روی سونی
رویندر کمار سونی

مداعاے مدعی مطلب کی بات آپ نے بھی خوب کی مطلب کی بات

Verses

مداعاے مدعی مطلب کی بات
آپ نے بھی خوب کی مطلب کی بات
بے غرض دیوانگان شوق ہیں
کب کہی، کس نے سنی مطلب کی بات
ہوش میں آ نے نہیں دیتے مجھے
کہہ نہ دوں میں بھی کوئی مطلب کی بات
ہو گیا مایوس آخر دل مرا
ہاے تو نے کیوں کہی مطلب کی بات
کہتے کہتے داستان درد دل
لب پہ آ کر رک گئی مطلب کی بات
بات اچھائی کی بھی سنتے نہیں
جنکو ہے لگتی بری مطلب کی بات
بت خدا ہو جاینگے، ان سے اگر
اے روی کہہ دیں کبھی مطلب کی بات

ہر چند چاہتا ہوں کہ انکا کھا کروں لیکن یہ آرزو کہ تماشا کیا کروں

Verses

ہر چند چاہتا ہوں کہ انکا کھا کروں
لیکن یہ آرزو کہ تماشا کیا کروں
سورج کی روشنی نے کیا دل کو داغ داغ
لی ہے پناہ تیرگی شب میں کیا کروں
ہر اشک خون دل کے ہے جی میں یہ آجکل
ایسا بھی ہو کہ پلکوں سے انکی بھا کروں
ہو یوں، کہ دن ڈھلے کوئی آکر مرے قریب
روداد میری مجھ سے کہے، میں سنا کروں
لب پر شکایت غم دوراں نہ آ سکی
مایوسیوں نے شرط لگائی تھی، کیا کروں
بے بال و پر سہی یہ مگر بے عمل نہیں
مرغ چمن کو قید قفس سے رہا کروں
اٹھ کر در حبیب سے دل میں ہے یہ، روی
جا کر دیار غیر میں تنہا رہا کروں

کھو گیا تھا راہبر میرے بغیر کس کو تھی اتنی خبر میرے بغیر

Verses

کھو گیا تھا راہبر میرے بغیر
کس کو تھی اتنی خبر میرے بغیر
کشتہ ظلمت تھا میں ہی دھر میں
کیوں ہوئی یارب سحر میرے بغیر
میرے ہوتے تھے یہی برگ و شجر
ہیں وہی شمس و قمر میرے بغیر
اب کہاں وہ لطف طولانی شب
داستاں ہے مختصر میرے بغیر
تیرا نالہ، بلبل شوریدہ سر
کس طرح کرتا اثر میرے بغیر
جو رہا کرتا تھا میرے ساتھ ساتھ
پھر رہا ہے دربدر میرے بغیر
ویراں ویراں گلیاں، اجڑے اجڑے گھر
سونے سونے ہیں نگر میرے بغیر
ساز ہیں ٹوٹے ہوئے، نغمے اداس
چپ ہیں اب دیوار و در میرے بغیر
رہروان وقت سے پوچھ اے روی
جا رہی ہیں اب کدھر میرے بغیر

میں نے یہ چہرہ کبھی دیکھا نہ تھا آئنے میں عکس وہ میرا نہ تھا

Verses

میں نے یہ چہرہ کبھی دیکھا نہ تھا
آئنے میں عکس وہ میرا نہ تھا
آنکھ کھلتے ہی حقیقت کھل گئی
درمیان ما و تو پردہ نہ تھا
خواب ہی دیکھا کیا دن بھر مگر
کس لئے تو رات بھر سویا نہ تھا
کشمکش میں زیست کی تھا کامراں
جس نے اپنا حوصلہ کھویا نہ تھا
اس کی آنکھوں کو امید دید تھی
مر گئے پر بھی تو دم نکلا نہ تھا
دھنس گیا جذبات کی دلدل میں کیوں
جس کا تن میلا تھا من میلا نہ تھا
میں نے کھویا اور تو نے پا لیا
اے روی ممکن کبھی ایسا نہ تھا

یہ تماشا نہیں ہوا تھا کبھی ہے وہ اپنا، جو دوسرا تھا کبھی

Verses

یہ تماشا نہیں ہوا تھا کبھی
ہے وہ اپنا، جو دوسرا تھا کبھی
اب وہی جانتا نہیں مجھ کو
جسے اپنا میں جانتا تھا کبھی
پاس آکر بھی کیوں ہے پژمردہ
دور رہ کر جو رو رہا تھا کبھی
وقت کا ہیر پھیر ہے ورنہ
جو پرانا ہے وہ نیا تھا کبھی
لغزش پا نے کر دیا مجبور
میں سنبھلتا ہوا چلا تھا کبھی
گھر کے دیوار و در سے ہی پوچھیں
کون آکر یہاں رہا تھا کبھی
اتر آیا ہوں شور و شیون پر
خامشی سے نہ کچھ بنا تھا کبھی
بھرتا ہوں دم یگانگی کا ترا
مجھ سے بیگانہ تو ہوا تھا کبھی
شعر کہنے لگا ہوں میں بھی روی
مجھ سے ایسا نہیں ہوا تھا کبھی

