مقبول عامر

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہے

Verses

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہے
دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے

اپنا مسلک ہی نہیں‌ زخم دکھاتے پھرنا
جانتا ہوں کہ ترے پاس مسیحائی ہے

سانحہ پھر کوئی بستی میں ہوا ہے شاید
شام روتی ہوئی جنگل کی طرف آئی ہے

صبح دم دل کے دریچوں میں پہ یہ ہلکی دستک
دیکھ تو بادِ صبا کس کی خبر لائی ہے

کچھ تو ہم مائل گریہ تھے بڑی مدت سے
کچھ تری یاد بڑی دیر کے بعد آئی ہے

دور اڑتے ہیں فضاوں میں پرندے عامر
میری کشتی کسی ساحل کے قریب آئی ہے

یہی چنار یہی جھیل کا کنارا تھا

Verses

یہی چنار یہی جھیل کا کنارا تھا
یہیں کسی نے میرے ساتھ دن گزارا تھا

نظر میں نقش ہے صبحِ سفر کی ویرانی
بس ایک میں تھا اور اک صبح‌ کا ستارا تھا

مرے خلاف گواہی میں‌ پیش پیش رہا
وہ شخص جس نے مجھے جرم پر ابھارا تھا

خراج دیتا چلا آرہا ہوں آج تلک
میں ایک روز زمانے سے جنگ ہارا تھا

مجھے خود اپنی نہیں اس کی فکر لاحق ہے
بچھڑنے والا بھی مجھ سا ہی بے سہارا تھا

زمیں کے کام اگر میری دسترس میں نہیں
تو پھر زمیں پہ مجھے کس لیے اتارا تھا

میں جل کے راکھ ہوا جس الاو میں‌ عامر
وہ ابتدا میں‌ سلگتا ہوا شرارہ تھا

آنکھوں کے خواب زار کو تاراج کر گئی

Verses

آنکھوں کے خواب زار کو تاراج کر گئی
پاگل ہوا چلی تو حدوں سے گزر گئی

دو گام تک ہی سبز مناظر تھے اس کے بعد
اک دشتِ بیکراں تھا جہاں تک نظر گئی

پھر شام کی ہوا نے تری بات چھیڑ دی
پھر میرے چار سو تری خوشبو بکھر گئی

پل بھر وہ چشمِ‌ تر سے مجھے دیکھتا رہا
پھر اس کے آنسوؤں سے میری آنکھ بھر گئی

دو سائے اک مینار کے نیچے بہم ہوئے
اور دھوپ کوہسار کے پیچھے اتر گئی

میں‌ دشت میں بھٹکتا رہا اور ہوائے گل
مجھ کو تلاش کرتی ہوئی در بدر گئی

لہجے میں وہ اثر تھا کہ باوصفِ اختلاف
جو بات منہ سے نکلی دِلوں‌ میں ‌اتر گئی

سلگ رہی ہے فضا سائباں کے ہوتے ہوئے

Verses

سلگ رہی ہے فضا سائباں کے ہوتے ہوئے
زمیں پہ اتنے ستم آسماں ‌کے ہوتے ہوئے

کسی بھی گھاٹ نہ اُترا مرا سفینۂ دل
ہوا کے رخ‌ پہ کھلے بادباں‌ کے ہوتے ہوئے

کہ جیسے اُس کو فضاؤں ‌سے خاص نسبت ہو
پرندہ اڑتا رہا آشیاں کے ہوتے ہوئے

مہ و نجوم کی جانب نظر اُٹھے کیسے!
اس نے اپنے رنگ بھرے خاکداں کے ہوتے ہوئے

عجب طرح ‌کا مسافر تھا اپنا عامر بھی
اکیلا چلتا رہا کارواں ‌کے ہوتے ہوئے

زمین خشک، فلک بادلوں سے خالی ہے

Verses

زمین خشک، فلک بادلوں سے خالی ہے
اک ایک بوند کا دشتِ نظر سوالی ہے

یہ جنگِ صدق و صفا یادگار ٹھہرے گی
عدو ہے تیغ بکف، میرا ہاتھ خالی ہے

کوئی پڑاو نہیں‌ وقت کے تسلسل میں
