نوشی گیلانی

پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق

Verses

پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق

کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں
تیری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں
کبھی دل کے صفحے پر
تجھے تصویر کرتے ہیں
کبھی پلکوں کی چھاؤں میں
تجھے زنجیر کرتے ہیں
کبھی خوابیدہ شاموں میں
کبھی بارش کی راتوں میں
کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں
تیری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے

Verses

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
وہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے

محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیں
کہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے

کبھی وہ جگنوؤں کو مُٹھیوں میں قید کرنا
مگر اب تو ہمیں یہ سب گوارا ہی نہیں ہے

اب اس کے خال و خد کا ذکر کیا کرتے کِسی سے
کہ ہم پر آج تک وہ آشکارا ہی نہیں ہے

یہ خواہش تھی کہ ہم کُچھ دُور تک تو ساتھ چلتے
ستاروں کا مگر کوئی اِشارا ہی نہیں ہے

بہت سے زخم کھانے دل نے آخر طے کیا ہے
تمھارے شہر میں اپنا گزارا ہی نہیں ہے

کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں

Verses

کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
کبھی برسوں نہیں ملتے کسی ہلکی سی رنجش میں

تمہی میں دیوتاؤں کی کوئی خُو بُو نہ تھی ورنہ
کمی کوئی نہیں تھی میرے اندازِ پرستش میں

یہ سوچ لو پھر اور بھی تنہا نہ ہو جانا
اُسے چھونے کی خواہش میں اُسے پانے کی خواہش میں

بہت سے زخم ہیں دل میں مگر اِک زخم ایسا ہے
جو جل اُٹھتا ہے راتوں میں جو لَو دیتا ہے بارش میں

دلوں کو برف کرتی رائیگانی سے نکل آئے

Verses

دلوں کو برف کرتی رائیگانی سے نکل آئے
کوئی کیسے محبت کی کہانی سے نِکل آئے

اُسے بس ایک پل کو دیکھنا بات کرنی تھی
مگر وہ ایک اشک ِ سادہ جو روانی سے نکل آئے

گماں تھا عُمر لگ جائے گی اس حیرانی ء غم میں
مگر ہم شام ِ وحشت کی گِرانی سے نِکل آئے

بہت مجبور رہتے تھے،بہت مغرور رہتے تھے
کہ جب سے شہرِ غم کی کج بیانی سے نِکل آئے

کہیں تو سلسلہ ٹھہرے بدن کی اِس مُسافت کا
کبھی تو بے گھر کی مہربانی سے نِکل آئے

کبھی تاریک شب میں یاد کے جُگنو چمکتے ہیں
کہ جیسے سیپ کوئی گہرے پانی سے نِکل آئے

عالم ِ محبت میں

Verses

عالم ِ محبت میں
اِک کمال ِ وحشت میں
بے سبب رفاقت میں
دُکھ اُٹھانا پڑتا ہے
تتلیاں پکڑنے کو
دور جانا پڑتا ہے

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے

Verses

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
ہجر کی پُوری رات آتی ہے صبحِ وصال سے پہلے

دِل کا کیا ہے دِل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے

کس نے ریت اُڑائی شب میں آنکھوں کھول کے رکھیں
کوئی مثال تو ہو ناں اس کی مثال سے پہلے

کارِ محبت ایک سفر ہے اِس میں آ جاتا ہے
ایک زوال آثار سا رستہ بابِ کمال سے پہلے

عشق میں ریشم جیسے وعدوں اور خوابوں کا رستہ
جتنا ممکن ہو طے کر لیں گر دِ ملال سے پہلے

راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے

Verses

راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
عُمر بھر حالتِ سفر میں رہے

لفظ سارے چراغ بن جائیں
وصف ایسا مرے ہُنر میں آ جائے

زہر سارا شجر میں آ جائے
اے خُدا زندگی ثمر میں رہے

اس لیے گردشوں کو پالا ہے
کوئی تو حلقۂ اثر میں رہے

اِک زمانہ گھروں میں تھا آباد
بے گھر ہم تری نظروں میں رہے

راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے

Verses

راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
عُمر بھر حالتِ سفر میں رہے

لفظ سارے چراغ بن جائیں
وصف ایسا مرے ہُنر میں آ جائے

زہر سارا شجر میں آ جائے
اے خُدا زندگی ثمر میں رہے

اس لیے گردشوں کو پالا ہے
کوئی تو حلقۂ اثر میں رہے

اِک زمانہ گھروں میں تھا آباد
بے گھر ہم تری نظروں میں رہے

اِک پشیماں سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے

Verses

اِک پشیماں سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے
اب وہی شہرِ محبت سے مجھے سوچتا ہے

میں تو محدود سے لمحوں میں ملی تھی اُس سے
پھر بھی وہ کتنی وضاحت سے مجھے سوچتا ہے

جس نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کا مُمکن ہونا
دُکھ میں ڈوبی ہوئی حیرت سے مجھے سوچتا ہے

میں تو مر جاؤں اگر سوچنے لگ جاؤں اُسے
اور وہ کتنی سُہولت سے مجھے سوچتا ہے

گرچہ اب ترکِ مراسم کو بہت دیر ہوئی
اب بھی وہ میری اجازت سے مجھے سوچتا ہے

کتنا خوش فہم ہے وہ شخص کہ ہر موسم میں
اِک نئے رُخ، نئی صورت سے مجھے سوچتا ہے

نوشی گیلانی

کیسی بھلا یہ برہمی یہ پیچ و تاب ھے

Verses

کیسی بھلا یہ برہمی یہ پیچ و تاب ھے
جیسا ترا سوال ھے ویسا مرا جواب ھے

تو ھے فلک تو میں زمیں یہ تو نہیں کہ میں نہیں
ذراہ خاک میں بھی ہوں تو اگر آفتاب ھے

گھر سے چلی ھے خوبرو ایک ہجوم چار سو
رنگ ھے یا سزا کوئی حسن ھے یا عذاب ے

ملتے رہیں تو زندگی گنتی کی چار ساعتیں
بچھڑیں تو ایک ایک پل عرصہ بے حساب ھے

عمر دراز ہجر سے وصل کا ایک پل بہت
اتنی گھڑی تو مل مجھے جتنی گھڑی حباب ھے

پھول وہی چمن وہی سارا ہی بانکپن وہی
ایک ہی شاخ ہر کوئی کانٹا کوئی گلاب ھے

ایک سا ھے مقابلہ دونوں میں کوئی کم نہیں
جیسی حسین آنکھ ھے ویسا حسین خواب ھے

دنیا میں کون کون ھے یہ تو ذرا بتایئے
سارے جہاں کے لب پہ ھے دنیا بڑی خراب ھے

شاخ گلاب پر عدیم لگتے ھیں دل کھلے ہوئے
صحن بدن میں دل عدیم لگتا ھے اک گلاب ھے

اشکوں کی اک طرف عدیم ڈوبی ہوئی ھے چشم تر
اشکوں کی دوسری طرف ہر کوئی زیر آب ھے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer