
اتنی قربت اور ایسی تنہائی
کتنی صبر آزما یہ خلوت ہے
پیش قدمی کو جی و تو چاہتا ہے
بس یہی سوچ روک لیتی ہے
تو کسی اور کی امانت ہے

ابھی آگ پوری جلی نہیں، ابھی شعلے اونچے اٹھے نہیں
سو کہاں کا ہوں میں غزل خواں مرے خال و خد بھی بنے نہیں
ابھی سینہ زور نہیں ہوا، مرے دل کے غم کا معاملہ

تمہارے بعد اس دل کا کھنڈر اچھا نہیں لگتا
جہاں رونق نہیں ہوتی وہ گھر اچھا نہیں لگتا
نیا اک ہم سفر چاہوں تو آسانی سے مل جائے
مگر مجھ کو یہ اندازِ سفر اچھا نہیں لگتا

اندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں
چلو کہ اپنی صبح کو جگا کے آتے ہیں
سبھی جو مان رھے ہیں، بہت اندھیرا ھے
چراغ جوڑ کے سورج بنا کے آتے ہیں
ہجومِ شہر پہ سکتہ کہ پہل کون کرے

ہر شام اس سے ملنے کی عادت سی ہو گئی
پھر رفتہ رفتہ اس سے محبت سی ہو گئی
شاید یہ تازہ تازہ جدائی کا تھا اثر
ہر شکل یک بیک تری صورت سی ہو گئی
اک نام جھلملانے لگا دل کے طاق پر
اک یاد جیسے باعثِ راحت سی ہو گئی
خود کو سجا سنوار کے رکھنے کا شوق تھا
پھر اپنے آپ سے مجھے وحشت سی ہو گئی
میں نے کوئی بیانِ صفائی نہیں دیا
بس چپ رہا تو خود ہی وضاحت سی ہو گئی
البم میں کوئی چھوڑ گیا اپنے آپ کو
اس طرح غائبانہ رفاقت سی ہو گئی

ہم اپنے آپ سے اتنی مروّ ت کر ہی لیتے ہیں
کبھی تنہائی میں خود کو ملامت کرہی لیتے ہیں
انہیں الزام کیا دیں جن کے زہر آلود ہیں لہجے
کہیں تھوڑی بہت ہم بھی غیبت کر ہی لیتے ہیں
کبھی تیشہ بہ کف ہو کر، کبھی خامہ بہ کف ہو کر
جو کرنا ہو ہمیں حسب ضرورت کر ہی لیتے ہیں
کوئی ٹوٹا ہوا دل جوڑ دیتے ہیں محبت سے
نمازی تو نہیں لیکن عبادت کر ہی لیتے ہیں
دلوں میں یوں اگر اک دوسرے سے پیار بڑھتا ہے
چلو ،اک دن بچھڑ جانے کی ہمت کر ہی لیتے ہیں

ہم بھی شکستہ دل ہیں پریشان تم بھی ہو
اندر سے ریزہ ریزہ میری جان تم بھی ہو
ہم بھی ہیں ایک اجڑے ہوئے شہر کی طرح
آنکھیں بتا رہی ہیں کہ ویران تم بھی ہو
درپیش ہے ہمیں بھی کڑی دھوپ کا سفر
سائے کی آرزو میں پریشان تم بھی ہو
ہم بھی خزاں کی شام کا آنگن ہیں،بے چراغ
بیلیں ہیں جس کی زرد وہ دالان تم بھی ہو
جیسے کسی خیال کا سایہ ہیں دو وجود
ہم بھی اگر قیاس ہیں، امکان تم بھی ہو
مل جائیں ہم تو کیسا سہانا سفر کٹے
گھائل ہیں ہم بھی، سوختہ سامان تم بھی ہو

رنجش کوئی رکھتا ہے تو پھر بات بھی سن لے
وہ مجھ سے ذرا صورتِ حالات بھی سن لے
دھڑکن کی زباں سے میں بتاؤں گا کسی دن
کیا اس کے لیے ہیں مرے جذبات بھی سن لے
کس طرح سے رسوائی گوارا ہوئی ہم کو
جو دل نے سہے پیار کے صدمات بھی سن لے
اس پھول سے مہکے جو مری شام کا آنگن
وہ اپنی کہے، میرے خیالات بھی سن لے
تو برف کی وادی کا مکیں ہے، کسی لمحے
شعلوں کی طرح ہیں مرے دن رات بھی، سن لے