
اب یہ خواہش ہے کہ اپنا ہمسفر کوئی نہ ہو
جز شبِ تنہا، شریک رہگزر کوئی نہ ہو
رات کے پچھلے پہر کی خامشی کے خوف کو
اس سے پوچھو شہر بھر میں جس کا گھر کوئی نہ ہو
یا چراغ کم نفس کو صبح تک جلنا سکھا

کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی
ورق ورق پہ بکھرتا گیا میرا چہرہ
سحر کے نور سے دھلتی ہوئی تیری آنکھیں
سفر کی گرد میں لپٹا ہوا میرا چہرہ
ہوا کا آخری بوسہ تھا یا قیامت تھی ؟

کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں

Rasham Zulfoon, Nilam Ankhoon waly Achy Lagty Hain
Main Shair Hon Mujh ko ujly chahry Achy Lagty Hain
Tm Khud Socho, AAdhi Raat ko Thandy Chand Ki Cha'oon Main

محبتوں میں ہوس کے اسیر ہم بھی نہیں
غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں
ہمیں بجھا دے، ہماری انا کو قتل نہ کر
کہ بے ضرر سہی محسن بے ضمیر ہم بھی نہیں

مجھ سے بچھڑ کر لکھی اس نے دل کی بات
کیوں نہ ہوا اسے حوصلہ میرے سامنے
کل تک وہ آئینے سے بھی نازک تھا
محسن وہ شحص ٹوٹ گیا میرے سامنے

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہے
کہ ٹوٹ کر بھی مرا حوصلہ چٹان کا ہے
برا نہ مان مرے حرف زہر زہر سہی
میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زبان کا ہے
ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دل کی ویرانی

جرم بھی تھا محسن بھی میرا لگتا تھا
دست-اے-قاتل بھی مجھے دست-اے-حنا لگتا تھا
ارے دیکھنے والے تو اسے دیکھتے رہ جاتے تھے
ہاں وہ شخص محبت کی صدا لگتا تھا
کانٹوں بھری شاخ نظر آتا تھا کبھی