
پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق
کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں
تیری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں
کبھی دل کے صفحے پر
تجھے تصویر کرتے ہیں
کبھی پلکوں کی چھاؤں میں
تجھے زنجیر کرتے ہیں
کبھی خوابیدہ شاموں میں
کبھی بارش کی راتوں میں
کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں
تیری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
وہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے
محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیں
کہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے

کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
کبھی برسوں نہیں ملتے کسی ہلکی سی رنجش میں
تمہی میں دیوتاؤں کی کوئی خُو بُو نہ تھی ورنہ
کمی کوئی نہیں تھی میرے اندازِ پرستش میں

دلوں کو برف کرتی رائیگانی سے نکل آئے
کوئی کیسے محبت کی کہانی سے نِکل آئے
اُسے بس ایک پل کو دیکھنا بات کرنی تھی
مگر وہ ایک اشک ِ سادہ جو روانی سے نکل آئے

عالم ِ محبت میں
اِک کمال ِ وحشت میں
بے سبب رفاقت میں
دُکھ اُٹھانا پڑتا ہے
تتلیاں پکڑنے کو
دور جانا پڑتا ہے

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
ہجر کی پُوری رات آتی ہے صبحِ وصال سے پہلے
دِل کا کیا ہے دِل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے

راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
عُمر بھر حالتِ سفر میں رہے
لفظ سارے چراغ بن جائیں
وصف ایسا مرے ہُنر میں آ جائے
زہر سارا شجر میں آ جائے
اے خُدا زندگی ثمر میں رہے
اس لیے گردشوں کو پالا ہے

راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
عُمر بھر حالتِ سفر میں رہے
لفظ سارے چراغ بن جائیں
وصف ایسا مرے ہُنر میں آ جائے
زہر سارا شجر میں آ جائے
اے خُدا زندگی ثمر میں رہے
اس لیے گردشوں کو پالا ہے