طالب دید ہوں، چہرہ تو دکھا، دکھوں میں درمیاں پردہ ہے کیا، پردہ اٹھا دکھوں میں

Verses

طالب دید ہوں، چہرہ تو دکھا، دیکھوں میں
درمیاں پردہ ہے کیا، پردہ اٹھا دیکھوں میں
میری روداد پہ اس شوخ کی آنکھیں پرنم
قیس و فرہاد کا افسانہ سنا دیکھوں میں
آ کبھی تو مرے آنگن میں دلہن بنکر آ
تیرے ہاتھوں پہ لگا رنگ حنا دیکھوں میں
کوئی آہٹ تو ہو ٹوٹے مرے زنداں کا سکوت
چپ رہوں، پاؤں کی زنجیر ہلا دیکھوں میں
اپنی قسمت کے ستارے کو کہ بے نور سا ہے
ٹوڑ کر عرش سے دھرتی پہ گرا دیکھوں میں
آج گلشن کی ہر اک شاخ ہے پھولوں سے لدی
دل پژمردہ کو بھی ہنستا ہوا دیکھوں میں
بیستوں پر کہ کسی نجد میں کیا جانے روی
مجھے مل جاے کہاں میرا پتا دیکھوں میں

تو بھی میرے ساتھ رویا کس لئے تو نے بھی دامن بھگویا کس لئے

Verses

تو بھی میرے ساتھ رویا کس لئے

تو نے بھی دامن بھگویا کس لئے

روشنی کا تھا نہ جب کوئی پتا

رات میں اک پل نہ سویا کس کے

سینچ کر بنجر زمیں کو خون سے

بیج یہ نفرت کا بویا کس لئے

با خبر گل چیں نے پھولوں کی جگہ

ہار میں کانٹا پرویا کس لئے

ایسی مجبوری تھی کیا، یہ بار غم

نا تواں کا ندھوں پہ ڈھویا کس لئے

تن بھی میلا، من بھی میلا ہی رہا

پیرہن کا داغ دھویا کس لئے

اے روی ہونا جو تھا ہو کر رہا

دل نے اپنا چین کھویا کس لئے

غم کا احساس جواں ہو جاتا اشک آنکھوں سے رواں ہو جاتا

Verses

غم کا احساس جواں ہو جاتا

اشک آنکھوں سے رواں ہو جاتا

کچھ تو ہو جاتا اشر ان پر بھی

قصّہ غم جو بیاں ہو جاتا

صبح آتی تو دھند لکے جاتے

دور ظلمت کا دھواں ہو جاتا

میرے سجدوں سے ترا نقش قدم

میری منزل کا نشاں ہو جاتا

جل رہا تھا مرے دل کا کاغذ

آگ بجھتی تو دھواں ہو جاتا

دل میں زخموں کو چھپا لیتا روی

راز جینے کا عیاں ہو جاتا

آنکھ رو جاے یہ ممکن ہی نہیں داغ دھو جاے یہ ممکن ہی نہیں

Verses

آنکھ رو جاے یہ ممکن ہی نہیں

داغ دھو جاے یہ ممکن ہی نہیں

جس کو ہو معلوم بنجر ہے زمیں

بیج بو جاے یہ ممکن ہی نہیں

ڈھونڈنے خود کو جو نکلا ہو وہی

راہ کھو جاے یہ ممکن ہی نہیں

نیند آئی ہو نہ جس کو رات بھر

صبح سو جاے یہ ممکن ہی نہیں

جو بنایا ہے نشیمن برق نے

راکھ ہو جاے یہ ممکن ہی نہیں

ڈوبنے پاے نہ سورج، اے روی

رات ہو جاے یہ ممکن ہی نہیں

رفتہ رفتہ آدمی جب قافلوں میں بٹ گیا پردہ منزل پر پڑا تھا جو وہ آخر ہٹ گیا

Verses

رفتہ رفتہ آدمی جب قافلوں میں بٹ گیا
پردہ منزل پر پڑا تھا جو وہ آخر ہٹ گیا
صبح نو آتے ہی گھر میں روشنی ایسی ہوئی
دیکھتے ہی دیکھتے سارا اندھیرا چھٹ گیا
سیکھنا تھا زندگی سے تجھ کو نفرت کا سبق
پیار کا منتر نہ جانے کس لئے تو رٹ گیا
ٹوٹنا ہی تھا اسے اک روز ، اس کا غم نہیں
جتنا جوڑا زندگی سے رشتہ اتنا گھٹ گیا
دن نکلتے ہی نہ جانے صبح کی بن کر کرن
کون میرے پاس سے اٹھ کر یہ بے آہٹ گیا
فائز منزل نہ تو پھر بھی ہوا تو کیا کروں
میں کہ اک پتھر تھا تیرے راستے سے ہٹ گیا
اے روی پوچھو نہ ہم سے کیا بتایں کس طرح
روتے ہنستے زندگی کا وقت سارا کٹ گیا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer