بس آنکھ لایا ھُوں اور وُہ بھی تَر نہیں لایا

Verses

بس آنکھ لایا ھُوں اور وُہ بھی تَر نہیں لایا
حوالہ دھیان کا مَیں مُعتبر نہیں لایا

سوائے اسکے تعارف کوئی نہیں میرا
میں وُہ پرندہ ھُوں جو اپنے پر نہیں لایا

نجانے کس کو ضرورت پڑے اندھیرے میں
چراغ راہ میں دیکھا تھا، گھر نہیں لایا

مُجھے اکیلا حدِ وقت سے گُزرنا ھے
میں اپنے ساتھ کوئی ھم سفر نہیں لایا

گُلِ سیاہ کِھلا ھے تو رو پڑا ھُوں میں
کہ روشنی کا شجر بھی ثمر نہیں لایا

شُمار کر ابھی چنگاریاں مرے ناقد
کہ مَیں الاؤ اُٹھا کے اِدھر نہیں لایا

مری روانی کی اب خیر ھو مرے مالک
ستارہ ٹُوٹ کے اچھی خبر نہیں لایا!

بھنور نکال کے لایا ھُوں میں کنارے پر
مُجھے نکال کے کوئی بھنور نہیں لایا

کاندھوں سے اُتارا نہ وراثت کا جنازہ

Verses

کاندھوں سے اُتارا نہ وراثت کا جنازہ
کیا تختِ سلیمان تھا غربت کا جنازہ

اس کو مرے کاندھوں کی ضرورت نہیں پڑنی
خود لوگ اُٹھا لیں گے محبت کا جنازہ

ھر سمت جنازے ھی جنازے ھوں جہاں پر
مشکل ھے وھاں ڈھونڈنا عزت کا جنازہ

شوقین جنازوں کے بتاتے ھیں، وطن میں
مقبول زیادہ ھے، شریعت کا جنازہ

پیشانی پہ رکھا ھے ھمیشہ اسے لے کر
سجدے سے اُٹھایا جو عبادت کا جنازہ

اب اور اِسے مَیں نے تو کندھا نہیں دینا
اُٹھتا نہیں مُجھ سے ، تری فُرقت کا جنازہ

بھونچال ھے ۔سیلاب ھے۔اور جنگیں مسلسل
نکلا ھے ھراک آنکھ میں عبرت کا جنازہ

دفنا بھی نہیں سکتا کہیں فِکر کی مَیت
تنگی میں پڑا رھتا ھے وُسعت کا جنازہ

لگتا تھا پہاڑ آ گیا کاندھے پہ کہیں سے
اک بار اُٹھایا تھا ،مروت کا جنازہ

مَیں علم کی سیڑھی سے رضآ دیکھ رھا تھا
خاموشی سے گُزرا مری حیرت کا جنازہ

رفیع رضآ
[email protected]

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer