ریحانہ قمر

پیار میں پاگل ہوجاتے ہیں

Verses

پیار میں پاگل ہوجاتے ہیں
لوگ مکمل ہوجاتے ہیں

تم آنکھوں پر ہاتھ نہ رکھنا
ہم خود اوجھل ہوجاتے ہیں

تنہائی پر جھاڑتی ہے جب
خواب معطل ہوجاتے ہیں

جب سورج دیکھنے نکلوں
سر پر بادل ہوجاتے ہیں

تیرا اس میں دوش نہیں ہے
لوگ ہی پاگل ہوجاتے ہیں

درد پنیری بونے والو !!
گھر بھی جنگل ہوجاتے ہیں

بچھڑنے کا سماں ہے اور میں ہوں

Verses

بچھڑنے کا سماں ہے اور میں ہوں
کوئی روشن دھواں ہے اور میں ہوں

نہ جانے کون جیتے گا محبت!
کھلاڑی آسماں ہے اور میں ہوں

نہ جانے کس طرح گزرے گی میری
محبت بد گماں ہے اور میں ہوں

کبھی کردار اس کے کھو گئے ہیں
ادھوری داستاں ہے اور میں ہوں

میں کیسے اپنی خواہش کو بچاؤں
یہ چڑیا نیم جاں ہے اور میں ہوں

محبت اور ضد میں ٹھن گئی ہے
مقابل اک جہاں ہے اور میں ہوں

سمندر اور سمندر کا کنارا
کنارے پر مکاں ہے اور میں ہوں

سکھی! کھویا نہیں میں نے بھروسہ
ستارا رازداں ہے اور میں ہوں

کہیں مل جائے تو اس سے یہ کہنا
ابھی دل خوش گماں ہے اور میں ہوں

وہ تنہا، صرف تنہا، صرف تنہا
ادھر سارا جہاں ہے اور میں ہوں

تیرے بارے میں بھولا کچھ نہیں ہے
وہی میرا بیاں ہے اور میں ہوں

ہماری اپنی محفل بن گئی ہے
قمر ہے، اُس کی ماں ہے اور میں ہوں

نئے سفر کے لیے فیصلے کا موقعہ دے

Verses

نئے سفر کے لیے فیصلے کا موقعہ دے
ہوائے شہر مجھے بولنے کا موقعہ دے

میں دستخط تجھے کر دوں گی سادہ کاغذ پر
ذرا سی دیر مجھے سوچنے کا موقعہ دے

یہ خواہشیں ہیں انہیں کیا لیے لیے پھرنا
یہ آئینے ہیں انہیں ٹوٹنے کا موقعہ دے

دکھاؤں گی تجھے خوشیوں کا کاسنی موسم
تُو ایک بار مجھے پھیلنے کا موقعہ دے

میں ایک خواب کو تعبیر کرنا چاہتی ہوں
ہوائے صُبح! مجھے جاگنے کا موقعہ دے

اُسے تو اپنی سناتے ہوئے نہیں تھکتی
قمر اُسے بھی کبھی بولنے کا موقعہ دے

کبھی ملنے کبھی مجھ سے جدا ہونے کی جلدی ہے

Verses

کبھی ملنے کبھی مجھ سے جدا ہونے کی جلدی ہے
محبت میں تجھے بھی کیا سے کیا ہونے کی جلدی ہے

تو میرے فیصلے کیوں لینا چاہے اپنے ہاتھوں میں
نہ جانے کیوں تجھے میرا خدا ہونے کی جلدی ہے

وہ تلوار اس لیے کھینچے کہ میں بڑھ کر اسے روکوں
ستمگر کو محبت آشنا ہونے کی جلدی ہے

میں چاہوں دیر تک اس میں رچے رہنا بسے رہنا
مگر بوئے محبت کو ہوا ہونے کی جلدی ہے

بچا کر کس طرح رکھوں میں تیرے لمس کا موسم
کہ میرے ہاتھ کو دستِ دُعا ہونے کی جلدی ہے

اُدھر ظالم کو تازہ پھول سے مطلب نہیں کوئی
ادھر دل کو ہتھیلی پر دھرا ہونے کی جلدی ہے

پتّوں کی طرح شاخ پہ مرنا پڑا مجھے

Verses

پتّوں کی طرح شاخ پہ مرنا پڑا مجھے
موسم کے ساتھ ساتھ گزرنا پڑا مجھے

اک شخص کے سلوک کی سب کو سزا ملی
ساری محبتوں سے مکرنا پڑا مجھے

اُس سے بچھڑ کے زندگی آسان تو نہیں
پھر بھی یہ تلخ فیصلہ کرنا پڑا مجھے

کچھ دن تو میں چٹان کی صورت ڈٹی رہی
پھر ریزہ ریزہ ہو کے بکھرنا پڑا مجھے

آساں نہیں تھا ٹوٹتی سانسوں کو جوڑنا
اس سلسلے میں جاں سے گزرنا پڑا مجھے

ویسے میں اپنے آپ سے ناراص تھی قمر
اس نے کہا تو بننا سنورنا پڑا مجھے

مجھے اے زندگی ! تجھ سے مکرنا پڑ رہا ہے

Verses

مجھے اے زندگی ! تجھ سے مکرنا پڑ رہا ہے
کبھی ٹوٹی تھی لیکن اب بکھرنا پڑ رہا ہے

تھکی ہاری کو آنگن کا شجر ملتا نہیں تھا
میرے کاندھے پہ چڑیا کو اُترنا پڑ رہا ہے

اُسی رستے پہ جس پر تم بچھا دیتے تھے آنکھیں
اسی رستے پہ اب جاں سے گزرنا پڑ رہا ہے

ابھی آیا نہیں اپنے جدا ہونے کا موسم
محبت میں ہمیں بے وقت مرنا پڑ رہا ہے

یونہی تم نے لکیریں کھینچ دی تھیں کاغذوں پر
مجھے ان میں وفا کا رنگ بھرنا پڑ رہا ہے

بچھڑ کر تم سے لوگوں کی نہ سُن سکتی تھی باتیں
قمر کو آج مجبوراً سنورنا پڑ رہا ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer