تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

Verses

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ

کیوں ٹھہر گئی دل میں اُس قیام کی آہٹ
کیوں گزر نہیں جاتی اُس مقام کی آہٹ

ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں
تیری یاد کے موسم ،تیرے نام کی آہٹ

آنکھ میں مچلتی ہے روح میں تڑپتی ہے
اُس پیام کی آواز، اُس قیام کی آہٹ

جب یہ دل رفاقت کی کچی نیند سے جاگا
ہر طرف سنائی دی اختتام کی آہٹ

فرقتوں کے بوسیدہ ساحلوں پہ اُتری تو
ہر طرف تھی بس تیرے صبح و شام کی آہٹ

رات کے اُترتے ہی دل کی سُونی گلیوں میں
جاگ اُٹھتی ہے پھر سے تیرے نام کی آہٹ

بیٹھ جاتی ہے آکر در پہ کیوں میرے ناہید
تیرے ساتھ کی خوشبو، تیرے گام کی آہٹ

تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟

Verses

تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟
کبھی تو وہ بھی محبت کا حق ادا کرتے

گرہیں پڑی تھیں جو دل میں سبھی وہ کُھل جاتیں
دل و نظر کی اگر نرم تم فضا کرتے

مرے سکوت سے جن کو گِلے رہے برسوں
وہ میری بولتی آنکھوں سے رابطہ کرتے

ترا ہی نام ہے جو بس گیا ہے سانسوں میں
کسی کو تیرے سِوا اور کیا خدا کرتے

کسی کی یاد کے موسم بُلا رہے تھے اُسے
وداع نہ کرتے اُسے ہم تو اور کیا کرتے

تُو جانتی ہے مجھے بھی بتا کبھی ناہید
وہ یاد میں مری کیا اب بھی ہیں جگا کرتے؟

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer