
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
تم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی
غیر کی مرگ کا غم کس لۓ، اے غیرتِ ماہ!
ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا، اور سہی

لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓ
جان جاۓ تو بلا سے، پہ کہیں دِل آۓ
ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
دوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آۓ
وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!

آپ نے مَسَّنی الضُّر کہا ہے تو سہی
یہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی
رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سر
ذہن میں خوبئِ تسلیم و رضا ہے تو سہی
ہے غنیمت کہ بہ اُمّید گزر جاۓ گی عُمر

نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے
رہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئے
بلا سے!گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
رکھوں کچھ اپنی ہی مژگان ِخوں فشاں کے لئے
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناسِ خلق اے خضر

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے
جوشِ قدح سے بزم چراغاں کئے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو
عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کئے ہوئے
پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مۓ گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے ُدردِ تہِ جام بہت ہے
نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں

منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
اِک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلاسکو

شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے
دل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدار
آئینہ بہ دستِ بتِ بدمستِ حنا ہے
شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کی