Parveen Shakir

پروین شاکر
Lubna's picture

کتنے برس لگے یہ جاننے میں

کتنے برس لگے
یہ جاننے میں
کہ تیرا ہونا میرے لیے کیا ہے
ایسا ہونا بھی چاہئے تھا
شام ہوتے ہی
چاند میں روشنی نہیں آجاتی
رات ہوتے ہی
رات کی رانی مہک نہیں اُٹھتی
شام اور خوشبو کے بیچ
ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے
جس کا ہماری زمیں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
اس آسمانی لمحے نے
اب ہمیں چھو لیا ہے

Your rating: None Average: 1.5 (2 votes)
Lubna's picture

دنیا کو تو حالات سے امید بڑی تھی

دنیا کو تو حالات سے امید بڑی تھی
پر چاہنے والوں کو جدائی کی پڑی تھی

کس جان گلستاں سے یہ ملنے کی گھڑی تھی
خوشبو میں نہائی ہوئی اک شام کھڑی تھی

میں اس سے ملی تھی کہ خود اپنے سے ملی تھی

Your rating: None Average: 1 (1 vote)
Lubna's picture

چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی

چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی
ہوا کی طرح سے نامعتبر رہا وہ بھی

زمین زاد بھی بھُولا جو لفظِ رہداری
فصیلِ شہر سے باہر کھڑا رہا وہ بھی

میں اُس کے سارے رویوں پر معترض ہوتی

No votes yet
Lubna's picture

اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک

اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک

دَم گھٹتا ہے ، گھر میں حبس وہ ہے
خوشبو کے لیے رُکوں کہاں تک

پھر آگے ہوائیں کھول دیں گی
زخم اپنے رفو کروں کہاں تک

No votes yet
miss pinky's picture

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویّہ جو ہوا کو خس و خاشاک سے ہے

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں
یہ اجالا تو کسی دیدہء نمناک سےہے

ہاتھ تو کاٹ دیئے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے

No votes yet
miss pinky's picture

جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی

جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی

یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے
جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی

وہ میرے پاؤں کو چُھونے جُھکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی

شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں
مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی

کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر
تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی

پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم
جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی

بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا
اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی

ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا
تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی

کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا
نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی

No votes yet
miss pinky's picture

میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی

میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی
کیسی کیسی دُعاؤں کے ہوتے ہُوئے بد دُعا لگ گئی

ایک بازو بریدہ شکستہ بدن قوم کے باب میں
زندگی کا یقیں کس کو تھا ، بس یہ کہیے ، دوا لگ گئی

جُھوٹ کے شہر میں آئینہ کیا لگا ، سنگ اُٹھائے ہُوئے
آئینہ ساز کی کھوج میں جیسے خلقِ خُدا لگ گئی

جنگلوں کے سفر میں توآسیب سے بچ گئی تھی ، مگر
شہر والوں میں آتے ہی پیچھے یہ کیسی بلا لگ گئی

نیم تاریک تنہائی میں سُرخ پُھولوں کا بن کِھل اُٹھا
ہجر کی زرد دیوار پر تیری تصویر کیا لگ گئی

وہ جو پہلے گئے تھے ، ہمیں اُن کی فرقت ہی کچھ کم نہ تھی
جان ! کیا تجھ کو بھی شہرِ نا مہرباں کی ہوا لگ گئی

دو قدم چل کے ہی چھاؤں کی آرزو سر اُٹھانے لگی
میرے دل کو بھی شاید ترے حوصلوں کی ادا لگ گئی

میز سے جانے والوں کی تصویر کب ہٹ سکی تھی مگر
درد بھی جب تھما ، آنکھ بھی جب ذرا لگ گئی!

No votes yet
miss pinky's picture

وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا

وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

اسے تو دوست ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ بھی تھے
خطا نہ ہوتا کسی طور ، تیر ایسا تھا

پیام دینے کا موسم نہ ہم نوا پاکر
پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا

کسی بھی شاخ کے پیچھے پناہ لیتی میں
مجھے وہ توڑ ہی لیتا، شریر ایسا تھا

ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن
اُداسیوں سے ہی نبھتی ، خمیر ایسا تھا

ترا کمال کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں
غزالِ شوق کہاں کا اسیر ایسا تھا

No votes yet
Syndicate content