Mir Taqi Mir

میر تقی میر
Lubna's picture

دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار

دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار

ساقی تو ایک بار تو توبہ مری تُڑا
توبہ کروں جو پھر تو ہے توبہ ہزار بار

کیا زمزہ کروں ہوں خوشی تجھ سے ہم صغیر

No votes yet
siddiqui's picture

پان تو لیتا جا فقیروں کے

پان تو لیتا جا فقیروں کے
"برگِ سبزست تحفۂ درویش"

فکر کر زادِ آخرت کا بھی
میر اگر تُو ہے عاقبت اندیش

No votes yet
siddiqui's picture

ہر جزر و مد سے دست وبغل اُٹھتےہیں خروش

ہر جزر و مد سے دست وبغل اُٹھتےہیں خروش
کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش

ابروے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب
موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش

ان مغ بچوں کے کُوچے ہی سے میں کیا سلام
کیا مجھ کو طوفِ کعبہ سے میں رندِ دُرد نوش

حیرت سے ہووے پرتوِ مہ نور آئنہ
تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش

(ق)

کل ہم نے سیرِ باغ میں دل ہاتھ سے دیا
اک سادہ گُل فروش کا آکر سبد بدوش

جاتا رہا نگاہ سے جوں موسمِ بہار
آج اُس بغیر داغِ جگر ہیں سیاہ پوش

(ق)

شب اس دلِ گرفتہ کو وا کر بہ زورِ مے
بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش

آئی صدا کہ یار کرو دورِ رفتہ کو
عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش

جمشید جس نے وضع کیا جامکیا ہوا
وے صحبتیں کہاں گئیں کیدھر وے ناونوش

جُز لالہ اِس کے جام سے پاتے نہیں نشاں
ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبو بدوش

جھومے ہے بید جائے جوانانِ مے گسار
بالائے خم ہے خشت سرِپیرِ مے فروش

میر اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہوچکی خموش!

No votes yet
siddiqui's picture

مر گیا میں ملا نہ یار افسوس

مر گیا میں ملا نہ یار افسوس
آہ افسوس صد ہزار افسوس

یوں گنواتا ہے دل کوئی مجھ کو
یہی آتا ہے بار بار افسوس

قتل گر تُو ہمیں کرے گا خوشی
یہ توقع ہےتجھ سے یار افسوس

رخصتِ سیرِ باغ تک نہ ہوئی
یوں ہی جاتی رہی بہار افسوس

خوب بد عہد تُو نہ مل لیکن
میرے تیرے تھا یہ قرار افسوس

No votes yet
siddiqui's picture

کیوں کے نکلا جائے بحرِ غم سے مجھ بیدل کے پاس

کیوں کے نکلا جائے بحرِ غم سے مجھ بیدل کے پاس
آکے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس

ہے پریشاں دشت میں کس کا غبارِ ناتواں
گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس

بوئے خوں آتی ہے بادِ صبح گاہی سے مجھے
نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کےپاس

آہ نالے مت کیا کر اس قدر بے تاب ہو
اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کےپاس

No votes yet
siddiqui's picture

حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا

حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا
اک برگِ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس

مجنوں کا دل ہوں محملِ لیلیٰ سے ہوں جدا
تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس

اے گریہ اُس کے دل میں اثر خوب ہی گیا
روتا ہوں جب میں سامنے اُس کے تودے ہے ہنس

اُس کی زباں کے عہدے سے کیوں کر نکل سکوں
کہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس

No votes yet
siddiqui's picture

مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز

مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز
ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز

اشک کی لغزشِ مستانہ پہ مت کیجو نظر
دامنِ دیدۂ گریاں سے مرا پاک ہنوز

بعد مرنے کے بھی آرام نہیں میر مجھے
اُس کے کوچے میں ہے پامال مری خاک ہنوز

No votes yet
siddiqui's picture

مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز

مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
تر ہیں سب سر کے لہو سے درودیوار ہنوز

دل بھی پُر داغِ چمن ہے پر اسے کیا کیجیے
جی سے جاتی ہی نہں حسرتِ دیدار ہنوز

بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبیب
بہِ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز

بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ!
تُو نہیں چھوڑتا اس طرز کی رفتار ہنوز

کوئی تو آبلہ پا دشتِ جنوں سے گزرا
ڈوبا ہی جائے ہے لوہو میں سرِ خار ہنوز

منتظر قتل کے وعدے کا ہوں اپنے یعنی
جیتا مرنے کو رہا ہے یہ گنہ گار ہنوز

اُڑ گئے خاک ہو کتنے ہی ترے کُوچے سے
باز آتے نہیں پر تیرے ہوادار ہنوز

No votes yet
Syndicate content