Nasir Kazmi

ناصر کاظمی
Lubna's picture

پتھر بنا دیا مجھے رونے نہیں دیا

پتھر بنا دیا مجھے رونے نہیں دیا

دامن بھی تیرے غم میں بھگونے نہیں دیا

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں

شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

آنکھوں میں آکے بیٹھ گئی اشکوں کی لہر

No votes yet
Guest Author's picture

چاند نکلا تو ہم نے وحشت میں

چاند نکلا تو ہم نے وحشت میں
جس کو دیکھا اسی کو چوم لیا

رس کے معنی جسے نہیں معلوم
ہم نے اس رس بھری کو چوم لیا

پھول سے ناچتے ہیں ہونٹوں پر
جیسے کسی کو سچ مچ چوم لیا

No votes yet
Guest Author's picture

کیا دن مجھے عشق نے دکھائے

کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اک بار جو آئے پھر نہ آئے

اس پیکر ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آئے توسنائے

وہ روح خیال و جان مضمون
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈ لائے

آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر

No votes yet
گل رعنا's picture

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر
وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے

وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

No votes yet
گل رعنا's picture

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا
سخن کدہ مری طرز سخن کو ترسے گا

نئے پیالےسہی تیرے دور میں ساقی
یہ دور میری شرابِ کہن کو ترسے گا

مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی
وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا

انہی کے دم سے فروزاں ہیں ملتوں‌کے چراغ
زمانہ صحبتِ اربابِ فن کو ترسے گا

بدل سکو تو بدل دو یہ باغباں‌ورنہ
یہ باغ سایہء سرو سمن کو ترسے گا

ہوئے ظلم یہی ہے تو دیکھنا اک دن
زمین پانی ک، سورج کرن کو ترسے گا

No votes yet
گل رعنا's picture

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارہء شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ ء جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

No votes yet
گل رعنا's picture

رقم کریں گے ترا نام انتسابوں میں

رقم کریں گے ترا نام انتسابوں میں
کہ انتخابِ سخن ہے یہ انتخابوں میں

مری بھری ہوئی آنکھوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
کہ آسمان مقید ہیں ان حبابوں میں

ہر آن دل سے الجھتے ہیں دو جہان کے غم
گھرا ہے ایک کبوتر کئی عقابوں میں

ذرا سنو تو سہی کان دھر کے نالہء دل
یہ داستاں نہ ملے گی تمہیں کتابوں میں

نئی بہار دکھاتے ہیں داغِ دل ہر روز
یہی تو وصف ہے اس باغ کے گلابوں میں

پون چلی تو گل و برگ دف بجانے لگے
اداس خوشبو ئیں لو دے اٹھیں نقابوں میں

ہوا چلی تو کھلے بادبانِ طبع رسا
سفینے چلنے لگے یاد کے سرابوں میں

کچھ اس ادا سے اُڑا جا رہا ہے ابلقِ رنگ
صبا کے پاوں ٹھہرتے نہیں رکابوں میں

بدلتا وقت یہ کہتا ہے ہر گھڑی ناصر
کہ یادگار ہے یہ وقت انقلابوں میں

No votes yet
گل رعنا's picture

کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں

کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں

رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچہء دلبر ہی چلیں

یہ کہہ کے چھیٹرتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

اس شہرِ بے چراغ میں جائے تو کہاں
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

No votes yet
Syndicate content