
پتھر بنا دیا مجھے رونے نہیں دیا
دامن بھی تیرے غم میں بھگونے نہیں دیا
تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں
شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا
آنکھوں میں آکے بیٹھ گئی اشکوں کی لہر

چاند نکلا تو ہم نے وحشت میں
جس کو دیکھا اسی کو چوم لیا
رس کے معنی جسے نہیں معلوم
ہم نے اس رس بھری کو چوم لیا
پھول سے ناچتے ہیں ہونٹوں پر
جیسے کسی کو سچ مچ چوم لیا

کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اک بار جو آئے پھر نہ آئے
اس پیکر ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آئے توسنائے
وہ روح خیال و جان مضمون
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈ لائے
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے
وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے
میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے
یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر
وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے
وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے
عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے
اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا
سخن کدہ مری طرز سخن کو ترسے گا
نئے پیالےسہی تیرے دور میں ساقی
یہ دور میری شرابِ کہن کو ترسے گا
مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی
وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا
انہی کے دم سے فروزاں ہیں ملتوںکے چراغ
زمانہ صحبتِ اربابِ فن کو ترسے گا
بدل سکو تو بدل دو یہ باغباںورنہ
یہ باغ سایہء سرو سمن کو ترسے گا
ہوئے ظلم یہی ہے تو دیکھنا اک دن
زمین پانی ک، سورج کرن کو ترسے گا

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارہء شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ
خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ ء جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ
بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ
شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ
مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ
وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ
وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ
وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ
وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

رقم کریں گے ترا نام انتسابوں میں
کہ انتخابِ سخن ہے یہ انتخابوں میں
مری بھری ہوئی آنکھوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
کہ آسمان مقید ہیں ان حبابوں میں
ہر آن دل سے الجھتے ہیں دو جہان کے غم
گھرا ہے ایک کبوتر کئی عقابوں میں
ذرا سنو تو سہی کان دھر کے نالہء دل
یہ داستاں نہ ملے گی تمہیں کتابوں میں
نئی بہار دکھاتے ہیں داغِ دل ہر روز
یہی تو وصف ہے اس باغ کے گلابوں میں
پون چلی تو گل و برگ دف بجانے لگے
اداس خوشبو ئیں لو دے اٹھیں نقابوں میں
ہوا چلی تو کھلے بادبانِ طبع رسا
سفینے چلنے لگے یاد کے سرابوں میں
کچھ اس ادا سے اُڑا جا رہا ہے ابلقِ رنگ
صبا کے پاوں ٹھہرتے نہیں رکابوں میں
بدلتا وقت یہ کہتا ہے ہر گھڑی ناصر
کہ یادگار ہے یہ وقت انقلابوں میں

کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں
رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچہء دلبر ہی چلیں
یہ کہہ کے چھیٹرتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں
اس شہرِ بے چراغ میں جائے تو کہاں
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں