا سایہ، ساری کہانی ختم ہوئی

باغِ ارم میں تنہا تھے ہم، اپنی فکر و فہم کے ساتھ
آنچل جب کوئی لہرایا، ساری کہانی ختم ہوئی

ہم دنیا کو ٹھکرا دیتے، لیکن ہم سے دیر ہوئی
ہم کو دنیا نے ٹھکرایا، ساری کہانی ختم ہوئی

اک تعلق مجھے نبھانا تھا

Verses

اک تعلق مجھے نبھانا تھا
وہ حقیقت تھی، میں فسانہ تھا

دو کنارے تھے زندگی اور موت
بیچ دریا سا اک زمانہ تھا

ہجر و فرقت مرا مقدر تھا
وصل اس کا تو اک بہانہ تھا

وہ جو آیا تھا آندھیاں لے کر
اُس نے ہر دیپ کو بجھانا تھا

کچھ پرندے تھے خالی شاخوں پر
میری آنکھوں میں آشیانہ تھا

اس لیے ہم نے اس سے بات نہ کی
یہ تو بس بات کا گنوانا تھا

سعد یہ یاد کب رہا ہم کو
ہمیں اس شخص کو بھلانا تھا

جو ہڈیوں سے مری بام و در بناتا ہے

Verses

جو ہڈیوں سے مری بام و در بناتا ہے
وہ میرے دل میں کہاں اپنا گھر بناتا ہے

یہ سوچ کر کہ کسی روز جھک ہی جائے گا
وہ میرے کاندھوں پہ ہر روز سر بناتا ہے

مرا وجود قفس میں پڑا ہے ٹوٹا ہوا
یہ کون پھر بھی مرے بال و پر بناتا ہے

اسی کی شامتِ اعمال ہے سمجھ لینا
جسے تو پہلے پہل معتبر بناتا ہے

وہ خار بن کے کھٹکتا ہے میری آنکھوں میں
مرا عدو جسے نورِ نظر بناتا ہے

یہ رات کیا ہے فقط آفتاب اوجھل ہے
ذرا ٹھہر، یہ ابھی اک سحر بناتا ہے

عجیب شعبدہ بازی ہے اس کے ہاتھوں میں
جو میری آنکھ میں شمس و قمر بناتا ہے

یہ فراغت مجھے نہیں ہے راس

Verses

یہ فراغت مجھے نہیں ہے راس
بیٹھے بیٹھے میں ہو گیا ہوں اداس

مجھ کو پانی کی ہے طلب لیکن
میرے حصے میں آ گئی ہے پیاس

آپ نے قیمتی کہا جس کو
ایک پتھر سے وہ ہوا الماس

حسن کا شیوہ بے وفائی ہے
کیسا اندازہ اور کیسا قیاس!

ان پہ پھولوں کی چھوٹ پڑتی ہے
میرے لفظوں سے آ رہی ہے باس

میرے اشعار ہی کا سِحر تھا سعد
اس کے ہونٹوں پہ تھا جو حرفِ سپاس

وہ ہوائے تند تھی، اُس کو خفا ہونا ہی تھا

Verses

وہ ہوائے تند تھی، اُس کو خفا ہونا ہی تھا
لیکن اپنے پاؤں پر ہم کو کھڑا ہونا ہی تھا

اُس کے آنے سے یقیناً بج اٹھے تھے جلترنگ
اور اُس کے بعد ہم کو بے صدا ہونا ہی تھا

صبر ہے اپنی جگہ پر، غم کی شدت کیا کریں
اُس کے جانے کا ہمیں چھ رنج سا ہونا ہی تھا

مطمئن سے ہو گئے ہیں ہم بالآخر سوچ کر
اِک نہ اِک دن ملنے والوں کو جدا ہونا ہی تھا

یہ سزا ہے یا جزا، اِس سے نہیں اُن کو غرض
عشق والوں کو تو اُس کی خاکِ پا ہونا ہی تھا

کس قدر تھی بے خودی، دیوار سے ٹکرا گئے
اُس درِ امکاں پہ ایسا حادثہ ہونا ہی تھا

ہم نے اِس اُمید پر ہر جھوٹ اُس کا سن لیا
’’اک نہ اک دن جھوٹ سچ کا فیصلہ ہونا ہی تھا‘‘

جب کوئی غم مجھے ستاتا ہے

Verses

جب کوئی غم مجھے ستاتا ہے
کیوں اُُسی کا خیال آتا ہے

اِک ادُاسی سے میری پلکوں پر
اک ستارہ سا جھلملاتا ہے

سامنے میرے ایک منظر ہے
کوئی رہ رہ کے مسکراتا ہے

سوچتا ہوں کہ زندگی کیا ہے
وقتِ آخر تو بیت جاتا ہے

پھر کوئی سانپ رینگتا ہے کہیں
پھر کوئی آشیاں بچاتا ہے

کوئی تاراج کر رہا ہے انُہیں
اور کوئی بستیاں بساتا ہے

سعد دریا تھا اپنا دل لیکن
اب کے یہ دشت بنتا جاتا ہے

زندگی ڈر کے نہیں ہوتی بسر، جانے دو

Verses

زندگی ڈر کے نہیں ہوتی بسر، جانے دو
جو گزرنی ہے قیامت وہ گزر جانے دو

دیکھتے جانا بدل جائے گا منظر سارا
یہ دھواں سا تو ذرا نیچے اُتر جانے دو

پھر چلے آئے ہو تم میری مسیحائی کو
پہلے کچھ رِستے ہوئے زخم تو بھر جانے دو

ایک خوشبو کی طرح زندہ رہو دنیا میں
اور پھر کیا ہے اگر خود کو بکھر جانے دو

آرزو اپنی بدل ڈالو خدا کی خاطر
ان کی دہلیز پہ پھوڑو نہ یہ سر، جانے دو

دلِ ناداں ! تو سمجھتا ہی نہیں دنیا کو
کون رکھتا ہے بھلا کس کی خبر، جانے دو

سعد! تم عیب نکالو نہ ہمارے ایسے
ہم بھی رکھتے ہیں گلے شکوے، مگر جانے دو

آج جو تُجھ سے ملا ہے، کل جدا ہو جائے گا

Verses

آج جو تُجھ سے ملا ہے، کل جدا ہو جائے گا
دیکھتے ہی دیکھتے یہ سانحہ ہو جائے گا

اِس طرح سے ہو گئی ہے اُس کی مجھ سے دشمنی
بن گیا گر میں دیا تو وہ ہوا ہو جائے گا

اَن گِنت لوگوں سے اُس نے چھین لی ہے زندگی
مار کر وہ خلق کو جیسے خدا ہو جائے گا

اِک حقیقت ہے مگر یہ مانتا کوئی نہیں
اِک نہ اِک دن ہر کسی کا فیصلہ ہو جائے گا

دو گھڑی کو سن لو مجھ سے دردِ دل کی داستاں
اور کیا ہے بس ذرا سا آسرا ہو جائے گا

ہو سکے تو روک دے ظالم کو اُس کے ظلم سے
سعد ورنہ جینا تیرا اِک سزا ہو جائے گا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer