ندیم جاوید عُثمانی

ایک نشانی یہ بھی ہے قیامت کی

Verses

ایک نشانی یہ بھی ہے قیامت کی
میں سُدھر جاؤں گا ، تُم سُدھر جاؤگی
قسم کھا کر کروں گا پوری میں
کروگی وعدہ تُم ، اُسے نبھاؤ گی
میں کہوں گا کب کا بُھول گیا
تُم کہو گی ، کہ بُھول جاؤں گی

’ندیم جاوید عثمانی‘

تو بھید بتادے مِٹی کا

Verses

تو بھید بتادے مِٹی کا
مرے مِٹی ہونے سے پہلے
میں کب سے بیٹھا سبق یادکئیے
تو سُن لے چُھٹی ہونے سےپہلے
کیا بھید تھا خالی لانےمیں؟
کیا بھید ہےخالی لے جانے میں؟
یہ راز عیاں کردے مُجھ پر
بند مُٹھی ہونے سے پہلے

توبھید بتادےمِٹی کا
مرے مِٹی ہونے سے پہلے!

’ندیم جاویدعُثمانی‘

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer