Majid Siddiqui

ماجد صدیقی
siddiqui's picture

اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر

اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر
اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر

ظلمتوں میں مجھ ایسے ذرّوں کے
جگمگانے کا انتظار نہ کر

مَیں کہ ہوں راندۂ ازل، مجھ پر
کر مگر اتنا اعتبار نہ کر

No votes yet
siddiqui's picture

ابروئے چشم دشمناں جیسا

ابروئے چشم دشمناں جیسا
تن گیا آسماں کماں جیسا

جبر کے موسموں سے زنگ آلود
جو بھی تھا برگ، تھا زباں جیسا

بھُولنے پر بھی دھیان جابر کا
پاس رہتا ہے پاسباں جیسا

جو بھی ہوتا ہے دن طلوع یہاں

No votes yet
siddiqui's picture

آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے

آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے
آہن صفت درخت بھی، ریشوں میں بٹ گئے

دیکھا ہمیں قفس میں، تو پوچھی نہ خیر بھی
جھونکے مہک کے آئے اور آ کر، پلٹ گئے

مُٹھی میں بند جیسے، مہاجن کی سیم و زر

No votes yet
siddiqui's picture

آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ

آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ
کس مغوی طیّارے میں محصور ہوئے ہم آپ

آتے وقت کا آئینہ ہی شاید کچھ بتلائے
مکر و ریا کے کن زخموں سے چُور ہوئے ہم آپ

عّیاروں کے جذبۂ خیر و فلاح کی سازش سے

No votes yet
siddiqui's picture

آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا

آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا

چکھنے دینا نہ کبھی لمحۂ موجود کا رس
جب بھی دینا ہمیں تم خواب سُہانے دینا

جس کی تعمیر میں کاوش کا مزہ اُس کو مِلے

No votes yet
siddiqui's picture

آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا

آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا

کون کہے بیوپاری، سودا اغوا ہونے والی کا
کن کن سنگدلوں کے آگے کس کس طور چُکائے گا

No votes yet
siddiqui's picture

یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے

یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے
لیکن شکستِ عزم کا طعنہ نہ دے مجھے

جس موج کو گلے سے لگاتا ہوں بار بار
ایسا نہ ہو یہ موجِ الم لے بہے مجھے

میں خود ہی کھِل اُٹھوں گا شگفتِ بہار پر

No votes yet
siddiqui's picture

یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک

یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک
ہوتا نہیں چاند کا گزر تک

یہ آگ کہاں دبی پڑی تھی
پہنچی ہے جو اَب دل و جگر تک

دیکھا تو یہ دل جہاں نما تھا
محدود تھے فاصلے نظر تک

ہوں راہئی منزلِ بقا اور

No votes yet
Syndicate content