یہ ماہ سال کی تقسیم تو خیالی ہے

سفر کی دھوپ اڑا لے گئی ہے رنگ تمام
نہ میرے زخم نہ تیرے لبوں‌ پہ لالی ہے

تمہارا حسن ہی یکتا نہیں‌ زمانے میں
خدا گواہ مرا عشق بھی مثالی ہے

منتظر رہنا مری جان بہار آنے تک

Verses

منتظر رہنا مری جان بہار آنے تک
رنگ شاخوں سے گلابوں میں‌ اتر جانے تک

ایک تتلی ہے کہ بے چین اڑی پھرتی ہے
تیرے آنگن سے مرے دل کے پری خانے تک

دشتِ بے آب سے پوچھو کہ وہاں‌ کے اشجار
کن مراحل سے گزرتے ہیں‌ نمو پانے تک

ہم تو چپ چاپ چلے آئے بحکمِ حاکم
راستہ روتا رہا شہر سے ویرانے تک

تشنگی اپنے نصیبوں‌ میں‌ لکھی تھی ورنہ
فاصلہ کچھ بھی نہ تھا ہونٹ سے پیمانے تک

چند لمحوں‌میں‌سبھی عکس نکھر آئیں‌ گے
دھند کا راج ہے بس دھوپ نکل آنے تک

یہ عہد کرب مرے نقش کو ابھارے گا

Verses

یہ عہد کرب مرے نقش کو ابھارے گا
زمانہ اس کو مرے نام سے پکارے گا

ازل سے آدم و فطرت میں‌ برسرِ پیکار
خبر نہیں ہے کہ یہ جنگ کون ہارے گا

ہمیں‌ یہ غم ہے نگارِ‌ وطن کہ ہم نہ رہے
تو جانے کون ترا قرضِ غم اتارے گا

ترے وصال سے آباد تھی مری دنیا
ترا فراق مری عاقبت سنوارے گا

مجھے یقین ہے عامر کہ ایک روز خدا
اسی زمیں‌ پہ بہشت بریں‌ اتارے گا

خوشبوؤں‌ کی بارش تھی، چاندنی کا پہرہ تھا

Verses

خوشبوؤں‌ کی بارش تھی، چاندنی کا پہرہ تھا
میں بھی اُس شبستاں‌ میں ایک رات ٹھہرا تھا

تو مری مسیحائی، جان! کس طرح‌ کرتا
تیری جھیل آنکھوں ‌سے میرا زخم گہرا تھا

میں‌ نے اس زمانے میں‌ تیرے گیت گائے ہیں
تیرا نام لینا بھی جب گناہ ٹھہرا تھا

اس گھڑی نبھایا تھا اس نے وصل کا وعدہ
جب تمام رستوں‌ پر چاندنی کا پہرہ تھا

رنگ یاد ہے اس کا شام کے دھندلکے میں
آنسووں‌ سے میں‌ تر چہرہ کس قدر سنہرا تھا

دل دریا کے پار اک ایسی وادی تھی

Verses

دل دریا کے پار اک ایسی وادی تھی
جس میں‌ سارے جذبوں ‌کی آزادی تھی

بوٹے قد کی کومل سی شہزادی تھی
جس نے سارے شہر میں‌دھوم مچا دی تھی

آگ بجھا کر بھی کچھ ہاتھ نہیں آیا
اک جھونکے نے ساری راکھ اڑا دی تھی

دریا پر پہنچا تو کتنا رویا تھا
وہ جس نے صحرا میں‌ عمر گنوا دی تھی

میں‌ اس کے انبوہ میں ‌اکثر کھو جاتا
میرے اندر اک ایسی آبادی تھی

میری چبھتی نظروں نے اک دن عامر
اُس پیکر کو عریانی پہنا دی تھی

بادشاہوں کا بادشاہ تھا وہ

Verses

فیض احمد فیض کی خدمت میں

بادشاہوں کا بادشاہ تھا وہ
ہم فقیروں کی خانقاہ تھا وہ

ظلمتِ شب میں صبح کا تارہ
دشتِ غم میں نشانِ راہ تھا وہ

خوبصورت بھی ، خوب سیرت بھی
جھیل میں جیسے عکسِ ماہ تھا وہ

جو اسے سنگسار کرتے رہے
وہ بھی کہتے ہیں بے گناہ تھا وہ

آدمی بھی بلا کاتھا عامر
اور شاعر تو بے پناہ تھا وہ

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer