جہاں میں ہوں وہاں بدلے گا کیا کچھ؟

Verses

یہ کوہ ِ شوق سر کر دیکھنا ہے
وجود اپنا بھنور کر دیکھنا ہے

مُجھے آئینہ دیکھے یا نہ دیکھے؟
مُجھے اُس کو سنور کر دیکھنا ہے

بھلے سے کیوں نہ پھر بھر آئیں آنکھیں
اُسے اِک آنکھ بھر کر دیکھنا ہے

سر ِ سطح ِ شعور ِ ذات کیا ہے؟
کبھی خود میں اُتر کر دیکھنا ہے

میں کِس کے ہاتھ میں سمٹا ہوا ہوں؟
ابھی مُجھ کو بکھر کر دیکھنا ہے

جہاں میں ہوں وہاں بدلے گا کیا کچھ؟
ذرا سا یہ بھی مر کر دیکھنا ہے

کہانی میں مرا کردار یہ ہے
مُجھے ہر سمت ڈر کر دیکھنا ہے

تو کیا محسوس ہوتا ہے قفس میں؟
ذرا باہوں کو پر کر دیکھنا ہے

جہاں جاتے ہی بُجھ جاتے ہیں تارے
وہاں سے بھی گُزر کر دیکھنا ہے

ش زاد

پھر اس مٹی سے اک دیوی اُٹھے گی

Verses

زمیں سے روشنی ایسی اُٹھے گی
کہ ہر سورج کی پھر ارتھی اُٹھے گی

کہانی کا میں وہ کردار ہوں جو
مرے گا تو کہانی جی اُٹھے گی

یہ عزت ہے کسی مفلس کی بھائی
تجھے کِس نے کہا منہگی اُٹھے گی؟

گرانا اُس قدر آسان ہو گا
عمارت جس قدر اُنچی اُٹھے گی

میں اپنے شعر اس میں رول دوں گا
پھر اس مٹی سے اک دیوی اُٹھے گی

تو اپنا آپ اس کو سونپ دے گا
ترے قدموں سے تب داسی اُٹھے گی

ہمارا سر تو اُنچا ہی رہے گا
کہاں تک یہ تری برچھی اُٹھے گی؟

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer