یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے

Verses

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جیسے

لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے

موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے

ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے

ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے

زندگی بیت رہی ہے دانش
اک بے جرم سزا ہو جیسے

مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے

Verses

مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے
وہاں الفت نہیں الفت کا ماتم ہے جہاں تو ہے

قناعت کا پھریرا ہے یہاں بامِ عقیدت پر
وفا کی قبر پر نفرت کا پرچم ہے جہاں تو ہے

تری فطرت جوابِ غمگساری دے نہیں سکتی
چراغ احساس کا سینے میں مدھم ہے جہاں تو ہے

خدا کا خوف کر غارت گرِ جنسِ شکیبائی
سکونِ عشق کا شیرازہ برہم ہے جہاں تو ہے

شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں

Verses

شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں
کسی کے ہاتھ میں جب جامِ صہبا دیکھ لیتا ہوں

کچل دیتی ہے اس کی بے نیازی جب امیدوں کو
میں اس دنیا ہی میں انجامِ دنیا دیکھ لیتا ہوں

مرے آئینۂ امروز کے صیقل کا کیا کہنا
کہ جس میں منعکس تصویر فردا دیکھ لیتا ہوں

جبیں میں بے ریا سجدوں کا طوفاں سنسناتا ہے
سرِ بزمِ طرب جب عجزِ مینا دیکھ لیتا ہوں

نقابِ رنگ و بو میں چھپنے والے! یہ بھی سوچا ہے
میں ہر ذرے کی پیشانی میں صحرا دیکھ لیتا ہوں

نگاہوں کو مری فرصت کہاں محفل شناسی کی
میں دل کے آئینے میں جانے کیا کیا دیکھ لیتا ہوں

تری محفل میں جاکر اور کچھ دیکھا نہیں جاتا
میں اپنی آنکھ سے اپنا تماشا دیکھ لیتا ہوں

نگاہوں میں وہ جلوے بھر دیے مشقِ تصور نے
اندھیری رات میں رقصِ تجلی دیکھ لیتا ہوں

مری ناکامیوں پر جب ستارے مسکراتے ہیں
میں اک موہوم سا خوابِ تمنا دیکھ لیتا ہوں

مجھے احسان وہ گہری نظر دی دینے والے نے
دلِ شبنم میں غلطاں روحِ دریا دیکھ لیتا ہوں

اُسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھا

Verses

اُسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھا
زمانے کی بھری محفل میں تنہا ہو جہاں میں تھا

مری کوتاہ بینی اب تمہیں فطرت نے بخشی ہے
وہاں اب تم بھی مایوسِ تمنا ہو جہاں میں تھا

مجھے طعنے دیا کرتے تھے لیکن خیر سے تم بھی
اسی منظر میں مصروفِ تماشا ہو جہاں میں تھا

یہ ضبطِ غم کی بخشش ہے ، مقدر کے کرشمے ہیں
تمہاری بھی وہی لے دے کے دنیا ہو جہاں میں تھا

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے

Verses

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
وہ ھنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کےلیے

بندھا ھوا ھے ، بہاروں کا اب وھیں تانتا
جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کےلیے

کوئی نسیم کا نغمہ ، کوئی شمیم کا راگ
فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کےلیے

خدا نکردہ ، زمین پاؤں سے اگر کھسکی
بڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کےلیے

اتر پڑے ھیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوس
سمندروں سے جزیرے نکالنے کےلیے

تری سلیقہء ترتیبِ نو کا کیا کہنا
ھمیں تھے قریہ ء دل سے نکالنے کےلیے

کبھی ھماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کےلیے

صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے

Verses

صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے
ہم نے دیکھا نہیں زندگی کی طرف

رات ڈھلتے جب ان کا خیال آگیا
ٹکٹکی بندھ گئی چاندنی کی طرف

کون سا جرم کیا ، کیا ستم ہوگیا
آنکھ اگر اٹھ گئی آپ ہی کی طرف

جانے وہ ملتفت ہوں کدھر بزم میں
آنسوؤں کی طرف، یا ہنسی کی طرف

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے

Verses

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ

تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ
پھر را ہے مرا سر گردشِ ایا م کے ساتھ

سن کر نغموں میں ہے محلول یتیموں کی فغاں!
قہقہے گونج رہے ہیں یہاں کہرام کے ساتھ

پرورش پاتی ہے دامانِ رفاقت میں ریا
اہلِ عرفاں کی بسر ہوتی ہے اصنام کے ساتھ

کوہ و صحرا میں بہت خوار لئے پھرتی ہے
کامیابی کی تمنا دلِ ناکام کے ساتھ

یاس آئینہ ء امید میں نقاشِ الم
پختہ کاری کا تعلق ہوسِ خام کے ساتھ

سلسلہ تونگر کے شبستاں میں چراغانِ بہشت
وعدہ ء خلدِ بریں کشتۂ آلام کے ساتھ

کون معشوق ہے ، کیا عشق ہے ، سودا کیا ہے؟
میں تو اس فکر میں گم ہوں کہ یہ دنیا ہے!

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا

Verses

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا

نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر
نئی سحر بھی کجلا گئی تو کیا ہوگا

نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھے
میں بے آداب ہوں ہنسی آگئی تو کیا ہوگا

غمِ حیات سے بے شک ہے خود کشی آسان
مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہوگا

شبابِ لالہ و گل کو پکارنے والو!
خزاں سرشتِ بہار آگئی تو کیا ہوگا

یہ فکر کر کے اس آسودگی کے ڈھوک میں
تیری خودی کو بھی موت آگئی تو کیا ہوگا

خوشی چھنی ہے تو غم کا بھی اعتماد نہ کر
جو روح غم سے بھی اکتا گئی تو کیا ہوگا

اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا

Verses

اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا
مگر خدا کی قسم ایک خواب ہے دنیا

سحر پیامِ تبسم ہے ، شام اذنِ سکوت
شگوفہ زار کا فانی شباب ہے دنیا

لرز رہی ہے فضا میں صدائے غم پرور
ترنماتِ فنا کا رباب ہے دنیا

جہاں کی عشرتِ فانی پہ اعتبار نہ کر
شبِ بہار کا مستانہ خواب ہے دنیا

یہاں کی شام ہے اک پردۂ سیہ کاری
شرابِ عیش کے پیاسو! سراب ہے دنیا

قدم قدم پہ طلسماتِ نور و ظلمت ہیں
فریب خانۂ شیب و شباب ہے دنیا

شکستِ دل کی حکایات حسرتوں کے بیاں
فسانہ ہائے الم کی کتاب ہے دنیا

جھکا نہ خاک درِ حسن پر جبینِ امید!
سنبھل سنبھل کہ یہاں بے حجاب ہے دنیا

ہجومِ درد کی ، انبوہِ آرزو کی قسم
تواترِ ستمِ بے حساب ہے دنیا

رہِ خلوص میں احسان اس سے بچ کر چل
کہ ایک خضرِ ضلالت مآب ہے دنیا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer