مصطفٰٰی زیدی

کہیں کہیں پہ ستاروں کے ٹوٹنے کے سوا

Verses

کہیں کہیں پہ ستاروں کے ٹوٹنے کے سوا
افق اداس ہے دنیا بڑی اندھیری ہے

لہو جلے تو جلے اس لہو سے کیا ہوگا
کچھ ایک راہ نہیں ہر فضا لُٹیری ہے

نظر پہ شام کی وحشت ، لبوں پہ رات کی اوس
کسے طرب میں سکوں ، کس کو غم میں سیری ہے

بس ایک گوشہ میں کُچھ دیپ جگمگاتے ہیں‌
وہ ایک گوشہ جہاں زُلفِ شب گھنیری ہے

یقین ہی نہیں آتا کہ تیری خدمت میں
یہ شعر میں نے کہے ہیں ! یہ غزل میری ہے !

غزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتے

Verses

غزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتے
لوگوں کو شکایت ہے وہ کیا کیا نہیں کہتے

اور اپنا یہی جرم کہ باوصفِ روایت
ہم ناصح مشفق کو فرشتہ نہیں کہتے

اجسام کی تطہیر و تقدس ہے نظر میں
ارواح کے حالات پہ نوحہ نہیں کہتے

ہم نے کبھی دنیا کو حماقت نہیں سمجھا
ہم لوگ کبھی غم کو تماشا نہیں کہتے

انسان کے چہرے کے پرستار ہوئے ہیں
اور قاف کی پریوں کا فسانہ نہیں کہتے

وہ بھی تو سنیں میرے یہ اشعار کسی روز
جو لوگ نئی نسل کو اچھا نہیں کہتے

غازی بنے رہے سبھی عالی بیان لوگ

Verses

غازی بنے رہے سبھی عالی بیان لوگ
پہنچے سرِ صلیب فقط بے نشان لوگ

اخلاقیاتِ عشق میں شامل ہے یہ نیاز
ہم ورنہ عادتا" ہیں بہت خود گمان لوگ

چھوٹی سی اک شراب کی دکان کی طرف
گھر سے چلے ہیں سن کے عشاء کی اذان لوگ

دل اک دیارِ رونق وَرم ہے لٹا ہوا
گزرے اس طرف سے کئی مہربان لوگ

اے دل انہی کے طرزِ تکلم سے ہوشیار
اس شہر میں ملیں گے کئی بے زبان لوگ

آیا تھا کوئی شام سے واپس نہیں گیا
مُڑ مُڑ کے دیکھتے ہیں ہمارا مکان لوگ

ان سے جنہیں کنوئیں کے سوا کچھ خبر نہیں
مغرب کا طنز سنتے ہیں ہم نوجوان لوگ

کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا

Verses

کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا
دیکھا تو ہر جمال اُسی آئینے میں تھا

قُلزُم نے بڑ ھ کے چُوم لئے پھُول سے قدم
دریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا

اِک موجِ خونِ خَلق تھی ، کس کی جبیں پہ تھی
اِک طو قِ فردِ جرم تھا ، کس کے گلے میں تھا

اِک رشتہ ءِ وفا تھا سو کس ناشناس سے
اِک درد حرزِ جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا

صہبائے تند و تیز کی حدت کو کیا خبر
شیشے سے پوچھیے جو مزا ٹوٹنے میں تھا

کیا کیا رہے ہیں حرف و حکایت کے سلسلے
وہ کم سخن نہیں تھا مگر دیکھنے میں تھا

تائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش
مجھ کو یہ افتخار کہ میں میکدے تھا

اب جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیا

Verses

اب جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیا
اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا

پلکوں پہ آکے رک سی گئی تھی ہر ایک موج
کل رو لیے تو آنکھ سے دریا اتر گیا

شامِ وطن کچھ اپنے شہیدوں کا ذکر کر
جن کے لہو سے صبح کا چہرہ نکھر گیا

آکر بہار کو تو جو کرنا تھا کر گئی
الزام احتیاطِ گریباں کے سَر گیا

زنجیرِ ماتمی ہے تم اے عاقلانِ شہر
اب کس کو پوچھتے ہو دِوانہ تو مر گیا

اُمید و بیمِ دست و بازوِ قاتل میں رہتے ہیں

Verses

اُمید و بیمِ دست و بازوِ قاتل میں رہتے ہیں
تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

نکل آ اب تو ان پردو ں سے باہر ، دُخترِ صحرا
کہ باہر کم ہیں وہ طوفان جو محمل میں رہتے ہیں

جنھیں دیکھا نہیں دنیا کی بے تعبیر آنکھوں نے
بہت سے لوگ ان خوابوں کے مستقبل میں رہتے ہیں

چلو افلاک کے زینوں پہ چڑھ کے عرش تک پہنچیں
کہ سید مصطفی زید ی اسی منزل میں رہتے ہیں

نَفس کو فِکرِ جوہر ہے جہاں میں ہوں

Verses

نَفس کو فِکرِ جوہر ہے جہاں میں ہوں
سمندر ہی سمندر ہے جہاں میں ہوں

بجھی جاتی ہیں قندیلیں توّھم کی
طلوعِ عقلِ خاور ہے جہاں میں ہوں

نظر آتی ہے اپنی ماہیت جس میں
وہ آئینہ میسر ہے جہاں میں ہوں

اَزل کی بے نقابی او ر اَجل کی بھی
سبھی امکاں کے اندر ہے جہاں میں ہوں

نہ کوہِ کاف کی پریوں کے جھرمٹ ہیں
نہ غولِ دیو اژدر ہے جہاں میں ہوں

نہ سفاکی ، نہ دلداری کی رسمیں ہیں
نہ مرہم ہے نہ خنجر ہے جہاں میں ہوں

خد ا ہے اپنے نیلے آسمانوں میں
زمیں ہے ، خیر ہے ،شَر ہے جہاں میں ہوں

قدم اُٹھتے ہیں نامعلوم سمتوں کو
ہر اِک شے بے مقدر ہے جہاں میں ہوں

نَفس ہے تَشنگی کا دشتِ بے منزل
نَفس ہی موجِ کوثر ہے جہاں میں ہوں

بدن کیا چیز ہے خود میرا سایہ بھی
مِرے ساے سے باہر ہے جہاں میں ہوں

اس کشمکشِ ذہن کا حاصل نہیں کچھ اور

Verses

اس کشمکشِ ذہن کا حاصل نہیں کچھ اور
انکار کو ٹھکرائے نہ ، اقرار کو چاہے

مفرور طلب رات کو حاصل کرے بن باس
مغرور بدن گرمئ بازار کو چاہے

سنبھلے نہ خمِ زیست سے بوجھ آب و ہواکا
آسائشِ دنیا درو دیوار کو چاہے

آنکھیں روشِ دوست پہ بچھتی چلی جایئں
اور دوست کہ طبعِ سرِ خود دار کو چاہے

قوم ایسی کہ چلتے ہوے اشعار سے مانوس
مضمون کے اس صورتِ دشوار کو چاہے

اک دل کہ بھرا آئے نہ سمجھے ہوے غم سے
اک شعر کہ پیرایہء اظہار کو چاہے

سُن اے حکیمِ ملت و پیغمبرِ نجات

Verses

سُن اے حکیمِ ملت و پیغمبرِ نجات
میرے دیارِ قلب میں کعبہ نہ سومنات

اِک پیشہ عشق تھا سو عوّض مانگ مانگ کر
رُسوا اُسے بھی کر گئی سوداگروں کی ذات

ڈرتا ہوں یوں کہ سچ ہی نکلتے ہیں پیش تر
اس کاروبارِ شوق میں دل کے توّہِمَات

محویّتِ نشاط میں قُربت کے سو قَرن
ٹوٹی ہوئی رگوں سے جدائی کی ایک رات

تیرے غموں سے ایک بڑا فائدہ ہوا
ہم نے سمیٹ لی دلِ مضطر میں کائنات

اس راہِ شوق میں میرے ناتجربہ ِشناس
غیروں سے ڈر نہ ڈر مگر اپنوں سے احتیاط

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

Verses

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
غمِ دل مرے رفیقو ! غمِ رائیگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی زلف کو صدا دو، کسی آنکھ کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer