قتیل شفائی

Koi aansoo tere daaman par gira kar

Verses

Koi aansoo tere daaman par gira kar .. Boond ko moti banana chahta hoon
Thak gaya yaad karte karte tujh ko .. Ab tujhe main yaad aana chahta hoon
Aakhri hichki tere zaano pe aaye .. Maut bhi main shayarana chahta hoon
Reh gayi thi kuch kami ruswaiyon mein .. Phir Qateel, us darr par jaana chahta hoon - Qateel Shifai

رابطہ لاکھ سہی قافلہءسالار کے ساتھ

Verses

رابطہ لاکھ سہی قافلہءسالار کے ساتھ
ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

غم لگے رہتے ہیں ہر آن خوشی کے پیچھے
دشمنی دھوپ کی ہے سایہءدیوار کے ساتھ

کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
غم ء ہستی بھی تو شامل غمءیار کے ساتھ

لفظ چنتا ہوں تو مفہوم بدل جاتا ہے
اک نہ اک خوف بھی ہے جراتءاظہار کے ساتھ

بخش دے مجھ کو بھی اعزازءمسیحا و منصور
میں نے بھی پیار کیا ہے رسن و دار کے ساتھ

دشمنی مجھ س کئے جا مگر اپنا بنا کر
جان لے لے میری صیاد مگر پیار کے ساتھ

دو گھڑی آئو مل آئیں کسی غالب سے قتیل
حضرتءذوق تو وابستہ ہیں دربار کے ساتھ

thoda sa ghame-tarke-muhabbat hai mujhe bhi.

Verses

thoda sa ghame- tarke-muhabbat hai mujhe bhi.
sharminda jo tu hai to nidaamat hai mujhe bhi.
main teri tarah dil ko samajhta nahin sheesha.
warna isi duniya se shikaayat hai mujhe bhi
main bhi hoon isi daur ka sahma hua insaan.
thode se tabassum ki zuroorat hai mujhe bhi.
jab zakhm lage raqs se andaaz me tadpoon.
qaatil ki taraf se ye hidaayat hai mujhe bhi.
faarigh ho to aajaao zara pyar hi kar lein.
kuchh roz se is khel ki fursat hai mujhe bhi.

tum pocho or main na bataon

Verses

tum pocho or main na bataon
aise to halat nahin

ek zara sa dil tota ha
or to koi bat nahin,,,

kis ko khabar thi sawan_e_badal
bin barsa urr jata hain
sawan aaya lekin apni kismat main barsat nahin

tim pocho or main na bataon........

mery ghamgen hone par ahbab hain kiyon heran katel
jese main pathar hon mery seny main jazbat nahin

tum pocho or main na baiaon aese to halat nahin
ak zara sa dil tota hai or to koi bat nahin

میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

Verses

میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے دار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی

سرِ طور سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

نہ ہو ان پہ میرا بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے، میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری انجمن کا قریں سہی

تیرا در تو ہمکو نہ مل سکا، تیری رہگزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی

میری زندگی کا نصیب ہے، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اسکا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ نہ اٹھایئے
جو کریں آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو قتیل دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی

پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

Verses

پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
سکوتِ مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں
ہمیں پر رات بھاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا
یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا
یہ بازی ہم نے ہاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دنیا سے
یہ کیسی رازداری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں بھی نیند آجائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں

Verses

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

خود نمائی تو نہیں شیوہء اربابِ وفا
جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہم
شعلہء عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا

Verses

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا

اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے
اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا

انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی
اتنا تو کبھی کوئی سخنور نہیں گرتا

حیراں ہے کوئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی
تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا

اس بندہء خوددار پہ نبیوں کا ہے سایا
جو بھوک میں بھی لقمہء تر پر نہیں گرتا

کرنا ہے جو سر معرکہِ زیست تو سُن لے
بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا

قائم ہے قتیل اب یہ میرے سر کے ستوں پر
بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا

تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

Verses

تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے

نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

چلو اچھا ہوا، کام آگئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

یارو کہاں تلک محبت نبھاؤں میں

Verses

یارو کہاں تلک محبت نبھاؤں میں
دو مجھ کو بد دعا کہ اسے بھول جاؤں میں

دل تو جلا گیا ہے وہ شعلہ سا آدمی
اب کس کو چُھو کے اپنا ہاتھ جلاؤں میں

سنتا ہوں اب کسی سے وفا کررہا ہے وہ
اے زندگی خوشی سے کہیں مر نہ جاؤں میں

اک شب بھی وصل کی نہ مرا ساتھ دے سکی
عہد فراق آکہ تجھے آزماؤں میں

بدنام میرے قتل سے تنہا تو ہی نہ ہو
لا اپنی مہر بھی سر محضر لگاؤں میں

اُس جیسا نام رکھ کے اگر آئے موت بھی
ہنس کر اُسے قتیل گلے لگاؤں میں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer