عبیداللہ علیم

مٹّی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا

Verses

مٹّی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا
پھر ہفت آسماں مری پرواز سے اٹھا

انسان ہو، کسی بھی صدی کا، کہیں کا ہو
یہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھا

صبحِ چمن میں ایک یہی آفتاب تھا
اس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا

سو کرتَبوں سے لکّھا گیا ایک ایک لفظ
لیکن یہ جب اٹھا کسی اعجاز سے اٹھا

اے شہسوارِ حُسن! یہ دل ہے یہ میرا دل
یہ تیری سر زمیں ہے، قدم ناز سے اٹھا

میں پوچھ لوں کہ کیا ہے مرا جبر و اختیار
یا رب! یہ مسئلہ کبھی آغاز سے اٹھا

وہ ابر شبنمی تھا کہ نہلا گیا وجود
میں خواب دیکھتا ہوا الفاظ سے اٹھا

شاعر کی آنکھ کا وہ ستارہ ہوا علیم
قامت میں جو قیامتی انداز سے اٹھا

پابہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ

Verses

پابہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ
محفلِ وقت تری روحِ رواں ہیں ہم لوگ

خوب پایا ہے صلہ تری پرستاری کا
دیکھ اے صبحِ طرب ! آج کہاں ہیں ہم لوگ

اک متاعِ دل و جاں پاس تھی سو وہ ہار چکے
ہائے یہ وقت کہ اب خود پہ گراں ہیں ہم لوگ

نکہتِ گل کی طرح ناز سے چلنے والو!
ہم بھی کہتے تھے کہ آسودئہ جاں ہیں ہم لوگ

کوئی بتلائے کہ کیسے یہ خبر عام کریں
ڈھونڈتی ہے جسے دنیا وہ نشاں ہیں ہم لوگ

قسمتِ شب زدگاں جاگ ہی جائے گی علیم
جرسِ قافلۂ خوش خبراں ہیں ہم لوگ

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer