مومن خان مومن

ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل

Verses

ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل

آزادئ نسـیم مبارک کہ ہـر طـرف
ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہوائے گُل

جو تھا ، سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیا
اے وائے ، نالۂ لبِ خونیں نوائے گُل !

خوش حال اُس حریفِ سیہ مست کا، کہ جو
رکھتا ہو مثلِ سایۂ گُل ، سر بہ پائے گُل

ایجاد کرتی ہے اُسے تیرے لیے بہار
میرا رقیب ہے نَفَسِ عطر سائے گُل

شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سے
میناۓ بے شراب و دلِ بے ہوائے گُل

سطوت سے تیرے جلوۂ حُسنِ غیور کی
خوں ہے مری نگاہ میں رنگِ ادائے گُل

تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گُل

غالب ! مجھے ہے اُس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گُلِ جیبِ قبائے گُل

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے* تک

Verses

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے* تک
کون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ
دیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب ، اور تمنّا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونےتک

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے ، لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

پرتوِ خُور سے ، ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ، ایک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل !
گرمئِ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک

غمِ ہستی کا ، اسد ! کس سے ہو جُز مرگ ، علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Verses

وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نِباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ نئے گِلے، شکائتیں، وہ مزے مزے کی حکائتیں
وہ ہر ایک بات پہ رُوٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرو، تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا بَرملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بُری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم کو تُم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

سُنو ذکر ہے کئی سال کا، کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذِکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ بگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کہ ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جسے آپ گِنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومن مُبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!

حکیم مومن خان مومن

ham se kia ho ska

Verses

ham se kia ho saka mahabat mein
tum ne to khair bewafai ki...........
0333-6826828

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح

Verses

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں
کم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح

لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلی
قربان تیرے، پھر مجھے کہہ لے اسی طرح

نے جائے واں بنے ہے، نہ بن جائے چین ہے
کیا کیجیے، ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح

ہوں جاں بلب بتانِ ستم گر کے ہاتھ سے
کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومن اسی طرح

سم کھا موے تو دردِ دلِ زار کم ہوا

Verses

سم کھا موے تو دردِ دلِ زار کم ہوا
بارے کچھ اس دوا سے تو آزار کم ہوا

کچھ اپنے ہی نصیب کی خوبی تھی بعد مرگ
ہنگامہء محبتِ اغیار کم ہوا

معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری
واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا

آئے غزال چشم سدا میرے دام میں
صیاد ہی رہا میں گرفتار کم ہوا

ناکامیوں کی کاہشِ بے حد کا کیا علاج
بوسہ دیا تو ذوقِ لبِ یار کم ہوا

ہر چند اضطراب میں میں نے کمی نہ کی
تو بھی نہ واں تغافلِ بسیار کم ہوا

کیا مجھ میں‌دم بھی لینے کی طاقت نہیں رہی
کیوں شورِ نالہ ہائے عزا بار کم ہوا

سب تا بہ فتنہ چونک پڑے تیرے عہد میں
اک میرا بخت تھا کہ وہ بیدار کم ہوا

کچھ قیس اور میں ہی نہیں سب کے سب موے
اچھا تو دردِ عشق کا بیمار کم ہوا

ذکرِ بتاں سے پہلی سی نفرت نہیں رہی
کچھ اب تو کفرِ مومنِ دیں دار کم ہوا

موے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا

Verses

موے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا
بلائے جاں ہے وہ دل جو بلائے جاں نہ ہوا

خدا کی یاد دلاتے تھے نزع میں احباب
ہزار شکر کہ اس دم وہ بدگماں نہ ہوا

ہنسے نہ غیر مجھے بزم سے اٹھانے پر
سبک ہے وہ کہ تری طبع پر گراں نہ ہوا

دیت میں روزِ جزا لے رہیں گے قاتل کو
ہمارا جان کے جانے میں بھی زیاں نہ ہوا

وہ آئے بہرِ عیادت تو تھا میں شادیِ مرگ
کسی سے چارہء بے دادِ آسماں نہ ہوا

لگی نہیں‌ہے یہ چپ لذتِ ستم سے کہ میں
حریفِ کش مکشِ نالہ و فغاں نہ ہوا

دمِ حساب رہا روزِ حشر بھی یہی ذکر
ہمارے عشق کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا

ہے شرط ہم پہ عنایت میں گونہ گونہ ستم
کبھی محبتِ دشمن کا امتحاں نہ ہوا

وہ حالِ زار ہے میرا کہ گاہ غیر سے بھی
تمہارے سامنے یہ ماجرا بیاں نہ ہوا

امیدِ وعدہء دیدارِ حشر پر مومن
تو بے مزا تھا کہ حسرت کشِ بتاں نہ ہوا

دیدہء حیراں نے تماشا کیا

Verses

دیدہء حیراں نے تماشا کیا
دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا
حوصلہ کیا، کیا نہ کیا، کیا کیا

آنکھ لگنے سے سب احباب نے
آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا

مرگئے اس کے لب جاں بخش پر
ہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا

بجھ گئی اک آہ میں شمعِ حیات
مجھ کو دمِ سرد نے ٹھنڈا کیا

غیر عیادت سے برا مانتے
قتل کیا آن کے اچھا کیا

ان سے پری وش کو نہ دیکھیے کوئی
مجھ کو مری شرم نے رسوا کیا

زندگی ہجر بھی اک موت تھی
مرگ نے کیا کارِ مسیحا کیا

پان میں یہ رنگ کہا آپ نے
آپ مرے خون کا دعویٰ کیا

جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے
راز مرا صبر نے افشا کیا

کچھ بن آتی نہیں کیا کیجیے
اس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا

جائے تھی تیری مرے دل میں سو ہے
غیر سے کیوں شکوہء بے جا کیا

رحمِ فلک اور مرے حال پر
تو نے کرم اے ستم آرا کیا

سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے
مرگ نے کب وعدہء فردا کیا

دعویِٰ تکلیف سے جلاد نے
روزِ جزا قتل پھر اپنا کیا

مرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہ
لو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا

دشمنِ مومن ہی رہے بت سدا
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

بے سبب کیوں کہ لبِ زخم پہ اُفغاں ہوگا

Verses

بے سبب کیوں کہ لبِ زخم پہ اُفغاں ہوگا
شورِ محشر سے بھرا اس کا نمک داں ہوگا

آخر امید ہی سے چارہء حرماں ہوگا
مرگ کی آس پہ جینا شبِ ہجراں ہوگا

مجمعِ بسترِ مخمل شبِ غم یاد آیا
طالعِ خفتہ کا کیا خواب پریشاں ہوگا

دل میں شوقِ رخِ روشن نہ چھپے گا ہرگز
ماہ پردے میں‌ کتاں کے کوئی پنہاں ہوگا

درد ہے جاں کے عوض ہر رگ و پے میں ساری
چارہ گر ہم نہیں ہونے کے جو درماں ہوگا

شومیِ بخت تو ہے چین لے اے وحشتِ دل
دیکھ زنداں ہی کوئی دن میں‌ بیاباں ہوگا

نسبتِ عیش سے ہوں نزع میں گریاں یعنی
ہے یہ رونا کہ دہن گور کا خنداں ہوگا

بات کرنے میں رقیبوں سے ابھی ٹوٹ گیا
دل بھی شاید اسی بدعہد کا پیماں ہوگا

چارہ جو اور بھی اچھا میں کروں گا ٹکڑے
پردہء شوخ جو پیوندِ گریباں ہوگا

دوستی اس صنم آفتِ ایماں سے کرے
مومن ایسا بھی کوئی دشمنِ ایماں ہوگا

گر وہاں بھی یہ خموشی اثر افغاں ہوگا

Verses

گر وہاں بھی یہ خموشی اثر افغاں ہوگا
حشر میں کون مرے حال کا پرساں ہوگا

ان سے بدخو کا کرم بھی ستمِ جاں ہوگا
میں تو میں غیر بھی دل دے کے پشیماں ہوگا

اور ایسا کوئی کیا بے سر و ساماں ہوگا
کہ مجھے زہر بھی دیجے گا تو احساں ہوگا

محو مجھ سا دمِ نظارۂ جاناں ہوگا
آئینہ آئینہ دیکھے گا تو حیراں ہوگا

خواہشِ مرگ ہو اتنا نہ ستانا، ورنہ
دل میں پھر تیرے سوا اور بھی ارماں ہوگا

ایسی لذت خلشِ دل میں کہاں ہوتی ہے
رہ گیا سینے میں اس کا کوئی پیکاں ہوگا

بوسہ ہائے لبِ شیریں کے مضامیں ہیں نہ کیوں
لفظ سے لفظ میرے شعر کا چسپاں ہوگا

کیا سناتے ہو کہ ہے ہجر میں جینا مشکل
تم سے بے رحم پہ مرنے سے تو آساں ہوگا

حیرتِ حسن نے دیوانہ کیا گر اسکو
دیکھنا خانۂ آئینہ بھی ویراں ہوگا

دیدۂ منتظر آتا نہیں شاید تجھ تک
کہ مرے خواب کا بھی کوئی نگہ باں ہوگا

ایک ہی جلوہ مہ رو میں ہوا سو ٹکڑے
جامۂ صبر جسے کہتے ہیں کتاں ہوگا

گریہی گرمیِ مضموں شرر ریز رہی
رشتۂ شمع سے شیرازۂ دیواں ہوگا

کیوں کہ امیدِ وفا سے ہو تسلی دل کی
فکر ہے یہ کہ وہ وعدے سے پشیماں ہوگا

گرترے خنجرِ مژگاں نے کیا قتل مجھے
غیر کیا کیا ملک الموت کے قرباں ہوگا

اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومن
آخر اس بزم میں کوئی تو سخن داں ہوگا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer