ماجد صدیقی

اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر

Verses

اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر
اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر

ظلمتوں میں مجھ ایسے ذرّوں کے
جگمگانے کا انتظار نہ کر

مَیں کہ ہوں راندۂ ازل، مجھ پر
کر مگر اتنا اعتبار نہ کر

تو خُدا ہے، تو اپنے بندوں سا
لینے دینے کا کاروبار نہ کر

تُو کہ ابرِ کرم ہے، ربط کرم
چوٹیوں ہی سے استوار نہ کر

لے حقیقت کی کچھ خبر ماجد
واہمے، ذہن پر سوار نہ کر

ابروئے چشم دشمناں جیسا

Verses

ابروئے چشم دشمناں جیسا
تن گیا آسماں کماں جیسا

جبر کے موسموں سے زنگ آلود
جو بھی تھا برگ، تھا زباں جیسا

بھُولنے پر بھی دھیان جابر کا
پاس رہتا ہے پاسباں جیسا

جو بھی ہوتا ہے دن طلوع یہاں
سر پہ آتا ہے امتحاں جیسا

ہے نظر میں جو خواب سا ماجد
ہے کوئی سروِ گلستاں جیسا

آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے

Verses

آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے
آہن صفت درخت بھی، ریشوں میں بٹ گئے

دیکھا ہمیں قفس میں، تو پوچھی نہ خیر بھی
جھونکے مہک کے آئے اور آ کر، پلٹ گئے

مُٹھی میں بند جیسے، مہاجن کی سیم و زر
کھیتوں کے حق میں ابر، کچھ ایسے سمٹ گئے

سیلاب نے جب اپنے قدم، تیز کر لئے
بادل بھی آسمان سے، اِتنے میں چھٹ گئے

جتنے ہرے شجر تھے، لرزنے لگے تمام
خاشاک تھے کہ سامنے دریا کے ڈٹ گئے

جانے نہ دیں گے، رزق کے بن باس پر کبھی
بچّے کچھ ایسے باپ سے ماجد، چمٹ گئے

آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ

Verses

آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ
کس مغوی طیّارے میں محصور ہوئے ہم آپ

آتے وقت کا آئینہ ہی شاید کچھ بتلائے
مکر و ریا کے کن زخموں سے چُور ہوئے ہم آپ

عّیاروں کے جذبۂ خیر و فلاح کی سازش سے
کون کہے مقصد سے کتنی دُور ہوئے ہم آپ

صَید ہوئے جس خیر میں لپٹی، شر کا اَب کے برس
ایسے تو ماجد نہ کبھی مقہور ہوئے ہم آپ

آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا

Verses

آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا

چکھنے دینا نہ کبھی لمحۂ موجود کا رس
جب بھی دینا ہمیں تم خواب سُہانے دینا

جس کی تعمیر میں کاوش کا مزہ اُس کو مِلے
تُم نہ بالک کو گھروندا وُہ بنانے دینا

روشنی جس کے مکینوں کو بصیرت بحشے
ایسی کٹیا میں دیا تک نہ جلانے دینا

راندۂ خلق ہے، جو پاس تمہارا نہ کرے
درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا

سنگ ہو جاؤگے حق بات ہے جس میں ماجد
ایسی آواز نہ تم شہ کے سرہانے دینا

آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا

Verses

آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا

کون کہے بیوپاری، سودا اغوا ہونے والی کا
کن کن سنگدلوں کے آگے کس کس طور چُکائے گا

کاش اُنہیں جتلا پائے تُو، اصل بھی اپنے ناتے کی
جھنڈا جن کی کاروں پر، اے دیس! ترا لہرائے گا

اپنے جیسے ہی لگتے ہیں چَوک پہ بیٹھے راج مجھے
مول گجر دم سیٹھ کوئی جن کا آ کر ٹھہرائے گا

اِترائے گا جب بھی کبھی بیٹھے گا اپنے جیسوں میں
کون ستم گر ہے جو اپنی کرنی پر پچتائے گا

شور زمینِ فکر ہے جس کی اور سینے میں زور بہت
کرنے کو اچّھا بھی کرے تو، کیا اچّھا کر پائے گا

چھید ہوئے جاتے ہیں جسِ کشتی میں، اُس کے کھینے کو
دُور فرازِ عرش سے جانے، کون فرشتہ آئے گا

زورِ ہوا سے ٹہنیاں ٹوٹیں، پات جھڑے جن پیڑوں کے
کون سخی ایسا، جو اِن کے یہ زیور لوٹائے گا

خوشیوں پر رنجیدہ، اِک دُوجے کے رنج پہ جو خو ش ہیں
تو کیا اُن سِفلوں کو ماجد دل کا حال سُنائے گا

یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے

Verses

یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے
لیکن شکستِ عزم کا طعنہ نہ دے مجھے

جس موج کو گلے سے لگاتا ہوں بار بار
ایسا نہ ہو یہ موجِ الم لے بہے مجھے

میں خود ہی کھِل اُٹھوں گا شگفتِ بہار پر
موسم یہ ایک بار سنبھالا تو دے مجھے

سایہ ہوں اور رہینِ ضیا ہے مرا وجود
سورج کہیں نہ ساتھ ہی لے کر ڈھلے مجھے

ماجد ہو کوئی ایسی تمّنا کہ رات دن
بادِصبا کے ساتھ اُڑاتی پھرے مجھے

یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک

Verses

یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک
ہوتا نہیں چاند کا گزر تک

یہ آگ کہاں دبی پڑی تھی
پہنچی ہے جو اَب دل و جگر تک

دیکھا تو یہ دل جہاں نما تھا
محدود تھے فاصلے نظر تک

ہوں راہئی منزلِ بقا اور
آغاز نہیں ہُوا سفر تک

تھے رات کے زخم یا ستارے
بُجھ بُجھ کے جلے ہیں جو سحر تک

ہے ایک ہی رنگ، دردِ جاں کا
ماجد نمِ چشم سے شرر تک

یہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہاہے

Verses

یہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہاہے
کہ دل بھی چنگیزیِ غمِ جاں کو جیسے تسلم کر رہا ہے

یہ کونسی عمرِ نوح بخشی گئی ہے مجھ کو کہ عہدِ نو میں
گمان اِک ایک پل پہ جیسے صدی صدی کا گزر رہا ہے

لدا پھُندا ہے ہر ایک ساعت اِسی سے آنگن دل و نظر کا
یہی تمّنا کا اک شجر ہے چمن میں جو بارور رہا ہے

دل و نظر کی خموشیوں میں چھنکتے قدموں یہ کون آیا
کہ مثلِ مہتاب نطق میرا، لبوں سے میرے اُبھر رہا ہے

یہ زندگی ہے کہ انتشارِ خرام، ابرِ رواں کا ماجد
یہ کیسا منظر نگاہ میں ہے کہ لحظہ لحظہ بکھر رہا ہے

یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا

Verses

یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا
اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا

ہُوا یہ سایۂ ابلق بھی اَب جو نذرِ خزاں

تو راہ چلتے مسافر کو اور کیا دوں گا

سموم عام کروں گا اِسی کے ذرّوں سے
فضائے دہر کو اَب پیرہن نیا دوں گا

وہ کیا ادا ہے مجھے جس کی بھینٹ چڑھنا ہے
یہ فیصلہ بھی کسی روز اَب سُنا دوں گا

سزا سُناؤ تو اِس جُرم زیست کی مجھُ کو
صلیبِ درد کی بُنیاد تک ہلا دوں گا

ہر ایک شخص کا حق کچھ نہ کچھ ہے مجھ پہ ضرور
میں اپنے قتل کا کس کس کو خوں بہا دوں گا

جو سانس ہے تو یہی آس ہے کہ اب ماجد
شبِ سیاہ کو بھی رُوپ چاند سا دوں گا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer