منیر نیازی

آئینہ بن کر کبھی ان کو حیراں دیکھیے

Verses

آئینہ بن کر کبھی ان کو حیراں دیکھیے
اپنے غم کو ان کی صورت سے نمایاں دیکھیے

اس دیار چشم و لب میں دل کی یہ تنہائیاں
ان بھرے شہروں میں بھی شام غریباں دیکھیے

عمر گزری دل کے بجھنے کا تماشا کر چکے
کس نظر سے بام و در کا یہ چراغاں دیکھیے

دیکھیے اب کے برس کیا گل کھلاتی ہے بہار
کتنی شدت سے مہکتا ہے گلستاں دیکھیے

اے منیر اس انجمن میں چشم لیلیٰ کا خیال
سردیوں کی بارشوں میں برق لرزاں دیکھیے

”اپنے گھر کو واپس جاؤ“ رو رو کر سمجھاتا ہے

Verses

”اپنے گھر کو واپس جاؤ“ رو رو کر سمجھاتا ہے
جہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہے

اس کو بھی تو جا کر دیکھو، اس کا حال بھی مجھ سا ہے
چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انسان مر جاتا ہے

مجھ سے محبت بھی ہے اس کو لیکن یہ دستور ہے اس کا
غیر سے ملتا ہے ہنس ہنس کر مجھ سے ہی شرماتا ہے

کتنے یار ہیں پھر بھی منیر اس آبادی میں اکیلا ہے
اپنے ہی غم کے نشے سے اپنا جی بہلاتا ہے

باد بہار غم میں وہ آرام بھی نہ تھا

Verses

باد بہار غم میں وہ آرام بھی نہ تھا
وہ شوخ آج شام لب بام بھی نہ تھا

درد فراق ہی میں کٹی ساری زندگی
گرچہ ترا وصال بڑا کام بھی نہ تھا

رستے میں ایک بھولی ہوئی شکل دیکھ کر
آواز دی تو لب پہ کوئی نام بھی نہ تھا

کیوں دزت غم میں خاک اڑاتا رہا منیر
میں جو قتیلِ حسرتِ ناکام بھی نہ تھا

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں

Verses

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا، میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا

Verses

ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا
یہ اک جھلک کا تماشا جگر جلا بھی گیا

اٹھا، تو جا بھی چکا تھا، عجیب مہماں تھا
صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

غضب ہوا جو اندھیرے میں جل اُٹھی بجلی
بدن کسی کا طلسمات کچھ دکھا بھی گیا

نہ آیا کوئی لب بام، شام ڈھلنے لگی
وفورِ شوق سے آنکھوں میں خون آ بھی گیا

ہوا تھی، گہری گھٹا تھی، حنا کی خوشبو تھی
یہ ایک رات کا قصہ لہو رلا بھی گیا

چلو منیر چلیں، اب یہاں رہیں بھی تو کیا
وہ سنگ دل تو یہاں سے کہیں چلا بھی گیا

بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنے

Verses

بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنے
میں ہی بس ہوتا ہوں اس کی اس ادا کے سامنے

تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سونا کر گئی!
دیر تک بیٹھا رہا میں اس ہوا کے سامنے

رات اک اجڑے مکاں پہ جا کے جب آواز دی
گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے

وہ رنگیلا ہاتھ میرے دل پہ اور اس کی مہک
شمع دل بجھ سی گئی رنگ حنا کے سامنے

میں تو اس کو دیکھتے ہی جیسے پتھر ہو گیا
بات تک منہ سے نہ نکلی بے وفا کے سامنے

یاد بھی ہیں اے منیر اس شام کی تنہائیاں
ایک میداں، اک درخت اور تو خدا کے سامنے

جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیں

Verses

جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیں
کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں

دن بھر جو سورج کے ڈر سے گلیوں میں چھپ رہتے ہیں
شام آتے ہی آنکھوں میں وہ رنگ پرانے آ جاتے ہیں

جن لوگوں نے ان کی طلب میں صحراؤں کی دھول اڑائی
اب یہ حسیں ان کی قبروں پر پھول چڑھانے آ جاتے ہیں

کون سا وہ جادو ہے جس سے غم کی اندھیری، سرد گپھا میں
لاکھ نسائی سانس دلوں کے روگ مٹانے آ جاتے ہیں

زے کے ریشمیں رومالوں کو کس کس کی نظروں سے چھپائیں
کیسے ہیں وہ لوگ جنہیں یہ راز چھپانے آ جاتے ہیں

ہم بھی منیر اب دنیا داری کر کے وقت گزاریں گے
ہوتے ہوتے جینے کے بھی لاکھ بہانے آ جاتے ہیں

زور پیدا جسم وجاں‌کی ناتوانی سے ہوا

Verses

زور پیدا جسم وجاں‌کی ناتوانی سے ہوا
شور شہروں‌میں‌مسلسل بے زبانی سے ہوا

دیر تک کی زندگی کی خواہشیں‌اس بت کو ہیں‌
شوق اس کو انتہا کا عمر فانی سے ہوا

میں ہوا ناکام اپنی بے یقینی کے سبب
جو ہوا سب میرے دل کی بدگمانی سے ہوا

ہے نشاں‌میرا بھی شاید شش جہات دہر میں‌
یہ گماں مجھ کو خود اپنی بے نشانی سے ہوا

تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائگانی سے ہوا

نرم بوندوں میں مسلسل بارشوں کے سامنے

Verses

نرم بوندوں میں مسلسل بارشوں کے سامنے
آسماں کے نیل میں، کومل سروں کے سامنے

یہ گزرتے دن ہمارے پنچھیوں کے روپ میں
تنگ شاخوں میں کبھی خوابیدگی کی دھوپ میں

ہیں کبھی اوجھل کبھی سکھ کی حدوں کے سامنے
چہچہاتے، گیت گاتے بادلوں کے شہر میں

اک جمالِ بے سکوں کی حسرتوں کے سامنے
سبز میدانوں، بنوں میں، کوہساروں میں کبھی

زرد پتوں میں کبھی، اجلی بہاروں میں کبھی
قید غم میں یا کھلی آزادیوں کے سامنے

افق کو افق سے ملا دینے والے

Verses

افق کو افق سے ملا دینے والے
یہ رستے ہیں کتنے تھکا دینے والے

یہ دن ہیں نئے اپنی خاصیّتوں میں
کئی نام دل سے بھلا دینے والے

بتا دینا عمریں اسے کھوجنے میں
جو مل جائے اس کو گنوا دینے والے

پھر اپنے کئے پر پشیمان رہنا
یہ ہم ہی ہیں خود کو سزا دینے والے

منیر اس زمانے میں رہبر بہت ہیں
حقیقت کو الجھن بنا دینے والے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer