افتخار عارف

زمانہ خوش کہاں ہے سب سے بے نیاز کر کے بھی

Verses

زمانہ خوش کہاں ہے سب سے بے نیاز کر کے بھی
چراغِ جاں کو نذرِ بادِ بے لحاظ کر کے بھی

غلام گردشوں میں ساری عمر کاٹ دی گئی
حصولِ جاہ کی روش پہ اعتراض کر کے بھی

خجل ہوئی ہیں قیامتیں قیامتوں کے زعم میں
مذاق بن کے رہ گئیں ہیں قد دراز کر کے بھی

بس اتنا ہو کہ شغلِ ناؤ نوش مستقل رہے
قلم کو سرنگوں کیا ہے سرفراز کر کے بھی

کچھ اس طرح کے بھی چراغ شہرِ مصلحت میں تھے
بجھے پڑے ہیں خود ہوا سے سازباز کر کے بھی

بس ایک قدم پڑا تھا بے محل سو آج تک
میں در بدر ہوں اہتمام رخت و ساز کر کے بھی

ملے گی دادِ فغاں کیا ہمیں نہیں معلوم

Verses

ملے گی دادِ فغاں کیا ہمیں نہیں معلوم
کہیں گے اہلِ جہاں کیا ہمیں نہیں معلوم

ہمیں تو بس یونہی جلنا ہے خاک ہونا ہے
چراغ کیا ہے دُھواں کیا ہمیں نہیں معلوم

ہمیں تو ایک ہی موسم ہے راس موسم ِ درد
بہار کیا ہے خزاں کیا ہمیں نہیں معلوم

بجا کہ حاصلِ حسنِ کلام کچھ بھی نہیں
کریں گے سنگ و سناں کیا ہمیں نہیں معلوم

پسِ غبار ہے کیا کچھ خبر نہیں ہم کو
عیاں ہے کون نہاں کیا ہمیں نہیں معلوم

وہ جن کی تیغ بھی دامن بھی آستیں بھی ہے سرخ
وہیں ملے گی اماں کیا ہمیں نہیں معلوم

یہ عہدِ سنگ سرشتاں ہے اس زمانے میں
جوازِ شیشہ گراں کیا ہمیں نہیں معلوم

کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میں

Verses

کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میں
رات گزار دی گئی صبح کے انتظار میں

بابِ عطا کے سامنے اہلِ کمال کا ہجوم
جن کو تھا سرکشی پہ ناز وہ بھی اُسی قطار میں

جیسے فسادِ خون سے جلد بدن پہ داغِ برص
دل کی سیاہیاں بھی ہیں دامنِ داغدار میں

وقت کی ٹھوکروں میں ہے عقدہ کُشائیوں کو زعم
کسی اُلجھ رہی ہے ڈور ناخنِ ہوشیار میں

آئے گا آئے گا وہ دن ہو کے رہے گا سب حساب
وقت بھی انتظار میں خلق بھی انتظار میں

جیسی لگی تھی دل میں آگ، ویسی غزل بنی نہیں
لفظ ٹھہر نہیں سکے درد کی تیز دھار میں

یہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں وہیں کے نہیں

Verses

یہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں وہیں کے نہیں
جو ہم یہاں کے نہیں ہیں تو پھر کہیں کے نہیں

وفا سرشت میں ہوتی تو سامنے آتی
وہ کیا فلک سے نبھائیں گے جو زمیں کے نہیں

ہوا کی گرم خرامی سے پڑ رہے ہیں بھنور
یہ پیچ و تاب کسی موجِ تہ نشیں کے نہیں

سُنا گیا ہے کہ اکثر قیام و ذکر و سجود
ہیں جس کے نام اُسی جان آفریں کے نہیں

تمام عمر پھرے در بدر کہ گھر ہو جائے
گھروں میں رہنا بھی تقدیر میں اُنھیں کے نہیں

بکھر رہے ہیں جو آنسو بغیر منّتِ دوست
وہ دامنوں کی امانت ہیں آستیں کے نہیں

معیارِ شرف حلقۂ اربابِ ہُنر میں

Verses

معیارِ شرف حلقۂ اربابِ ہُنر میں
ٹھہرا ہے تو بس حرف ہی ٹھہرا ہے نظر میں

مٹّی ہیں سو مٹّی ہی سے رکھتے ہیں سروکار
آتے نہیں خورشید مزاجوں کے اثر میں

گرنے بھی نہیں پاتے دعاؤں کو اُٹھے ہاتھ
کشتی کو کنارے نظر آتے ہیں بھنور میں

ہم بھی ہیں عجب لوگ سمجھتے بھی ہیں پھر بھی
بازار کے آشوب اُٹھا لاتے ہیں گھر میں

رسم و رہ آسودگی ِ جاں کی ہُوا نظر
وہ جاں سے گزر جانے کا سودا کہ تھا سر میں

اے راہ روو کچھ تو خبر دو کہ ہُوا کیا
خوابوں کا خزانہ بھی تو تھا زادِ سفر میں

ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف

Verses

ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف
دل کسی اور طرف حرفِ دعا اور طرف

اک رجز خواں، ہنرِ کاسہ و کشکول میں طاق
جب صف آرا ہوئے لشکر تو ملا اور طرف

اے بہ ہر لمحہ نئے وہم میں اُلجھے ہوئے شخص
میری محفل میں الجھتا ہے تو جا اور طرف

اہلِ تشہیر و تماشا کے طلسمات کی خیر
چل پڑے شہر کے سب شعلہ نوا اور طرف

کیا مسافر تھا سفر کرتا تھا اِس بستی میں
اور لَو دیتے تھے نقشِ کفِ پا اور طرف

شاخِ مزگاں سے جو ٹوٹا تھا ستارہ سرِ شام
رات آئی تو رہی پھول کِھلا اور طرف

نرغہء ظلم میں دُکھ سہتی رہی خلقتِ شہر
اہلِ دُنیا نے کیے جشن بپا اور طرف

کوئی سبب ہے جو تاریک شب ہوئی ہے میاں

Verses

کوئی سبب ہے جو تاریک شب ہوئی ہے میاں
کسی کی شہ پہ ہوا بے ادب ہوئی ہے میاں

اِس اہتمام سے اہلِ نظر کی رسوائی
ہوئی نہ تھی کبھی پہلے جو اب ہوئی ہے میاں

عجب نہیں در و دیوارِ شہر پر بھی ہو نقش
گفتگو جو ابھی زیرِ لب ہوئی ہے میاں

بساطِ خواب اُلٹنے کی بات، آخری بات
ہم اُٹھ کے آئے ہیں محفل سے تب ہوئی ہے میاں

نشان و خلعت و منصب کا ذکر کیا کہ یہاں
بہ کارِ عشق بھی عرضی طلب ہوئی ہے میاں

ہم اپنے دل ہی کی آزردگی نہ کم کر پائے
یہ خلق ہم سے خفا بے سبب ہوئی ہے میاں

دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی

Verses

دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی
دل کو خوں ہونے دیا، آنکھ کو زحمت نہیں دی

ہم بھی اس سلسلہء عشق میں بیعت ہیں جسے
ہجر نے دُکھ نہ دیا، وصل نے راحت نہیں دی

ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں
ایک شام اُس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

عاجزی بخشی گئی تمکنتِ فقر کے ساتھ
دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

بے وفا دوست کبھی لوٹ کے آئے تو انہیں
ہم نے اظہارِ ندامت کی اذیّت نہیں دی

دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
ایک نے اجر دیا، ایک نے اُجرت نہیں دی

خوف کے سیلِ مسلسل سے نکالے مجھے کوئی

Verses

خوف کے سیلِ مسلسل سے نکالے مجھے کوئی
میں پیمبر تو نہیں ہوں کہ بچالے مجھے کوئی

اپنی دنیا کے مہ و مہر سمیٹے، سرِ شام
کر گیا فردہء جادہ کے حوالے مجھے کوئی

اتنی دیر اور توقف کہ یہ آنکھیں بجھ جائیں
کسی بے نور خرابے میں اُجالے مجھے کوئی

کس کو فرصت ہے کہ تعمیر کرے از سرِ نو
خانہء خاب کے ملبے سے نکالے مجھے کوئی

اب کہیں جا کے سمیٹی ہے امیدوں کی بساط
ورنہ اک عمر کی ضد تھی کہ سنبھالے مجھے کوئی

کیا عجب خیمہء جاں تیری طنابیں کٹ جائیں
اِس سے پہلے کہ ہواؤں میں اُچھالے مجھے کوئی

کیسی خواہش تھی کہ سوچو تو ہنسی آتی ہے
جیسے میں چاہوں اسی طرح بنالے مجھے کوئی

تیری مرضی ، میری تقدیر کہ تنہا رہ جاؤں
مگر اک آس تو دے پالنے والے مجھے کوئی

یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں

Verses

یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں
حرفِ دعا تو ہے مگر ذکر کا حوصلہ نہیں

دیر بہت ہی دیر تک یاد کیا گیا انہیں
ویسے پلٹ کے دیکھنا میرا مزاج تھا نہیں

رات بس اک چراغ کی لَو سے رہا مکالمہ
صبح نہ جانے کب ہوئی، کیسے ہوئی، پتا نہیں

ایک ذرا سی بات ہے جس سے پڑے ہیں سارے پیچ
پیچ بھی وہ کہ درمیاں کوئی بھی دوسرا نہیں

کیسی عجیب بات ہے زعمِ ہنر کے باوجود
رنگ بکھر گئے تمام نقش کوئی بنا نہیں

جس میں تمام دل کی بات کھل کے بیان کر سکوں
ایک سخن وہی سخن مجھ سے کبھی ہوا نہیں

چہرہ بہ چہرہ، لب بہ لب، خواب بہ خواب، دل بہ دل
عمر گزار دی گئی ، کوئی کہیں ملا نہیں

میری بیاضِ عشق میں مطلعِ اوّلِ غزل
درج تو کر لیا گیا ویسے کہیں پڑھا نہیں

دل کے معاملوں کے بیچ عمر کہاں سے آگئی
جانِ جہانِ افتخار! وقت ابھی گیا نہیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer