
دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار
ساقی تو ایک بار تو توبہ مری تُڑا
توبہ کروں جو پھر تو ہے توبہ ہزار بار
کیا زمزہ کروں ہوں خوشی تجھ سے ہم صغیر

پان تو لیتا جا فقیروں کے
"برگِ سبزست تحفۂ درویش"
فکر کر زادِ آخرت کا بھی
میر اگر تُو ہے عاقبت اندیش

ہر جزر و مد سے دست وبغل اُٹھتےہیں خروش
کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش
ابروے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب
موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش
ان مغ بچوں کے کُوچے ہی سے میں کیا سلام
کیا مجھ کو طوفِ کعبہ سے میں رندِ دُرد نوش
حیرت سے ہووے پرتوِ مہ نور آئنہ
تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش
(ق)
کل ہم نے سیرِ باغ میں دل ہاتھ سے دیا
اک سادہ گُل فروش کا آکر سبد بدوش
جاتا رہا نگاہ سے جوں موسمِ بہار
آج اُس بغیر داغِ جگر ہیں سیاہ پوش
(ق)
شب اس دلِ گرفتہ کو وا کر بہ زورِ مے
بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش
آئی صدا کہ یار کرو دورِ رفتہ کو
عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش
جمشید جس نے وضع کیا جامکیا ہوا
وے صحبتیں کہاں گئیں کیدھر وے ناونوش
جُز لالہ اِس کے جام سے پاتے نہیں نشاں
ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبو بدوش
جھومے ہے بید جائے جوانانِ مے گسار
بالائے خم ہے خشت سرِپیرِ مے فروش
میر اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہوچکی خموش!

مر گیا میں ملا نہ یار افسوس
آہ افسوس صد ہزار افسوس
یوں گنواتا ہے دل کوئی مجھ کو
یہی آتا ہے بار بار افسوس
قتل گر تُو ہمیں کرے گا خوشی
یہ توقع ہےتجھ سے یار افسوس
رخصتِ سیرِ باغ تک نہ ہوئی
یوں ہی جاتی رہی بہار افسوس
خوب بد عہد تُو نہ مل لیکن
میرے تیرے تھا یہ قرار افسوس

کیوں کے نکلا جائے بحرِ غم سے مجھ بیدل کے پاس
آکے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس
ہے پریشاں دشت میں کس کا غبارِ ناتواں
گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس
بوئے خوں آتی ہے بادِ صبح گاہی سے مجھے
نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کےپاس
آہ نالے مت کیا کر اس قدر بے تاب ہو
اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کےپاس

حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا
اک برگِ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
مجنوں کا دل ہوں محملِ لیلیٰ سے ہوں جدا
تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
اے گریہ اُس کے دل میں اثر خوب ہی گیا
روتا ہوں جب میں سامنے اُس کے تودے ہے ہنس
اُس کی زباں کے عہدے سے کیوں کر نکل سکوں
کہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس

مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز
ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز
اشک کی لغزشِ مستانہ پہ مت کیجو نظر
دامنِ دیدۂ گریاں سے مرا پاک ہنوز
بعد مرنے کے بھی آرام نہیں میر مجھے
اُس کے کوچے میں ہے پامال مری خاک ہنوز

مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
تر ہیں سب سر کے لہو سے درودیوار ہنوز
دل بھی پُر داغِ چمن ہے پر اسے کیا کیجیے
جی سے جاتی ہی نہں حسرتِ دیدار ہنوز
بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبیب
بہِ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز
بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ!
تُو نہیں چھوڑتا اس طرز کی رفتار ہنوز
کوئی تو آبلہ پا دشتِ جنوں سے گزرا
ڈوبا ہی جائے ہے لوہو میں سرِ خار ہنوز
منتظر قتل کے وعدے کا ہوں اپنے یعنی
جیتا مرنے کو رہا ہے یہ گنہ گار ہنوز
اُڑ گئے خاک ہو کتنے ہی ترے کُوچے سے
باز آتے نہیں پر تیرے ہوادار ہنوز