محمود شام

آج کیوں ہم سے لپٹتی ہے صبا

Verses

آج کیوں ہم سے لپٹتی ہے صبا
تونے اے دوست بلایا تو نہیں

دل کے آنگن میں بھٹکتے سائے
کچھ یہاں تو نے گنوایا تو نہیں

تیرے چہرے پہ تغیر کیوں ہے
حال دل ہم نے سنایا تو نہیں

شام ڈھلتی ہے تو میں سوچتا ہوں
زندگی موت کا سایا تو نہیں

شام جی کھوئے سے رہتے ہو سدا
کیا کوئی دل میں سمایا تو نہیں

پھر موسم خیال کی ٹھنڈی ہوا چلی

Verses

پھر موسم خیال کی ٹھنڈی ہوا چلی
پھر پھیلنے لگی تری خوشبو گلی گلی

دل کیف انتظار میں یوں ڈھل کے رہ گیا
پانی میں جیسے گھل گئی ہو برف کی ڈلی

کتنے مکان جھانکتی پھرتی ہے چاندنی
کیا جانے کس کو ڈھونڈتی پھرتی ہے منچلی

تیرا خیال گرمیوں کی صبح سا حسیں
یادوں میں تیری سردیوں کی دھوپ ہے ڈھلی

ویراں ہیں ایک عمر سے آنکھوں کے گل کدے
اس کو تو یاد آئے بھی مدت ہی ہو چلی

شب کو تو شام چاند ستارے بھی ساتھ تھے
پڑنے لگی جو دُھوپ تو اک اک نے راہ لی

دل میں یوں سما رہے ہیں!

Verses

دل میں یوں سما رہے ہیں!
سانس خوشبو سی پا رہے ہیں

چاندنی شب ہے چاند تارے
اپنے جوبن پہ آ رہے ہیں

تیری یادوں کے تند جھونکے
دل کی شمعیں بجھا رہے ہیں

راستے پاؤں چومتے ہیں
ہم تیری سمت آ رہے ہیں

نہر کے ہونٹ کانپتے ہیں
کون طوفان آ رہے ہیں

شام پیڑوں کے سائے کیسے
چاندنی میں نہا رہے ہیں

اب کہاں وہ لوگ جن کے نام سے

Verses

اب کہاں وہ لوگ جن کے نام سے
بجلیاں اٹھتی تھیں ہر ایک گام سے

زندگی ہے پیڑ کا سایا نہیں
کیسے بیٹھو گے یہاں آرام سے

بند کرکے اکثر ان آنکھوں کے پٹ
تجھ کو دیکھا دیدہ اوہام سے

اس کے گھر سے آئی ہے ٹھنڈی ہوا
روشنی بہتی ہے اس کے بام سے

چاند کس کس کو پلائے چاندنی
لاکھ پاگل پھر رہے ہیں شام سے

جب بھی تیرے ستم کی بات چلی

Verses

جب بھی تیرے ستم کی بات چلی
میرے ہمراہ کائنات چلی

چاند کی جستجو میں نکلے تھے
کہکشاں بھی ہمارے ساتھ چلی

چاندنی جانے کیوں سمٹ سی گئی
جب تیرے پیرہن کی بات چلی

آج پھر آ گیا ہے موج میں دل
آج پھر باد حادثات چلی

دور تک گونجتے ہیں سناٹے
ہم کو لے کر کدھر حیات چلی

ٹہنیاں ہو گئیں برہنہ تن
یوں تیری بات ، پات پات چلی

لوگ ملنے لگے بہت، جب سے
رسم ترکِ تعلقات چلی

شام سے لوگ پھر رہے ہیں اداس
آج یہ کس ادا سے رات چلی

گونج رہی ہے دل میں یوں بھولی باتوں کی چاپ

Verses

گونج رہی ہے دل میں یوں بھولی باتوں کی چاپ
جیسے وقت کے آنگن میں جاتے لمحوں کی چاپ

اس کے دھیان میں اے مورکھ! تو اپنا آپ بھلا
دل کی دھڑکن روک کے سن،اس کے قدموں کی چاپ

جانے دل کیوں ڈول اٹھتا ہے،بھر آتی ہے آنکھ
تھراتی ہے جب راہوں پر راہرووں کی چاپ

رینگتے لمحے، چیختی یادیں، ساں ساں کرتی رات
سونے گھر کا آنگن اور سوکھے پتوں کی چاپ

شام اندھیرے توڑ رہے ہیں دھیرے دھیرے سانس
پل پل بڑھتی جاتی ہے سورج کرنوں کی چاپ

دل کے پاتال سے ابھرا ہے کوئی

Verses

دل کے پاتال سے ابھرا ہے کوئی
ذہن کے بام پہ آیا ہے کوئی

سوچ کے دائرے بتلاتے ہیں
دھیان کے جھیل میں اترا ہے کوئی

کبھی سایہ کبھی خوشبو بن کر
دل کے آنگن میں لہکتا ہے کوئی

پھر امڈ آئی ہے اوہام کی دھند
پھر سرراہ تمنا ہے کوئی

جگمگاتے ہیں منڈیروں پہ دیئے
شام سورج کہیں ڈوبا ہے کوئی

لے اڑا ایسے ترا دھیان مجھے

Verses

لے اڑا ایسے ترا دھیان مجھے
تو بھی لگتی ہے اب انجان مجھے

ہر صدا تیری صدا لگتی ہے
کیا بناتے ہیں میرے کان مجھے

ریت کا ڈھیر بنا دے نہ کہیں
دھوپ میں تپتا بیابان مجھے

سنسناتے ہیں در و بامِ خیال
کر گیا کون یہ ویران مجھے

میں نے پہچان لیا تجھ کو
اب نہ کر مفت پریشان مجھے

رچ گئی جس میں ترے درد کی دھوپ
میں وہی شام ہوں پہچان مجھے

دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد

Verses

دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد
جیسے کہ آسمان کا منظر گھٹا کے بعد

کیا کیا نقوش ہم نے ابھارے تھے ریت پر
باقی رہا نہ کوئی بھی وحشی ہوا کے بعد

بکھری ہوئی تھین چارسو پھولوں کی پتیاں
گلشن سنور سنور گیا تھا باد صبا کے بعد

اب تک فضا میں گونجتی ہے ایک نغمگی
سارا جہاں ہی رقص میں ہے اس صدا کے بعد

اب تک جلا رہی ہے ہمیں تہمتوں کی دھوپ
ہم تو اجاڑ ہو گئے فصل وفا کے بعد

یادیں، کھلے کواڑ، یہ مہکی ہوئی فضا
کون آ رھا ہے شام یہ ٹھنڈی ہوا کے بعد

حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے

Verses

حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے
اس گھنی رات سے دل ڈرتا ہے

برف احساس نہ گل جائے کہیں
سیل اوقات سے دل ڈرتا ہے

تو بھی اے دوست نہ ہو جائے جدا
اب ہر ایک بات سے دل ڈرتا ہے

یہ کڑی دھوپ، دہکتا سورج
سائے کے ساتھ سے دل ڈرتا ہے

ہائے وہ رینگتی تنہائی، جب
اپنی ہی ذات سے دل ڈرتا ہے

کیسے دیکھیں گے وہ اجڑی آنکھیں
اب ملاقات سے دل ڈرتا ہے

زخم ہو جائیں گے باغوں کے ہرے
شام برسات سے دل ڈرتا ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer