وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہمنوائی نہ تھی

Verses

وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بےوفائی نہ تھی

نہ اپنا رنج، نہ اپنا دکھ، نہ اوروں کا ملال
شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی

بچھڑتے وقت، اُن آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ، جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی

کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
کبھی یہ مرحلہ، جیسے کہ آشنائی نہ تھی

محبتوں کا سفر کچھ اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر، شکستہ پائی نہ تھی

کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
صدا تو آئی تھی، لیکن کوئی دہائی نہ تھی

عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیر
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer