وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سوجا و

Verses

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سوجا و
ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جا و

کہاں تک مُجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غمخواری
پزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سوجا و

ہمیں روئدادِ ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے
نہ چھیڑو اور افسانے ستارو تم تو سوجاو

ہمارے دیدہء بےخواب کو تسکین کیا دوگے
ہمیں لوٹا ہے دنیا نے ستارو تم تو سوجاو

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

Verses

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
اشک بہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں

پھر کوئی کم بخت کشتی نذرِ طوفاں ہوگئی
ورنہ ساحل پر اُداسی اس قدر ہوتی نہیں

میری نظریں جرائتِ نظارہ کی مجرم سہی
احتیاطِ حُسن تم سے بھی مگر ہوتی نہیں

ہائے کس عالم میں چھوڑا ہے تمھارے غم نے ساتھ
جب قضا بھی زندگی کی چارہ گر ہوتی نہیں

رنگِ محفل چاہتا ہے اِک مکمل انقلاب
چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر پوتی نہیں

اضطرابِ دل سے قابل وہ نگاہِ بے نیاز
بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں

جانےکیا ہو پلک جھپکنے میں

Verses

جانےکیا ہو پلک جھپکنے میں
زندگی جاگتی ہی رہتی ہے

لاکھ وہ بے نیاز ہوجائیں
حُسن میں دلکشی ہی رہتی ہے

جھوٹے وعد و ں کی دل کشی مت پوچھ
آنکھ در پر لگی ہی رہتی ہے

ہجر کی رات ہو کہ صبحِ نشاط
زندگی زندگی ہی رہتی ہے

دردِ خود آگہی نہ ہو جب تک
کائنات اجنبی ہی رہتی ہے

زہر بھی پم نے پی کے دیکھ لیا
عشق میںتشنگی ہی رہتی ہے

حُسن کرتا ہے مہر و ماہ سے چھیڑ
آنکھ لیکن جھکی ہی رہتی ہے

کچھ نئی بات تو نہیں قابل
ہجر میں بے کلی ہی رہتی ہے

تمھیں جو میرے غم. دل سے آگہی ہوجائے

Verses

تمھیں جو میرے غم. دل سے آگہی ہوجائے
جگر میں پھول کِھلیں ، آنکھ شبنمی ہوجائے

اجل بھی اُس کی بلندی کو چھو نہی سکتی
وہ زندگی جسے احساسِ زندگی ہوجائے

یہی ہے دل کی ہلاکت ، یہی ہے عشق کی موت
نگاہِ دوست پہ اظہارِ بیکسی ہوجائے

زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھوگے
خدا کرے کہ تمھیں مجھ سے دشمنی ہوجائے

سیاہ خانہء دل میں ہے ظلمتوں کا ہجوم
چراغِ شوق جلاو کہ روشنی ہوجائے

طلوعِ صبح پہ ہوتی ہے اور بھی نمناک
وہ آنکھ جس کی ستاروں سے دوستی ہوجائے

اجل کی گود میں قابل ہوئی ہے عمر تمام
عجب نہیں کہ مری موت زندگی ہوجائے

جب کبھی آنکھ ملاتے ہیں وہ دیوانے سے

Verses

جب کبھی آنکھ ملاتے ہیں وہ دیوانے سے
روئے تاباں پہ اُبھر آتے ہیں ویرانےسے

لذ تِ گردش ایام وہی جانتے ہیں
جو کسی بات پہ اُٹھ آئے ہیں میخانے سے

تم بھی ایسے میں اُلٹ دو رُخ. تاباں سے نقاب
زندگی جھانک رہی ہےمرے پیمانے سے

لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے
ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بُت خانے سے

سوچتا ہوں تو وہ جاں سے بھی زیادہ بھی عزیز
دیکھتا ہوں تو نظر آتے ہیں بیگانے سے

ظمتِ دیر و حرم سے کوئی مایوس نہ ہو
اک نئی صبح ابھرنے کو ہےمیخانے سے

تیری اک سادہ نظر کا ہے کرشمہ ساقی
ان گنت رنگ جھلکنے لگے پیمانے سے

پھول تو پھول ہیں اس دورِ ہوس میں قابل
لوگ کانٹوں کو بھی چُن لیتے ہیں ویرانے سے

کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں

Verses

کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں

تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم
ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں

ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست
تیرے قدموں میں ستاروں کو جھکا دیتے ہیں

سینہ چاکان محبت کو خبر ہے کہ نہیں
شہر خوبا ں کے درو بام صدا دیتے ہیں

ہم نے اس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھا
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں

اعتبارِ نگاہ کر بیٹھے

Verses

اعتبارِ نگاہ کر بیٹھے
کتنے جلوے تباہ کر بیٹھے

آپ کا سنگِ در نہیں چمکا
ہم جبینیں سیاہ کر بیٹھے

موت پر مسکرانے آئے تھے
زندگانی تباہ کر بیٹھے

شمع امید کے اُجالے میں
کتنی راتیں سیاہ کر بیٹھے

صرف عذرِ گناہ ہو نہ سکا
ورنہ سارے گناہ کر بیٹھے

کس توقع پہ اہلِ دل قابل
زندگی سے نباہ کر بیٹھے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer