محسن نقوی

اب یہ خواہش ہے کہ اپنا ہمسفر کوئی نہ ہو

Verses

اب یہ خواہش ہے کہ اپنا ہمسفر کوئی نہ ہو
جز شبِ تنہا، شریک رہگزر کوئی نہ ہو

رات کے پچھلے پہر کی خامشی کے خوف کو
اس سے پوچھو شہر بھر میں جس کا گھر کوئی نہ ہو

یا چراغ کم نفس کو صبح تک جلنا سکھا
یا پھر ایسی شام دے جس کی سحر کوئی نہ ہو

جل رہے ہیں بام و در اور مطمئن بیٹھا ہوں میں
گھر کی بربادی سے اتنا بے خبر کوئی نہ ہو

جستجو فن کی، متاعِ فن بچانے کا خیال
پتھروں کے شہر میں بھی شیشہ گر کوئی نہ ہو

درد اتنا ہو کہ بول اٹھے سکوت شہرِ جاں
زخم ایسا دے کہ جس کا چارہ گر کوئی نہ ہو

صحبتوں کے خواب دیکھوں رات بھر محسن مگر
صبح دم آنکھیں کھلیں تو بام پر کوئی نہ ہو

کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی

Verses

کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی
ورق ورق پہ بکھرتا گیا میرا چہرہ

سحر کے نور سے دھلتی ہوئی تیری آنکھیں
سفر کی گرد میں لپٹا ہوا میرا چہرہ

ہوا کا آخری بوسہ تھا یا قیامت تھی ؟
بدن کی شاخ سے پھر گر پڑا میرا چہرہ

جسے بجھا کے ھوا سوگوار پھرتی ہے
وہ شمع شام سفر تھی کہ میرا چہرہ

یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں محسن
میں سوچتا ہوں کہاں رہ گیا میرا چہرہ ؟

کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!

Verses

کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑ ہے
تو حواس بن کے بکھر سکو
کبھی کھِل سکو شبِ وصل میں
کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
سرِ رہگزر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو نہ گزر سکو
مرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگناؤ تو اس طرح
مرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکراؤ تو اس طرح
مری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
سبھی رابطے سبھی ضابطے
کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
نہ شکستِ دل کا ستم سہو
نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
نہ کسی سے اپنی خلش کہو
یونہی خوش پھرو، یونہی خوش رہو
نہ اُجڑ سکیں ، نہ سنور سکیں
کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
کسی طور جاں سے گزر سکیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!

Achy Lagty Hain

Verses

Rasham Zulfoon, Nilam Ankhoon waly Achy Lagty Hain
Main Shair Hon Mujh ko ujly chahry Achy Lagty Hain
Tm Khud Socho, AAdhi Raat ko Thandy Chand Ki Cha'oon Main
Tanha Rahoon Pr Hm Dono kitny Achy Lagty Hain
Akhir Akhir Suchy Qowl B Chubhty Hain Dil Waloon Ko
Phly Phly Pyar K Jhoty Wady Achy Lagty Hain
Jb sy wo Pardais gya hy Shehr ki Roniq Uth Gai hy
Ab to Apny Ghr K Band Dreechy Achy Lagty Hain
Kali Raat Main Jag Mag krty Tarry Kon Bujhata Hy ?
Is Dulhan koYh Moti, Yh Gahny Achy Lagty Hain
Kal Is Roothy Roothy Yar ko Daikha To Mahsoos Howa
" MOHSIN " Ujly Jism Pr Maily Kapry Achy Lagty Hain

ہماری انا کو قتل نہ کر

Verses

محبتوں میں ہوس کے اسیر ہم بھی نہیں
غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں
ہمیں بجھا دے، ہماری انا کو قتل نہ کر
کہ بے ضرر سہی محسن بے ضمیر ہم بھی نہیں

اور وہ شحص ٹوٹ گیا

Verses

مجھ سے بچھڑ کر لکھی اس نے دل کی بات
کیوں نہ ہوا اسے حوصلہ میرے سامنے
کل تک وہ آئینے سے بھی نازک تھا
محسن وہ شحص ٹوٹ گیا میرے سامنے

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہے

Verses

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہے
کہ ٹوٹ کر بھی مرا حوصلہ چٹان کا ہے

برا نہ مان مرے حرف زہر زہر سہی
میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زبان کا ہے

ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دل کی ویرانی
تمام شہر پہ سایا مرے مکان کا ہے

بچھڑتے وقت سے اب تک میں یوں نہیں رویا
وہ کہہ گیا تھا ، یہی وقت امتحان کا ہے

مسافروں کی خبر ہے نہ دکھ ہے کشتی کا
ہوا کو جتنا بھی غم ہے وہ بادبان کا ہے

جو برگِ زرد کی صورت ہوا میں اڑتا ہے
وہ اک ورق بھی مری اپنی داستان کا ہے

یہ اور بات عدالت ہے بے خبر ورنہ
تمام شہر میں چرچا مرے بیان کا ہے

اثر دکھا نہ سکا اس کے دل میں اشک مرا
یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

بچھڑ بھی جائے مگر مجھ سے بے خبر بھی رہے
یہ حوصلہ ہی کہاں میرے بدگمان کا ہے

قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر محسن
ہوا میں شور ابھی تک مری اڑان کا ہے

جرم بھی تھا محسن بھی میرا لگتا تھا

Verses

جرم بھی تھا محسن بھی میرا لگتا تھا
دست-اے-قاتل بھی مجھے دست-اے-حنا لگتا تھا

ارے دیکھنے والے تو اسے دیکھتے رہ جاتے تھے
ہاں وہ شخص محبت کی صدا لگتا تھا

کانٹوں بھری شاخ نظر آتا تھا کبھی
پھول لگتا تھا، کبھی باد-اے-صبا لگتا تھا

اب لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے میرے گھر کا پتہ
میں جسے سارے زمانے سے برا لگتا تھا

اسکی باتیں تھیں روایت سے ہٹ کر محسن
سب میں رہتا تھا مگر سب سے جدا لگتا تھا

بہت دنوں بعد

Verses

بہت دِنوں بعد
تیرے خط کے اُداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبوُ
میری رگوں میں اُنڈیل دی ہے
بہت دِنوں بعد
تیری باتیں
تیری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں
اُجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں
وصال وعدوں کی چاند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر
شریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیور
سِکھا گئی ہیں
تیرے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریں
بہت دنوں بعد پھر سے
مجھ کو رُلا گئی ہیں
بہت دنوں بعد
میں نے سوچا تو یاد آیا
کہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تک
تیرے زمانے لکھے ہوئے ہیں
سبھی فسانے لکھے ہوئے ہیں
بہت دنوں بعد
میں نے سوچا تو یاد آیا
کہ تیری یادوں کی کرچیاں
مجھ سے کھو گئی ہیں
تیرے بدن کی تمام خوُشبو
بکھر گئی ہے
تیرے زمانے کی چاہتیں
سب نشانیاں
سب شرارتیں
سب حکائتیں سب شکائتیں جو کبھی ہُنر میں
خیال تھیں خواب ہوگئی ہیں
بہت دنوں بعد
میںنے سوچا تو یاد آیا
کہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوں
بچھڑ کے تجھ سے
کئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوں
میں اپنے سگرٹ کے بے ارادہ دُھویں کی صُورت
ہوا میں تحلیل ہو گیا ہوں
نہ ڈُھونڈ میری وفا کے نقشِ قدم کے ریزے
کہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میں
وہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کر
اُداس رَہ کر
نجانے کس رَہ میں کھو گیا ہوں؟
بچھڑ کے تُجھ سے تیری طرح کیا بتاؤں میں بھی
نہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوں؟
بہت دنوں بعد
میں نے سوچا تو یاد آیا

محسن نقوی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer